1- توحید انسان کی داخلی قومی قوت جاذبہ ہے
فَأَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّينِ حَنِيفًا ۚ فِطْرَتَ اللَّهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا ۚ لَا تَبْدِيلَ لِخَلْقِ اللَّهِ ۚ ذَٰلِكَ الدِّينُ الْقَيِّمُ وَلَٰكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ ۳۰مُنِيبِينَ إِلَيْهِ وَاتَّقُوهُ وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَلَا تَكُونُوا مِنَ الْمُشْرِكِينَ ۳۱مِنَ الَّذِينَ فَرَّقُوا دِينَهُمْ وَكَانُوا شِيَعًا ۖ كُلُّ حِزْبٍ بِمَا لَدَيْهِمْ فَرِحُونَ ۳۲
آپ اپنے رخ کو دین کی طرف رکھیں اور باطل سے کنارہ کش رہیں کہ یہ دین وہ فطرت الہیۤ ہے جس پر اس نے انسانوں کو پیدا کیا ہے اور خلقت الہٰی میں کوئی تبدیلی نہیں ہوسکتی ہے یقینا یہی سیدھا اور مستحکم دین ہے مگر لوگوں کی اکثریت اس بات سے بالکل بے خبر ہے. تم سب اپنی توجہ خدا کی طرف رکھو اور اسی سے ڈرتے رہو - نماز قائم کرو اور خبردار مشرکین میں سے نہ ہوجانا. ان لوگوں میں سے جنہوں نے دین میں تفرقہ پیدا کیا ہے اور گروہوں میں بٹ گئے ہیں پھر ہر گروہ جو کچھ اس کے پاس ہے اسی پر مست اور مگن ہے.
چند نکات
1- توحید انسان کی داخلی قومی قوت جاذبہ ہے :
جس طرح کے دلائل عقلی و منطقی انسان کے طرز عمل کو معین کرتے ہیں اسی طرح اس کے نفس میں ایسے جذبات اور تمائلات موجود ہیں کہ جو کبھی تو شعوری اور کبھی غیر
شعوری طور پر اس کے طرز عمل کا تعین کرتے ہیں۔
نسل انسانی کے بقا کا راز ہی یہ ہے کہ انسان مسائل حیات میں ہمیشہ ہی دلائل عقلی و منطقی سے کام نہیں لیتا۔ کیونکہ اگر وہ ایسا کرنے لگے تو بہت سے مقاصد زندگی معطل ہوکے
رہ جائیں ۔ مثلا اگر انسان غذا کھانے یا آمیزش جنسی کے لیے طبی اور منطقی دلائل دینےلگے ۔ یعنی غذا کھانے سے " بدل ما يتحلل" ہوتاہے اور توالد و تناسل بقائے نسل انسانی کا باعث ہے، تو اس کی
نوع آب سے پہلے کبھی کی ختم ہوچکی ہوتی۔ لیکن جنسی جذبہ و جبلت اور غذا کھانے کی خواہش خواہ نہ خواہ اس سے یہ اعمال سرزد کراتی ہے اور یہ مقاصد حس قدر بقائے حیات فرد اور بقائے
نوع کے لیے زیادہ مفید ہوتے ہیں یہ جذبات بھی اتنے ہی زیاده قوی ہوتے ہیں ۔
لیکن یہ بات ذہن نشین رہے کہ یہ کشش اور میلان دو قسم کا ہے۔ کبھی تو غیر شعوری ہوتا ہے۔ جیسے کہ حیوانات عقل و فکر کے بغیر ہی غذا اور جنس مخالف کی طرف مائل ہوتے
ہیں ۔
اور کبھی یہ میلان شعوری ہوتا ہے یعنی یہ جبلت عقل وشعور سے کام لے کر اپنا عمل کرتی ہے۔
قسم اول کے جذبات کو "جبلت" اور قسم دوم کو "فطرت" کہتے ہیں ۔
خدا پرستی اور اس کی ذات کی طرف میلان قلب ہر شخص کی فطرت اصلیہ ہے۔
ممکن ہے کہ بعض حضرات ہماری اس بات کو ایسا ادعا سمجھیں جو خدا پرست لوگوں کی طرف سے تراش لیا گیاہے۔ مگر ہمارے پاس ایسے شواہد موجود ہیں جن سے نہ صرف
