Tafseer e Namoona

Topic

											

									  تفسیر

										
																									
								

Ayat No : 30-32

: الروم

فَأَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّينِ حَنِيفًا ۚ فِطْرَتَ اللَّهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا ۚ لَا تَبْدِيلَ لِخَلْقِ اللَّهِ ۚ ذَٰلِكَ الدِّينُ الْقَيِّمُ وَلَٰكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ ۳۰مُنِيبِينَ إِلَيْهِ وَاتَّقُوهُ وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَلَا تَكُونُوا مِنَ الْمُشْرِكِينَ ۳۱مِنَ الَّذِينَ فَرَّقُوا دِينَهُمْ وَكَانُوا شِيَعًا ۖ كُلُّ حِزْبٍ بِمَا لَدَيْهِمْ فَرِحُونَ ۳۲

Translation

آپ اپنے رخ کو دین کی طرف رکھیں اور باطل سے کنارہ کش رہیں کہ یہ دین وہ فطرت الہیۤ ہے جس پر اس نے انسانوں کو پیدا کیا ہے اور خلقت الہٰی میں کوئی تبدیلی نہیں ہوسکتی ہے یقینا یہی سیدھا اور مستحکم دین ہے مگر لوگوں کی اکثریت اس بات سے بالکل بے خبر ہے. تم سب اپنی توجہ خدا کی طرف رکھو اور اسی سے ڈرتے رہو - نماز قائم کرو اور خبردار مشرکین میں سے نہ ہوجانا. ان لوگوں میں سے جنہوں نے دین میں تفرقہ پیدا کیا ہے اور گروہوں میں بٹ گئے ہیں پھر ہر گروہ جو کچھ اس کے پاس ہے اسی پر مست اور مگن ہے.

Tafseer

									  تفسیر
          اس مقام تک ، منشاهدہ کائنات سے توحید و خدا شناسی کا سبق حاصل کرنے اور یہ ثابت کرنے کے لیے کہ اس علم  مادی کے مادرا ایک ایسی ذات ہے جو مبداء علم و قدرت ہے، 

بہت سی باتیں ہوئی ہیں اور اس صورت میں جو آیات توحید سے متعلق آئی ہیں ان سے بھی یہی سبق حاصل کیا ہے۔ 
 اب جو نئی آیات زیر بحث ہیں ان میں سے پہلی آیت میں اس توحید کا ذکر ہے جو عالم فطرت میں موجود ہے۔ یعنی اسی مسئلہ توحید کو مشاهدہ علم انقلاب کے بجائے مشاہدہ نفس ، 

مشاهدہ باطن اور کیفیت عالم وجدان کے زاویہ نظر سے بیان کیا گیا ہے۔ 
 چنانچہ فرمایا گیا ہے: خدا کے پاک اور خالص دین کی طرف رخ کرو ( فاقم وجهك للدين حنيفًا)۔ 
 کیونکہ یہی وہ فطرت ہے جس پر خدا نے انسان کو پیدا کیا ہے۔ خدا کے عمل تخلیق میں تغیر نہیں ہوتا ( فطرت الله التي فطرالناس عليهاء لاتبديل لخلق الله)۔ 
 اور یہی محکم و استوار دین و آئین ہے  (ذالك الدين القيم)۔
  مگر اکثر لوگ اس حقیقت کو نہیں جانتے (ولكن اكثر الناس لا يعلمون)۔ 
 "وجه" کے لغوی معنٰی میں "صورت" مگر یہاں صورت ظاہری نہیں بلکہ صورت باطنی اور "روئی دل" مراد ہے۔ یعنی یہ مطلب نہیں کہ تم دین کی طرف اپنا منہ کرلو بلکہ قلبی توجہ 

مطلوب ہے. توجه قلبی کو بطور استمارة "وجه" کہاگیا ہے کیونکہ یہ جسم کا سب سے اہم عضو ہے۔ 
 "اقم" کا مادہ "اقامه" ہے جس کے معنی میں صاف اور مستقیم کرنا اور کھڑا کرنا۔ 
 "حنيف " کا ماده "حنف" ہے جس کے معنی میں "باطل سے حق کی طرف میلان" یا "کجی سے راستی کی طرف" اس کی ضد "جنف" ہے یعنی راستی سے گمراہی کی طرف میلان - 
 "دین حنیف" وہ دین ہے جو تمام انحرافات ، خرافات ، کجی اورگم راہیوں سے جدا ہوا اور ریاستی اور درستی کی طرف مائل ہوا ہے۔ 
 مجموعی طور پر اس جملہ کے یہ معنی ہیں کہ اپنی توجه دائمًا اس دین کی طرف رکھو جو ہر قسم کی کجی اور ناراستی سے پاک ہے وہی آئین اسلام اور وہی خدا کا پاک اور خالص 

