2- زمین پر سیاحت میں پوشیدہ حکمتیں
ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ أَيْدِي النَّاسِ لِيُذِيقَهُمْ بَعْضَ الَّذِي عَمِلُوا لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ ۴۱قُلْ سِيرُوا فِي الْأَرْضِ فَانْظُرُوا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِينَ مِنْ قَبْلُ ۚ كَانَ أَكْثَرُهُمْ مُشْرِكِينَ ۴۲فَأَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّينِ الْقَيِّمِ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَأْتِيَ يَوْمٌ لَا مَرَدَّ لَهُ مِنَ اللَّهِ ۖ يَوْمَئِذٍ يَصَّدَّعُونَ ۴۳مَنْ كَفَرَ فَعَلَيْهِ كُفْرُهُ ۖ وَمَنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِأَنْفُسِهِمْ يَمْهَدُونَ ۴۴لِيَجْزِيَ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ مِنْ فَضْلِهِ ۚ إِنَّهُ لَا يُحِبُّ الْكَافِرِينَ ۴۵
لوگوں کے ہاتھوں کی کمائی کی بنا پر فساد خشکی اور تری ہر جگہ غالب آگیا ہے تاکہ خدا ان کے کچھ اعمال کا مزہ چکھا دے تو شاید یہ لوگ پلٹ کر راستے پر آجائیں. آپ کہہ دیجئے کہ ذرا زمین میں سیر کرکے دیکھو کہ تم سے پہلے والوں کا کیا انجام ہوا ہے جن کی اکثریت مشرک تھی. اور آپ اپنے رخ کو مستقیم اور مستحکم دین کی طرف رکھیں قبل اس کے کہ وہ دن آجائے جس کی واپسی کا کوئی امکان نہیں ہے اور جس دن لوگ پریشان ہوکر الگ الگ ہوجائیں گے. جو کفر کرے گا وہ اپنے کفر کا ذمہ دار ہوگا اور جو لوگ نیک عمل کررہے ہیں وہ اپنے لئے راہ ہموار کررہے ہیں. تاکہ خدا ایمان اور نیک عمل کرنے والوں کو اپنے فضل سے جزا دے سکے کہ وہ کافروں کو دوست نہیں رکھتا ہے.
2- زمین پر سیاحت میں پوشیدہ حکمتیں :
قرآن مجید میں زمین پر سیاحت کا چھ مقام پر ذکر ہے اور وہ ہے سوره آل عمران ، انعام ، نحل ، نمل ، عنکبوت اور سورہ روم میں۔
ان میں ایک مقام پریعنی سورہ عنکبوت کی آیہ بیسں میں تو انسانوں کو سیاحت کا اس لیے حکم دیا گیا ہے تاکہ وہ أن اسرار و رموز کا مشاہدہ کریں جو اللہ کی مخلوقات میں پنہاں ہیں۔
او ــــــــــ دیگر پانچ مقامات پر یہ ہدایت اس لیے کی گئی ہے تاکہ لوگ دنیا کی جابر ، ستم شعار اور عصیاں کوش اقوام کے دردناک اور بلازده انجام کو دیکھ کر عبرت حاصل کریں۔
انسانوں کی روحانی اور اخلاقی تربیت کے لیے قرآن میں خصوصیت سے کائنات کی محسوسات ملوسات کا ذکر کیا گیا ہے۔ قرآن مسلمانوں کو خصوصًا یہ حکم دیتا ہے کہ اپنی زندگی
کے محدود دائرے سے باہر نکل کے اس وسیع دنیا کی سیروسیاحت کریں ۔ وہ دوسری قوموں کے اعمال ، اسلوب حیات اور رفتار زندگی کو دیکھیں اور اس پر بھی غور کرکے عبرت حاصل کریں کہ
اقوام و ملل کی کج رفتاری اور عصیاں کوشی کا انجام کیا ہوتا ہے۔