انسان کا میلان ذات الٰہی کی طرف فطری ثابت ہوتا ہے بلکہ یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ مذہب اپنے تمام اصولوں کے ساتھ ایک فطری امر ہے، مثلًا:
(1) انسان کی پر ہنگامہ طویل تاریخ میں ہمیشہ کسی نہ کسی کا مذہبی اعتقاد اور ماورائے فطرت طاقت پرایمان ضرور رہاہے ۔جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ یہ فطرت
انسان ہے کیونکہ اگر اعتقاد و ایمان بااللہ صرف انفرادی رجحان اور عادت ہوتا اور یہ جذبہ عمومیت نہ رکھتا اور نہ دائمی اور ہمیشگی ہوتا تو یہ نتیجہ نکالا جاسکتا تھا کہ یہ عارضی واقع ہے مگر اس
کی عمومیت اور دوام اس کے فطری ہونے کی دلیل ہے۔
بڑے بڑے مورخین کی رائے ہے کہ انھوں نے جہاں تک انسانی تارین کا کھوج لگایا ہے اور زمانہ ماقبل تاریخ کا جس حد تک انکشاف ہوا ہے ، انھوں نے انسانی معاشرے میں "لإدینیت کا
بجزاستثنائی صورت کے کہیں نشان نہیں پایا۔
عصرحاضر کا مشہور مورخ ویل ڈیورنٹ کہتا ہے:
اگر ہم مذہب کی یہ تعریف کریں کہ وہ "مافوق الطبيعت قوتوں کی پرستش کا نام ہے۔ تو ابتدائے بحث ہی سے یہ نکتہ لحوظ رکھنا چاہیئے کہ بعض ابتدائی اقوام کے ظاہر کوئی مذہب نہ
تھا۔
اس کے بعد وہ اس قسم کی اقوام کی مثالیں دے کر لکھتا ہے کہ یہ مثالیں نادرات میں سے ہیں۔ اور یہ قدیم اعتقاد مطابق حقیقت ہے کہ:-
"دین ایک ایسا مظہر ہے جو ہر انسان کی فطرت سے ابھرتاہے "۔
اس کے بعد وہ یہ اضافہ کرتا ہے کہ ایک فلاسفرکی نظر میں مذہب کے وجود کا مسئلہ ، نفسیات اور تاریخ کے بنیادی مسائل میں سے ہے . وہ اس پہلوکی طرف توجہ نہیں کرتا کہ
تمام ادیان میں لغور اورخلاف عقل عقائد موجود ہیں۔ بلکہ وہ اس حقیقت پر غور کرتا ہے کہ جب سے تاریخ انسانی شروع ہوتی ہے، اسی وقت سے "دین" بھی کسی نہ کسی صورت میں موجود رہا ہے
اختتام کلام پر وہ اپنی گفتگو کو اس پر معنٰی سوال ختم کردیتا ہے۔
"یہ تقویٰ جسے کسی طرح بھی انسان کے دل سے محو نہیں کیا جاسکتا اس کا منبع کہاں ہے؟"۔ ؎1
یہی مورخ اپنی ایک اور تحقیق میں ( جو اس نے ادیان ماقبل تاریخ کے متعلق کی ہے) یوں لکھتابے :
اگر ہم ماقبل تاریخ میں وجود مذہب کا تصور پیش نظر نہ رکھیں تو ہم اس کے وجود کو موجودہ تاریخی دور میں کبھی نہیں سمجھ سکتے۔ ؎2
ماقبل تاریخ انسانوں کے متعلق آثار قدیمہ کی کھدائی سے جوحالات معلوم ہوتے ہیں ، ان سے بھی اس امرکی تائیدہوتی ہے، چنانچہ مشہور عالم علم معاشرت sociologist سموایل
کینگ اپنی کتاب بنام " جامعہ شناسی" میں لکھتا ہے:
موجودہ نسل انسانی کے اسلاف بھی یقینًا کسی مذہب کے معتقد تھے۔
وہ اپنے دعویٰ کے ثبوت میں ان آثار کو پیش کرتا ہے جو آثار قدیمیہ کی کھدائی سے منکشف ہوئے ہیں کہ وہ :-
