بدکاروں کا انجام
أَوَلَمْ يَتَفَكَّرُوا فِي أَنْفُسِهِمْ ۗ مَا خَلَقَ اللَّهُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا إِلَّا بِالْحَقِّ وَأَجَلٍ مُسَمًّى ۗ وَإِنَّ كَثِيرًا مِنَ النَّاسِ بِلِقَاءِ رَبِّهِمْ لَكَافِرُونَ ۸أَوَلَمْ يَسِيرُوا فِي الْأَرْضِ فَيَنْظُرُوا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ ۚ كَانُوا أَشَدَّ مِنْهُمْ قُوَّةً وَأَثَارُوا الْأَرْضَ وَعَمَرُوهَا أَكْثَرَ مِمَّا عَمَرُوهَا وَجَاءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَيِّنَاتِ ۖ فَمَا كَانَ اللَّهُ لِيَظْلِمَهُمْ وَلَٰكِنْ كَانُوا أَنْفُسَهُمْ يَظْلِمُونَ ۹ثُمَّ كَانَ عَاقِبَةَ الَّذِينَ أَسَاءُوا السُّوأَىٰ أَنْ كَذَّبُوا بِآيَاتِ اللَّهِ وَكَانُوا بِهَا يَسْتَهْزِئُونَ ۱۰
کیا ان لوگوں نے اپنے اندر فکر نہیں کی ہے کہ خدا نے آسمان و زمین اور اس کے درمیان کی تمام مخلوقات کو برحق ہی پیدا کیا ہے اور ایک معین مدّت کے ساتھ لیکن لوگوں کی اکثریت اپنے پروردگار کی ملاقات سے انکار کرنے والی ہے. اور کیا ان لوگوں نے زمین میں سیر نہیں کی ہے کہ دیکھتے کہ ان سے پہلے والوں کا کیا انجام ہوا ہے جو طاقت میں ان سے زیادہ مضبوط تھے اور انہوں نے زراعت کرکے زمین کو ان سے زیادہ آباد کرلیا تھا اور ان کے پاس ہمارے نمائندے زیادہ کِھلی ہوئی نشانیاں بھی لے کر آئے تھے یقینا خدا اپنے بندوں پر ظلم نہیں کرتا ہے بلکہ یہ لوگ خود ہی اپنے اوپر ظلم کرتے ہیں. اس کے بعد برائی کرنے والوں کا انجام برا ہوا کہ انہوں نے خدا کی نشانیوں کو جھٹلادیا اور برابر ان کا مذاق اڑاتے رہے.
تفسیر
بدکاروں کا انجام :
گزشتہ زیر بحث آیات میں سے آخری آیت میں ان ظاہر بیں لوگوں کا ذکر تھا جن کے افق فکر کی وسعت صرف اس محدود عالم اور جہان مادی تک ہے ۔ وہ لوگ قیامت اور وجود عالم
ماورائے طبیعت سے غافل ہیں۔
مگر ــــــــ آیات زیر بحث اور آیات آئندہ میں مبداء و معاد کے متعلق مختلف مطالب کا ذکر ہے ۔
اول ــــــــ بطور استفہام اعتراض آمیز قرآن کہتا ہے: کیا یہ لوگ اپنے ذہن میں یہ نہیں سوچتے کہ خدا نے آسمانوں و ان کو زمین کو اور ان کے درمیان اور جو چکھ ہے اسے بھی حق
کے بغیر پیدا نہیں کیا اور ان کے لیے ایک معین مدت مقرر کی ہے :(اولم يتفكروافی انفسهم ما خلق الله السماوات والأرض وما بينهما الا بالحق وأجل مسمًی).
یعنی اگروہ لوگ صحیح طور پر سوچیں اور اپنے وجدان اور عقل کے فیصلے کی طرف رجوع کریں تو وه إن دو امور سے خوب آگاه ہوجائیں گے جن میں سے اوال یہ ہے کہ یہ
کائنات اساس حق پر پیدا کی گئی ہے ۔ اور اس کا وجود ایسے نظام کے تحت قائم ہے جو اس کے خالق کی عقل ، قدرت کامل اور اس کے وجود کی دلیل کامل ہے۔
دوسرے ــــــــ یہ کائنات زوال اور فنا کی طرف رواں .
