سوره روم / آیه 33 - 36
وَإِذَا مَسَّ النَّاسَ ضُرٌّ دَعَوْا رَبَّهُمْ مُنِيبِينَ إِلَيْهِ ثُمَّ إِذَا أَذَاقَهُمْ مِنْهُ رَحْمَةً إِذَا فَرِيقٌ مِنْهُمْ بِرَبِّهِمْ يُشْرِكُونَ ۳۳لِيَكْفُرُوا بِمَا آتَيْنَاهُمْ ۚ فَتَمَتَّعُوا فَسَوْفَ تَعْلَمُونَ ۳۴أَمْ أَنْزَلْنَا عَلَيْهِمْ سُلْطَانًا فَهُوَ يَتَكَلَّمُ بِمَا كَانُوا بِهِ يُشْرِكُونَ ۳۵وَإِذَا أَذَقْنَا النَّاسَ رَحْمَةً فَرِحُوا بِهَا ۖ وَإِنْ تُصِبْهُمْ سَيِّئَةٌ بِمَا قَدَّمَتْ أَيْدِيهِمْ إِذَا هُمْ يَقْنَطُونَ ۳۶
اور لوگوں کو جب بھی کوئی مصیبت چھوجاتی ہے تو وہ پروردگار کو پوری توجہ کے ساتھ پکارتے ہیں اس کے بعد جب وہ رحمت کا مزہ چکھا دیتا ہے تو ان میں سے ایک گروہ شرک کرنے لگتا ہے. تاکہ جو کچھ ہم نے عطا کیا ہے اس کا انکار کردے تو تم مزے کرو اس کے بعد تو سب کو معلوم ہی ہوجائے گا. کیا ہم نے ان کے اوپر کوئی دلیل نازل کی ہے جو ان سے ان کے شرک کے جواز کو بیان کرتی ہے. اور جب ہم انسانوں کو رحمت کا مزہ چکھادیتے ہیں تو وہ خوش ہوجاتے ہیں اور جب انہیں ان کے سابقہ کردار کی بنا پر کوئی تکلیف پہنچ جاتی ہے تو وہ مایوسی کا شکار ہوجاتے ہیں.
(33) وَاِذَا مَسَّ النَّاسَ ضُرٌّ دَعَوْا رَبَّـهُـمْ مُّنِيْبِيْنَ اِلَيْهِ ثُـمَّ اِذَآ اَذَاقَـهُـمْ مِّنْهُ رَحْـمَةً اِذَا فَرِيْقٌ مِّنْـهُـمْ بِرَبِّهِـمْ يُشْرِكُـوْنَ
(34) لِيَكْـفُرُوْا بِمَآ اٰتَيْنَاهُـمْ ۚ فَـتَمَتَّعُوْا فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ
(35) اَمْ اَنْزَلْنَا عَلَيْـهِـمْ سُلْطَانًا فَهُوَ يَتَكَلَّمُ بِمَا كَانُـوْا بِهٖ يُشْرِكُـوْنَ
(36) وَاِذَآ اَذَقْنَا النَّاسَ رَحْـمَةً فَرِحُوْا بِـهَا ۖ وَاِنْ تُصِبْهُـمْ سَيِّئَةٌ بِمَا قَدَّمَتْ اَيْدِيْهِـمْ اِذَا هُـمْ يَقْنَطُوْنَ
ترجمہ
(33) جس وقت لوگوں کو ضرر پہنچتا ہے تو وہ اپنے رب کو پکارتے اور اس کی طرف و رجوع ہوتے ہیں۔ پھر جب وہ انھیں اپنی رحمت کا مزہ چکھاتا ہے تو ان میں سے ایک فریق اپنے
پروردگار کی نسبت مشرک ہو جاتا ہے۔
(34) (انہیں رہنے دو تاکہ) ہم نے ان کو جو کچھ بخشا ہے اس کی ناشکر گزاری کریں اور (دنیا کی زود گزر نعمتوں سے) فائدہ اٹھالو مگر جلد ہی تمہیں معلوم ہو جائے گا (کہ تمہارے
کفران اور خود غرضیوں کا کیا نتیجہ نکلتا ہے)۔
(35) کیا ہم نے ان پر کوئی ایسی محکم دلیل نازل کی ہے جو انھیں شرک کرنا سکھاتی ہے اور اس کی توجہ کرتی ہے؟
(36) اور جب ہم لوگوں کو اپنی رحمت کا مزہ چکھاتے ہیں تو وہ اس سے خوش ہو جاتے ہیں اور جب ان کے اعمال کے سبب انہیں کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ اچانک مایوس ہوجاتے ہیں۔