اپنے مردوں کو ایک مخصوص وضع سے دفن کرتے تھے اور ان کے ساتھ ایسی
اشیا بھی رکھتے تھے جو ان کے عقیدے کے مطابق بروز قیامت کام آئیں۔ ؎3
بہرحال کوئی محقق بھی مذہب کو انسان کی تاریخ حیات سے جدا کرنا قبول نہیں کرتا۔
(2) آج کی دنیا کے مشاہدے سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ اس زمانے کی بعض مستبد طاقتوں نے اپنی پوری کوشش اور طاقت صرف کرکے لوگوں کے دلوں سے مذہب کو
محو کرتا چاہا ۔ لیکن وہ کامیاب نہیں ہوئیں۔
چنانچہ ہم خوب جانتے ہیں کہ روس کی برسر اقتدار پارٹی ، ساٹھ برس سے بغیر کسی وقفے کے مسلسل پروپیگنڈے اورمعاشرے ساتھ رابطہ پیدا کرنے کے جملہ وسائل سے کام لے
کر یہ کوشش کررہی ہے کہ لوگوں کے دلوں اور دماغوں سے مذہبی
۔-----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
؎1 تاریخ تمدن ، جلد اول صفحہ 87 تا 89 ۔
؎2 تاریخ تمدن جلد اول صفحہ 156۔
؎3 جامعه شناسی ، صفحہ 192 ۔
۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
اعتقادات کو بالکل ختم کر دے ۔ لیکن اس آہنی پردے سے کبھی کبھی جو خریں پھوٹ نکلتی ہیں ان سے معلوم ہوتا سے کہ تمام پروپیگنڈتے اور سخت گیری کے باوجود وہ اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہو
سکی ۔ حالیہ دنوں میں روس کی بعض ریاستوں میں مذہبی جوش وخروش زیادہ نظر آنے لگا ہے ۔ جس نے حکومت کے حکام بالا کو حیران کردیا ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اگر کسی روز یہ سختی
اور گلوگیری ختم ہوگئی تو مذہب پھر اپنی جگہ لے لے گا ۔ یہ امر اس بات کا شاہد ہے کہ مذہب ایک فطری چیز ہے۔
(3) اس علاوہ بریں ماہرین نفسیات اور ماہرین تجزیہ نفسی PHYCHO ANALYST نے ابعاد روح انسانی FRYCHO DIMINSIMS کے بارے میں جو
انکشافات کیے ہیں وہ بھی مذہب کے فطری ہونے پر شاہد ہیں۔ وہ کہتے ہیں نفس انسانی سے مختلت العاد کے متعلق تحقیق سے ثابت ہوتا ہے کہ اس میں ایک جوہر قدسی یا یزدانی بھی ہے جسے جبلت
مذہبی کہنا چاہیئے بعض ماہرین نفسیات اس امر کے قائل ہیں کہ انسان میں "راستی ، علم ، نیکی اور زیبائی کے جذبات کا سرچشمہ یہی جوہرقدسی ہے۔
علمائے نفسیات کا قول ہے کہ نفس انسانی میں اصولی اور اساسی محرکات حسب ذیل ہیں:
1- حس راستی : انسان میں یہ حس ہر قسم کے علوم و فنون کا سرچشمہ ہے۔ یہی انسان کو رموز کائنات کی تحقیق اور انکشاف پر امادہ کرتی ہے۔
2- حس نیکی ETHICAL INSTINCT یہ حس انسان کو فضائل اخلاقی مثلا عدالت ، شجاعت ، قربان اور ان جیسے دیگر امور کی طرف مائل کرتی ہے۔ یہاں تک کہ اگر
انسان میں بذات خود یہ صفات نہ ہوں تو وہ ایسے فضائل کے حاملین ہیرو سمجھنے لگتا ہے ۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ انسان طینت میں نیکی کا میلان موجود ہے.
