تفسیر
أَوَلَمْ يَرَوْا أَنَّ اللَّهَ يَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ يَشَاءُ وَيَقْدِرُ ۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَاتٍ لِقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ ۳۷فَآتِ ذَا الْقُرْبَىٰ حَقَّهُ وَالْمِسْكِينَ وَابْنَ السَّبِيلِ ۚ ذَٰلِكَ خَيْرٌ لِلَّذِينَ يُرِيدُونَ وَجْهَ اللَّهِ ۖ وَأُولَٰئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ ۳۸وَمَا آتَيْتُمْ مِنْ رِبًا لِيَرْبُوَ فِي أَمْوَالِ النَّاسِ فَلَا يَرْبُو عِنْدَ اللَّهِ ۖ وَمَا آتَيْتُمْ مِنْ زَكَاةٍ تُرِيدُونَ وَجْهَ اللَّهِ فَأُولَٰئِكَ هُمُ الْمُضْعِفُونَ ۳۹اللَّهُ الَّذِي خَلَقَكُمْ ثُمَّ رَزَقَكُمْ ثُمَّ يُمِيتُكُمْ ثُمَّ يُحْيِيكُمْ ۖ هَلْ مِنْ شُرَكَائِكُمْ مَنْ يَفْعَلُ مِنْ ذَٰلِكُمْ مِنْ شَيْءٍ ۚ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَىٰ عَمَّا يُشْرِكُونَ ۴۰
تو کیا ان لوگوں نے نہیں دیکھا کہ خدا جس کے رزق میں چاہتا ہے وسعت پیدا کردیتا ہے اور جس کے یہاں چاہتا ہے کمی کردیتا ہے اور اس میں بھی صاحبِ ایمان قوم کے لئے اس کی نشانیاں ہیں. اور تم قرابتدار مسکین اور غربت زدہ مسافر کو اس کا حق دے دو کہ یہ ان لوگوں کے حق میں خیر ہے جو رضائے الہٰی کے طلب گار ہیں اور وہی حقیقتا نجات حاصل کرنے والے ہیں. اور تم لوگ جوبھی سود دیتے ہو کہ لوگوں کے مال میں اضافہ ہوجائے تو خدا کے یہاں کوئی اضافہ نہیں ہوتا ہے ہاں جو زکوِٰ دیتے ہو اور اس میں رضائے خدا کا ارادہ ہوتا ہے تو ایسے لوگوں کو دگنا چوگنا دے دیا جاتا ہے. اللرُ ہی وہ ہے جس نے تم سب کو خلق کیا ہے پھر روزی دی ہے پھر موت دیتا ہے پھر زندہ کرتا ہے کیا تمہارے شرکائ میں کوئی ایسا ہے جو ان میں سے کوئی کام انجام دے سکے خدا ان تمام چیزوں سے جنہیں یہ سب شریک بنارہے ہیں پاک و پاکیزہ اور بلند و برتر ہے.
