Tafseer e Namoona

Topic

											

									  2- کون لوگ ان آیات سے کسب حکمت کرتے ہیں

										
																									
								

Ayat No : 23-25

: الروم

وَمِنْ آيَاتِهِ مَنَامُكُمْ بِاللَّيْلِ وَالنَّهَارِ وَابْتِغَاؤُكُمْ مِنْ فَضْلِهِ ۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَاتٍ لِقَوْمٍ يَسْمَعُونَ ۲۳وَمِنْ آيَاتِهِ يُرِيكُمُ الْبَرْقَ خَوْفًا وَطَمَعًا وَيُنَزِّلُ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَيُحْيِي بِهِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا ۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَاتٍ لِقَوْمٍ يَعْقِلُونَ ۲۴وَمِنْ آيَاتِهِ أَنْ تَقُومَ السَّمَاءُ وَالْأَرْضُ بِأَمْرِهِ ۚ ثُمَّ إِذَا دَعَاكُمْ دَعْوَةً مِنَ الْأَرْضِ إِذَا أَنْتُمْ تَخْرُجُونَ ۲۵

Translation

اور اس کی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ تم رات اور دن کو آرام کرتے ہو اور پھر فضل خدا کو تلاش کرتے ہو کہ اس میں بھی سننے والی قوم کے لئے بہت سی نشانیاں پائی جاتی ہیں. اور اس کی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ وہ بجلی کو خوف اور امید کا مرکز بنا کر دکھلاتا ہے اور آسمان سے پانی برساتا ہے پھر اس کے ذریعہ مردہ زمین کو زندہ بناتا ہے بیشک اس میں بھی اس قوم کے لئے بہت سی نشانیاں ہیں جو عقل رکھنے والی ہے. اور اس کی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ آسمان و زمین اسی کے حکم سے قائم ہیں اور اس کے بعد وہ جب تم سب کو طلب کرے گا تو سب زمین سے یکبارگی برآمد ہوجائیں گے.

Tafseer

									 2- کون لوگ ان آیات سے کسب حکمت کرتے ہیں :
  ان چھ آیات میں سے درمیان کی چار آیات میں تاکیدًا کہا گیا ہے کہ ان حوادث عالم اور اجزاء کائنات میں علماء ، عقلاء ،  متفکرین اور سننے والوں کے لیے روشن نشانیاں ہیں مگر آیت 

20 اور 25 میں ہے یہ ذکر نہیں ہے۔ 
 فخرالدین رازی نے اس کی یہ وجہ بتائی ہے کہ آیت 20 میں اس امر کا ذکر نہ ہونے کی وجہ یہ ہوسکتی ہے ۔ آیات بیس اور اکیس ایک دوسرے کے بعد آئی ہیں اور دونوں میں ان 

آیات کا ذکر ہے جو انسان کے عالم انفس میں ہیں۔
 اور آخری آیت میں مطلب اس قدر واضح ہے کہ اس پر غور کرنے کے لیے تعقل و تفکر کی ضرورت ہی نہیں۔ ؎1 
 قابل غور بات یہ ہے کہ پہلے کلمہ  "تفکر" استعمال ہواہے ، اس کے بعد "علم" کا ذکر ہے۔ کیونکہ علم کے لیے فکر کی بنیادی حیثیت ہے۔ اس کے بعد سننے والے کا ان کا ذکر ہے۔ 

کیونکہ عالم وآگاہی کے طفیل ہی انسان کلمہ حق سننے اور قبول کرنے کے لیے آمادہ ہوتا ہے۔ جس طرح سے کہ قرآن میں مذکورہے: 
  فبشر عباد الذين يستمعون القول فيتبعون احسنہ
   میرے ان بندوں کو بشارت دو جو باتوں کوسنتے ہیں اور ان میں سے بہترین پرعمل کرتے ہیں۔ (زمر -17- 18)۔
 آیت 24 میں "عقل" کا ذکر ہے۔ کیونکہ عقل کامل کی منزل پر وہی لوگ پہنچیں گے جو سننے والے کان رکھتے ہیں۔ 
 یہ نکتہ بھی قابل توجہ ہے کہ زیر نظر آیات میں سے آیت 20 میں انسان کی خلقت اور اس کی نسل کے زمین پر پھیلنے کا ذکر ہے: 
  ثم اذا انتم بشر تنتشرون 
 اور آخری آیت 25 میں بروز قیامت زمین سے جی اٹھنے کا ذکر ہے: 
۔----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
  ؎1    تفسیر کبیر فخررازی ، زیربحث آیات کے ذیل میں ۔ 
۔----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
  اذا انتم تخرجون - 
 پہلی آیت - 20 میں آغاز انسان کا ذکرہے اور آخری 25 میں اس کے انجام کا ذکر ہے۔