Tafseer e Namoona

Topic

											

									  انسان کے نفس اورخارجی دنیا میں خدا کی عظمت کی نشانیاں

										
																									
								

Ayat No : 23-25

: الروم

وَمِنْ آيَاتِهِ مَنَامُكُمْ بِاللَّيْلِ وَالنَّهَارِ وَابْتِغَاؤُكُمْ مِنْ فَضْلِهِ ۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَاتٍ لِقَوْمٍ يَسْمَعُونَ ۲۳وَمِنْ آيَاتِهِ يُرِيكُمُ الْبَرْقَ خَوْفًا وَطَمَعًا وَيُنَزِّلُ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَيُحْيِي بِهِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا ۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَاتٍ لِقَوْمٍ يَعْقِلُونَ ۲۴وَمِنْ آيَاتِهِ أَنْ تَقُومَ السَّمَاءُ وَالْأَرْضُ بِأَمْرِهِ ۚ ثُمَّ إِذَا دَعَاكُمْ دَعْوَةً مِنَ الْأَرْضِ إِذَا أَنْتُمْ تَخْرُجُونَ ۲۵

Translation

اور اس کی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ تم رات اور دن کو آرام کرتے ہو اور پھر فضل خدا کو تلاش کرتے ہو کہ اس میں بھی سننے والی قوم کے لئے بہت سی نشانیاں پائی جاتی ہیں. اور اس کی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ وہ بجلی کو خوف اور امید کا مرکز بنا کر دکھلاتا ہے اور آسمان سے پانی برساتا ہے پھر اس کے ذریعہ مردہ زمین کو زندہ بناتا ہے بیشک اس میں بھی اس قوم کے لئے بہت سی نشانیاں ہیں جو عقل رکھنے والی ہے. اور اس کی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ آسمان و زمین اسی کے حکم سے قائم ہیں اور اس کے بعد وہ جب تم سب کو طلب کرے گا تو سب زمین سے یکبارگی برآمد ہوجائیں گے.

Tafseer

									  تفسیر
            انسان کے نفس اورخارجی دنیا میں خدا کی عظمت کی نشانیاں : 
 گزشتہ بحثوں کے بعد جن میں انفس و آفاق میں آیات الٰہی کا ذکر تھا ، زیر نظر آیات میں ان عظیم آیات کے ایک اور حصہ کا بیان ہے ۔
 سب سے پہلے نیند کی طرف توجہ مبذول کرائی گئی ہے کیونکہ وہ ظاہر فطرت میں سے ایک اہم مظہراور نظام عالم میں اس کے خالق کی حکمت کا اظہار ہے، چنانچہ فرمایا گیا ہے. 

تمهارا دن اور رات میں سونا نیز فضل الٰہی سے حصہ پانے کے لیے تمہاری سعی و کوشش اور ضروریات زندگی کو پورا کرنے کے لیے تمہاری بھاگ دوڑ اور ان کا پورا ہونا یہ سب آیات الٰہی میں 

سے ہے: (ومن آياته منامكم بالليل والنهار وابتغاؤكم من فضلهٖ) - 
 آیت کے اخیر میں یہ الفاظ ہیں : سننے والوں کے لیے ان امور میں بہت سی نشانیاں ہیں : ( أن في ذلك لايات لقوم لسمعون)۔ 
  کسی سے بھی یہ حقیقت پوشیدہ نہیں ہے کہ تمام "جان داروں" کو صرف شده طاقت کو بحال کرنے اور آئند محنت و مشقت کے واسطے تیار ہونے کے لیے ، آرام کرنے کی ضرورت 

ہے۔ 
  استراحت اور نیند لازمی طور پر انسان پر طاری ہوجاتی ہے اور وہ لوگ جو کسب معاش میں محنت اور مشقت کرتے ہیں وہ تو ا ناگزیر طور سے تھک کر سو جاتے ہیں ۔  پھر سے 

تازہ دم ہونے کے لیے نیند سے بہتر اور کونسا ذریعہ ہوسکتا ہے جو فطرتًا انسان پر طاری ہوجاتی ہے اور جو وقتی طور پر انسان کے تمام جسمانی ، فکری اور روحانی اعمال کو معطل کر دیتی ہے ۔  
 صرف بعض اعضا و قویٰ جن کا مصروف عمل اور بیدار رہنا ثبات حیات کے لیے لازم ہے نہایت آہستگی کے ساتھ اپنے کام میں مصروف رہتے ہیں۔ مثلًا حرکت قلب ، روانی تنفس اور 

