3- دین قیم اور آئین محکم
ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ أَيْدِي النَّاسِ لِيُذِيقَهُمْ بَعْضَ الَّذِي عَمِلُوا لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ ۴۱قُلْ سِيرُوا فِي الْأَرْضِ فَانْظُرُوا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِينَ مِنْ قَبْلُ ۚ كَانَ أَكْثَرُهُمْ مُشْرِكِينَ ۴۲فَأَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّينِ الْقَيِّمِ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَأْتِيَ يَوْمٌ لَا مَرَدَّ لَهُ مِنَ اللَّهِ ۖ يَوْمَئِذٍ يَصَّدَّعُونَ ۴۳مَنْ كَفَرَ فَعَلَيْهِ كُفْرُهُ ۖ وَمَنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِأَنْفُسِهِمْ يَمْهَدُونَ ۴۴لِيَجْزِيَ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ مِنْ فَضْلِهِ ۚ إِنَّهُ لَا يُحِبُّ الْكَافِرِينَ ۴۵
لوگوں کے ہاتھوں کی کمائی کی بنا پر فساد خشکی اور تری ہر جگہ غالب آگیا ہے تاکہ خدا ان کے کچھ اعمال کا مزہ چکھا دے تو شاید یہ لوگ پلٹ کر راستے پر آجائیں. آپ کہہ دیجئے کہ ذرا زمین میں سیر کرکے دیکھو کہ تم سے پہلے والوں کا کیا انجام ہوا ہے جن کی اکثریت مشرک تھی. اور آپ اپنے رخ کو مستقیم اور مستحکم دین کی طرف رکھیں قبل اس کے کہ وہ دن آجائے جس کی واپسی کا کوئی امکان نہیں ہے اور جس دن لوگ پریشان ہوکر الگ الگ ہوجائیں گے. جو کفر کرے گا وہ اپنے کفر کا ذمہ دار ہوگا اور جو لوگ نیک عمل کررہے ہیں وہ اپنے لئے راہ ہموار کررہے ہیں. تاکہ خدا ایمان اور نیک عمل کرنے والوں کو اپنے فضل سے جزا دے سکے کہ وہ کافروں کو دوست نہیں رکھتا ہے.
3- دین قیم اور آئین محکم :
زیر بحث آیات میں پیغمبراکرامؐ کو یہ حکم دیا گیا ہے کہ وہ اپنن کلی توجہ اس آئین کی طرف رکھیں جو مستقیم ، محکم اور استوار ہے ۔ اور جس میں کسی قسم کج روی اور راہ راست
سے منحرف ہونے کا احتمال نہیں ہے۔ نیزاس کی بنیادیں غیرمتزلزل ہیں۔
یہ امر بھی قابل توجہ ہے کہ قرآن کی دوسری آیات میں "دین" کے اور اوصاف بھی بیان ہوئے ہیں مثلا :
سورہ یونس کی آیہ 105 میں دین کو کلمہ "حنیف" سے متصف کیاگیا ہے ۔ (یعنی وہ دین جس میں کسی قسم کی کج روی نہیں ہے)۔
۔--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
؎1 مجمع البحرین تحت ماده سیح۔
رسول اللہؐ سے ایک اور حدیث منقول ہے:
سياحة امتي الغزو والجهاد
یعنی اگر میری امت مادی زندگی سے منہ موڑنا چاہتی ہے تو پھر کیوں جہاد کی طرف نہ جائے اور کیوں بیابانوں میں فضول مرتی پھرے۔
سوره زمر کی آیت 3 میں اسے "خالص" کہا گیا ہے۔
الا الله الدين الخالص
سورہ نحل کی آیت 52 میں کلمہ "واصب" استعمال ہوا ہے جس کے معنی میں وہ آئین بر تغیر ناپذیر اور فناوزوال سے بری ہے۔ (وله الدين واصبًا
سورہ کی آیت 78 میں اسلام کو ایسا آئین بتایا گیا ہے . جس میں کسی قسم کی سخت گیری نہیں ہے:
وما جعل عليكم في الدين من حرج
إن صفات مذکورہ میں سے ہرصفت جسم اسلام کا ایک پہلو ہے. یہ تمام پہلو ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہیں ۔
اس لیے تتبع کے لیے ایسے ہی دین کو منتخب کرنا چاہیے اور اس کی تعلیمات کی تحصیل میں سعی کرنی چاہیئے اور اس کے تحفظ میں جان لڑا دینی چاہیئے۔