Tafseer e Namoona

Topic

											

									  1-  گناه و فساد کا باہمی ربط 

										
																									
								

Ayat No : 41-45

: الروم

ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ أَيْدِي النَّاسِ لِيُذِيقَهُمْ بَعْضَ الَّذِي عَمِلُوا لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ ۴۱قُلْ سِيرُوا فِي الْأَرْضِ فَانْظُرُوا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِينَ مِنْ قَبْلُ ۚ كَانَ أَكْثَرُهُمْ مُشْرِكِينَ ۴۲فَأَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّينِ الْقَيِّمِ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَأْتِيَ يَوْمٌ لَا مَرَدَّ لَهُ مِنَ اللَّهِ ۖ يَوْمَئِذٍ يَصَّدَّعُونَ ۴۳مَنْ كَفَرَ فَعَلَيْهِ كُفْرُهُ ۖ وَمَنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِأَنْفُسِهِمْ يَمْهَدُونَ ۴۴لِيَجْزِيَ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ مِنْ فَضْلِهِ ۚ إِنَّهُ لَا يُحِبُّ الْكَافِرِينَ ۴۵

Translation

لوگوں کے ہاتھوں کی کمائی کی بنا پر فساد خشکی اور تری ہر جگہ غالب آگیا ہے تاکہ خدا ان کے کچھ اعمال کا مزہ چکھا دے تو شاید یہ لوگ پلٹ کر راستے پر آجائیں. آپ کہہ دیجئے کہ ذرا زمین میں سیر کرکے دیکھو کہ تم سے پہلے والوں کا کیا انجام ہوا ہے جن کی اکثریت مشرک تھی. اور آپ اپنے رخ کو مستقیم اور مستحکم دین کی طرف رکھیں قبل اس کے کہ وہ دن آجائے جس کی واپسی کا کوئی امکان نہیں ہے اور جس دن لوگ پریشان ہوکر الگ الگ ہوجائیں گے. جو کفر کرے گا وہ اپنے کفر کا ذمہ دار ہوگا اور جو لوگ نیک عمل کررہے ہیں وہ اپنے لئے راہ ہموار کررہے ہیں. تاکہ خدا ایمان اور نیک عمل کرنے والوں کو اپنے فضل سے جزا دے سکے کہ وہ کافروں کو دوست نہیں رکھتا ہے.

Tafseer

									  چند اہم نکات 
 1-  گناه و فساد کا باہمی ربط : 
 انسان سے جو بداخلاقی یا بداعمالی بھی سرزد ہوتی ہے اس کا معاشرے کی حالت پر اور اس ذریعے سے افراد کی حالت پر اثر پڑتاہے اور بے اثر معاشرے کے اجتماعی نظام میں 

فساد کا باعث ہوتا ہے۔
 اخلاقی گناه ، بد اعمالی اور قانون شکنی غیر صحت بخش اور مسموم غذا کی مانند ہے جس کا انسان کے نظام جسمانی پر مضراثر پڑتا ہے اور اس کے رد عمل سے کسالت صحت میں 

مبتلا ہوجاتا ہے. مثلًا : 
 دروغ گوئی سے انسان کا اعتماد جاتا رہتا ہے۔  
 امانت میں خیانت سے معاشرتی تعلقات خراب ہوجاتے ہیں ۔ آزادی سے ناجائز فائدہ اٹھانا اس سے انسان  میں استبداد اور خودسری کا مادہ پیدا ہوجاتا ہے جو آخر کاررنگ لاتا ہے۔ انسان 

اپنے فرض کو فراموش کر دیتاہے اور کمزوروں اور قریبی دوستوں کے حقوق سلب کرتا ہے۔ اس کے میں لوگوں کے دلوں میں اس کے خلاف کینہ اور عداوت کے جذبات ابھرتے ہیں اور جس 

معاشرے میں ہر طرف کینہ اور عداوت مسلط ہو اس کی بنیاد متزلزل ہوجاتی ہے۔ 
 خلاصہ تحریر ہے کہ : ہر بدعملی خواہ وہ قلیل ہو یا کثیر، أس کا رد عمل معاشرہ اور فرد دونوں کے حق میں مضر ہوتا ہے ۔ اسی لیے آیت " ظهرالفساد في البر والبحر بما كسبت أيدي 