تفسیر
پہلی زیر بحث آیت میں بھی گزشتہ مقامات کی طرح "توحید ربوبیت" کا تذکرہ ہے ۔ اور جیسا کہ آیات ماقبل میں آچکا ہے بعض کمظرف لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ جب ہم انہیں اپنی
نعمتیں عطا کرتے ہیں تروہ مغرور ہوجاتے ہیں اور جب وہ کسی بلا یا مصیبت سے دوچار ہوجاتے ہیں تو مایوس ہوجاتےہیں۔ اسی نسبت سے اس آیت میں فرمایا گیا ہے: کیا وہ یہ نہیں جانتے کہ خدا
جس کے لیے چاہتا ہے روزی فراخ کر دیتا ہے اور جس کے لئے چاہتا ہے تنگ کر دیتا ہے ۔ (اولم يروا و ان الله يبسط الرزق لمن يشاء ويقدر)۔
جب انسان نعمتوں سے غنی ہوجائے تو یہ حالت اس کے لیے غرور ، سرکشی اور یادالہی کی فراموشی کا باعث نہ ہوجائیں اور سلب نعمات یاس اور ناامیدی کا باعث نہ ہو جائے
کیونکہ : روزی کی وسعت اور تنگی خدا کے ہاتھ میں ہے ۔ کبھی اس کی مصحلت فراخی میں ہو تی ہے اور کبھی تنگی میں۔
یہ درست ہے کہ یہ عالم عالم اسباب ہے ، جو لوگ محنتی اور سخت کوش ہیں ، عام طور پر وہ زیادہ کماتے ہیں اور خوشاحال ہیں۔ بخلاف ازیں کاہل اور کم کوش لوگ عسرت میں
رہتے ہیں۔ لیکن یہ کوئی قاعدہ کلیہ نہیں ہے۔ کیونکہ کبھی ایسا بھی دیکھنے آتا هے کہ نہایت لائق اور جدوجہد کرنے والے لوگ جتنی بھی زیادہ کوشش کرتے ہیں ، کامیاب نہیں ہوتے۔ اس کے بالعکس
ایسے لوگ بھی نظر آتے ہیں جو کسب معاش میں بہت کوشش نہیں کرتے ، مگر ان کے لیے ہر طرف سے روزی کے دروازے کھلے ہوتے ہیں۔
یہ مستثنیات اس لیے میں تاکہ خدا یہ بتا دے کہ اس عالم اسباب میں جو ترغیبات TEMPTATIONS ہیں ان کا نتیجہ یہ نہ ہو کہ انسان عالم اسباب میں ہی گم ہوجائے۔ انسان کو
یہ نہ بھولنا چاہیے کہ اس کارخانے کی پشت پر ایک قوی ہاتھ ہے جو اسے چلا رہا ہے۔
:اس عالم نیرنگ میں یہ دیکھا جاتاہے کہ کبھی توایسا بوتا ہے کہ انسان کسی مقصد کے لیے خواہ کتنی ہی کوشش کرلے اور ہر دروازے پر دستک دے لے مگر اس کے لیے ہر راستہ بند
ہوتا ہے اور کبھی اس کے لیے اتنی آسانی پیدا ہوجاتی ہے کہ ہنوز وہ کسی دروازے کے قریب بھی نہیں آتا کہ اس کے لیے کھل جاتا ہے۔
ہم اپنی زندگی میں اس قسم کے واقعات دیکھتے رہتے ہیں کہ ایک شخص کو نعمت کا غرور ہے اور دوسرا آدمی غربت اور افلاس کی وجہ سے مایوس ہے۔ یہ اس امر کی دلیل ہے کہ
ہمارے ارادوں اور خواہشات کے پیچھے ایک قوی ہاتھ ہے جو کام کررہا ہے. اس لیے آیت کے آخر میں قرآن فرماتا ہے: ان معاملات میں ان لوگوں کے لیے جو ایمان لائے ہیں خدا کی قدرت اور عظمت
کی نشانیاں ہیں ۔ ( ان في ذالك لآيات لقوم يؤمنون )۔
بعض مفسرین نے اس مضمون کی ایک حکایت بیان کی ہے :
کسی نے ایک عالم سے سوال کیا :
ماالدليل على أن للعالم صانعًا واحدًا
اس امر کی کیا دلیل ہے کہ اس عالم کا ایک صانع یکتاہے؟
اس عالم نے جواب دیا : تین دلیلیں ہیں۔
