لوگوں کے اعمال ہی سرچشمہ فساد ہیں
ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ أَيْدِي النَّاسِ لِيُذِيقَهُمْ بَعْضَ الَّذِي عَمِلُوا لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ ۴۱قُلْ سِيرُوا فِي الْأَرْضِ فَانْظُرُوا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِينَ مِنْ قَبْلُ ۚ كَانَ أَكْثَرُهُمْ مُشْرِكِينَ ۴۲فَأَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّينِ الْقَيِّمِ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَأْتِيَ يَوْمٌ لَا مَرَدَّ لَهُ مِنَ اللَّهِ ۖ يَوْمَئِذٍ يَصَّدَّعُونَ ۴۳مَنْ كَفَرَ فَعَلَيْهِ كُفْرُهُ ۖ وَمَنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِأَنْفُسِهِمْ يَمْهَدُونَ ۴۴لِيَجْزِيَ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ مِنْ فَضْلِهِ ۚ إِنَّهُ لَا يُحِبُّ الْكَافِرِينَ ۴۵
لوگوں کے ہاتھوں کی کمائی کی بنا پر فساد خشکی اور تری ہر جگہ غالب آگیا ہے تاکہ خدا ان کے کچھ اعمال کا مزہ چکھا دے تو شاید یہ لوگ پلٹ کر راستے پر آجائیں. آپ کہہ دیجئے کہ ذرا زمین میں سیر کرکے دیکھو کہ تم سے پہلے والوں کا کیا انجام ہوا ہے جن کی اکثریت مشرک تھی. اور آپ اپنے رخ کو مستقیم اور مستحکم دین کی طرف رکھیں قبل اس کے کہ وہ دن آجائے جس کی واپسی کا کوئی امکان نہیں ہے اور جس دن لوگ پریشان ہوکر الگ الگ ہوجائیں گے. جو کفر کرے گا وہ اپنے کفر کا ذمہ دار ہوگا اور جو لوگ نیک عمل کررہے ہیں وہ اپنے لئے راہ ہموار کررہے ہیں. تاکہ خدا ایمان اور نیک عمل کرنے والوں کو اپنے فضل سے جزا دے سکے کہ وہ کافروں کو دوست نہیں رکھتا ہے.
تفسیر
لوگوں کے اعمال ہی سرچشمہ فساد ہیں :
گزشتہ آیات میں شرک کا ذکر تھا۔ ہم جانتے ہیں کہ مفاسد کی جڑ توحید کو فراموش کر دینا اور شرک اختیار کرنا ہے۔ اس لیے زیر نظر آیات میں اول یہ کہا گیا ہے کہ لوگوں کے اعمال
کے نتیجے میں خشکی اور تری میں فساد ظاہر ہوگیا ہے۔ (ظھرالفساد في البر والبحربماكسبت أيدي الناس )۔
خدا چاہتا ہے کہ لوگ اپنے اعمال کا ردعمل دیکھیں اور جو کام انھوں نے کیے ہیں ان میں سے بعض کا نتیجہ چکھیں۔
(اس طرح) شاید ان کی آنکھیں کھلیں اور اللہ کی طرف رجوع ہوں: (ليذيقھم بعض الذي عملوا لعلهم يرجعون)۔
یہ آیت فساد اور گناہ کے باہمی رابط کے متعلق ایک وسیع معنی کی حامل ہے۔ انسانوں کے گناہ اور بد اعمالیوں کا یہ نتیجہ نہ تو سرزمین مکہ و حجاز کے لیے مخصوص اور نہ عصر
پیغمبرؐ کے لیے بلکہ منطقی اصطلاح میں " قضیہ حقیقیہ" ہے جس میں محمول کا موضوع سے رابط و تعلق بیان کیا جاتا ہے۔