آئین ۔ ؎1 
 اس آیت میں بطور تاکید یہ سمجھایا گیا ہے کہ "دین حنيف " جو ہر قسم کے شرک سے پاک ہے، وہ دین ہے جو خدانے 
۔-----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
  ؎1      "الدین"  میں الف و لام عمد کے معنی دیتا ہے. یعنی وبی دین و آئین جس کی تبلیغ پر پیمبراسلام مامور تھے  
۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
تمام بنی نوع انسان کی سرشت میں ودیعت کیا ہے اور فطرت انسان جاودانی اور تغیرناپذیر ہے لیکن اکثر لوگ اس حقیقت کی طرف توجہ نہیں کرتے۔ 
 اس آیت میں اور بھی چند حقائق ہیں: 
 1-     صرف خداشناسی ہی نہیں بلکہ دین و آئین بطور کلی تمام جہات سے ایک امر فطری ہے اور ہونا بھی ایسا ہی چاہیئے کیونکہ جب ہم حقیقت توحید پر غور کرتے ہیں تو معلوم ہوتا 

ہے کہ امور تکوینی اور امور تشریعی کے درمیان ہم آہنگی ہونی چاہیئے مراد یہ ہے کہ احکام شریعت فطرت انسانی کے مطابق ہوں اور انسان کی فطرت سے بھی شریعت کے قوانین کی تائید ہوتی ہو۔
 اس مطالب کو بالفاظ دیگر یوں ادا کیا جاسکتا ہے کہ "تکوین"-( فطرت انسانی) اور "تنشریع"(امور شرعی) دونوں قوی بازوؤں کی مانند ہیں ، جو اعمال انسانی میں ہم آہنگی کے ساتھ شامل 

رہتے ہیں ۔ یہ ممکن نہیں ہے کہ کوئی امر شریعت ایسا ہو جو فطرت انسان کے خلاف ہو۔ بخلاف اس کے یہ بھی ممکن نہیں ہے کہ انسان کی فطرت سلیم میں کوئی میلان ہو اورسریعت اس کی مخالفت 

کرے۔ 
 اس میں شک نہیں کہ "شریعت"  فطرت انسان کی عناں گیر رہتی ہے اور اسے محنرف راستوں سے روکنے کے لیے اس پر حدود و قیود اور شرائط عائد کرتی رہتی ہے ۔ مگر سلامت 

رو فطری خواہشات کی ہرگز مخالفت نہیں کرتی بلکہ انہیں مشروع طریقوں سے پورا کرنے کی ہدایت کرتی ہے۔ اگرایسا نہ ہوتو  "تکوین " اور " تشریع"  میں تضاد پیدا ہوجائے ، جو اساس توحید سے 

ہم آہنگ نہیں ہے۔ زیادہ واضح الفاظ میں یوں کہنا چاہیئے کہ خدا ایسے کام نہیں کرتا جو ایک دوسرے کے ضد و نقیض ہوں ۔ یعنی ایسا نہیں ہوسکتا کہ اس کا فرمان تکوینی تو یہ ہو کہ یہ کام کر اور 

فرمان تشریعی میں ہو کہ نہ کر ۔ 

 2-      دین اپنی خالص اور ہر قسم کی آلودگی سے پاک صورت میں انسان کے تحت الشعور میں موجود ہے۔ انسان کا راہ مستقیم  سے منحرف ہونا ایک عارضی امر ہے۔ اس بنا پر 

پیمبروں کا فرض یہ ہے کہ وہ انسان کو ان عارضی الخرافات سے روک دیں اور ان کی اصلی فطرت کو اظہار کا موقع فراہم کریں۔ 

 3-       نیز جمله  "لاتبديل لخلق الله" اور اس کے بعد جملہ " ذالك الدين القيم"  مذہب اور دین کے فطری ہونے اور فطرت الٰہی کے عدم امکان تغیر پر تاکید ہے ۔ ہرچند کہ بہت سے 