ذل اللبيب ، وفقر الاديب ، وسقم الطبيب
اول یہ کہ اہل خرد و حکمت دنیا میں ذلیل ہیں ۔
دوم یہ کہ اہل علم و ادب فقر و فاقہ میں مبتلا ہیں ۔
سوم یہ کہ طبیب بھی بیمار ہوتے ہیں ۔ ؎1
ہے شک ان مستثنیات کا وجود اس امر کی دلیل ہے کہ چارہ کار کسی اور کے ہاتھ میں ہے۔
چنانچہ امیرالمومنین حضرت علی سے ایک حدیث مروی ہے:
عرفت الله سبحانه بفسخ العزائم وحل العقود ونقص الهمم
میں نے اپنے خدا کو اس بات سے پہچانا کر عزائم محکم فسخ ہو جاتے ہیں اور کبھی گرہیں
کھل جاتی ہیں اور کبھی قوی ارادے ٹوٹ جاتے ہیں اور نا کام ہو جاتے ہیں ۔ ؎2
اور چونکہ ہر نعمت الٰہی اپنے ساتھ ذمہ داریاں اور فرائض بھی لاتی ہے ، اس لیے آیت مابعد میں روئے سخن پیغمبرؐ کی
۔----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
؎1 تفسیر روح البیان جلد ، 7 ص 39 زیربحث آیت کے ذیل میں ۔
؎2 نہج البلاغہ ، کلمات قصار جملہ 250۔
۔-----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
طرف کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: جب کہ ایسا ہے تو تم اپنے اعزا و اقارب کا حق ادا کرو۔ اسی طرح مسکینوں اور مسافروں کی مدد کرو: ( فات ذا القربى حقه والمسکين وابن السبيل)۔
جب تمہارا رزق وسیع ہو تو یہ نہ سمجھو کہ جو کچھ تمہارے پاس سے وہ بلا شرکت غیرے تمهارا ہی ہے. بلکہ تمهارے مال میں دوسروں کے بھی حقوق ہیں ۔ ان میں سے تمہارے
اعزاہیں اور وہ حاجت مند لوگ ہیں جو شدت فقرسے ناتوان ہو گئے ہیں ، اسی طرح وہ آبرومند لوگ ہیں جو وطن سے دور حالت مسافرت میں حادثات پیش آنے کی وجہ سے محتاج ہو سفر جاری نہیں
رکھ سکتے۔
کلمہ "حصہ" سے اس واقعیت کا اظہار مقصود ہے کہ مذکورہ بالا لوگ انسان کے مال و دولت میں شر یک ہیں ۔ اگر انسان انہیں کچھ بطور امداد دیتا ہے تو درحقیقت وہ ان کا حق ادا
کررہا ہے اوران پر کچھ احسان نہیں کررہا۔
مفسرین کی ایک جماعت نے اس آیت کا مخاطب خصوصیت سے جناب رسالت مآب اور ان کے اعزا و اقارب ہی کو سمجھاہے۔
جناب ابوسعید خدری اور دوسرے اصحاب سے ایک مشہور روایت میں یہ نقل ہوا ہے :
جس وقت آیه نازل ہوئی تو رسول اللہؐ نے " فدک" جناب فاطمہؑ کو بخش دیا۔
روایت ک الفاظ یہ ہیں :
لما نزلت هذه الاية على النبي اعطى فاطمة فدكا و سلمہ اليها۔ ؎1
امام محمد باقرؑ اور امام جعفر صادقؑ نے بھی اس مضمون کو بعینہ بیان کیا ہے۔ ؎2 امام جعفرصادقؑ کی زبانی ایک روایت جس میں اس گفتگو کا ذکر ہے جو بانوئے اسلام حضرت
فاطمہ زہراؑ اور حضرت ابوبکر کے درمیان ہوئی تھی۔ اس میں یہ مضمون نہایت تفصیل سے مذکور ہے۔ ؎3
مگر مفسرین کی ایک اور جماعت نے اس آیت میں خطاب کے عمومی معنی مراد لیے ہیں۔ جس میں جناب رسول اللہؐ اور ان کے علاوہ سب لوگ شامل ہیں۔
اس تفسیر کے مطابق ہر شخص کا یہ فرض ہے کہ وہ اپنے اعزا و اقارب کے حق کو فراموش نہ کرے۔