بہ الفاظ دیگر زمین پر جہاں بھی فساد ظاہر ہوتا ہے ، وہ لوگوں کی بداعمالیوں کا ردعمل ہوتا ہے ۔ اگر انسان غور کرے تو اس نتیجے میں بھی تربیت کا ایک پہلو ہے تاکہ لوگ اپنی
بداعمالیوں کا نتیجہ دیکھ کر ہوش میں آئیں اور خدا کی طرف رجوع کریں ۔
بعض مفسرین کا قول ہے کہ اس آیت کا پس منظر وہ قحط اور خشک سالی ہے جو پانی کی بد دعا کے نتیجے میں مشرکین مکہ کو پیش آئی تھی۔ اس وقت بارش ہونا بند ہوگئی تھی ، بیابان
خشک سے خشک ترہوگئے تھے یہاں تک کہ انھیں بحیره احمر میں مچھلی کا شکار بھی نہیں ملتا تھا۔
بالفرض اگر یہ واقعہ تاریخی طور پر صحیح بھی ہو، تب بھی ایک جزوی واقعہ ہے جس پر آیت صادق آتی ہے اور یہ واقعہ اس آیت کو کسی مخصوص قوم یا جماعت کے فساد و گناہ
تک محدود نہیں کرتا ، نہ اس کا مصداق کسی خاص زمان و مکان تک ہے اور نہ امساک باران اور خشک سالی محدود ہے۔
اس آیت کے متعلق جو نقطہ نگاہ ہم نے سطور بالا میں بیان کیا ہے اس سے آشکار ہے کہ اس آیت کی تفسیر کے تحت اہل قلم نے جن محدود اور مقامی واقعات کو اس کا مصداق قرار دیا
ہے وہ قابل قبول نہیں ہے۔ مثلًا یہ کہ بعض مفسرین نے زمین پر فساد ("فساد في البر) سے مراد قابیل کے ہاتھوں کا ہابیل کا قتل مراد لیا ہے اور سمندر میں فساد (فساد فی البحر) سے وہ واقعہ مراد لیا
ہے جو حضرت موسٰیؑ اور خضرؑ میں ہوا کہ ایک بادشاہ نے ملاحوں کی کشتیاں ضبط کرلی تھیں۔
دیا یہ کہ بعض مفسران نے " فساد في الارض وفساد في البحر" کے معنی لکھتے ہوئے بانیان فساد کا ذکر کر دیا ہے اور ایسے نگران مراد لیے ہیں جو اپنی اغراض کے لیے زمین اور
سمندر کو فساد سے بھرديتے ہیں۔
اس مقام پر یہ امکان ہے کہ اس قسم کے افراد موجب فساد ہوں ، جو دنیا پرست اور خوشامد پسند ہوں اور ان کے زور کی وجہ سے لوگ ان کی اطاعت اور فرماں برداری کی ذلت کو
قبول کرلیں۔
لیکن حقیقت امر یہ ہے کہ آیت کا احاطہ مصداق اتنا محدود نہیں ہے۔
مفسرین کی ایک جماعت نے "فساد في البحر" کے معنی میں بھی اختلاف کیا ہے۔ ان میں سے بعض کا یہ قول ہے کہ بحر سے مراد وہ شہر ہیں۔ جو سمندر کے کنارے واقع ہیں ۔ اور
بعض کا خیال ہے کہ "بحر" سے مراد حاصل خیز پر باغ و زراعت کے علاقے ہیں ۔ ہمارے نزدیک کلمہ "بحر" کے معنی میں یہ تکلفات بلا دلیل ہیں کیونکہ اس کلمہ کے معنی مشہور ہیں۔ "بحر" سمندر
کو کہتے ہیں سمندروں میں کئی طرح سے فساد رونما ہوسکتا ہے۔ اول یہ کہ سمندرسے جو فوائد پہنچتے ہیں وہ کم ہوجائیں ، دوم یہ کہ اس کے طوفان و تلاطم سے نقصان پہنچے ۔ سوم یہ کہ سمندر
لڑائیاں ہوں جیسا کے آج کل جنگی بحری بیڑے لڑتے ہیں۔ آبدوزیں ہیں جو تباہی لاتی ہیں۔
جناب امام جعفر صادق علیہ السلام سے ایک حدیث منقول ہے:
حیات دواب البحر بالمطرفاذاكف المطر ظهر الفساد في الجر
