قیامت میں مجرمین پر کیا گزرے گی
اللَّهُ يَبْدَأُ الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهُ ثُمَّ إِلَيْهِ تُرْجَعُونَ ۱۱وَيَوْمَ تَقُومُ السَّاعَةُ يُبْلِسُ الْمُجْرِمُونَ ۱۲وَلَمْ يَكُنْ لَهُمْ مِنْ شُرَكَائِهِمْ شُفَعَاءُ وَكَانُوا بِشُرَكَائِهِمْ كَافِرِينَ ۱۳وَيَوْمَ تَقُومُ السَّاعَةُ يَوْمَئِذٍ يَتَفَرَّقُونَ ۱۴فَأَمَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ فَهُمْ فِي رَوْضَةٍ يُحْبَرُونَ ۱۵وَأَمَّا الَّذِينَ كَفَرُوا وَكَذَّبُوا بِآيَاتِنَا وَلِقَاءِ الْآخِرَةِ فَأُولَٰئِكَ فِي الْعَذَابِ مُحْضَرُونَ ۱۶
اللرُ ہی تخلیق کی ابتدائ کرتا ہے اور پھر پلٹا بھی دیتا ہے اور پھر تم سب اسی کی بارگاہ میں واپس لے جائے جاؤ گے. اور جس دن قیامت قائم کی جائے گی اس دن سارے مجرمین مایوس ہوجائیں گے. اور ان کے شرکائ میں کوئی سفارش کرنے والا نہ ہوگا اور یہ خود بھی اپنے شرکائ کا انکار کرنے والے ہوں گے. اور جس دن قیامت قائم ہوگی سب لوگ آپس میں گروہوں میں تقسیم ہوجائیں گے. پس جو ایمان والے اور نیک عمل والے ہوں گے وہ باگُ جنّت میں نہال اور خوشحال ہوں گے. اور جن لوگوں نے کفر اختیار کیا اور ہماری آیات اور روز آخرت کی ملاقات کی تکذیب کی وہ عذاب میں ضرور گرفتار کئے جائیں گے.
تفسیر
قیامت میں مجرمین پر کیا گزرے گی :
گزشتہ آیت میں ان تکذیب کرنے والوں کا ذکر تھا جو آیات الٰہی کا مذاق اڑاتے تھے اور زیر نظر آیات میں کچھ معاد اور قیامت میں مجرمین کی حالت کا ذکر کرکے معاد کے متعلق اس
مضمون کی تکمیل کی گئی ہے جس کا ذکر آیات ماقبل میں آیا تھا ۔
پہلے یہ فرمایا گیا ہے: خدا آفرینش کا آغاز کرتا ہے۔ اور پھر اس کا اعادہ کرے گا اور تم سب پھر اسی کی طرف لوٹ جاؤ گے: (الله یبدؤ الخلق ثم يعيده ثم الیه ترجعون)۔
اس آیت میں مسئلہ معاد کے بارے میں ایک کے پر معنی اور مختصر دلیل دی گئی ہے۔ قرآن کی دوسری آیات میں بھی بالفاظ مختلف اس دلیل کی تکرار ہوئی ہے اور وہ ہے کہ:
وہی ذات جو آفرینش اول پر قدرت رکھتی تھی ، معاد پر بھی قدرت رکھتی ہے ۔ نیز
قانون عدالت اور حکمت الٰہی کا تقاضا بھی یہی ہے کہ مخلوق فنا ہو کر دوبارہ پیدا ہو۔
"ثم اليه ترجعون" سے یہ مراد ہے کہ بروز قیامت زندہ ہونے کے بعد سب کے سب خدا کے دارالعدل کی طرف وہاں سے سزا یاجزا پانے کے لیے لوٹیں گے۔ اس سے برتر ہے کہ وہ
مومنین جو دنیا میں اوامرالٰہی کی اطاعت کر کے مدارج روحانی کی تکمیل کرتے رہے ہیں ، وہ اپنی روحانی تکمیل میں اسی طرح ختم ناپیزیر منزل معرفت اور پروردگار کی قربت کی طرف بڑھتے رہیں