چونکہ ـــــــ یہ ممکن نہیں ہے کہ اس خالق حکیم نے اسے بے مقصد و ہے غایت پیدا کیا ہو ۔ اس کا وجود . اس امرکی دلیل ہے کہ اس جہاں کے بعد ایک اور دنیا اور دارالبقا ہے ۔اگر
ایسا نہ ہوتا تو اس جہان کی آفرنیش بے معنی تھی اور قطعی لایعنی بات تھی کہ انسان کی چند روزہ زندگی کے لیے اس طویل و عریض کائنات کو پیدا کردیا جائے۔ اسی سے وجود آخرت کا ثبوت ملتا
ہے ۔
اگر اس حقیقت پر غور کیا جائے کہ یہ کارخانہ کائنات ایک نظم و ترتیب کے تحت چل رہا ہے۔ کائنات کا کوئی جز بھی آزادی اورمستقل نہیں بلکہ ہر جز اپنے دجود و بقا کے لیے ایک
دوسرے کا محتاج اور باہم دگر منحصر ہے تو ہمیں تو ہمارے ذہن کی رسائی کسی مبداء یعنی خالق حکیم کی طرف ہوتی ہے اور " اجل مسمٰی " معاد کی دلیل ہے۔ یعنی اس کائنات کا وجود ایک معینہ وقت
تک ہے اور (غورکیجیئے گا)۔
لہذا آیت کے اخیر میں ان الفظ کا اضافہ کیا گیا ہے۔ بہت سے لوگ اپنے پروردگار کی لقا کے منکر ہیں : (وان كثيرًا من الناس بلقائی ربھم لكافرون).
یا اکثرآدمی "معاد" ہی کے منکر ہیں ۔ جیسا کہ قرآن شریف میں مشرکین کا قول بار بار نقل ہواہے کہ وہ کہتے تھے:
کیا یہ ممکن ہے کہ جب ہم خاک ہوجائیں گے ۔ تو تم پھر زندہ ہوجائیں ؟ تو عجیب بات ہے اور یہ غیرممکن ہے۔ یہ اس بات کے کہنے والے کے جنون کی دلیل ہے، (رعد- 5 ، مومنون
- 25 ، نمل 67 ، ق - 3)
یا - یہ کہ وہ زبان سے تو انکار نہیں کرتے لیکن ان کا عمل ایسا پر عصیان اور شرم ناک ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ معاد پر قطعی یقین نہیں رکھتے ۔ کیونکہ اگر وہ معاد کے
معتقد ہوتے تو ان کا عمل ایسا فاسد نہ ہوتا اور وہ خود ایسے مفسد نہ ہوتے ۔
آیت میں جو" في انفسهم " کے الفاظ ہیں ان کا یہ مفهوم نہیں ہے کہ وہ لوگ اپنے " اسرار وجود" کا مطالعه کریں ، جیساکہ فخر رازی نے اپنی تفسیر میں لکھاہے ، بلکہ ان الفاظ کا
مفہوم یہ ہے کہ وہ عقل وجدان کو کام میں لاکر زمین اور آسمان کی خلقت بر غورکریں.
ممکن ہے کہ کلمہ "بالحق" کے دو معنی ہوں ۔ ایک تو یہ کہ کائنات کی آفرنیش ، اس کا نظم و ترتیب اور قانون فطرت حق کے ساتھ ہے۔
دوسرے یہ کہ تخلیق کا مقصد حق ہے۔ ان دونوں تفسیروں میں باہم کوئی تضاد نہیں ہے۔ ؎1
"لقاء تبھم" سے مراد (جیسا کہ تم نے بارہا کہاہے) یہ ہے کہ بروز قیامت حجابات اٹھ جائیں گے اورانسان اپنے "شہود باطنی" سے خدا کو اس کی عظمت کے ساتھ پہچانے گا۔
"اجل مسمٰی " کے الفاظ سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ اس دنیا کی زندگی کو دوام اور بقا نہیں ہے۔ گویا یہ تمام دنیا بہت لوگوں کو ایک تنبہیہ ہے۔
آیت مابعد میں یہ اضافہ کیا گیا ہے۔ کیا انہوں نے زمین میں سیر نہیں کی کہ وہ دیکھتے کہ ان لوگوں کا کیا انجام ہوا جو ان سے پہلے تھے :(اولم یسيروا في الارض فينظروا كيف كان
عاقبة الذين من قبلھم) -
۔----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
اگر پہلے معنی مراد لیے جائیں تو" بالحق" میں جوہاءہے وہ مصاحبت کےلیے ہوگی ۔ دوسری صورت میں "لام" کے معنی میں ہوگی۔
۔-----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
وہ لوگ طاقت میں ان سے زیادہ تھے۔ انھوں نے زمین کو دگرگوں کیا اسے ان سے زیادہ آباد کیا تھا: (كانوا اشد منھم قوة واثاروا الارض وعمروها اکثر مماوعمرها)۔
ان کی طرف مبعوث پیغمبر ان کے پاس روشن دلیلوں کے ساتھ آئے: (وجائتھم رسلھم بالبينات)۔
لیکن انھوں نے احکام الہی سے بغاوت کی اور حق کی اطاعت نہ کی ۔ نتیجہ یہ ہوا کہ وہ خدا کی طرف سے دردناک عذاب میں مبتلا ہوۓ۔
خدانے تو ان پر ہرگز ظلم نہیں کیا۔ لیکن انھوں نے خود ہی اپنے اوپر ظلم کیا : ( فماكان الله ليظلمھم ولكن كانوا انفسهويظلمون)۔