والبروذالك اذا كثرت الذنوب والمعاصي ۔
سمندر میں رہنے والی مخلوق کی زندگی کا مدار بارش پر ہے ، جب بارش نہیں ہوتي
سمندر اور خشکی دونوں میں فساد برپا ہو جاتا ہے اور یہ اس وقت ہوتا ہے جب
لوگوں کے گناہ کثیر ہوجاتے ہیں ۔ ؎1
۔--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
؎1 تفسیر قمی طبق نقل تفسیر المیزان ، جلد 16 ص 210
۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
حدیث مذکورہ بالا میں سمندری حیوانات کی زندگی کا جو ربط نزول باراں سے بیان کیا گیا ہے وہ تجربے سے ثابت ہوچکا ہے کہ جب بارش کم ہوتی ہے تو سمندر میں مچھلیوں کی تعداد
بھی کم ہو جاتی ہے۔ یہاں تک کہ ہم نے بعض ساحل نشینوں کہتے سنا ہے کہ :-
سمندر کو بارش کا فائده صحرا زیاده پہنچتا ہے۔
یہ امر کہ برو بحر میں فساد رونما ہونے کا انسانوں کے گناہوں سے کیا ربط ہے ، ہمارے پاس اس کی اور توجہیات بھی ہیں ۔ جن کا ان شاءاللہ نکات کی بحث میں ذکر آئے گا۔
آیت مابعد میں زمین پر سیر کا حکم بایں مصلحت دیا گیا ہے کہ قوموں کے ارتکاب گناہ کی وجہ سے زمین پر ظہور فساد سے جو نتائج رونما ہوئے اس کے شواہد اپنی آنکھوں سے دیکھ
لیں ۔ اس ضمن میں پیغمبراکرمؐ کو حکم دیا گیا ہے کہ ان لوگوں سے کہہ دو : تم زمین میں سفر کرو اور گزشتہ امتوں کے حالات کی تحقیق کرو اور ان کے اعمال اور ان کے نتائج کی تفتیش کروتو
تمہیں معلوم ہوگا کہ تم سے پہلے جو قومیں ان مقامات میں آباد تھیں اور شرک و انکار مصر تھیں ان کا انجام کیا ہوا: (قل سيروا في الارض فانظروا كيف كان عاقبة الذين من قبل كان اكثرهم مشركين )۔
ان کے ویران شده قصر و محلات کو بہ نظر عبرت دیکھو اور دیکھو کہ انھوں نے جو خدا خزانے جمع کیے تھے وہ لٹ چکے ہیں ۔ مشاہدہ کرو کہ ان کی وہ جماعت جسے اپنی قوت
اور توانائی پرناز تھا پراگندہ ہوگئی ہے اور دیکھو کہ ان کی قبر ٹوٹ پھوٹ کر ویران ہو گئی ہیں اور ان کی ہڈیاں گل سڑگئی ہیں ۔
ذرا دیکھو اور غور کرو کہ ان قوموں کے شرک اور ظلم وستم کا انجام کیا ہوا۔ جائے عبرت ہے کہ اگر وہ پرندوں کے آشیانے جلاتے تھے تو إن صیادوں کے گھر بھی کیسے برباد
ہوئے ہیں۔
البتہ ان میں سے اکثر افراد مشرک تھے: (كان ا كثرهم مشرکین) اور شرک ام الفساد اور ان کی تباہی کا باعث ہوا۔
اس مقام پر یہ امر توجہ طلب ہے کہ آیات ماقبل میں جہاں خدا کی نعمتوں کا ذکر تھا اس وقت ترتیب یہ تھی کہ پہلے انسان کی تخلیق کو بیان کیا ، پھر اسے روزی دینے کا ذکر کیا
(الله الذي خلقكم ثم رزقكم) مگر آیات زیر نظر میں جب خدا کے عذاب و سزا کا ذکر ہو رہاہے تو پہلی تنبیہ یہ ہے کہ خدا قوموں کے گناہوں کی سزا میں پہلے تو ان سے اپنی نعمتیں سلب کر لیتا ہے.