دماغ کے بعض حصے۔
 یہ نعمت الٰہی اس امر کا باعث ہوتی ہے کہ انسان کے جسم اور روح میں ازسر نو قوت کار آجاتی ہے ۔ انسانی جب استراحت کرتا ہے تو وہ اس وقت کام سے فارغ ہوتا ہے۔ تھوڑی دیر 

سونے سے اس کی تھکن دور ہوجاتی ہے اور اس کے اعضا کو آرام مل جاتا ہے اسی طرح انسان میں ایک نئی زندگی ، خوشی اور تازه توانائی پیدا ہوجاتی ہے۔ 
 یہ حقیقت ہے کہ اگر انسان سویا نہ کرتا تو اس کا جسم جلد ہی پژمردہ اور فرسودہ ہو جاتا اور بہت جلد ناتوان اورضعیف بوجاتا۔ 
 یہی وجہ ہے نہ مناسب و متعدل نیند انسان کے لیے نشاط جوانی کی بقا ، طول عمر اور صحت و سلامتی کا باعث ہے۔ 
 یہ امر قابل توجہ ہے کہ آیت میں نیند کا ذکر "ابتغاؤكم من فضله" سے پہلے آیا ہے ، جس کے معنی ہیں کہ اپنی روزی تلاش کرو - اس ترتیب میں مصلحت یہ ہے کہ  "نیند" تلاش رزق 

کے لیے بنیادی شرط ہے، کیونکہ اگر انسان نے کافی آرام نہ کیا ہو تو "ابتغاؤكم من فضلہ" بھی مشکل ہے۔ 
 دوسرے یہ کہ یہ بھی درست ہے کہ معمولًا انسان رات کو سوتا ہے اور دن کو اپنا رزق تلاش کرتاہے مگر یہ لازمی نہیں ہے کہ انسان اپنے معمولات حیات کو بدل نہ سکے - خدا 

نے انسان کی فطرت ایسی بنائی ہے کہ وہ اپنی نیند کی عادت کور بدل سکتا ہے اور ضرورت کے مطابق اس میں تغیر کرسکتا ہے۔ اسی لیے " منامكم بالليل والنهار"  کہا گیا ہے ( رات کا ذکر پہلے اور 

دن کا ذکر بعد میں ہے)۔ 
 بے شک سونے کا اصل وقت رات ہی کا ہے اور تاریکی کے سبب شب کو سکون محسوس ہوتا ہے اس لیے آرام کرنے کے لیے اسے اولیت حاصل ہے مگر انسان کی زندگی میں بعض 

حالات ایسے پیش آجاتے ہیں کہ اس کے برعکس عمل کرنا پڑتا ہے مثلًا رات کو سفر کرنا پڑے تو دن کو آرام کرنا پڑے گا۔ اسی قیاس پر دیکھئے کہ اگر سونے کے اوقات انسان کے اختیار میں نہ ہوتے 

تو کتنی دشواری پیش آتی- 
 نیند کی آیات الٰہی میں شمار کرنے کی اہمیت ہمارے زمانے میں اور بھی زیادہ واضح ہو گئی ہے کیونکہ فی زماننا بعض صنعتی کارتانے اور ہسپتال رات دن کام کرتے اور کھلے رہتے 

ہیں اور ان میں کام کرنے والے تین تین شفٹوں میں کام کرتے ہیں۔ 
 آدمی کے جسم اور روح کو نیند کی ضرورت اتنی زیادہ ہے کہ انسان میں بے خوابی کے تحمل کی توانائی بہت ہی کم ہے اور انسان چند شب و روز سے زیادہ بے خوابی برداشت نہیں 

کرسکتا۔ 
 اس لیے ظالم اور ستم شعار اہل اقتدار کسی کو بد ترین سزا یہی دیتے ہیں کہ اسے سونے نہیں دیتے۔ 
 برعکس اس کے بہت سی بیماریوں کا موثر علاج یہ ہے کہ بیمار کو گہری نیند سلا دیا جائے. اس طرح سے اس کی قوت مدافعت میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ 
 لیکن عام انسانوں کے لیے نیند کی مقدار کو معین نہیں کیا جاسکتا کیونکہ طول خواب کا انحصار انسان کے سن و سال ،اس  کے حالات ، اس کی جسمانی بناوٹ اور نفسیاتی کیفیت پر 