درحقیقت آیت 9 میں ان اقوام کی طرف اشارہ ہے جو پیغمبر کے ہم عصر مشرکین کے مقابلے میں مال ، جسمانی طاقت اور قدرت کے لحاظ سے کہیں بہتر اور برتر تھے۔ نیز ان کے
دردناک انجام کو ان کفار کے لیے درس عبرت قرار دیا گیا ہے ۔
آیت میں " اثاروا الارض "کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں ، ممکن ہے کہ اس سے زراعت و شجر کاری کے لیے زمین کا جوتنا یا کھودنا مراد ہو یا نہریں اور کاریز کا کھودنا، یا کسی بڑی
عمارت کی تعمیر کے لیے بنیاد کھودنا مراد ہو یہ تمام چیزیں مراد ہوں۔ کیونکہ"اثاروا الارض" کا مفہوم بہت وسیع ہے ۔ یہاں تک کہ تعمیر و آبادی کے جملہ مراحل اس میں شامل ہیں ۔ ؎1
چونکہ اس زمانے میں وہی لوگ سب سے زیادہ صاحب قوت و اقتدا سمجھے جاتے تھے جو کاشت کاری میں ترقی یافتہ تھے یاجنہوں نے فن تعمیر میں خوب ترقی کی تھی ۔ لہذا ظاہر
ہے کہ ان لوگوں کو مشرکین مکہ کے مقابلے میں (جو کہ ان فنون میں نہایت پس مانده تھے) يقينًا برتری حاصل تھی۔
لیکن جب انھوں نے ان فنون میں برتری کے باوجود آیات الٰہی اور اس کے پیغمبروں کا انکار کیا اور ان کی تکذیب کی تو ان میں عذاب الٰہی سے بچ کر نکل جانے کی طاقت نہ تھی ۔
لہذا اے مشرکین مکہ! تم سوچو کہ تم کس طرح اس کے عذاب سے بچ سکتے ہو؟
وہ یہ دردناک عذاب اور اپنے اعمال کی پاداش کو خود ہی لائے تھے۔ انھوں نے خود ہی اپنے اوپر ظلم کیا تھا۔ خدا تو کبھی کسی پر ظلم وستم روا نہیں رکھتا۔
زیر بحث آیات میں سے آخری آیت میں اقوام کو گزشتہ کے آخری مرحلہ کفر کا بیان ہے کہ: ان کی بد اعمالیاں اور سرکشی یہاں تک پہنچ گئی تھی کہ انھوں نے آیات الٰہی کی تکذیب
کی اور اس سے بھی بدتر یہ کہ ان کا مذاق اڑانے لگے : (ثم كان عاقبة الذين اساءوا السوای آن كذبوا بايات الله وكانوا بها يستھزون) -
البتہ گناه اور آلودگی نفس جذام کی بیماری کی طرح ہے ، جو روح ایمان کو کھا کر فنا کر دیتی ہے یہاں تک کہ انسان آیات الٰہی
۔----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
؎1 "باثار" کا مادہ "ثور" (بروزن "غور") ہے ، جس کے معنی پراگندہ کرنے کے ہیں ۔ عرب بیل کو ثور کہتے تھے. وجہ تسمیہ یہ تھی کہ وه اسے ہل بھی جوتتے تھے ۔
۔---------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
کی تکذیب کرنے لگتا ہے۔ اس منزل سے بھی آگے بڑھ کر آیات الٰہی اور پیغمبروں کا مذاق اڑانے لگتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ کفر کے اس مرحلے پر پہنچ جاتا ہے کہ اس پر کسی وعظ ،نصیحت یا تخویف کا
اثر ہی نہیں ہوتا۔ اس حالت میں اس کے لیے صرف عذاب الہی کا تازیانہ ہی باقی رہ جاتا ہے۔
گناه گاروں اور اوامر الہی کے باغیوں کے صفحات زندگی کو اگر بغور دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ لوگ ابتدا میں ایسے سرکش اور طغیان کوش نہ تھے ۔ ان کے دلوں میں نور
ایمان کی کوئی کرن ضرور چمکتی تھی ، لیکن پے در پے گناہوں کا ارتکاب انھیں روز بروز ایمان اور تقوٰی سے دور کرتا گیا اور انجام یہ ہوا کہ وہ کفر کے آخری مرحلے پر پہنچ گئے۔
کربلا کی شیر دل خاتوان جناب زینب سلام اللہ علیہا نے دمشق میں یزید کے سامنے جو خطبہ دیا ہے ، اس میں آپؑ نے اس آیت انہی معنی میں استعمال کیا ہے جو ہم نے اوپر بیان کیے
ہیں۔
أن معظمہ نے دیکھا کہ یزید کفر آمیز کلمات کہہ رہا ہے اور وہ مشہور اشعار پڑھ کر جن میں سے ایک کی ابتدا یوں ہے،
لعبت هاشم بالملك.. .. .. اسلام کی ہرشے کا مذاق اڑا رہا ہے اور اس کی ان باتوں سے ثابت ہوتا تھا کہ اس کا اسلام کے بنیادی اصولوں میں سے کسی پر بھی ایمان نہیں ہے ، تو ، اُن
مخدومہ نے حمد الٰہی اور پیغمبراکرم پر درود بعد یوں فرمایا :
صدق الله كذالك يقول ثم كان عاقبة الذين
اساءوا السوای آن كذبوا بآيات الله وكانوا بهایستهزءون .. .. ..