اس کے بعد ان کے شرک کی وجہ سے انھیں بلاک اور نابود کردیتا ہے۔
یہ ترتیب بایں معنی ہے کہ نعمت الہی کی پہلی منزل تخلیق ہے۔ اس کے بعد اپنے بندوں کو روزی رسانی ہے مگر جب وه اپنی بخشش کو واپس لیتا ہے تو پہلے ان سے وہ نعمات جو
وجہ حیات ہیں سلب کرلیتا ہے۔ اس کے بعد ان سرکش اور گمراہ اقوام کو بلاک کر دیتا ہے۔
اس آیت میں " اكثرهم مشركين " کہا گیا ہے۔ ان الفاظ کی وجہ یہ ہے کہ یہ سورہ مکی ہے اور اس زمانے میں مسلمان بحیثیت تعداد و شمار اقلیت میں تھے۔ اس لیے اكثرهم مشرکین
کہہ کرمسلمانوں میں اطمینان و قلب پیدا کرنا مقصود تھا کہ مشرکین کی کثرت سے ہراساں نہ ہوں ۔ کیونکہ خدا نے گزشتہ زمانوں میں ان جیسے مشرکین کی بڑی بڑی جماعتوں کو تباہ و نابود کر دیا
ہے ۔ نیز ان الفاظ میں اس عہد کے اہل طغیان کے لیے تنبیہ بھی ہے کہ جاؤ زمین میں چل کر دیکھو کہ تمہاری ہم مسلک ما قبل قوموں کا کیا انجام ہوا۔
چونکہ نصیحت حاصل کرنا ، خواب غفلت سے بیدار ہونا اور پھر خدا کی طرف رجوع کرنا ہی کافی نہیں ہوتا. اس لیے آیت مابعد میں خدا پیمغبراکرمؐ کی طرف روئے سخن کرکے یہ
فرماتا ہے :تم اپنا رخ مستقیم اور پائیدار دین (وہ دین جو توحید خالص کی تعلیم دیتا ہے) کی طرف کیے رہو ، اس دن کے آنے سے قبل جسے ارادہ الہی سے کوئی روک نہیں سکتا اور نہ خدا کا پروگرام
معطل ہوسکتا ہے۔ اس روز لوگ پراگندہ اورگرده در گردہ ہوجائیں گے۔ ایک گروہ بہشت میں اور دوسرا گروه دوزخ میں جائے گا : ( فاقم وحجك للدين القيم من قبل أن يأتي يوم لامرد له من الله يومئذ
یصدعون)۔ ؎1
اس آیت میں دین کی صفت "قیم" بیان کی گئی ہے۔" قیم" کے معنی ثابت اور استوار کے ہیں۔
لہذا "فاقم وجهك للدين القيم " جملۂ تاکیدی ہے جس سے مراد یہ ہے کہ چونکہ آئین اسلام اہل عالم کے نظام حیات کو استوار اور ان کی مادی اور روحانی حوائج کو پورا کرنے والا
ہے۔ لہذا اس سے منحرف نہ ہونا۔
نیز یہ کہ آیت کے مخاطب جناب رسالت مآبؐ ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جب پیغمبرؐ کو یہ تاکید ہے تو دوسرے سمجھ لیں کہ پھران کی کیا حیثیت ہے۔
نیز یہ کہ آیت فوق میں کلمه "يصتعون" استعمال ہوا ہے۔ یہ فعل مضارع ہے جس کا مادہ "صدع" ہے جس کے وضعی معنی برتن کو توڑنے اور پھاڑنے کے ہیں ۔ مگر رفتہ رفتہ یہ
کلمہ ہر قسم کی پراگندگی اور تفرقہ کے معنی میں استعمال ہونے لگا۔
اس آیت میں اس کلمہ کا مفہوم یہ ہے کہ بروز قیامت اہل بہشت اورمستحق النار لوگوں کے گروہ الگ الگ ہوجائیں گے۔ پھر ان دونوں جماعتوں کی بھی بہشت کے اور دوزخ کے
درجات کے لحاظ سے درجہ بندی ہو جائے گی۔
اس کے بعد آنے والی آیت میں اس امر کی تشریح ہے کہ بروز قیامت لوگ کس طرح جماعتوں میں تقسیم ہوجائیں گے۔
