سوره روم / آیه 41 - 45
ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ أَيْدِي النَّاسِ لِيُذِيقَهُمْ بَعْضَ الَّذِي عَمِلُوا لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ ۴۱قُلْ سِيرُوا فِي الْأَرْضِ فَانْظُرُوا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِينَ مِنْ قَبْلُ ۚ كَانَ أَكْثَرُهُمْ مُشْرِكِينَ ۴۲فَأَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّينِ الْقَيِّمِ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَأْتِيَ يَوْمٌ لَا مَرَدَّ لَهُ مِنَ اللَّهِ ۖ يَوْمَئِذٍ يَصَّدَّعُونَ ۴۳مَنْ كَفَرَ فَعَلَيْهِ كُفْرُهُ ۖ وَمَنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِأَنْفُسِهِمْ يَمْهَدُونَ ۴۴لِيَجْزِيَ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ مِنْ فَضْلِهِ ۚ إِنَّهُ لَا يُحِبُّ الْكَافِرِينَ ۴۵
لوگوں کے ہاتھوں کی کمائی کی بنا پر فساد خشکی اور تری ہر جگہ غالب آگیا ہے تاکہ خدا ان کے کچھ اعمال کا مزہ چکھا دے تو شاید یہ لوگ پلٹ کر راستے پر آجائیں. آپ کہہ دیجئے کہ ذرا زمین میں سیر کرکے دیکھو کہ تم سے پہلے والوں کا کیا انجام ہوا ہے جن کی اکثریت مشرک تھی. اور آپ اپنے رخ کو مستقیم اور مستحکم دین کی طرف رکھیں قبل اس کے کہ وہ دن آجائے جس کی واپسی کا کوئی امکان نہیں ہے اور جس دن لوگ پریشان ہوکر الگ الگ ہوجائیں گے. جو کفر کرے گا وہ اپنے کفر کا ذمہ دار ہوگا اور جو لوگ نیک عمل کررہے ہیں وہ اپنے لئے راہ ہموار کررہے ہیں. تاکہ خدا ایمان اور نیک عمل کرنے والوں کو اپنے فضل سے جزا دے سکے کہ وہ کافروں کو دوست نہیں رکھتا ہے.
(41) ظَهَرَ الْفَسَادُ فِى الْبَـرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ اَيْدِى النَّاسِ لِيُذِيْقَهُـمْ بَعْضَ الَّـذِىْ عَمِلُوْا لَعَلَّهُـمْ يَرْجِعُوْنَ
(42) قُلْ سِيْـرُوْا فِى الْاَرْضِ فَانْظُرُوْا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّـذِيْنَ مِنْ قَبْلُ ۚ كَانَ اَكْثَرُهُـمْ مُّشْرِكِيْنَ
(43) فَاَقِمْ وَجْهَكَ لِلـدِّيْنِ الْقَيِّـمِ مِنْ قَبْلِ اَنْ يَّاْتِـىَ يَوْمٌ لَّا مَرَدَّ لَـهٝ مِنَ اللّـٰهِ ۖ يَوْمَئِذٍ يَّصَّدَّعُوْنَ
(44) مَنْ كَفَرَ فَعَلَيْهِ كُفْرُهٝ ۖ وَمَنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِاَنْفُسِهِـمْ يَمْهَدُوْنَ
(45) لِيَجْزِىَ الَّـذِيْنَ اٰمَنُـوْا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ مِنْ فَضْلِـهٖ ۚ اِنَّهٝ لَا يُحِبُّ الْكَافِـرِيْنَ
ترجمہ
(41) لوگوں کے اعمال کی وجہ سے خشکی اور تری میں فساد پھیل گیا ہے۔ خدا چاہتا ہے کہ انھیں ان کے بعض اعمال کا مزہ چکھاۓ۔ شاید کہ وہ خدا کی طرف رجوع کریں۔
(42) ان سے کہہ دو : زمین میں چل پھر کر دیکھو ان لوگوں کا انجام کیا ہوا جو تم سے پہلے تھے۔ ان میں سے اکثر مشریک تھے۔
(43) تم اس دن سے پہلے جو خدا کی طرف سے آکر رہے گا اور اسے کوئی روک نہیں سکتا اپنا رخ مستقیم اور پائیدار دین کی طرف کیے رہو ۔ اور اس روز لوگ مختلف
جماعتوں میں بٹ جائیں گے۔
(44) جس شخص نے کفر کیا اس کا کفر اسی کے لیے زیاں رساں ہے اور جو لوگ کہ اعمال صالح انجام دیتے ہیں وہ ( خدا کے اجر و ثواب کو) اپنے ہی فائدے کے لیے مہیا
کرتے ہیں۔
(45) یہ اس لیے ہے تاکہ خدا ان لوگوں کو جو ایمان لائے ہیں اور اعمال صالح انجام دینے ہیں ، اپنے فضل سے جزادے ۔ یقینًا وہ کافروں کو دوست نہیں رکھتا۔