عصر حاضر میں شیطانی طاقتوں (طاقتور اقوام) نے اپنے نفع اندوزی کے دامن حرص کو پھیلانے کے لیے دنیا کی تمام اقوام ، تمام مالک اور زمین کے ہرحصے کی تحقیق کی ہے اور
ان کی تہذیب وتمدان ، مادی ذرائع ، صنعت و حرفت اور عسکری صنعت و قوت غرض ہر پہلو سے تفتیش کی ہے اور پھر ان کی کمزوریوں سے فائدہ اٹھایاہے۔
قرآن یہ درس دیتا ہے کہ ان جبار اور خون آشام قوموں کے بجائے (اے مسلمانو!) تم زمین پر پھیل جاؤ اور ان کے شیطانی منصوبوں کے بجائے رحمانی درس حاصل کرو۔
دوسروں کی زندگی سے عبرت حاصل کرنا شخصی تجربے سے زیادہ اہم اور زیادہ قدر رکھتا ہے ۔ کیونکہ شخصی تجربہ تو نقصان اٹھا کرہی حاصل ہوتا ہے مگر دوسروں کی زندگی
سے زبان و نقصان برداشت کیے بغیر عبرت حاصل ہوتی ہے۔
زمین پر سیاحت کے بارے میں قرآن کا حکم عین ان اصولوں کے مطابق ہے جو آج کل علمائے علم الانسان نے اختیار کیے ہیں اور وہ یہ ہیں کہ کتاب میں اصولی مسائل پڑھانے کے
بعد طلبا کو سیاحت کے لیے سے جاتے ہیں تاکہ وہ بچشم خود مطالعہ کریں۔
البتہ آج کل ایک اور قسم کی سیاحت کا رواج ہوا ہے ۔ اس کا نام ٹورزم TOURISM رکھا ہے ۔ اس سیاحت کا
۔-------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
؎1 آفريد گار جہان - بحث آفات بلاہا۔
۔-------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
رواج شیطانی تہذیب کی مالک قوموں کی طرف سے کسب دولت اور ثروت حرام کمانے کے لیے ہوا ہے۔ ان کے زیادہ ترمقاصد غیراخلاقی ہوتے ہیں۔ مثلًا نازیبا و ناشائستہ ثقافت کی ترویج ، عیاشی ،
ہوس رانی ، عادات کی بے لگامی اور دوسرے ناشائستہ مشاغل ۔ اس قسم کی سیاحت تباہ کن ہے.
اس کے برخلاف اسلام اس قسم کی سیاحت کا حامی ہے جس کا مقصد صحت مند تہذیب کی اشاعت ، تجربات سے باہمی استفاده ، جہان انسانیت میں اسرار تخلیق کی جستجو، عالم
طبیعی کی تحقیق اور فاسد و ستمگر اقوام کے دردناک انجام سے عبرت حاصل کرنا ہو۔
اس مقام پر اس نکتے کا ذکر ہے محمل نہیں ہے کہ اسلام میں ایک اور قسم کی "سیاحت" اور جہاں گردی کی ممانعت ہے ۔
جیسا کہ حدیث میں وارد ہواہے :
لا سیاحۃ فی الاسلام
اسلام میں سیاحت نہیں ہے۔ ؎1
اس حدیث کا اطلاق ان لوگوں پر ہوتا ہے کہ جو تمام عمر یا زندگی کے ایک حصے کے لیے معاشرتی زندگی سے منقطع ہوجاتے تھے اور کوئی حاصل خیز مشغلہ اختیار نہ کرتے
تھے ۔ بلکہ شہر بہ شہر اور قریہ بہ قریہ مارے مارے پھرتے تھے ، رہبانوں کی طرح زندگی بسر کرتے تھے اور معاشرے پربوجھ بنے رہتے تھے۔
بہ الفاظ دیگر یہ لوگ "را ہبان سیار" تھے۔ ان راہبوں کے بالعکس جو گرجوں میں مقیم رہ کر معاشرتی تعلقات ترک کرکے گوشہ نشینی کی زندگی بسر کرتے تھے ، جنہیں "راہیان ثابت"
کہا جاسکتا ہے ۔ مگر اسلام ایک عملی دین ہے وہ رہبانیت اور ترک دنیا کا مخالف ہے ۔ اس لیے وہ اس قسم کی سیاحت کی اجازت بھی نہیں دیتا۔