مگر ان دونوں تفاسیر میں باہم کوئی تضاد نہیں ہے، بلکہ دونوں قابل تسلیم اور اپنے مقام پر درست ہیں۔باین وجہ کہ آیت کا مفہوم وسیع ہے اور جناب پیغمبرؐ ، ان کے اقربا، بالخصوص
جناب فاطمہ زہراؑ اس کی مصداق کامل ہیں۔
یہ امر واضح ہے کہ مذکورہ بالا تفاسیر میں سے کوئی بھی اس آیت کے مکی ہونے کی تردید نہیں کرتی ۔ کیونکہ آیت کا مفہوم جامع ہے جس پر مکہ میں بھی عمل ہوسکتا تھا اور مدینہ
میں بھی یہاں تک کہ جناب فاطمہ سلام الله علیہا کو اس آیت کی اساس پرفدک جاگیر عطا کرنا کاملًا قابل قبول ہے۔
۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
؎1 تفسیر مجمع البیان زیر بحث آیت کے ذیل میں ۔
؎2 نورالثقلين جلد ، 4 ص 186 تفسیر علی بن ابراہیم۔
۔-------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
اس مقام پر صرف "لما نزلت هذه الاية " کے مفہوم کی وضاحت باقی رہ جاتی ہے۔
جناب ابوسعید خدری کی روایت سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ نے فدک کی جاگیر جناب فاطمہ کو اس آیت کے نازل ہونے کے بعد عطا کی لیکن اگر اس مقام پر (لما) کے معنی
علت کے لیے جائیں تو نہ کہ زمانہ خاص کے لیے تو مسئلہ بھی حل ہو جاتا ہے اور روایت کا یہ مفہوم تو جائے گاکہ:
پیغمبر نے خدا کے اس حکم کے مطابق فدک جناب فاطمہؐ کو عطا کر دیا۔
علاوہ ازیں بعض آیات کبھی دو دفعہ میں نازل ہوئی ہیں ۔
یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ہر قسم کے مستحق اور نیازمند افراد میں سے صرف ان تین قسم کے لوگوں کا ذکر ہی کیوں ہوا ہے؟ ممکن ہے کہ یہ اس وجہ سے ہو کہ ان تین قسم
کے افراد کی اہمیت زیادہ ہے ، کیونکہ رشتہ داروں کا حق تو سب سے فایق ہے اور محروم اور حاجت مند لوگوں میں سے مساکین اور راہ سفر میں درماندہ لوگ سب سے زیاده مستحق ہیں ۔
فخررازی نے اس سوال کی توجیہ میں ایک نکتہ بیان کیا ہے۔ وہ یہ کہ وہ آٹھ قسم کے لوگ انہیں زکوة کی رقم دینی چاہیے ، انھیں اسی صورت میں دی جاسکتی ہے جب کہ صاحب مال
پر ادائے زکوة واجب ہو ، مگر آیت میں جن تین قسم کے لوگوں کا ذکر ہوا ہے ، ہرحالت میں ان کی مدد کرنا لازم ہے۔ کیونکہ بعض رشتہ دار تو واجب النفقہ ہوتے ہیں اور "مسکین" وہ محروم فقیر ہے
کہ اگر اس کی مدد نہ کی جائے تو اکثر اوقات اس کی جان کو خطرہ لاحق ہو جاتا ہے۔ اسی طرح ممکن ہے کہ کوئی مسافر ایسے حالات میں گرفتار ہو کہ مدد نہ پہنچنے کی صورت میں اس کی جان
پر بن جاۓ ، علاوہ بریں آیت میں ان تین قسم کے لوگوں کا جس ترتیب سے ذکر کیا گیا ہے وہ ان کے رتبہ کی اہمیت کی مناسبت سے ہے۔
بہرحال آیت کے اخیر میں نیکو کار لوگوں کی تشویق اور ضمنًا اس بخشش کی شرط قبولیت کے طور پر فرمایا گیا ہے : یہ کام ان لوگوں کے لیے بہتر ہے جوصرف رضاۓ الہی کے
طالب ہیں. ۱ ذالك خير للذين يريدون وجه الله)۔