چنانچہ فرمایا گیا ہے: جس نے کفر کیا اس کا نقصان کود اسی کوپہنچے گا: (من كفر فعليه كفرہ)۔
۔--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
؎1 اس آیت کے جز " لامرد له من الله " میں کلمہ "مرد" مصدر میمی ہے مگراس جگہ معنی اسم فاعل استعمال ہوا ہے اس لیے کا اس کے یہ معنی ہوں گے " لا راد له من الله" اس مقام پر ضمیر
"له" کا مرجع "یوم" ہے لہذا اجمالًا جملے کا مفہوم ہے کوئی شخص بھی اگر اس دن کے برپا کرنے سے روک نہیں سکتا۔ یعنی خدا کو بروز قیامت کوئی بھی دادرسی اعمال کی جزا و سزا دینے سے
روک نہیں سکتا۔ خلاصہ یہ ہے کہ نہ تو خدا ہی اپنے وعدہ سے پھرنے والا ہے کہ اس روز حساب کو موقوف کردے اور نہ کسی غیر ہی میں یہ طاقت ۔ پس اس روز کا آنا حتمی ہے۔ (غور کیجیئے
گا)۔
۔--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
لیکن وہ لوگ جو اعمال صالح انجام دیتے ہیں ، وہ ان اعمال کے ذریے اجرالٰہی کو اپنے لیے مہیا کرتے ہیں: (ومن عمل صالحًا فلا نفسهم يمهدون) ۔
راغب نے مفردات میں لکھا ہے کہ " يمهدون" کا مادہ "مھد" (بروزن "عہد") ہے ۔ یہ اسم ہے ، گہوارہ اور جھولے کو یا شیر خوار بچے کے سلانے کی جگہ کو کہتے ہیں۔
بعد ازاں اس کے معنی وسیع ہوگئے اور مھد و مھاد بر آرام دہ اور آسائش بخش جگہ کے معنی میں استعمال ہونے لگا۔ اسی جہت سے مومنین صالح اور اہل بہشت کے لیے یہ کلمہ
استعمال کیا گیا ہے۔
خلاصہ گفتگویہ ہے کہ انسان یہ گمان نہ کرے کہ اس کے ایمان و کفر یا اعمال زشت و زیبا کا خدا پر کچھ اثر ہوتا ہے۔ بلکہ وہ خود ہی اپنے اعمال صالح سے شاد و خوشنود اور
اعمال سیہ غمگین ہوتا اور تکلیف اٹھاتا ہے۔
یہ امر توجہ طلب ہے کہ جہاں کفار کا ذکر ہے، جملہ " من كفر فعليه كفرہ" پر ہی اکتفا کی گئی ہے لیکن جب اہل ایمان کا ذکر آتا ہے تو آیت ما بعد میں بالوضاحت یہ بیان ہے کہ انھیں
صرف بوزن اعمال ہی جزا نہیں ملے گی بلکہ خدا نہیں ایسی نعمات کثیر عطا فرمائے گا جو اس کے فضل و کرم کے شایان شان ہیں۔
مقصود یہ ہے کہ خدا ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور اعمال صالح انجام دیتے ہیں اپنے فضل و کرم سے جزائے خیر دے گا: ( ليجزى الذين آمنوا وعملوالصالحات من فضله )-
یہ امر مسلم ہے کہ خدا کے اس فضل سے کفارمستفید نہ ہوسکیں گے ۔ کیونکہ خدا کفارکو دوست نہیں رکھتا :(اته لا يحب الكافرين)۔
بہرکیف یہ امر بدیہی ہے کہ خدا عادل ہے اس لیے وہ کفار اور مشرکین کے ساتھ بھی عدل کے ساتھ سلوک کرےگا۔ اور انھیں اتنی ہی سزا ملے گی جتنی کے کے وہ مستحق ہیں مگر
وہ خدا کے فضل اور اس کی نعمات سے محروم رہیں گے۔