ہے۔ 
 البتہ ـــــــ نیند کی اس مقدار کا قی کہہ سکتے ہیں جس کے بعد انسان اپنے اندر تازگی محسوس کرے ۔ جس طرح پانی پی کراور غذا کھا کر سیری محسوس کرتا ہے۔ 
 یہ امر ملحوظ خاطر رہے کہ نیند کے لیے جس طرح طول زمان کا لحاظ ہے ، اس کا گہرا ہونا بھی اہمیت رکھتا ہے ۔ کیونکہ بسا اوقات ایک گھنٹے کی گہری نیند ، چند گھنٹوں کی اچٹتی 

ہوئی نیند کے مقابلے میں انسان کی روح اور جسم کو تازگی بخشنے میں زیادہ موثر ہوتی ہے۔ 
 لیکن ـــــــ اگر کسی موقع پر گہری نیند ممکن نے نہ ہو ، صرف خفیف اور اچٹتی ہوئی نیند اور غنودگی بھی خدا کی نعمتوں میں سے ہے ۔
 جیساکہ سوره انفال کی آیت 11 میں مجاہدین بدر کے متعلق ذکر ہے کیونکہ میدان جنگ میں گہری نیند مکن ہی نہیں ہے اور نہ مفید و سودمند ہے. 
 بہرحال ـــــ نیند اور استراحت ۔ اور اس سے جوسکون - نشاط اور توانائی حاصل ہوتی ہے . خدا کی ایسی نعمت ہے جس کی کسی طرح بھی توصیف نہیں ہوسکتی۔ 
 اس کے بعد کی آیت میں آیات الہی کی پانچویں قسم کو بیان کیا گیا ہے۔ اس آیت میں بھی خدا کی ان نشانیوں کا ذکر ہے جونفس انسانی سے باہر عالم خارج میں پائی جاتی ہیں۔ اس میں 

خصوصیت سے رعد و برق ، بارش اور زمین کی موت کے بعد دوباره زندہ ہونے کا ذکر ہے ، چنانچہ فرمایا گیاہے. آیات الٰہی میں سے ایک بجلی بھی ہے جو تمہارے لیے موجب خوف بھی هے اور 

باعث امید بھی ( ومن آياته يريكم البرق خوفًا وطمعًا)۔ 
 بجلی کا خوف تو یہ ہے کہ وہ کبھی بصورت صاعقہ ٹوٹ پڑتی ہے اور ہر اس چیز کو جو اس کے احاطے میں آجائے جلا خاک کردیتی هے۔ بجلی چمکنے سے "امید" یہ ہوتی ہے کہ 

عمومًا گرج چمک سے  تند و تیز بارش ہوتی ہے . اس بنا پر بجلی نزول بارش کا پیش خیمہ ہے۔ اس کے علاوہ بجلی کے چمکنے میں جو فوائد ہیں انہیں اس زمانے میں سائنس دانوں نے منکشف کیا ہے۔
 ہم نے سوره رعد کے آغاز میں ان کی طرف اشارہ کیا ہے۔ ؎1
 اس کے بعد یہ فرمایا گیا ہے کہ خدا آسمان سے پانی برساتا ہے جو زمین کو اس کی موت کے بعد زندہ کر دیتا ہے: (وينزل من السماء ماء فيحيی به الارض بعد موتها). 
 خشک اور جلتی بھنتی زمین میں جس سے موت کی بو آتی ہے چند حیات بخش بارشوں کے بعد جان آجاتی اور وہ زندہ ہوجاتی ہے۔ اس سے اگنے والے پھولوں ، سبزے اور جڑی 

بوٹیوں سے اس کے آثار حیات نمایاں ہوتے ہیں اس کی حالت دیکھ کر کوئی یقین بھی نہیں کرسکتا کہ یہ وہی مردہ زمیں ہے۔ 
 آیت کے آخر میں بطور تاکید اضافہ کیا گیا ہے کہ ان چیزوں میں ان لوگوں کے لیے جو فکر کرتے اور عقل سے کام لیتے ہیں خدا کی نشانیاں ہیں۔ (ان في ذلك لايات لقوم یعقلون)۔ 
 اہل عقل و فکر میں یہ سمجھتے ہیں کہ اس مرتب نظام فطرت کے پیچھے کسی قادر مطلق کا ہاتھ ہے جب اس نظام کو چلا رہا ہے، نیز یہ کہ یہ نظام فطرت محض اتفاقًا یا اندھی اور 

