Tafseer e Namoona

Topic

											

									  2-  احادیث اسلامی میں فطرت خداشناسی کا ذکر

										
																									
								

Ayat No : 30-32

: الروم

فَأَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّينِ حَنِيفًا ۚ فِطْرَتَ اللَّهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا ۚ لَا تَبْدِيلَ لِخَلْقِ اللَّهِ ۚ ذَٰلِكَ الدِّينُ الْقَيِّمُ وَلَٰكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ ۳۰مُنِيبِينَ إِلَيْهِ وَاتَّقُوهُ وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَلَا تَكُونُوا مِنَ الْمُشْرِكِينَ ۳۱مِنَ الَّذِينَ فَرَّقُوا دِينَهُمْ وَكَانُوا شِيَعًا ۖ كُلُّ حِزْبٍ بِمَا لَدَيْهِمْ فَرِحُونَ ۳۲

Translation

آپ اپنے رخ کو دین کی طرف رکھیں اور باطل سے کنارہ کش رہیں کہ یہ دین وہ فطرت الہیۤ ہے جس پر اس نے انسانوں کو پیدا کیا ہے اور خلقت الہٰی میں کوئی تبدیلی نہیں ہوسکتی ہے یقینا یہی سیدھا اور مستحکم دین ہے مگر لوگوں کی اکثریت اس بات سے بالکل بے خبر ہے. تم سب اپنی توجہ خدا کی طرف رکھو اور اسی سے ڈرتے رہو - نماز قائم کرو اور خبردار مشرکین میں سے نہ ہوجانا. ان لوگوں میں سے جنہوں نے دین میں تفرقہ پیدا کیا ہے اور گروہوں میں بٹ گئے ہیں پھر ہر گروہ جو کچھ اس کے پاس ہے اسی پر مست اور مگن ہے.

Tafseer

									 2-  احادیث اسلامی میں فطرت خداشناسی کا ذکر : 
 صرف قرآن ہی میں نہیں بلکہ احادیث اسلامی میں بھی "معرفت الٰہی" اور توحید کے ایک امر فطری ہونے کے بارے میں خوب بحث کی گئی ہے۔ ان میں سے بعض احادیث میں "فطرت 

توحیدی"  اور بعض میں عنوان "معرفت" کے تحت ، بعض میں " فطرت اسلامی" یہاں تک کہ بعض میں اس جذبے کو "ولایت " کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔
 محدث بزرگوار جناب کلینی نے " اصول کافی" میں ہشام ابن سالم کے واسطے سے ایک نہایت معتبر حدیث نقل کی ہے ۔ ہشام کا قول ہے کہ اس نے امام جعفرصادقؑ سے دریافت کیا کہ:- 

:-"فطرت اللہ الٰتی فطرالناس علیھا" میں فطرت سے کیا مراد ہے ؟ آپؐ فرمایا کہ "توحید" مراد ہے ۔  
۔----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
  ؎ 1  اصول کافی جلد 2 صفحہ 10 (باب فطرة الخلق على التوحيد)۔  
۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
 نیز اسی کتاب "کافی" میں امام جعفر صادق کے ایک صحابی سے ایک اور حدیث منقول ہے کہ اس صحابی نے جب آیت مذکور کی تفسیر دریافت کی تو آپؑ نے فرمایا کہ " فطرت" سے 

مراد " اسلام" ہے۔ ؎1 
 امام باقر علیہ السلام سے ایک اور حدیث اسی کے مشابہ منقول ہے کہ آپؑ کے ایک صاحب علم صحابی زرارہ نے جب اس آیت کی تفسیر دریافت کی تو آپؑ نے فرمایا کہ:- 
  قطرهم على المعرفة به 
  خدا نے فطرت انسانی میں اپنی معرفت و شناخت کا جذبہ رکھا ہے۔ ؎2 
 جناب رسالت مآب صلی الله علیہ و آلہ وسلم سے ایک حدیث منقول ہے جو مشہور ہے : 
  كل مولود يولد على الفطرة الاسلام حتى لیكون ابواہ هما اللذان 
  يهودانه وینصرانه 
  ہربچہ نوزاد فطرت اسلام اور شرک سے خالی دین پر پیدا ہوتا ہے.بعد میں اس کے 
  ماں باپ اس پر یہودیت یا نصرانیت سے انحرافی عقائد کا رنگ چڑھا دیتے ہیں ۔ ؎3
 اصول کافی میں امام جعفر صادقؑ سے ایک حدیث اسی آیت کی تفسیر میں منقول ہے کہ آپؑ سے جب آیت مذکور تفسیردریافت کی گئی تو جواب میں فرمایا کہ "فطرت" سے مراد ولایت 