گے۔
آیت مابعد میں مجرموں کی بات اس طرح بیان کی گئی ہے کہ : جس روز قیامت برپا ہوگی ، مجرمین ناامیدی اور غم واندہ میں ڈوب جائیں گے: (ويوم تقوم الساعة یبلس المجرمون )-
"يبلس" ماده "ابلاس" سےبنا ہے ۔ اس کے معنی اس غم واندوہ کے ہیں ، جو انسان پر شدت یاس و ناامیدی سے طاری ہو جاتا ہے۔
یہ امر بدیہی ہے کہ بالفرض انسان کسی چیز نامید بو جاتا تو اگر وہ شے بقائے حیات سے لیے اہمیت نہیں رکھتی تو اس کی ناامیدی بھی اہم نہیں ہے ۔ لیکن اگر وہ کسی لازمه زندگی
مایوس ہوابے تو اس پر غم و اندوہ کا بڑعادی ہونا بھی اہمیت رکھتا ہے۔ اس لیے بعض مفسرین نے مادہ "ابلاس" کا خاصہ "ضروری بونا" بھی قرار دیابے -
"ابلیس" کو اسی مناسبت سے ابلیس کہتے ہیں کہ وه رحمت الٰہی سے مایوس اور غم ناک ہوگیاہے۔
بہرحال مجرم اسی کے مستحق ہیں کہ اس روز مایوس اور غم ناک ہوں کیونکہ وہ عرصہ محشرمیں اپنے ساتھ نہ تو ایمان اور عمل صالح لائے ہیں۔ اور نہ اس روز کا کوئی مدد گار
و رفیق ہوگا نہ یہ امکان ہو گا کہ وہ پھر دنیا کی طرف لوٹ جائیں اور اپنی گزشته کوتاہیوں کی تلافی کرلیں ۔
لہذا آیت مابعد میں یہ اضافہ کیا گیا ہے ۔ ان کے معبود اس روزه شفاعت نہ کریں گے : ( ولم یكن لهم من شركابھم شفعاؤا)۔
آیت میں معبودوں نے وہی بت مراد ہیں کہ جس وقت ان کفارسے پوچھا جاتا تھا کہ تم ان بتوں کی پرستش کیوں کیا کرتے ہو ، وہ جواب دیتے تھے ۔
ا هؤلام شفعاؤنا عندالله
یہ بت درگاہ الٰہی میں ہمارے شفیع ہیں ۔ (یونس -- 18)
ان کفار کی سمجھ میں اس وقت یہ بات آئے گی کہ وہ پتھر کےے قدرو قیمت ٹکڑے تو کسی قسم کا اختیار اور قدرت نہ رکھتے تھے۔ اسی وجہ سے وہ ان معبودوں سے جنہیں وہ خدا
کا شریک سمجھا کرتے تھے ، نفرت اور بیزاری کا اظہار کریں گے اور " ان سے کسی قسم کا تعلق رکھنے سے انکار کر دیں گے: (وكانوا لبشركائهم كافرین) -
بھلا کفار معبودوں کا انکار کیونکر نہ کریں گے کیونکہ وہ یہ دیکھ رہے ہوں گے کہ یہ معبود نہ صرف یہ کہ ان کی کسی مصیبت میں کام نہیں آسکتے بلکہ بقول قرآن وہ معبود اپنے
پرستاروں ہی کی تکذیب کرنے لگیں تھے اور کہیں گے :
اے پروردگار ! "ماكانوا ايا نا يعبدون"
یہ لوگ ہماری نہیں، بلکہ اپنی ہوائے نفس کی پرستش کرتے تھے۔ (قصص - 63)
اس سے بھی سوا یہ کہ وہ معبود اپنے پرستاروں کی دشمنی پر کمر باندھ لیں گی. جیسا کہ سورة احقاف آیت 6 میں ہے:
