تفسیر
وَإِذَا وَقَعَ الْقَوْلُ عَلَيْهِمْ أَخْرَجْنَا لَهُمْ دَابَّةً مِنَ الْأَرْضِ تُكَلِّمُهُمْ أَنَّ النَّاسَ كَانُوا بِآيَاتِنَا لَا يُوقِنُونَ ۸۲وَيَوْمَ نَحْشُرُ مِنْ كُلِّ أُمَّةٍ فَوْجًا مِمَّنْ يُكَذِّبُ بِآيَاتِنَا فَهُمْ يُوزَعُونَ ۸۳حَتَّىٰ إِذَا جَاءُوا قَالَ أَكَذَّبْتُمْ بِآيَاتِي وَلَمْ تُحِيطُوا بِهَا عِلْمًا أَمَّاذَا كُنْتُمْ تَعْمَلُونَ ۸۴وَوَقَعَ الْقَوْلُ عَلَيْهِمْ بِمَا ظَلَمُوا فَهُمْ لَا يَنْطِقُونَ ۸۵
اور جب ان پر وعدہ پورا ہوگا تو ہم زمین سے ایک چلنے والا نکال کر کھڑا کردیں گے جو ان سے یہ بات کرے کہ کون لوگ ہماری آیات پر یقین نہیں رکھتے تھے. اور اس دن ہم ہر امت میں سے وہ فوج اکٹھا کریں گے جو ہماری آیتوں کی تکذیب کیا کرتے تھے اور پھر الگ الگ تقسیم کردیئے جائیں گے. یہاں تک کہ جب سب آجائیں گے تو ارشاد احدیت ہوگا کہ کیا تم لوگوں نے میری آیتوں کی تکذیب کی تھی حالانکہ تمہیں ان کا مکمل علم نہیں تھا یا تم کیا کررہے تھے. اور ان کے ظلم کی بنا پر ان پر بات ثابت ہوجائے گی اور وہ بولنے کے قابل بھی نہ ہوں گے.
تفسیر
گذشته آیات میں عذاب اور قیامت کے وقوع پزیر ہونے کے بارے میں کفار کی جلد بازی کا ذکر تھا اور وہ بڑی بےچینی سے اس کا انتظار کیا کرتے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم سے کہا کرتے تھے کہ جس عذاب کا آپ وعدہ کیا کرتے ہیں وہ ہم پر کیوں نازل نہیں ہوتا ؟ قیامت کیوں نہیں برپا ہوتی ؟ زیرنظرآیات میں ایسے چند واقعات کی طرف اشارہ ہے جوقیامت
کے قریب واقع ہوں گے نیز ہٹ دھرم منکرین کا درد ناک انجام بیان کیا گیا ہے۔
بنایا ہے (الم یروا انا جعلنا الليل لیسكتوا فيه)۔
اور دن کو روشنی عطا کرنے والا ( و اللنهار مبصرًا۔
ان امور میں خدا کی قدرت و نعمت کی روشن نشانیاں اور دلائل میں ان لوگوں کے لیے جو ایمان رکھتے ہیں (ان في و ذلك لآيات لقوم یؤ منون)
پہلی مرتبہ نہیں ہے کہ قرآن مجید رات اور دن کے حیات بخش آثار اور نور ظلمت کے نظام کے بارے میں گفتگو کر رہا ہو اورنہ ہی اس سلسلے کی آخری گفتگوہے ۔ اس کی وجہ یہ
ہے قران مجید تعلیم وتربیت اور انسان سازی کی کتاب ہے اور ہرکوئی جانتا ہے، تعلیم وتربیت کے اصوال کبھی اس امر کے متقاضی ہوتے ہیں کہ انکی با موضوع کو ان حوالوں کے ساتھ مختلف مواقع
پر پیش کیا جائے اور اسے بار بار دہرایا جائے تاکہ اچھی طرح ذہن نشین ہوجائے۔
تاریکی شب کی وجہ سے حاصل ہونے والی سکون کی ناقابل تردید علمی حقیقت ہے۔ رات کے تاریک پردے دن کی سرگرمیوں کو جبری طور پر روکنے کا ہی ذریعہ نہیں بلکہ انسان
اور دوسرے جانداروں کے اعصاب پر بھی ان کا اندرا اثر پڑتا ہے جس کی وجہ سے وہ آرام کرتے اور گہری نیند کے مزے لیتے ہیں (اس بات کو قرآن مجید نے "سکوت" سے تعبیر کیا ہے ۔
اسی طرح دن کی روشنی کا حرکت اور دوڑ دھوپ سے تعلق بھی سائنسی نقطہ نظر سے ناقابل تردید ہے ۔ آفتاب کا نور صرف مناظر زندگی کی کومنور اور آنکھ کوفعال نہیں کرتا .