لوگ کافی استعداد نہ ہونے کی وجہ سے اس حقیقت کو نہیں سمجھتے۔
 اس نکتے کی طرف بھی توجہ لازم ہے کہ کلمہ " فطرت" کا مادہ " فطر" ( بروزن بزر) ہے۔ اس کے معنی ہیں کسی چیز کو اس کے طول سے چیرنا۔ یہ کلمہ مجازی طور پر بمعنی 

خلقت استعمال ہوتا ہے۔ گویا کہ موجودات عالم کی آفرنیش کے وقت پرده عدم شگافتہ ہوا اور مخلوقات ظاہر ہوگئیں۔ 
 بہرحال جب انسان روز اول عالم ہستی میں قدم رکھتا ہے تو اسی دن سے یہ نورالٰہی اس کے دل میں چمکنے لگتا ہے ہم نے جو کچھ سطور بالا میں کہا ہے اس کی وہ متعدد روایات 

تائید کرتی ہیں جو اس آیت کی تفسیر میں مذکور بوئی ہیں۔ 
 ہم ان کا اس وقت ذکر کریں گے جب اس آیت کے نکات لکھیں گے ۔ اس کے علاوہ ہم یہ بھی بیان کریں گے کہ  "توحید" ایک فطری شے ہے۔ 
 اس کے بعد کی آیت میں یہ اضافہ ہے کہ دین حنیف یعنی خالص و قطری دین کی بات تمہاری توجہ اس حال میں ہے کہ تم خدا کی طرف لوٹوگے ( ميبين اليه)۔ تمہارے وجود کی اصل 

و اساس توحید پر ہے اور آخر کار تم اسی بنیاد کی طرف لوٹ جاؤ گے ۔
 کلمه "منيبين " کا مادہ  "انابه " ہے جس کے وضعی معنی ہیں "پھر لوٹ آنا" - اس مقام پر اس لفظ کا ،فہوم ہے "خدا کی طرف لوٹ آنا" یا " توحید کی فطرت کی طرف لوٹ آنا" یہ بات اس 

لیے کہی گئی ہے کہ ہمیشہ ایسے اسباب پیدا ہونے کا امکان ہے جو انسان کو عقیدہ و عمل کے لحاظ سے مرکز توحید سے منحرف کر دیں ۔ اس حالت میں انسان کو خدا کی طرف لوٹناچاہیئے اور جتنی 

مرتبہ بھی اس عمل کی تکرار ہوگی، فطرت توحید محکم و استوار ہوتی جائے گی اور اسباب انحراف کمزور اور ضعیف ہوتے جائیں گے یہاں تک کہ ہمیشہ کے لیے انسان کا عقیدہ توحید کم ہوجائے گا 

اور وہ "فأقم وجھك للدين حنيفًا" کا مصداق ہوجائے گا۔ 
 یہ امر قابل توجہ ہے کہ "اقم و جھك" میں صیغہ واحد ہے اور " منيبين " میں صیغہ جمع ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ پہلا حکم اگرچہ مفرد صورت میں ہے اور اس کے مخاطب جناب 

رسالت مآبؐ ہیں ۔ لیکن حقیقت میں اس سے تمام مسلمان اور مومنین مراد ہیں۔ 
 "انابت " اور "بازگشت" کے ذکر کے بعد "تقویٰ " کا حکم ہے کہ جو تمام اوامر و نواہی کا جامع ہے۔ چنانچہ فرمایا گیا ہے : خدا سے پرہیز کرو (وتقوه ) یعنی اس کے احکام کی مخالفت 

سے پرہیز کرو۔ 
 اس کے بعد تمام اوامر میں سے سب سے زیادہ زور اور تاکید نماز پر ہے۔ فرمایا گیا ہے ، نمازقائم کرو ( واقيموا الصلوة )- 
 کیونکہ نماز ہرجہت سے شرک کے ساتھ مبارزۃ کا بہترین لائحہ عمل ہے اور عقیدہ توحید اور ایمان باللہ کومستحکم کرنے کا بہترین وسیلہ ہے ۔
 اس لیے ذکر صلوة کے بعد بھی شرک کے بارے میں فرمایا گیا ہے : مشرکین میں سے مت ہوجانا ( ولا تكونوا من المشركين) ۔ کیونکہ  "شرک" عظیم ترین گناہ اور اکبر کبائر ہے۔ ممکن 

