Tafseer e Namoona

Topic

											

									  قیامت کا ایک نام "ساعت" کیوں ہے ؟

										
																									
								

Ayat No : 11-16

: الروم

اللَّهُ يَبْدَأُ الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهُ ثُمَّ إِلَيْهِ تُرْجَعُونَ ۱۱وَيَوْمَ تَقُومُ السَّاعَةُ يُبْلِسُ الْمُجْرِمُونَ ۱۲وَلَمْ يَكُنْ لَهُمْ مِنْ شُرَكَائِهِمْ شُفَعَاءُ وَكَانُوا بِشُرَكَائِهِمْ كَافِرِينَ ۱۳وَيَوْمَ تَقُومُ السَّاعَةُ يَوْمَئِذٍ يَتَفَرَّقُونَ ۱۴فَأَمَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ فَهُمْ فِي رَوْضَةٍ يُحْبَرُونَ ۱۵وَأَمَّا الَّذِينَ كَفَرُوا وَكَذَّبُوا بِآيَاتِنَا وَلِقَاءِ الْآخِرَةِ فَأُولَٰئِكَ فِي الْعَذَابِ مُحْضَرُونَ ۱۶

Translation

اللرُ ہی تخلیق کی ابتدائ کرتا ہے اور پھر پلٹا بھی دیتا ہے اور پھر تم سب اسی کی بارگاہ میں واپس لے جائے جاؤ گے. اور جس دن قیامت قائم کی جائے گی اس دن سارے مجرمین مایوس ہوجائیں گے. اور ان کے شرکائ میں کوئی سفارش کرنے والا نہ ہوگا اور یہ خود بھی اپنے شرکائ کا انکار کرنے والے ہوں گے. اور جس دن قیامت قائم ہوگی سب لوگ آپس میں گروہوں میں تقسیم ہوجائیں گے. پس جو ایمان والے اور نیک عمل والے ہوں گے وہ باگُ جنّت میں نہال اور خوشحال ہوں گے. اور جن لوگوں نے کفر اختیار کیا اور ہماری آیات اور روز آخرت کی ملاقات کی تکذیب کی وہ عذاب میں ضرور گرفتار کئے جائیں گے.

Tafseer

									  قیامت کا ایک نام "ساعت" کیوں ہے ؟
 یہ نکتہ بھی توجہ طلب ہے کہ قرآن کی بہت سی آیات میں قیامت کو "ساعت" کہا گیا ہے ۔ ان آیات میں زیر نظر آیات میں سے دو آیات ( 12 - 14) بھی شامل ہیں ۔ یہ اس وجہ سے 

ہے کہ " ساعت " حقیقی معنی "زمانے کا ایک حصہ" یا لحظات زدوگزر ہے۔ اور چونکہ حادثہ قیامت ناگہانی اور برق آسا طور پر واقع ہوگا ۔ نیز یہ کہ خدا  "سریع الحساب" ہے ، اس لیے وہ اس روز 

بندول کا جلد حساب لے گا لہذا قیامت کو "ساعت" کہا گیا ہے ۔ تاکہ لوگ یوم رستا خیز کی حیثیت و واقفیت کو ہمیشہ نظر میں رکھیں ۔
 ابن منظور " لسان العرب" میں لکھتا ہے کہ "ساعة" اس وقت کا نام ہے جب کہ اس عالم اختتام کےلیے ایک چیخ ماری جائے گی اور اس آواز کو سن کر سب جاندار فورًا مرجائیں گے 

اور یہ اس وقت کا نام بھی ہے جبکہ قیامت میں لوگ قبروں سے اٹھاۓ جائیں۔
 دنیاکے اختتام اور وقوع قیامت کے لیے اس نام کا اس لیے انتخاب کیا گیا ہے کہ پہلی چیخ میں جیسا کہ خدا نے اس آیت میں اشاره کیا بے:
  إن كانت الاصيحة واحدة فاذا هم خامدون "۔ ؎1 
  سب کے سب بطور ناگہاني مرجائیں گے۔ 
 اور جب دوبارہ صور پھونکا جائے گا تو سب کے سب ناگہاں زندہ ہوجائیں گے اور پھر قیامت برپا ہوگی۔  
 "زبیدی" نے " تاج العروس" میں بعض علماءسے نقل کیا ہے کہ "ساعة" تین قسم کی ہے:  
 1-        ساعت کبریٰ : وہ دن جب لوگوں کو حساب کے لیے زندہ کیا جائے گا۔ 
 2-        ساعت وسطیٰ : جب خدا کی طرف سے نزول عذاب کی وحید سے کسی مخصوص زمانے میں ناگہانی طور پرسب کے سب آدمی بہ یک وقت مرجائیں گے۔
  3-        ساعټ صغریٰ : ہرانسان کی موت کا دن ۔
۔---------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
  ؎1     یٰس - 29