واذاحشرات الناس كانوا لهم اعداء وكانوا بعبادتهم کافرین
جس وقت مشرکین محشور ہوں گے تو ان کے جھوٹے معبود ان کی دشمن ہو جائیں
گے اور ان کی عبادت کا انکار کر دیں گے۔
آیت 14 میں بروز قيا مت لوگوں کے مختلف گروہ ہوجانے کی طرف اشارہ ہے فرمایا گیا ہے۔ بروز قیامت لوگ ای دوسرے جدا ہوجائیں گے:(وَيَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَةُ يَوْمَئِذٍ يَّتَفَرَّقُوْنَ)۔
جولوگ ایمان لائے اور انھوں نے اعمال صالح انجام دیے .وہ بہشت کے باغ میں نعمت الٰہی سے بہرہ مند اور مسرور و شاد کام ہوں گے ، اس طرح سے کہ ان چہروں مسرت کے آثارظاہر ہوں گے :
( فأما الذين امنوا وعملواالصالحات فھم فی روضۃ یحبرون) -
"یحبرون " کا مادہ "حبر" ہے (بروزن "قشر") اس کا معنی ہے "اثرخوب" یہ علمہ اس وقت بھی بولاجاتا جب خوشی اور مسرت کا اثر چہرے سے ظاہر ہواور چونکہ اہل بہشت خوشی
اور سرور سے ایسا معمور ہوگاکہ اس کا اثر ان کے تمام وجود ظاہر ہوگا اس لیے اس مفہوم کے اظہار کے لیے یہ کلمہ استعمال ہوا ہے۔
"روضة" اس مقام کوکہتے جہاں پانی اور درخت بکثرت ہوں اس لیے سرسبز و شاداب باغات کو بھی روضہ کہتے ہیں۔
اگر اس آیت میں یہ کلمہ بصورت اسم نکرہ استعمال ہوتاہت تو اس مقام کی عظمت اور بزرگی کو واضح کرنے کے لیے ہے یعنی مومنین بہشت سے بہترین خو بصورت اور سرورانگیز
باغات اور نعمات الٰہي لطف اندوز ہوں گے۔
لیکن جو کافر ہوگئے ہیں اور انھوں نے ہماری آیات اورلقاۓآخرت کی تکذیب کی ہے وہ ضرور عذاب الٰہى میں حاضر کیے جائیں گے: (وَاَمَّا الَّـذِيْنَ كَفَرُوْا وَكَذَّبُوْا بِاٰيَاتِنَا وَلِقَآءِ الْاٰخِرَةِ فَاُولٰٓئِكَ
فِى الْعَذَابِ مُحْضَرُوْنَ ) -
يہ امرجاذب توجہ بے کہ اہل بہشت سے کلمہ " يحبرون" استعمال ہوا ہے جو برلحاظ سے ان کی مسرت کی علامت هے لیکن دوزخیوں کے لیے کلمہ "محضرون" استعمال ہوا ہے ،
جو ان کی انتہائی کراہت اور ناراحتی کی دلیل ہے کیونکہ حاضرکیے جانے کا اطلاق اس موقع پر ہوتا ہے کہ کسی آدمی کو اس کی دلی خواہش کے خلاف پکڑکرلایاجاۓ۔
دوسرا نکتہ یہ ہے اہل ہشت سے معاملہ میں "ایمان" اور "عمل صالح" دونوں کی قید لگائی گئی ہے۔ جب کہ دوزخیوں کے متعلق صرس عدم ایمان (انکار مبداء و معاد) کا ذکر کیا گیا ہے۔
اس میں رمز یہ ہے کہ داخل بہشت ہونے کے لیے صرف ایمان کافی نہیں . اس سے ساتھ عمل صالح بھی لازم ہے ۔ مگر واصل جہنم ہونے کے لیے عدم ایمان ہی کافی ہے ۔خواہ اس
آدمی نہ کوئی گناہ نہ کیا ہو۔ کیونکہ "کفر" بجاۓ خود گناہ عظیم ہے۔