۱۔ جنتیوں کا دوزخیوں کے ساتھ ربط
فَأَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلَىٰ بَعْضٍ يَتَسَاءَلُونَ ۵۰قَالَ قَائِلٌ مِنْهُمْ إِنِّي كَانَ لِي قَرِينٌ ۵۱يَقُولُ أَإِنَّكَ لَمِنَ الْمُصَدِّقِينَ ۵۲أَإِذَا مِتْنَا وَكُنَّا تُرَابًا وَعِظَامًا أَإِنَّا لَمَدِينُونَ ۵۳قَالَ هَلْ أَنْتُمْ مُطَّلِعُونَ ۵۴فَاطَّلَعَ فَرَآهُ فِي سَوَاءِ الْجَحِيمِ ۵۵قَالَ تَاللَّهِ إِنْ كِدْتَ لَتُرْدِينِ ۵۶وَلَوْلَا نِعْمَةُ رَبِّي لَكُنْتُ مِنَ الْمُحْضَرِينَ ۵۷أَفَمَا نَحْنُ بِمَيِّتِينَ ۵۸إِلَّا مَوْتَتَنَا الْأُولَىٰ وَمَا نَحْنُ بِمُعَذَّبِينَ ۵۹إِنَّ هَٰذَا لَهُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ ۶۰لِمِثْلِ هَٰذَا فَلْيَعْمَلِ الْعَامِلُونَ ۶۱
پھر ایک دوسرے کی طرف رخ کرکے سوال کریں گے. تو ان میں کا ایک کہے گا کہ دار دنیا میں ہمارا ایک ساتھی بھی تھا. وہ کہا کرتا تھا کہ کیاتم بھی قیامت کی تصدیق کرنے والوں میں ہو. کیا جب مرکر مٹی اور ہڈی ہوجائیں گے تو ہمیں ہمارے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا. کیا تم لوگ بھی اسے دیکھو گے. یہ کہہ کہ نگاہ ڈالی تو اسے بیچ جہّنم میں دیکھا. کہا کہ خدا کی قسم قریب تھا کہ تو مجھے بھی ہلاک کردیتا. اور میرے پروردگار کا احسان نہ ہوتا تو میں بھی یہیں حاضر کردیا جاتا. کیا یہ صحیح نہیں ہے کہ ہم اب مرنے والے نہیں ہیں. سوائے پہلی موت کے اور ہم پر عذاب ہونے والا بھی نہیں ہے. یقینا یہ بہت بڑی کامیابی ہے. اسی دن کے لئے عمل کرنے والوں کو عمل کرنا چاہئے.
آیات سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ بعض اوقات جنتیوں اور دوزخیوں کے درمیان ایک قسم کارابط قائم ہوجائے گا . گو یا بہشتی جو او پر رہتے ہوں گے ، دوزخیوں کی طرف نگا کردیں گے اوران کی حالت و کیفیت کودیکھ لیں گے ( یہ معنی فاطلع کی تعبیر سے معلوم ہوتا ہے جو اوپر ہے جھانکنے کے معنی میں ہے ) ۔
البتہ یہ اس امر کی دلیل نہیں ہے کہ جنت اور دوزخ کے درمیان فاصلہ تھوڑا ہے . بلکہ ان حالات میں انھیں دیکھنے کی بہت زیادہ طاقت دے دی جائے گی ، جس کے سامنے فاصلے اورمکان کا مسئلہ پیش ہی نہیں آئے گا ۔
مفسّرین کے کلمات میں ہے کہ بہشت میں ایک بہشت میں ایک روشندان ہے جس سے جہنم کو دیکھا جاسکتا ہے۔
سورہ ٴ اعراف کی آیات سے بھی اس قسم کا رابط اچھی طرح سے واضح ہوتاہے . قرآن کہتاہے :
وَ نادی اٴَصْحابُ الْجَنَّةِ اٴَصْحابَ النَّارِ اٴَنْ قَدْ وَجَدْنا ما وَعَدَنا رَبُّنا حَقًّا فَہَلْ وَجَدْتُمْ ما وَعَدَ رَبُّکُمْ حَقًّا قالُوا نَعَمْ فَاٴَذَّنَ مُؤَذِّنٌ بَیْنَہُمْ اٴَنْ لَعْنَةُ اللَّہِ عَلَی الظَّالِمینَ (اعراف ۔ ۴۴) ۔
جنتی دوزخیوں لو پُکار کرکہیں گے :ہمارے پروردگار نے ہم سے جن چیز کاوعدہ کیاتھا ہم نے اسے برحق پایا ، کیاتم نے بھی جس کاتمہارے پروردگار نے تم سے وعدہ کیاتھا اسے برحق پایاہے ؟وہ کہیں گے :ہاں . تو اس وقت کوئی ان کے درمیان میں سے پکار کرکہے گاکہ ستم گروں پرخدا کی لعنت ہو ۔
اسی سورہ کی آیہ ۴۶ سے معلوم ہوتاہے کہ ” اہل بہشت اوراہل دوزخ کے درمیان ایک حجاب ہے (وَ بَیْنَہُما حِجابٌ ) ۔
” نادٰی “ کی تعبیر جو عام طورپر دورسے بات کرنے کے موقعوںپراستعمال ہوتی ہے ، یہ ان دونوں گرو ہوں کی مکانی یامقامی دُوری کی نشانی ہے لیکن جیساکہ ہم نے بار ہا بیان کیاہے کہ قیامت کے دن کے حالات و شرائط اس جہان کے حالات سے بہت مختلف ہیں اورہم اس جہان کے معیار وں پر ان کا ادراک نہیں کرسکتے ۔