اور جو لوگ کہ ایسے کارہائے خیر انجام دیتے ہیں وہ نجات یافتہ ہیں۔ ۱ وأولئك هم المفلحون)۔
وہ اس جہان میں نجات یافتہ ہوں گے ۔ کیونکہ "انفاق" دنیاوی زندگی میں ابھی عجیب برکات کا موجب ہوتا ہے اور آخرت میں خدا کی ترازو میں انفاق وزنی ترین اعمال میں سے ہوگا۔
یہ امر قابل توجہ ہے کہ آیت بالا میں کلمہ "وجه الله " سے خدا کی جسمانی صورت مراد نہیں ہے کیونکہ وہ صورت جسمانی نہیں رکھتا بلکہ اس کلمہ سے مراد خدا کی ذات ہے۔
اس آیت سے ثابت ہوتا ہے کہ صرت انفاق اور رشتہ داروں اور دیگر صاحبان حقوق کا حق ادا کرنا ہی کافی نہیں ہے۔ بلکہ یہ سب کچھ اخلاص اور پاک نیت کے ساتھ ہو۔اس میں کسی
قسم کی ریاکاری اور خود نمائی نہ ہو اورنہ احسان وتحقیر کا جذبہ ہو۔ دینے والا کسی قسم کے بدلے کا منتظر بھی نہ رہے۔
اس مقام پر یہ نکتہ بھی قابل ذکر ہے کہ بعض مفسرین کے قول کے خلاف جنھوں نے یہ لکھا ہے کہ داخل بہشت ہونے کے لیے "انفاق" "وجه الله" کا مصداق نہیں ہے ، حقیقت امر یہ
ہے کہ انسان جو کام بھی انجام دیتا ہے اس کا اس کی جان پر بن جاتے کسی نہ کسی طرح خدا سے کچھ تعلق ہوتا ہے ۔ وہ کام خواہ اس کی رضا کے لیے ہر یا حصول اجرو ثواب یا اس کے عذاب سے
نجات پانے کے لیے ہو۔ یہ سب کام وجه الله ہیں. اگرچہ انسان کے لئے مرحلہ عالی و کامل یہ ہے کہ ہر کام کرتے وقت اس کی نظر میں خداکی وبودیت اور اطاعت کے سوا کوئی اور مقصد نہ ہو۔
آیت مابعد میں اس بحث کی مناسبت سے جو انفاق نام کے متعلق جاری تھی ، انفاق کی دو صورتوں کا ذکر ہے ۔اول تو وہ انفاق ہے جو محض لوجه الله کیا جائے اور دوسرے وہ جو
حصول مال دنیا کے لیے کیا جائے۔ اس سلسلے میں خدا فرماتا ہے : تم جو مال اس مقصد سے خرچ کرتے ہو کہ اس سے افزائش ہو اور لوگوں کے اموال میں اضافہ ہوجاۓ
تو خدا کے نزدیک اس میں کچھ اضافہ نہ ہوگا ۔ البتہ تم جو بطور زکوۃ کو صرف رضائے الہی کے لیے دیتے ہو ، اس قسم کے لوگ کئی گنا اجر و ثواب کے مستحق ہیں ۔ ( وما أتيتم من ربًا ليربوا في
اموال الناس فلایربوا عند الله وما اتيتم و من نكاة تريدون وجه الله فأولئك هو المضفون)۔
اس آیت میں جمله دوم کا مفہوم "یعنی زکوة دینا اور راہ خدا میں انفاق کرنا اجر و ثواب کثیر کا موجب ہے" واضح ہے لیکن جملہ اول کے مفہوم کی کہ "ربا" درحقیقت بمعنی افزائش ہے۔
مفسرین نے گوناگوں تفاسیر کی ہیں۔
ان میں سے پہلی تفسیر جو سب سے زیادہ واضح اور آیت کے مفہوم سے ہم آہنگ تر ، اور ان روایات سے ہم ساز ہے جو اہل بیت سے منقول ہیں ، یہ ہے کہ اس مقام پر "ربا" سے
مراد وہ تحائف ہیں جو بعض لوگ دوسروں کے لیے بالخصوص صاحبان دولت و ثروت کے لیے لے جاتے ہیں اور ان کا مقصد سے ہوتا ہے کہ ان اہل دولت سے زیادہ سے زیادہ اور بہتر سے بہتر
منفعت حاصل کریں۔
