Tafseer e Namoona

Topic

											

									  3-  عالم خواب کے عجائبات 

										
																									
								

Ayat No : 23-25

: الروم

وَمِنْ آيَاتِهِ مَنَامُكُمْ بِاللَّيْلِ وَالنَّهَارِ وَابْتِغَاؤُكُمْ مِنْ فَضْلِهِ ۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَاتٍ لِقَوْمٍ يَسْمَعُونَ ۲۳وَمِنْ آيَاتِهِ يُرِيكُمُ الْبَرْقَ خَوْفًا وَطَمَعًا وَيُنَزِّلُ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَيُحْيِي بِهِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا ۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَاتٍ لِقَوْمٍ يَعْقِلُونَ ۲۴وَمِنْ آيَاتِهِ أَنْ تَقُومَ السَّمَاءُ وَالْأَرْضُ بِأَمْرِهِ ۚ ثُمَّ إِذَا دَعَاكُمْ دَعْوَةً مِنَ الْأَرْضِ إِذَا أَنْتُمْ تَخْرُجُونَ ۲۵

Translation

اور اس کی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ تم رات اور دن کو آرام کرتے ہو اور پھر فضل خدا کو تلاش کرتے ہو کہ اس میں بھی سننے والی قوم کے لئے بہت سی نشانیاں پائی جاتی ہیں. اور اس کی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ وہ بجلی کو خوف اور امید کا مرکز بنا کر دکھلاتا ہے اور آسمان سے پانی برساتا ہے پھر اس کے ذریعہ مردہ زمین کو زندہ بناتا ہے بیشک اس میں بھی اس قوم کے لئے بہت سی نشانیاں ہیں جو عقل رکھنے والی ہے. اور اس کی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ آسمان و زمین اسی کے حکم سے قائم ہیں اور اس کے بعد وہ جب تم سب کو طلب کرے گا تو سب زمین سے یکبارگی برآمد ہوجائیں گے.

Tafseer

									 3-  عالم خواب کے عجائبات : 
 علما نے خواب اور اس کی خصوصیات کے بارے میں جو بحثیں کی ہیں ، ان کے باوجود ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ابھی اس پراسرار عالم کے تمام پہلو روشن نہیں ہوئے اور انسان کی 

اس کی پیچدہ حقیقتوں تک رسائی نہیں ہوئی۔ 
 ابھی اہل علم میں یہ امر زیر بحث ہے کہ انسان کے جسم میں کون سا عمل اور رد عمل ہوتا ہے کہ ناگہانی طور پر اس کے دماغ اور بدن کے عمل کا ایک حصہ معطل ہو جاتا ہے اور 

اس کی روح اور جسم میں ایک نئی حالت پیدا ہوجاتی ہے. بعض علماء کا یہ خیال ہے کہ انسان کے جسم میں تبدیلیاں نیند آنے کا باعث ہیں ۔ وہ کہتے ہیں کہ جب دماغ سے جسم کے دوسرے حصوں میں 

خون جاتاہے تو یہ کیفیت طاری ہوجاتی ہے۔ انھوں نے اپنے نظریے کو ثابت کرنے کے لیے ایک آلہ ایجاد کیا ہے جو مغز سے باقی اعضاء کی طرف انتقال خون کو ظاہر کرتا ہے ۔
 علماء کا ایک اور گروہ جسم میں کیمیائی تبدیلیوں کو نیند کا باعث سمجھتا ہے۔ ان لوگوں کا نظریہ یہ ہے کہ جس وقت انسان محنت مشقت کرتا ہے تو اس کے جسم میں ایک زہر پیدا 

ہوجاتا ہے جو دماغ کے ایک حصے کو بیکار کر دیتا ہے۔ اس کے نتیجے میں انسان سو جاتا ہے اور جب یہ زہر جزو بدن بن کر زائل ہو جاتا ہے تو انسان بیدار ہو جاتا ہے ۔ سائنس دانوں کی ایک اور 

جماعت کا نظریہ  یہ ہے کہ "نیند" کا ایک عامل اعصابی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ دماغ میں بھی ایک  خاص قسم کا فعال نظام اعصاب موجود ہے ۔ جس کی مثال موٹر کے پیٹرول کی سی ہے۔ یہ نظام اعصاب 

تھک کر بیکار ہو جاتا ہے اور آدمی سوجاتا ہے۔ 
 مگر ان تمام نظریات پر اعتراضات کیے گئے ہیں جن کے ابھی تک شافی جوابات نہیں دیئے جاسکے ۔ اس لیے ابھی تک" نیند" ایک پراسرار چیز ہی ہے۔  
 سائنس دانوں نے جن عجابات خواب کا انکشاف کیا ہے ، ان میں سے ایک یہ ہے کہ بوقت خواب جب دماغ کے خلیوں کا اکثر حصہ اپنا کام ترک کر دیتا ہے تو بعض خلیے جنھیں "

خلاہائے نگہبان" کہنا چاہیئے ، بیدار رہتے  ہیں اور انسان عالم بیداری میں ان خلیوں کو یہ پیغام بھی دیتا یا جو نصحیت بھی کرتا ہے وہ اسے ہرگز فراموش نہیں کرتے۔ یہاں تک کہ وہ مغز کو بیدار 

کرکے اسے متحرک کر دیتے ہیں۔ 
 مثلاً ـــــ ایک تھکی ماندی ماں جب رات کو سونے لگتی ہے اور اس کا شیر خوار بچے اس کے قریب ہی گہوارے میں محوخواب ہوتا ہے تو وہ لاشعوری طور پر دماغ کے "نگهبان"  

خلیوں سے ( جو روح اور جسم کے درمیان رابطے کا کام دیتےہیں) یہ کہتی ہے کہ میرا بچہ جس وقت بھی روئے تو مجھے جگا دینا ۔ ماں کے نزدیک اس کے علاوہ دوسری آوازوں کی کوئی اہمیت 

نہیں ہے ۔ہوسکتا ہے کہ بادل کی گرج اس ماں کو نیند سے بیدار نہ کرے۔ لیکن بچے کی ہلکی سی آواز بھی اسے جھگا دیتی ہے اور دماغ کے نگہبان خلیے اس فرض کو ادا کرتے ہیں۔ 
  ہم نے اس بات کو خود اپنے اوپر بارہا آزما کے دیکھا ہے کہ اگر ہم نے اپنے دل میں یہ طے کرلیا ہے کہ صبح سویرے یا آدھی رات کو ہمیں کسی سفر یا کسی اہم پروگرام پر جانا ہے 

تو عین وقت پر آنکھ کھل جاتی ہے۔ جب کہ دیگر مواقع پہ ہم گھنٹوں پڑے سوتے رہتے ہیں۔ 
 خلاصه گفتگو یہ ہے کہ نیند ایک روحانی مظہر ہے اور روح ایک پراسرار عالم ہے۔ لہذا ـــ کیا عجب ہے کہ اس مسئلے کے بہت سے پہلو ایسے ہوں جو ابھی انسان پر منکشف نہ 

ہوئے ہوں ۔ مگر انسان اس اسرار کی گرہ کشائی میں جتنا بھی زیادہ غور و فکر کر رہاہے اتنا ہی اس پر اس مظہر کے خالق کی عظمت واضح ہوتی جاتی ہے ۔