بہری حرکت و ضرورت سے ظہور میں نہیں آگیا۔ 
 زیر نظر آیات میں سے آخری آیت میں ، عالم خارج میں موجود آیات الہی کے سلسلے میں زمین و آسمان کے نظام اوران کی ثبات و بقا کا ذکر ہے ، چنانچہ فرمایا گیا . آیات عظمت 

الٰہی میں سے ایک یہ ہے کہ آسمان و زمین اس کے امرسے قائم ہے : ( ومن آياته أن تقوم السماء والأرض بامره)۔ 
۔--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
  ؎1      تفسیر نمونہ ، جلد 10 کی طرف رجوع فرمایئے۔ 
۔-------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
  یعنی صرف آسمان و زمین کی تخلیق ہی جیسا کہ آیت 22 میں اشارہ ہوا ہے ، آیت الٰہی نہیں بلکہ ان کے نظام کا باقی رہنا ایک دوسری نشانی ہے ۔ کیونکہ یہ عظیم اجرام اپنی منظم 

گردش کے لیے اور چیزوں کی احتیاج بھی رکھتے ہیں جن میں 
سے سب اہم ان کی باہم قوت جاذبہ اور دافعہ ہے۔ 
 خداوند عالم نے کرات سماوی میں ان دونوں قوتوں کو ایسے اعتدال پر رکھا ہے کہ لاکھوں سال گزرنے کے بعد بھی سرمو انحراف کے بغیر اپنے اپنے مدار پر گردش کر رہے ہیں ۔
 ایک اور پہلوسے دکھا جاۓ تو گزشتہ آیت میں یہ بیان ہے کہ خالق کائنات ذات واحدہے ۔ اور ــــ اس آیت کا مفہوم یہ ہے کہ اس کارخانہ عالم کی مربی اور مدبر بھی ذات احدیت ہی 

ہے۔ 
 آسمان اور زمین کے لیے فعل "تقوم" کا استعمال جس سے ان کا قیام اور ثبات مراد ہے ،ایک لطیف تعبیر ہے۔ جو انسان کے معمولات حیات سے لی گئی ہے کیونکہ انسان کے کام کرنے 

کے لیے بہترین حالت ، حالت قیام ہے۔ اس حالت میں وہ اپنے تمام کام انجام دینے پر قدرت رکھتا ہے اور اپنے اطراف پر پورا تسلط رکھتا ہے۔ 
 کلمہ "امر"  کے استعمال سے پروردگار کی انتہای قدرت مراد ہے کہ اس عظیم و وسیع کائنات کے نظم اور دوام حیات کے لیے اس کا ایک حکم ہی کافی ہے۔ 
 اس آیت کے اخیر میں ، معاد کے لیے توحید کو ، بنیادی شرط قرار دیتے ہوئے ، بحث کا رخ اسی طرف موڑ تے ہوئے فرمایا گیا ہے۔ جب وہ تمہیں زمین میں سے بلائے کا تو سب کے 

سب باہر نکل آوگے: (ثم اذا دعاكم دعوة من الارض اذا انتم تخرجون )۔
 قرآن کریم میں یہ بات بتکرار نظر آتی ہے کہ خدا معاد کو زمین و آسمان میں اس کی قدرت کی نشانیوں کی بنیاد پر ثابت کرتاہے۔ چانچہ آیت زیر بحث بھی ان ہی آیات میں سے ہے ۔
  کلمه "دعاکم" سے یہ مراد ہے کہ جس طرح اس کائنات کی نظم و تدبیر کے لیے اس کا ایک حکم کافی ہے ، اسی طرح بروزقیامت دوبارہ جی اٹھنے اور حشرونشور کے لیے بھی اس کا 

ایک دفعہ بلانا ہی کافی بوگا خصوصیت سے جب اس جملے پر توجہ کی جائے "اذا انتم تخرجون"۔ 
 عربی زبان میں کلمہ "اذا " مناجات کے لیے آتا ہے. اس سے ثابت ہے کہ ایک ہی دفعہ پکارنے سے سب کے سب ناگہانی طور پر قبروں سے باہر نکل آئیں گے۔ 
 اس ضمن میں " دعوة من المرض " کے الفاظ  سے معاد جسمانی ثابت ہوتی ہے کہ بروز قیامت انسان اسی زمین سے اٹھایا جائے گا۔