یہ امر بدیہی ہے کہ امراء کو جو ہدیے پیش کیے جاتے ہیں انھین مستحق امداد سمجھ کر تو نہیں پیش کیے جاتے اور نہ یہ خیال ہوتا ہے کہ یہ لوگ حاجت مند ہیں اس لیے پہلے ان کی
مدد کرنی چاہئے بلکہ مد نظریہ ہوتا ہے کہ یہ ہدیہ ایسی جگہ دیا جائے جہاں سے زرکثیر حاصل ہوسکے۔ یہ فطری امرہے کہ اس طور کے تحائف جن میں شائبہ اخلاص نہیں ہوتا ، اخلاقی نقط نگاہ
سے ان کی کوئی قدر نہیں ہے۔ اس بنا پر اس آیت میں "ربا" سے مراد ہدیہ اور عطیہ ہی ہے اور جملہ" ليربوا في أموال الناس" کا مفہوم لوگوں سے زیادہ فائده اٹھاناہے۔
اس میں شک نہیں کہ اس قسم کا فائدہ حاصل کرنا حرام تو نہیں ہے کیونکہ اس معاملے میں ( ہدیہ دینے اور لینے والے کے درمیان) کوئی شرط اور قرارداد نہیں ہوتی۔ مگراخلاقًا اس کی کوئی قدر نہیں
ہے ۔
امام جعفر صادق سے متعدد احادیث میں مروی ہے کہ اس ربا سے مراد " ربائے حلال" ہے. بمقابلہ "ربائے حرام" کیونکہ اس میں شروط و قرار داد ہوتی ہے
آیت بالا کی تفسیر میں ایک حدیث کتاب تہذیب الاحکام میں امام جعفر صادقؑ سے یوں منقول ہے :
هو هديتك الى الرجل تطلب منه الثواب افضل منها فذالك ربي يؤكل ۔
اگر کسی کو ہدیہ دینے کا مقصد یہ ہے کہ تم اس آدمی سے زیادہ منفعت حاصل کرو
تویہ ربائے حلال ہے ۔
امام جعفر صادقؑ ہی سے ایک اور حدیث یوں منقول ہے :
الربا رباان احد هما حلال ، والاخرحرام فاما الحلال فھوان یقرض
الرجل اخاه قرضا يريد ان يزیدہ و يعوضه باكثر مما يأخذه بلا
شرط بینهما ، فان اعطاہ اكثر مما أخذه على غير شرط بينهما فهو
مباح له وليس له عنداللہ ثواب فيما اقرضه ، وهو قوله فلا يربوا
عبدالله ، واما الحرام فالرجل يقرض قرضا ويشتر ان يرد اكثر
مما اخذه فهذا هوالحرام ۔
"ربا" وو طرح کا ہے۔ ایک حلال اور دوسرا حرام - حلال وہ ہے کہ انسان اپنے
کسی مسلمان بھائی کو اس امید پر قرض دے کہ جب وہ یہ رقم واپس دے گا تو
اصل پر کچھ اضافہ کر دے گا۔ مگر قرض دہندہ اور مقروض کے درمیان اس قسم کی
کوئی شرط نہ ہو۔ اس صورت میں آکر قرض لینےوالاغیرمشروط طورپراصل زرپر کچھ
اضافہ کر کے واپس کرتا ہے تو فاضل رقم قرض دہندہ کے لیے حلال ہے. لیکن اس
صورت میں اسے وہ ثواب نہیں ملے گا جو ایک مسلمان بھائی کی بوقت ضرورت مدد
کرنے سے حاصل ہوتا ہے ، چنانہ آیہ قرآني " فلايربواعندالله" کایہی مفہوم ہے
مگر ــ حرام ربا وہ ہے کہ انسان کسی کو اس شرط پر قرض دے کہ وہ اصل زر پر
اتنی رقم اضافہ کرکے واپس کرے گا ۔ یہ "ربا حرام ہے۔
اس آیت کی ایک اور تفسیر بھی بیان کی گئی ہے کہ یہاں "ربا" سے مراد ربائے حرام ہے۔
اس تفسیر کے مطابي مفهوم قرآنی ہی ہے کہ "ربا" - اور مخلصان انفاق میں موازن و مقابلہ کیا جائے ۔ وہ یہ کہ "ربا" اگرچہ بظاہر افزائش مال کا موجب ہے مگر یہ افزائش خدا کے
نزدیک بے قدر ہے۔ حقیقی قدر و منزلت انفاق فی سبیل کی هے۔