"اگر آج تو ان کفر آمیز اشعار کے ذریعے اسلام اور ایمان کا انکار کر رہا ہے اور اپنے مشرک بزرگوں سے جو جنگ بدر
میں مسلمانوں کے ہاتھ سے قتل ہوئے تھے یہ کہہ رہاہے کہ:
"کاش کہ تم زندہ ہوتے اور یہ دیکھتے کہ میں نے خاندان بنی ہاشم سے تمہارا انتقام لے لیا ہے"۔ ؎1
توبہ کچھ تعجب کا مقام نہیں ہے کیونکہ یہ وہی بات ہے جو خدا نے فرمائی ہے کہ " مجرمین آخر کار ہماری آیات کی تکذیب کرتے ہیں"۔
اُن معظمہ نے اس سلسلے میں بہت سے مطالب ارشاد فرمائے۔
(مزید توضیح کے لیے بحارالانوار، جلد 5 صفحه 157 دیکھیئے)َ ؎2
۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
؎1 نفی اسلام اور انقار نبوت کے سلسلے میں تاریخوں میں یزید کے متعدد اشعار نقل کیے گئے ہیں جن میں ایک کا ترجمہ یہ ہے :
نہ کوئی نبی آیا اور اور نہ وحی اتری ۔ یہ تو بنی ہاشم کی ملک و مال پر قبضہ کرنے کے لیے محض ایک چال تھي .
گویا کے اعلان نبوت محض ایک سیاسی کھیل تھا۔
؎2 آیت نمبر10 کی تفسیر میں ہم نے جو کچھ کہاہے اس سے مطابق "السواي" "اساوا " کا مفعول ہے اور " أن كذلوا بایات الله" اس "کان" کے بجائے اور کی خبر عاقبة هے علامہ طباطبانی
مرحوم نے اس مطلب کا بطور احتمال ذکر کیا ہے۔ اگرچہ خود انھوں نے اس کی تصدیق نہیں کی ۔ اور ابوالبقاء نے کتاب " املاءما من به الرحمن" کے صفحہ 185 جلد 2 پراس مطلب کا احتمالات میں
سے ایک کو قابل قبول ہونے کے طور پر ذکر کیا ہے مگر مفسرین کی اکثریت مثلًا طبرسی ، صاحب المیزان ، فخررازی ، آلوسی ، ابوالفتوح رازی ، اورقربطی نے فی ظلال و تبیان میں اس آیت کی تفسیر
میں ایک دوسرے احتمال کو قوی سمجھا ہے اور وہ یہ ہے کہ " سویء " کان کا اسم ہو گا اور "ان کذبوا" تعلیل کے لیے ہے۔ اس تفسیر کے مطابق آیت سے معنی یہ ہوں گے:
"آخرکار ان لوگوں کا انجام جو اعمال بد انجام دیتے رہے ، بد ہی ہوا ۔ کیونکہ انھوں نے ہماری آیات کی تکذیب کی"۔
یہ جملہ "للذين احسنوالحسنٰی" کے مشابہ ہے جس کا معنی ہے۔ جنھوں نے نیکی کی ان کے لیے نیکی ہے. مگر انصاف یہ ہے کہ آیت کے ظاہری معنی سے جو کچھ سمجھ میں آتا ہے
یہ تفسیر اس کے برخلاف ہے اوران مفسرین نے اگر اس تفسیر کو اختیار کیا ہے تو ہمیں یہ امراس بات پر مجبور نہیں کرسکتاکہ آیت کے ظاہری معنی سے جو مفہوم ہم آہنگ ہے اسے ترک کردیں۔
بالخصوص وہ اپنا مطلب واضع کرنے کے لیے اس امر مجبور ہیں کہ"جملہ" ان کذبوا" میں حرف "لام" کو مقدر سمجھیں اوریہ تقدیر ظاہرکلام کے خلاف ہے۔ (غور کیجیئے گا)۔