الناس" کی ایک تفسیریہ بھی کی گئی بے ("گناہ اور فساد میں یہی فطری ربط ہے)۔
 لیکن اسلامی روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ بہت سے گناہ ایسے ہیں جو مذکورہ بالا مضرتوں کے علاوہ ایسے زیاں آور اثرات کا سلسلہ بھی اپنے ساتھ لاتے ہیں کہ نگاہ ظاہر میں یہ 

پہنچان بھی نہیں ہوسکتی کہ ان اثرات کا گناہوں سے کیا ربط ہے۔
 مثلًا : روایات میں مذکور ہے کہ " قطع رحم" عمر کو کوتاہ کر دیتا ہے۔ مال حرام کھانا قلب کو سیاہ اور زنا کاری اور فحاشی کا چلن انسانوں کی فنا کا باعث ہوتا ہے اور روزی کو کم 

کر دیتاہے ۔ ؎1
  اس سلسلے میں امام جعفر صادقؑ سے ایک حدیث منقول ہے کہ آپ نے فرمایا : 
  من يموت بالذنوب اكثر ممن يموت بالاجال 
  جو لوگ بسب گناہ مرتے ہیں ان کا شمار ان سے زیادہ ہے جو طبعی موت 
  سے مرتے ہیں۔ ؎2
  قران شریف میں ایک اور مقام ہے اس مضمون کو ایک اور پہلوسے بیان کیا گیا ہے :
  ولو ان اهل القرى أمنوا واتقوا لفتحنا عليهم بركات من السماء 
  والارض ولكن كذبوا فاخذنا هو بما كانوا يكسبون 
  اگر وہ لوگ جو شہروں اور آبادیوں میں بستے ہیں ایمان لاتے اور تقوی اختیارکرتے 
  تو ہم ان کے لیے آسمانوں اور زمین کی برکات کھول دیتے لیکن انھوں نے تو 
  ہماری آیات کی تکذیب کی تو ہم نے بھی انھیں ان کے اعمال کی سزا دی۔   ( اعراف --96) 
 زیر بحث آیت میں "کلمہ" "فساد" میں مفاسد اجتماعی ، بلائیں اور سلب برکات ، تمام چیزیں شامل ہیں ۔ اس مقام پرایک اور نکته قابل توجہ ہے۔ وہ یہ کہ زیر بحث آیت سے ضمنًا یہ بھی 

معلوم ہوتا ہے کہ آفات اور بلاؤں کے نزول سے 
۔-------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
  ؎1    رسول اللہ سے ایک حدیث منقول ہے کہ :- 
 زنا کی چھ سزائیں ہیں جن میں سے تین دنیا میں ملتی ہیں اور تین آخرت میں۔ دنیاوی سزائیں یہ ہیں کہ انسان سے نورانیت سلب ہوجاتی ہے ،اسے موت جلد آجاتی ہے نیز اس کی روزی 

منقطع ہوجاتی ہے اور آخرت کی سزا میں سے ہیں کہ اس سے حساب میں سختی ہوگی  ، اس پر خدا کا غضب نازل ہوگا اور وہ ہمیشہ سے دوزخ میں رہے گا (سفینۃ البحار مادہ زنی) 
  ؎2  سفینۃ البحار (ماده ذنب) 
۔----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
 انسانوں کی تربیت بھی ہوتی ہے۔ اس طرح کہ وہ جب اپنے اعمال کے نتائج کو دیکھیں گے تو خواب غفلت سے بیدار ہوں گئے اور تقوٰی و طہارت اختیار کریں گے۔ 
 ہمارا یہ دعویٰ نہیں ہے کہ جملہ آفات و مصائب اسی قسم کے ہیں ۔ لیکن ان میں کچھ اس قسم کے فلسفے کے حامل ہے۔
 البتہ ان کے دیگر پہلو بھی ہیں جن کے بارے میں ہم نے متعلقہ مقام پر بحث کی ہے۔ ؎1