ان مطالب کو ذہن میں رکھتے ہوتے اس آیت کو حرمت سود کے مسئلے کی تمہید یا مقدمہ سمجھا جاتا ہے کہ پیغمبرؐ کی تجارت سے قبل وہ صرف ایک اخلاقی نصیحت کے طور پر بیان
ہوا تھا۔ مگر ہجرت کے بعد قرآن کی تین سورتوں (سوره بقره، آل عمران و نساء میں بتدریج اس کی حرمت بیان ہوئی ہے۔ (اسی بنا پر ہم نے بھی تفسیر نمونہ کی جلد دوم صفحہ 209 (اردو ترجمہ) پر
اس کا ذکر کیا ہے) ۔
لیکن ان دو معانی میں کوئی تضاد نہیں ہے ۔ البتہ آیت مذکور کی تعمیر ایسے وسیع معنی میں کی جاسکتی ہے کہ جس میں ربائے حلال اور رباۓ حرام ہردو شامل ہیں اور یہ دونوں "
انفاق فی سبیل اللہ" کے مقابلے میں رکھے جاسکیں لیکن آیت کے الفاظ پر نظر کرنے سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ تفسیر اول ہی زیادہ مناسب ہے کیونکہ آیت کا ظاہری مفہوم یہ ہے کہ ایسا کام کیا گیا ہے
جس کا کوئی ثواب تو نہیں مگر وہ مبح ہے ۔کیونکہ یہ کہا گیا ہے کہ خدا کے نزدیک اس عمل کی پاداش نہیں ہے۔
اس کلام کی ووح سے روشن ہے کہ میں ربائے خلال بی کے متعلق کہا جاسکتا ہے ، جس میں نہ کوئی ثواب ہے نہ گناہ اور اس میں کوئی ایسی بات بھی نہیں ہے جو خدا کے خشم
و غضب کا باعث ہو۔ روایات اسلامی میں اس قسم کے معاملات کی مثالیں موجود ہیں ۔
اس مقام پر اس نکتے کا ذکر بھی لازم ہے کہ آیت میں جو کلمہ "مضعفون" استعمال ہوا ہے۔ اگرچہ اسم فاعل بد لیکن اس مقام پر "مضاعف کننده" یعنی "بڑھانے والا" کے معنی میں
استعمال نہیں ہوا۔ بلکہ اس فرد کے معنی میں ہے جو مضاعف اور کئی گنا اجر پانے والا ہے ۔ کیونکہ زبان عربی میں بعض اوقات اسم فاعل "مالک شے" کے معنی میں بھی استعمال
بوتا ہے ، جیسے "موسر" وہ شخص جس کے پاس مال بکثرت ہو۔
یہ امر بھی نظر سے پس پردہ نہ رہے کہ کلمہ "ضعف و مضاعف" عربی زبان میں صرف دو چند کے معنی میں نہیں ہے۔
بلکہ دوگنا کے علاوہ کئی گنا بھی اس کے مفہوم میں شامل ہے اور بسند آیت کم از کم دس گنا مفہوم ہے۔ جیسا کہ قرآن میں فرمایا گیا ہے:
من جاء بالحسنة فله عشر أمثالها (انعام - 160)۔
اور یہ اجر صورت قرض اٹھارہ گنا تک ملتا ہے۔ چنانچہ امام جعفر صادق سے ایک حدیث منقول ہے:
على باب الجنة مكتوب القرض بثمانية عشر والصدقة بعشر
بہشت کے دروانے پر تحریر ہے کہ قرض کا اجراٹھاره گتا ہے اور صدقے کا دس گناہ ہے۔ ؎1
اور یہ اجر انفاق فی سبیل اللہ کی صورت میں سات سو گنا تک پہنچ جاتا ہے۔ جیسا کہ سورہ بقرہ کی آیت 261 سے یہ ثابت ہے۔
زیر بحث آخری آیت میں بار دیگر مبدأ و معاد کا ذکر ہے جو کہ اس سورہ کی بہت سی آیات کا بنیادی موضوع ہے۔ اس آیت میں خدا کو چار اوصاف سے متصف کیا گیا ہے تاکہ شرک
کی نفی اور توحید کا اثبات ہو اور وقوع معاد پر بھی دلیل قائم ہو۔ چنانچہ فرمایا گیا ہے: خدا ہی کی وہ ذات ہے جس نے تمہیں پیدا کیا ، اس کے بعد تمہارے لیے رزق مہيا کیا پھر تمہیں وہ مار دے گا