بلکہ وجود انسانی کے تمام ذرات کو بھی بیدار اور فعال بنادیا ہے۔
آیت" توحید ربوبی" کے ایک گوشے کو بیان کر رہی ہے اور چونکہ معبود حقیقی ، عالم ہستی کا رب اور منتظم و مدبر ہی ہے لہذا قران اس سے دوسرے تمام بتوں اور بناوٹی معبودوں پر
خط تنسیخ کھینچ کر مشرکین کو اپنے عقائد پر نظرثانی کی دعوت دے رہا ہے۔
اس نکتے کی طرف توجہ بھی ضروری ہے کہ انسان کو چاہیئے کہ وہ خود کو اس نظام سے ہم آہنگ کرلے، رات کو آرام کرے اور دن کو اپنی دوڑ دھوپ میں لگ جائے۔ تاکہ ہمیشہ
صحیح و سالم رہے۔ ان ہوس کے بندوں کی مانند نہیں راتوں کو تو جاگتے ہیں لیکن دن کو دوپہرتک سوئے رہتے ہیں ۔
یہ بات بھی دلچسپ ہے کہ "مبصر" کا لفظ تو دراصل "بينا " (یعنی دیکھنے والا) اس کے معنی میں ہے یہ دن کی صفت کے طور پر بیان ہورہا ہے جبکہ دن کے وقت انسانوں کی صفت
ہونا چاہیے یہ ایک طرح کی عمدہ وتاکید ہے جس طرح بعض اوقات "سوجانا" رات کی صفت کے طور پرآتا ہے اور کہتے ہیں "لیل نائم" (سو جانے والی رات)۔
روزوشب کے فوائد آیت میں دومختلف تعبیریں بیان کی گئی ہیں ایک جگہ "لتسكنوا فيه" فرمایا گیا ہے اور دوسری جگہ " مبصرا" اورممکن ہے ہی اس طرف اشارہ ہو کہ رات کا اصل
مقصد تو سکون اور آرام ہے لیکن دن کی روشنی کا اصل مقصد صرف دیکھتے رہنا نہیں بلکہ دیکھنا تو زندگی کی نعمتوں تک پہنچنے اور ان سے فائدہ اٹھانے کا انکی زریعہ ہے۔ (غور کیجیے گا
بہرحال یہ آیت اگرچہ براہ راست توحید اور کائنات کے نظام کو چلانے کی بات کر رہی ہے لیکن معاد کے مسئلے کی طرف بھی ایک لطیف سا اشارہ کر کی ہے میری نیند موت کی مانند
ہے اور بیداری مرنے کے بعد جی اٹھنے کی مانند۔
بعد والی آیت معاد اور اس کے مقدمات کو بیان کرتے ہوئے کہتی ہے : اس دن کا سوچئے کہ جب صورپھونکا جا ئے گا اور کوئی خواہ وہ آسمانوں میں ہے یا زمین میں وحشت زده
ہوجا ئے کا سوائے ان لوگوں کے ہیں خدا بچانا چاہے گا اور سب و خضوع خشوع کے ساتھ اس کی بارگاہ میں حاضر ہوں گے ( و یوم ینقح في الصور تنزع من في السماوات ومن في الارض الا من شاء
الله كل اتوه داخرین) ۔
قران مجید کی آیات کے مجموعی مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ دو یا تین مرتبہ صور پھونکا جائے گا ایکی توا س وقت دنیا ختم
ہونے کے قریب اور قیامت کے دہانے پر پہنچ جائے گی اس وقت تمام لوگ گھبرا جائیں گئے ۔ دوسری بار تمام دنیا اس کے سنتے ہی مر جائے کی ممکن ہے کہ یہ دونوں یکے بعد دیگرے ہوں۔