3- حس زیبائی (جبلت حسن) AESTHETIC INSTINCT جلبت انسان کو فنون لطیفے ، جمالیات ، ادبیات ذوقی اور وجدانی اشواق کی طرف مائل کرتی ہے اور کبھی ایسا
بھی ہوتا ہے کہ فرد اور معاشرے کو متغیر کر دیتی ہے ۔
4- حس مذہبی RELIGIOUS INSTINCT یعنی یہ ایمان رکھنا کہ اس کائنات کا ایک خالق اور اس کی عبادت اور حمد وثنا کرنا ۔ اس موضوع پر کوون ٹایم نے جو مقالہ
سپرد قلم کیا ہے اس میں وہ لکھتا ہے : سگمنڈ فرائڈ نے انسان کے لاشعور کے متعلق جو تحقیقات شروع کی تھیں (جسے الفرڈ ایڈالر اور جنگ نے ترقی دی) اس سے علم نفسیات کے دائرہ علم میں ایسی
قوتیں آئی ہیں جو انسان کے نفس کی گہرائیوں میں مستور ہیں ، جبر ادراک حقائق کرتی اور ماوراء عقل رموز کی معرفت حاصل کرتی ہیں ۔ ممکن ہے کہ ان تحقیقات سے یہ بھی ثابت ہوجائے کہ انسان
میں " حس دینی" موجود ہے اور اس کا راز کیا ہے. ہر چند کہ ابھی اس (حس دینی) کے متعلق ماہرین نفسیات می اتفاق نہیں ہے ، تاہم اس مسئلے پر غور و فکر کا سلسلہ جاری ہے اور مختلف مکاتب
فکر کے علمائے نفسیات میں " حس دینی" کی اس تعریف پر متفق ہیں جو ہم ذیل میں درج کرتے ہیں :-
"حس دینی" نفس انسانی کے فطری اورمستقل عناصر اولیہ میں سے ہے۔ یہ احساس نفس کا حقیقی اور زیبا ترین حصہ ہے۔
نفس پر جو دوسری کیفبات طاری ہوتی ہیں یہ ان میں سے کسی سے بھی مطابقت نہیں رکھتا۔ اس احساس کا چمشہ لاشعور کی گہرائی سے پھوٹتا ہے۔
انسان کے اندر جوذوق جمال ، نیکی اور راستی کا رجحان موجود ہے اس کی علت بھی یہی احساس ہے جسے مفہوم دینی یا زیادہ صحیح الفاظ میں مفہوم مقدس کہنا چاہیئے۔
اگر ان چاروں احساسات بالا کو "مقولات اربعہ" کہا جائے تو حس دینی ہی ایک ایسا مقولہ ہے ، جس میں باقی ہرسه احساسات مع اپنی خصوصیات کے شامل ہیں۔ ؎1
تانہ گی ۔ دو ۔ کینٹین کے محققانہ مقالہ کا جو تلخیص اور ترجمہ کیا گیا ہے ، اس میں مذکور ہے:
جس طرح کہ عصرحاضر کی امتیازی خصوصیات میں سے ہے کہ عالم مادی میں طول ، عرض و عمق کے علاوہ ایک چوتھا بعد "زمان" یا "مکان" به جای بیان کیا جا تا ہے ؟ ا رتشا
کے ابعاد تلاش سے منفرد ہوتے ہوئے ان تین ایجاد کا جامع بھی ہے۔
اسی طرح اس زمانے کے ماہرین نفسیات نے نفس انسانی میں حس جمال ، حس خیر اور حس راستی کے علاوہ ایک حس قدسی یایزدانی (کہ جسے حقیقت میں نفس انسانی کا بعد چہارم
کہنا چاہیئے) کو دوباره ثابت کیا ہے۔ ؎4
نفس کا بہ یہ چہارم (یعنی حس قدسی) باقی احساسات سے مفرد ہے۔ ممکن ہے احساسات سہ گانہ اسی سے پیدا ہوۓ ہوں۔
(4) انسان کی یہ جبلت بھی کہ وہ مصائب کے طوفان میں اپنی مشکلات کے حل اور شدائد زندگی سے نجات حاصل کرنے کےلیے کسی نادیدہ اور ماورائی طاقت سے لو
لگتا ہے۔ اس حقیقت کی شاہد ہے کہ اس کے اندر ایک اندرونی جذبہ اور فطری الہام موجود ہے، جو اسے وجود خدا کا یقین دلاتا ہے۔
ممکن ہے کہ بعض حضرات انسان کے اس میلان کو اس مذہبی پروپیگنڈے کا ردعمل سمجھیں جو ہمیں چاروں طرف سے گھیرے ہوئے ہے اور ہم عمر بھر اس سے متاثر ہوتے رہتے
ہیں۔
لیکن جب ہم یہ دیکھتے ہیں کہ اس جذبے کے مظاہر تمام انسانوں ، یہاں تک کہ ان لوگوں میں بھی موجود ہیں جو عام طور پر مذہبی ذوق نہیں رکھتے ۔ تو ثابت ہوتا ہے کہ یہ شک و