اور پھر زندہ کرے گا ۔ ( الله الذي خلقكم ثم رزقكم يميتكم ثم يحييكم) -
جن کو تم نے خدا کا شریک قرار دیا ہے کیا ان میں سے کسی میں بھی یہ قدرت ہے کہ وہ یہ کام کرسکے: (هل من شركائكم من يفعل من ذالم من شیء)۔
۔----------------------------------------------------------------------------
؎1 نورالثقلين جلد ، 4 ص 190 -
۔----------------------------------------------------------------------------
خدا کی ذات ان شرکا سے جو تم اس کے لیے تجویز کرتے ہو منزه اور برترہے: (سبحانه و تعالى عمايشركون)۔
یہ امرمسلم ہے کہ مشرکین میں سے کسی کا بھی یہ اعتقاد نہ تھا کہ فاعل تخلیق بت ہیں، وہ یہ کہ انھیں رزق پہچانا بتوں کے اختیار میں ہے یا ان کی حیات و مرگ کے مختار وہ ہیں
کیونکہ وہ ان خود ساختہ معبودوں کو اپنے اور خدا کے درمیان وسطہ اور شفاعت کننده سمجھتے تھے، نہ کہ خالق آسمان و زمین اور نہ روزی دہنده ۔ اس لیے قرآن میں یہ سوالات استفہام انکاری
ہیں اور سوالات کی روح جواب میں نفی کی متقاضی ہے۔
اس مقام پر ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس عہد کے مشرکین جن سے یہ خطاب ہے وہ حیات بعدالموت کے معتقد نہ تھے پھر قرآن کی اس آیت میں خدا تین صفات بیان کرکے حیات بعد
الموت کا ذکر کیوں کیا گیاہے؟
ممکن ہے کہ یہ اسلوب بیان اس وجہ سے ہوکہ (ہم نے مسئلہ معاد کی بحثوں میں ثابت کیا ہے) معاد اور حیات بعد از مرگ ایک فطری امر ہے۔ اس لیے قرآن نے ان مشرکین کے
معتقدات کو ملحوظ نہیں رکھا بلکہ فطرت انسانی کو پیش نظر رکھاہے۔
علاوہ بریں کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ ایک ماہر خطیب جب کسی ایسے شخص سے ہم کلام ہوتا ہے جو کسی مسئلے کا منکر ہے تووہ اثبات حق کے لیے اس مسلے کو دوسرے اسے
حقائق کے ساتھ ملا کر ذکر کرتاہے جو مد مقابل کے لیے قابل قبول ہوتے ہیں اور جب وہ دیکھتا ہے کہ اس کا نفس اثر پذیری کے لیے آمادہ ہوچکا ہے تو پھر وہ اس اثبات طلب مسئلے پر قاطعیت کے
ساتھ گفتگو کرتا ہے ۔ اگر وہ مخاطب کے ذہن نشین ہو جائے اور اس سے انکاربن نہ پڑے ۔
ان سب امور کے علاوہ خدا کی اس قدرت خلاقی میں جس نے بار اول زندگی بخشی ہے اور اس اختیار میں جس سے وہ بعد از مرگ زندگی عطا کرے گا ناقابل انقطاع تعلق ہے اور اسی
منطقی رابطے کی وجہ سے دونوں زندگیوں کا ایک ہی جگہ ذکر کیا گیا ہے۔
بہرحال قرآن کہتا ہے: جب کہ (تخلیق رزق ،حیات و موت) یہ جملہ امور خدا کے اختیار میں ہیں تو عبادت و پرستش بھی صرف اسی کی ہونی چاہیئے۔
نیز "سبحانه و تعالى عما يشركون" سے یہ حقیقت ظاہر ہوتی ہے کہ ان مشرکین نے ذات احدیت کے مرتبے کو غیر معمولی طور پر اس کے مقام ارفع سے نیچے گرا دیا تھا اور اس
ذات کو اپنے خود ساختہ معبودوں کی صف میں بجگہ دے دی تھی۔