Tafseer e Namoona

Topic

											

									  4- قرآن اورمسلم معاد

										
																									
								

Ayat No : 81-83

: يس

أَوَلَيْسَ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ بِقَادِرٍ عَلَىٰ أَنْ يَخْلُقَ مِثْلَهُمْ ۚ بَلَىٰ وَهُوَ الْخَلَّاقُ الْعَلِيمُ ۸۱إِنَّمَا أَمْرُهُ إِذَا أَرَادَ شَيْئًا أَنْ يَقُولَ لَهُ كُنْ فَيَكُونُ ۸۲فَسُبْحَانَ الَّذِي بِيَدِهِ مَلَكُوتُ كُلِّ شَيْءٍ وَإِلَيْهِ تُرْجَعُونَ ۸۳

Translation

تو کیا جس نے زمین و آسمان کو پیدا کیا ہے وہ اس بات پر قادر نہیں ہے کہ ان کا مثل دوباہ پیدا کردے یقینا ہے اور وہ بہترین پیدا کرنے والا اور جاننے والا ہے. اس کا امر صرف یہ ہے کہ کسی شے کے بارے میں یہ کہنے کا ارادہ کرلے کہ ہوجا اور وہ شے ہوجاتی ہے. پس پاک و بے نیاز ہے وہ خدا جس کے ہاتھوں میں ہر شے کا اقتدار ہے اور تم سب اسی کی بارگاہ میں پلٹا کر لے جائے جاؤ گے.