اعترض غلط ہے۔بلکہ کسی ماورائی طاقت پر اعتقاد رکھنا انسان کے نفس کی گہرائی میں موجود ہے ، جو کہ کسی پروپیگنڈے کا نتیجہ نہیں ہے۔
(5) انسان کی زندگی میں ایسے واقعات بھی نظر آتے ہیں جن کی حس مذہبی کے منہاج کے سوا اور کوئی تاویل و تفسیر نہیں ہوسکتی۔
۔----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
؎1 مقالہ کودل ٹائم ترجمہ مندس بیانی ور کتاب ۔ حس مذہبی یا بعد چہارم روح انسانی"
؎2 ایرانی اہل قلم انگریزی ، فرانسیسی اور جرمن ناموں کے املا تو اس طرح بگاڑ دیتے ہیں کہ ان کی اصلیت کا پتا چلانا دشوار کیا امر محال ہوجاتا ہے مذکورہ نام کا آخری حصہ تو
KANTAIN ہے۔ اول کے دولفظوں کی تحقیق نہ ہوسکی۔
؎3 بعد چہارم کا محقق البرٹ آئن اسٹائن ہے 1955- 1879 یہ محقق ماہرریاضیات تھا ، اس کا نظریہ ہے کہ کسی اشے کی مکان و زمان میں پوزیشن چوتھا بعد ہے۔
POSITIONN IN SPACE AND TIME
؎4 مصنف نے جملے میں کلمہ دوبارہ اس لیے اضافہ کیا ہے رہبران دین تو نفس کی اس قوت کو پہلے ہی بتا چکے تھے جیسے کہ قرآن میں ہر مقام پر خطاب "نفس" سے ہے۔
۔---------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
مثلًا ـــــــ ہم ایسے انسانوں کو دیکھتے ہیں کہ جو نہایت جوش کے ساتھ اپنے تمام مالی وسائل کسی مذہبی مقصد نظریے پر قربان کر دیتے ہیں ۔ ان کے پاس جو کچھ بھی ہوتا ہے وہ بے
نظیر طور پر مذہب پر نثار کر دیتے ہیں ۔ یہاں تک کہ وہ اس راہ میں جان دینے سے بھی دریغ نہیں کرتے۔
وہ شہداء جنہوں نے مقاصد الٰہی کو پورا کرنے کے لیے میدان جنگ میں ذوق و شوق سے شربت شہادت نوش کیا ، صرف اسلامی تاریخ ہی میں ایسے افراد کی مثالیں بکثرت نہیں پائی
جاتیں بلکہ دوسری اقوام اور ملتوں کی تاریخ میں بھی کم نہیں ہیں یہ مثالیں اس حقیقت لا واضح ثبوت ہیں کہ انسان کے نفس کی گہرائی حس مذہبی موجود ہے۔
ممکن ہے کہ اس موقع پر یہ سوال بھی اٹھایا جاۓ کہ کمیونسٹ لوگ جو اپنے الحاد اور مذہبی مخالف کو چھپاتے تک نہیں ان میں بھی اپنے معتقدات اور افکار کے لیے ایسا ہی قربانی کا
جذبہ موجودہے.
لیکن اگر قدسرے غور کیا جاۓ تو یہ اعتراض پاور ہوا ثابت ہوتا ہے۔ وہ یوں کہ کمیومسٹ حضرات جو مذہب کی کلیتہ نفی کرتے ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ مذہب اساطیر الاولین میں
سے ہے اور انسان کی ابتدائی سرگزشت کی یادگار ہے ، جب کہ وہ عالم طفلی تھا۔ اس لیے کمیونسٹ معاشرے میں اس کی کوئی جگہ نہیں ہے۔
لیکن حقیقت یہ ہے کہ انھوں نے لاشعوری طور پر اپنے اس عقیدے کو مذہب بنا لیا ہے ۔ وہ لوگ اپنے قومی رہنماؤں کواسی نظر عقیدت سے دیکھتے ہیں جیسا کہ مصرکے بت پرست
اپنے بتوں کو دیکھتے تھے۔ چنانچہ لینن کی قبر کی زیارت کے آئے دن جو اوصاف وضع کیے جاتے ہیں وہ اس کا ثبوت ہیں۔
وہ لوگ "مارکس ازم" کے اصولوں کو مثل وحی آسمانی اور نقص سے پاک اور مقدس سمجھتے ہیں ۔ وہ مارکس اور لینن کو معصومین کی طرح منزه عن الخطا تصور کرتے ہیں، یہاں
تک کہ ان اصولوں میں اصلاح اور تجدید نظر ناقابل معافی گناہ سمجھتے ہیں۔ بن گئی ہے اور ان کے افکار ، مراسم اور اعتقادات مذہبی رنگ اختیار کرگئے ہیں۔