تیسری بار دوبارہ جی اٹھنے اور قیامت کے قائم ہونے کے وقت کیوں کا صور پھونکے جاتے ہی تمام مردے دوبارہ زندہ ہو جائیں گے اور نئی زندگی کا آغازکریں گے ۔
اس بیان میں پہلی اور دوسری مرتب صور پھونکنے کی طرف اشارہ ہے یا تیسری مرتبہ کی طرف ؟ اس بارے میں مفسرین کے درمیان اختلاف ہے خود اسی آیت میں اور بعد والی
آیات میں ایسے ترین موجود ہیں جو دونوں نظریات کی تائید کرتے یہ بعض منرانی نے اس سے مذکورہ تمام فورسز کی مراد لیا ہے۔
اگر امت کے ظاہری معنی کو دیکھا جائے تو اس سے معلوم ہوتا ہے کہ پہلی مرتبہ صور کے جانے کی طرف اشارہ ہے جبکہ دنیا کے انتقام کے نزد کیا ہوگا کیونک" فزع" کا معنی ایسا
خوف اور وحشت ہے جو انسان کے دل کو ہلا کر رکھ دے اور اسے پہلی مرتبہ کی پھونک کے آثار سے شمار کیا گیا ہے کیونکہ قیامت کی پھونک سے جوخوف وحشت طاری ہوگی وہ اعمال کی وجہ
سے ہوگی پھونک کے اثر سے۔
با الفاظ دیگر "ففزع" میں "فاء تفریع" ظاہرًا اس لیے ہے کہ "فزع" ، یعنی خوف و وحشت صور پھونکے جانے کی وجہ سے ہوئی اور "فزع" پہلی پھونک کے ساتھ مخصوں ہے کیونکہ
آخری پھونک توصرف دہلا دینے والی ہی نہیں ہوگی بلکہ زندگی اور تحرک کا سبب بھی ہوگی اگر وحشت ہوگی تو انسان کے اپنے اعمال کی وجہ سے ہوگی ۔
اب ہم "نفخ صور" کے مفہوم کی طرف آتے ہیں، "نفخ" کے معنی پھونکنے کے میں اور"صور " کا معنی "قرنا" ہے ۔ یہاں پر اس تعبیر سے کیا مراد ہے ؟ تو اس بارے میں کرنے کی
بہت سی باتیں ہی نہیں ہے انشا الیہ نالی سوره زمر کی آیت 68 کے ضمن میں بیان کریں گے۔
اسی آیت میں ایک جملہ ہے "الا من شاء الله " کہ جس میں اس عمومی خوف و وحشت سے کچھ افراد کے لیے استثناء کا تذکرہ ہے بونی جو نیک افراد کی طرف اشارہ ہے خواہ وہ
فرشتے ہوں یا وہ مومن جو آسمانوں اور زمین میں رہتے ہیں یہ سب افراد ایمان کے زیر سایہ ایک خاص اطمینان و سکون سے بہرہ ور ہوں گے نہ تو انھیں پہلی پھونک سے کوئی گھبراہٹ ہوگی اور نہ
ہی آخری پھونک سے کوئی وحشت ۔ بعد والی آیت میں بھی ہے کہ جو لوگ نیکی بھرے دامن سے بارگاہ رب العزت میں حاضر ہوں گے اس دن کے ہر طرح کے خوف و وحشت سے امان میں ہوں گے:
من جاء بالحسنة فله خير منها وهم من فزع یومئذ امنون
"کل اتوہ داخرين" یعنی سب کے سب اس کی بارگاہ میں خشوع وخضوع کے ساتھ سر جھکائے پیش ہوں گے یہ جملہ بظاہر عام ہے اوراس میں کسی قسم کا استثنا بھی نہیں ہے حتی
کہ انبیاء اور اولیا بھی اس کی بارگاہ اقدس میں خاضع اور خاشع ہوں گئے اور اگر ہم کو سورہ صافات کی آیت 127 - 128 میں پڑھتے ہیں کہ :