Tafseer

									
 4- قرآن اورمسلم معاد : 
 مسلہ توحید کے جو انبیاء کی تعلیمات میں سب سے زیادہ بنیادی مسئلہ ہے اس کے بعد معاد کامسئلہ اپنی خصوصیات اور اپنے تربیتی وتعلمی آثار کے ساتھ پہلے درجہ میں قرارپاتا ہے ۔ لہذا قرآنی مباحث میں توحید و خدا شناسی کے بعد بہت سی آیات کو اس نے اپنے ساتھ مخصوص کردیا ہے۔ 
 معاد کے قرآنی مباحث کبھی تومنطقی استدلال کی صورت میں بیان ہوئے ہیں اور کبھی خطابی مباحث اور موثر اور زور وارتلقین کی صورت میں بعض اوقات تو انہیں سن کر انسان کے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں اور کلام کا صادقانه لب ولہجہ ایسا ہے کہ وہ استدلال کی طرح انسان کی روح اور جان کی گہرائیوں میں اترجاتے ہیں ۔ 
 منطقی استدلال میں قرآن زیادہ تر امکان معاد کے موضوع پر بات کرتا ہے ۔ کیونکہ منکرین زیادہ تر اُسے محال خیال کرتے تھے ۔ ان کا نظریہ یہ تھا کہ معاد وہ بھی معاد جسمانی کی صورت میں ۔۔۔۔۔۔ کہ جس میں بوسیدہ اور خاک شده اجسام کانئی حیات کی طرف لوٹنا ضروری ہے ۔ امکان پزیر نہیں۔ 
 اس حصے میں قران مختلف طریقوں سے بات کرتا ہے اور یہ سب استد لال جس ایک جگہ جاکرختم ہوجاتے ہیں وه "معاد کے امکان عقلی" کا مسئلہ ہے۔ 
 کبھی تو وہ پہلی زندگی کو انسان کی نظر میں مجسم کرتا ہے اور ایک مختصر، منہ بولتی اور واضح عبارت میں کہتا ہے: 
  کما بدا کم تعودون 
  "جس طرح سے کہ اس نے تمہیں ابتداء میں پیدا کیا ہے اسی طرح سے تم واپس 
  لوٹو گے"۔    (اعراف  ۔۔۔۔۔۔۔ 29)۔ 
  کبھی نباتات کی زندگی اور موت اور ان کی بازگشت کی تصویر کشی کرتا ہے کہ جسے ہم ہر سال اپنی آنکھ سے دیکھتے ہیں ۔ اور اس کے آخر میں کہتا ہے کہ تمہاری بازگشت بھی اسی طرح ہوگی : 
  ونزلنا من السماء ماءً مبارکًا فانبنتابه جنات وحب الحصید ..... 
  واحیبنا به بلدة ما كذالك الخروج 
  "ہم نے آسمان سے بابرکت پانی نازل کیا اور اس کے ذریعے سرسبز باغات اگائے اور 
  کٹےہوۓ دانے .... اور اس کے ذریعے ہم نے مردہ زمین کو زندہ کیا (تمهاری) بازگشت بھی 
  اسی طرح ہو گی "۔     (ق ۔۔۔۔۔۔ 9تا11) 
 دوسری جگہ کہتا ہے: 
  والله الذي ارسل الرياح فتشیرسحابا قسقناه الٰى بلد ميت فاحيينا 
  به الارض بعد موتها كذالك النشور 
  خدا ہی ہے کہ جس نے ہواؤں کو بھیجا تاکہ وہ بادلوں کو چلائیں اور ہم نے انہیں مردہ 
  زمین کی طرف دھکیل دیا اور اس کے ذریعے ہم نے زمین کو اس کی موت کے قید حیات
  بخشی۔ قبروں سے اٹھنا بھی اسی طرح ہے"۔    (فاطر ۔۔۔۔۔ 9)
  کبھی آسمانوں اور زمین کی خلقت میں خدا کی قدرت کو بیان کرتے ہوئے کہتا ہے : 
  اولم یروا ان الله الذي خلق السماوات والأرض ولم یعی بخلقهن 
  قادر علٰى ان يحيي الموتٰى بلٰى الله علٰى كل شيء قدير 
  "کیا وہ یہ نہیں جانتے کہ وہ خدا کی جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور اس تخلیق 
  نے اسے تھکا نہیں دیا ، وہ مُردوں کو زندہ کرنے پر بھی قادر ہے ۔ ہاں ! وہ ہر 
  چیز پر قادر ہے"۔      (احقاف  ۔۔۔۔۔۔۔ 33) 
 اور کبھی توانائیوں کی بازگشت اور سبز درخت سے آگے نکلنے کو اس کی قدرت کے نمونے کے طور پر اورآگ کو پانی کے اندر قرار دینے کو بیان کرتے ہوئے کہتا ہے: 
  الذي جعل لكم من الشجر الاخضرنارًا 
  "وہ خدا مردوں کو لباس حیات پہناتا ہے کہ جس نے سبز درخت سے تمہارے لیے 
  آگے پیدا کی"۔     (یٰسین   ۔۔۔۔۔۔۔ 80) 
 کبھی جنین کی زندگی کو انسان کی نظر میں مجسم کرتا ہے اور کہتا ہے: 
  یاایها الناس ان کنتم في ريب من البعث  فانًا خلقناكم من تراب 
  ثم  من  نطفة ثم  من  علقة ثم  من  مضغة  مخلقة وغير مخلقة 
  لنبين لكم ونقر في الأرحام مانشاء الى اجل مسمًی ثم تخرجكم 
  طقلًا۔ 
  "اے لوگو ! اگر تم قیامت کے بارے میں شک رکھتے ہو تو یہ بات مت کھولو کہ ہم نے 
  تمہیں مٹی سے پیدا کیا ہے ، پھر نطفہ سے ، پھر جمے ہوئے خون سے پھر مضغہ سے 
  (کہ گوشت کا ایک ٹکڑا ہے جو چبائے ہوئے گوشت کی طرح کا ہے)- اس حالت میں پہنچ کر 
  بعض تو شکل و صورت کے حامل ہوتے ہیں اور بعض بے شکل وصورت مقصد یہ ہے کہ 
  ہم تم پر یہ واضح کر دیں (کہ ہم ہر چیز پر قدرت رکھتے ہیں) اور جن "جنینوں" کو ہم چاہتے
  ہیں ایک معین مدت تک ماؤں کے راحم میں روک رکھتے ہیں ۔ اس کےبعد بچےکی شکل میں نہیں 
  عالم دنیا میں بھیجتے ہیں"۔     (حج ۔۔۔۔۔۔۔   5)۔
  وہ نیند کہ جو موت کی بہن ہے بلکہ کئی جہات سے خود موت ہے ۔ اُس کے لیے اصحاب کہف کی تین سو سالہ نیند کی مثال پیش کرتا ہے اور ان کی نیند اور بیداری کے سلسلے میں ایک عمدہ اور مناسب تشریح کرنے کے بعد فرماتا ہے: 
  وكذالك اعثرنا عليهم ليعلموا أن وعد الله حق وان الساعة 
  لاریب فیھا 
  "اس طرح سے ہم نے لوگوں کو ان کی حالت کی طرف متوجہ کیا تاکہ وہ جان لیں کہ 
  خدا کا قیامت کا وعدہ حق ہے اور قیام قیامت میں کوئی شک و شبہ نہیں ہے"۔    (کہف ۔۔۔۔۔ 21) 
 یہ چھ استدلال ہیں کہ جو قرآن کی آیات میں امکان معاد کے سلسلے میں بیان ہوئے ہیں۔ 
 اس کے علاوہ ابراہیم کے چار پرندوں کی داستان    (ابقره ۔۔۔۔۔۔۔۔ 260)  عزیر کی سرگزشت   (بقرہ ۔۔۔۔۔۔۔ 259) بنی اسرائیل کے مقتول کا واقعہ   (بقره ۔۔۔۔۔۔ 73) بھی بیان کیا گیا ہے ، ان میں  سے ہرایک ، ایک تاریخی نمونہ ہے یہ سب اس مسئلے کے لیے دوسرے شواہد و دلائل ہیں کہ جو قرآن نے اس سلسلے میں بیان کیے ہیں۔ 
 مختصر بات یہ ہے کہ وه تصویر جو قرآن مجید نے معاد ، اس کے مختلف پہلوؤں ، مقدمات اور نتائج کی کھینچی ہے اور وہ بولتے ہوئے دلائل کہ جو اس نے اس سلسلے میں بیان کیے ہیں ، اس قدر زندہ اور اطمینان بخش ہیں کہ جو شخص تھوڑا سا بھی بیدار وجدان رکھتا ہے وہ ان کی گہری تاثیر سے ضرور متاثر ہوگا۔ 
 بعض کے قول کے مطابق قرآن کی ایک ہزار دو سو آیات معاد کے سلسلے میں بحث کرتی ہیں کہ اگرمیں جمع کیا جائے اور ان کی تفسیر کی جاۓ تو وہ خود ایک ضخیم کتاب ہوجائے گی۔ ہم امید رکھتے ہیں کہ اس تفسیر کی مالیت کے اختتام کے بعد ، جس وقت ہم انشاء اللہ تفسیر موضوعی شروع کریں گے تو (معاد کے سلسلہ کی آیات کا)یہ مجموعہ بھی خواہش مندوں کی دسترس میں ہوگا۔