4- روز قیامت ٹل نہیں سکتا
ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ أَيْدِي النَّاسِ لِيُذِيقَهُمْ بَعْضَ الَّذِي عَمِلُوا لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ ۴۱قُلْ سِيرُوا فِي الْأَرْضِ فَانْظُرُوا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِينَ مِنْ قَبْلُ ۚ كَانَ أَكْثَرُهُمْ مُشْرِكِينَ ۴۲فَأَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّينِ الْقَيِّمِ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَأْتِيَ يَوْمٌ لَا مَرَدَّ لَهُ مِنَ اللَّهِ ۖ يَوْمَئِذٍ يَصَّدَّعُونَ ۴۳مَنْ كَفَرَ فَعَلَيْهِ كُفْرُهُ ۖ وَمَنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِأَنْفُسِهِمْ يَمْهَدُونَ ۴۴لِيَجْزِيَ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ مِنْ فَضْلِهِ ۚ إِنَّهُ لَا يُحِبُّ الْكَافِرِينَ ۴۵
لوگوں کے ہاتھوں کی کمائی کی بنا پر فساد خشکی اور تری ہر جگہ غالب آگیا ہے تاکہ خدا ان کے کچھ اعمال کا مزہ چکھا دے تو شاید یہ لوگ پلٹ کر راستے پر آجائیں. آپ کہہ دیجئے کہ ذرا زمین میں سیر کرکے دیکھو کہ تم سے پہلے والوں کا کیا انجام ہوا ہے جن کی اکثریت مشرک تھی. اور آپ اپنے رخ کو مستقیم اور مستحکم دین کی طرف رکھیں قبل اس کے کہ وہ دن آجائے جس کی واپسی کا کوئی امکان نہیں ہے اور جس دن لوگ پریشان ہوکر الگ الگ ہوجائیں گے. جو کفر کرے گا وہ اپنے کفر کا ذمہ دار ہوگا اور جو لوگ نیک عمل کررہے ہیں وہ اپنے لئے راہ ہموار کررہے ہیں. تاکہ خدا ایمان اور نیک عمل کرنے والوں کو اپنے فضل سے جزا دے سکے کہ وہ کافروں کو دوست نہیں رکھتا ہے.
4- روز قیامت ٹل نہیں سکتا :
آیات مذکورہ بالا میں روز قیامت کے متعلق یہ ذکر آیا ہے کہ " يوم لا مرد له من الله" وہ ایسا دن ہے کہ خدا کو اس کے برپا کرنے سے کوئی روک نہیں سکتا اور نہ اس کے عمل وقوع
میں کوئی حائل ہوسکتا ہے ۔ اور نہ کسی میں یہ قدرت ہوگی کہ اس روز کے محاسبے سے فرار ہو کر پھر دنیا میں آجائے۔
قران کی دوسری آیت میں بھی روز قیامت کا حال بیان کیا گیا ہے ، چناچہ سوره شوریٰ آیت 44 مذکور ہے کہ:
جب ظالم خدا کے دردناک عذاب کو دیکھیں گے تو کہیں گے:
هل الى مرۃ من سبیل
کیا کوئی ایسی راہ ہے کہ ہم پر دنیا کی طرف لوٹ جائیں ؟
اسی طرح سورہ شوریٰ کی آیت 47 میں قیامت کی تعریف میں " يوم لامرد له من الله" كہا گیا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ عالم ہستی میں انسان متعدد مراحل سے گزرتا ہے اور یہ ممکن نہیں ہے کہ وہ مرحله مابعد سے مرحلہ ماقبل کی طرف عود کر جائے ، نہ صرف انسان بلکہ جملہ
کائنات کے لیے یہ خدا کی تخلف ناپذیر کی سنت ہے۔
مثلًا : ایک بچہ جو شکم مادر سے عالم وجود میں آیا ہے خواہ وہ باعتبار ترکیب جسمانی کامل ہو یا ناقص ، کیا یہ ممکن ہے. کہ وہ پھر بصورت جنین واپس لوٹ جائے ؟ یا وہ میوہ جو
شاخ درخت سے ٹوٹ کر گرگیا ہے ، خواہ پختہ ہو یا خام ، کیا دہ پھر واپس ہوکراسی شاخ سے متوصل ہوسکتا ہے؟
انسان کا اس جہان فانی سے اس جہان فانی کی طرف منتقل ہونا بھی ایسا ہی ہے۔ یعنی یہاں سے انتقال کے بعد پھر کسی طرح بھی اس کی بازگشت نہیں ہوسکتی اوریہی وہ حقیقت ہے
کہ انسان اس پر غور کرے تو وہ لرزہ براندام ہوجاتا اور یہی حقیقت سے خواب غفلت سے بیدار کرتی ہے۔