اور اولیائے الٰہی کی رہبری کو قبول کرنا ہے ۔ ؎4
 امیرالمومنین حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام نے اپنے ایک خطبہ میں (جو کہ نہج البلاغہ میں مندرج ہے) مختصر مگر بلیغ الفاظ میں یوں ارشاد فرمایا ہے: فبعث فیهم رسله و 

واتراليهم انبيائه لیستا دوھم میثاق فطرته ويذكروهم مسنی نعمته ويحتجواعليهم بالتبلیغ ویثیرو الھم دفائن العقول
  خدا نے انسانوں کی طرف اپنے رسول بھیجے اور یکے بعد دیگرے انبیا کومامور کیا تاکہ 
  وہ ان سے پیمان فطرت کے ایفا کا مطالبہ کریں اور انھیں خدا کی وہ نعمتیں یاد دلائیں 
  جھنیں وہ بھول گئے ہیں اور بذریعہ تبلیغ ان پر اتمام حجت کریں اور ان کے لیے عقل 
  کے خزانوں کو فاش کر دیں۔ 
 مذکورہ روایات سے ثابت ہوتا ہے کہ سرشت انسانی میں صرف "معرفت الٰہی" ہی نہیں بلکہ کل اسلام بصورت ایجازودیعت ان کیا گیا ہے۔ جس میں توحید سے لے کر پیشوایان الٰہی کی 

رہنمائی ، پیغمبر کے سپچے جانشین یہاں تک کہ فروعات دین سب کو شامل ہے ۔ 
 نہج البلاغہ سے جناب امیر المومنین کا جو قول سطور بالا میں نقل کیا گیا ہے، اس کی اساس پر پیغمبروں کا فرض فطرت انسانی کی گره کشائی خدا کی فراموش کردہ نعمتوں کو یاد 

دلانا ، انسان کی فطرت توحیدی کو بیدار کرنا اور نفس انسانی کے لاشعور میں معرفت الٰہی کے جو خزینے مخفی ومستور ہیں ، انھیں واشگاف کرکے حالت شعو لانا ہے۔ 
 یہ نکته مستحق توجہ ہے کہ دنیاوی زندگی میں انسان کو جو مشکلات ، تکالیف اور دردناک حادثات پیش آتے ہیں ، قرآن شریف 
۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
  ؎1 ، ؎ 2  کافی ص 10 ۔   ؎3  تفسیر جمع الجواسع از مرحوم طبرسی ذیل آیت مورد بحث - 
  ؎ 4       تفسير نورالثقلين ، جلد 4 صفحہ 184 - 
۔-------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
میں ان امور کا اس پہلو سے ذکر کیا گیا ہے کہ یہ انسان کے اندر حس مذہبی کو بیدار کرنے کے وسائل ہیں ۔ چنانچہ فرمایا گیا ہے: 
  فاذا ركبوا في الفلك دعوا الله مخلصين له الدين فلمانجاهم 
  إلى البراذا هم يشركون 
  جس وقت وہ کشتی میں سوار ہوتے ہیں اور سمندر میں خطرات میں گھر جاتے ہیں تو بڑے 
  خلوص خدا کو پکارتے ہیں۔ مگر جب انھیں خدا سلامتی کے ساتھ خشکی پر پہنچا دیتا ہے 
  تو وہ پھر مشرک ہوجاتے ہیں۔   (جو کہ سورہ عنکوبت -65) 
 اس مضمون کے متعلق اسی سورۃ کی (جو کہ سورہ عنکبوت سے مشابہ ہے) آیات مابعد کی تفسیر کرتے ہوئے اور باتوں کا بھی ذکر کیا جائے گا۔