ہے روز حساب خدا برقسم کے گناہوں کوبخش دے مگر وہ گناہ مشرک کو کبھی نہ بخشے گا جیسا کہ سورہ نساء کی آیت 48 میں مذکور ہے :
  ان الله لا يغفرأن يشرك به ويغفر مادون ذلك لمن يشاء
  خدا گنام  شرک کو ہرگز نہیں بخشے گا ،لیکن اگر وہ چاہے گا تو اس سے کمتر گناہوں کو بخش دے گا۔
 یہ واضح ہے کہ اس آیت میں چار احکام آئے ہیں (یعنی تو و بازگشت بسوی خدا ، تقویٰ ، اقامت نماز اور پرہیز از مشرک) یہ سب مسئلہ توحید اور اس کے آثار عملی پر تاکید کے لیے 

ہیں ۔ 
 زیر نظر آیت میں علامات ونتائج شرک میں سے ایک کو نہایت مختصر اور پر معنی عبارت میں بیان کیا گیا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے تم مشرکین میں سے نہ ہو جانا ۔ وہی لوگ جنہوں نے اپنے 

دین کو پارہ پارہ کرلیا ہے اور مختلف فرقوں اور جماعتوں میں تقسیم ہوگئے ہیں:  (من الذين فرقوا دينهم وكانوا شيعًا) ۔
 اور عجیب بات یہ ہے کہ ان فرقوں میں باہم جو تضاد و اختلاف ہے ، اس کے باوجود ہر گروہ اپنے عقاید اور مسلمات 
سے خوش ہے : (كل حزب بمالدیھم فرحون) - 
 یہ مسلم ہے کہ علامات شرک میں سے ایک پراگندگی اور باہمی تفرقہ بھی ہے کیونکہ مختلف معبودوں کی پرستش سے متفاوت عقاید اور منشتر روش فکر پیدا ہوتی ہے اور یہ چیزیں 

باہمی تفرقہ اور پراگندگی کا موجب ہوجاتی ہیں ۔ شرک کی ایک اور خصوصیت یہ ہے کہ ہوائے نفس ، تعصب ، کبر ،خودخواہی اور خود پسندی اس کے سایہ بسایہ رہتی ہے۔ اس لیے کسی قوم میں اتحاد 

و حدت صرف خدا پرستی ، تواضع و ایثار اور عقلی روش ہی کے تحت باقی رہ سکتی ہے۔  
 منطق استخراجی کے اصول سے ہمیں جہاں بھی اختلاف اور پراگندگی نظر آئے تو سمجھ لینا چاہیے کہ وہاں کسی نہ کسی قسم کا شرک ضرور موجود ہے۔ اخذ نتائج کے اعتبار سے 

اس مضمون کو بصورت تکرار یوں کہا جاسکتا ہے کہ شرک کا نتیجہ کسی قوم میں تفرقہ تضاد 
زہنی توانائیوں کا ضیاع اور آخرکار اس قوم کا ضعف و ناتوانی اور تباہی ہے ۔
 لیکن یہ کہ مشرکین اور منحرفین راه راست میں سے ہر گروہ نے اپنے لیے جو راه انتخاب کرلی وہ اسی کو حق سمجھتا ہے اور اور اسی سے خوش ہے۔ ان کی یہ روش کسی دلیل 

کی محتاج نہیں ہے ۔ کیونکہ ہوا و ہوس انسان کی دلی خواہشات کو اس کی نظر میں مزین کر کے جلوہ گر کرتی ہے اور خواہشات کی اس جلوہ آرائی کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ انسان کو اس طریق حیات 

سے جو اس نے اختیار کرلی ہے زیادہ دل بستگی اور راحت قلب محسوس ہونے لگتی ہے۔ خواہ وہ راہ عمل قطعی گمراہی ہی کیوں نہ ہو۔ 
 جب انسان کی چشم بصیرت پر خواہشات نفس کا پردہ پڑجاتا ہے تو وہ چہرہ حقیقت کو اس کی اصل شکل میں نہیں دیکھ سکتا اور حب و بغض سے غیر جانبداری ہو کر کر کوئی فیصلہ 

نہیں کرسکتا۔ 
 سورة فاطر آیت 8 میں یوں مذکور ہے :
  افمن زين له سوء عمله فراه حسنًا 
  وہ شخص جس کی نظر میں اس کے اعمال قبیح مزین ہوگئے ہیں اور وہ اسے حسیں نظر 
  آتے ہیں ، کیا وہ اس شخص کی مانند ہے جو راہ خدا میں قدم اٹھاتا ہے اور حقائق کو 
  اصل سورت میں بے نقاب دیکھتا ہے؟