فانھم لمحضرون الا عباد اللہ المخلصین
سب لوگ اس کے حضور پیش ہوں گے سوائے خدا کے خاص بندوں کے ۔
تو اس کا تفسیر آیت کی عمومیت سے کوئی تضاد نہیں ہے کیا کیونکہ زیر تفسیر آیت بروز محشر اللہ تعالی کی بارگاہ میں پیش ہونے کی طرف اشارہ ہے اور دوسری آیت حساب و کتاب
اور اعمال کے مواخذے کی جانب اشارہ ہے۔
بعد والی آیت کائنات میں عظمت الٰہی کی آیات میں سے ایک آیت کی طرف اشارہ کرکے کہتی ہے تم پہاڑوں کو دیکھو گے تو انھیں ٹھہرا ہوا سمجھوگے جبکہ وہ بادل کی مانند حرکت
کر رہے ہیں۔ (وتری الجبال تحسبها جامدة وهي تمر مر السحاب).
یہ اس اللہ کی صنائی اورتخلیق ہے جس نے ہر چیز کو محکم اورمقین بنایا ہے (صنع الله الذي انقن کل شیء)۔ ؎1
جس تخلیقی نظام اس قدر منظم اور حساب شدہ ہے وہ یقینا تمھارے ان کاموں سے بھی باخبر ہے جو تم انجام دیتے ہو(انه خبير بما تقعلون )۔
بہت سے مفسرین کا نظریہ ہے کہ مندرجہ بالا آیت قیامت کے قریب کے حالات کی طرف اشارہ ہے کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ اس دنیا کے اخنتام اور دوسرے جہان کے آغاز کے موقع
پر زلزلے ، دھماکے اور دوسری عظیم تبدیلیاں رونما ہوں گی پہڑ ایک دوسرے سے کٹ کٹ کر جدا ہوجا ئیں گے۔ یہ نکتہ قرآن مجید کی بہت سی آخری سورتوں میں بھی صریحًا بیان ہوا ہے۔
اس آیت کو قیامت کے سلسلے کی دو دوسری آیات کے درمیان آنا اسی تفسیر کا شاہد ہے۔
البتہ بہت سے دوسرے ایسے قرائن میں ملتے ہیں جو ایک اور تفسیر کی تائید کرتے ہیں اور وہ یہ کہ میں بیت اسی دنیا میں خداوند عالم کی توحید اور اس کی عظمت کی نشانیوں میں
سے ایک نشانی ہے اور وہ کره زمین کی حرکت کی طرف اشارہ جسے ہم محسوس نہیں کرتے ۔
اس کی وضاحت یہ ہے کہ:
1- اس آیت مذکورہ کے الفاظ ہیں کہ تم سمجھتے ہو کہ پہاڑٹھہرے ہوئے ہیں حالانک وہ بادل کی طرح حرکت کر رہے ہیں۔ واضح ہے کہ اس قسم کی تعبیر آغازقیامت کے تغیرات
سے ہم آہنگ نہیں ہے کیونکہ یہ حوادث اس قدرآشکار ہوں گے کہ خود
۔---------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
؎1 ":صنع الله" "انذر" یا "صنع" جیسے فعل مقدر کی وجہ سے منصوب ہے۔
۔-------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
قران کے الفاظ میں ان کو دیکھ کر مائیں اپنے شیرخوار بچوں کو بھول جائیں گی اور حاملہ عورتوں کے حمل گر جائیں گے ۔ اور لوگ سخت وحشت کی وجہ سے حواس کھوبیٹھیں کے حالانکہ وہ مست
نہیں ہوں گے ۔ (سورہ حج / 2)
2- بادلوں کی حرکت کے تشبیہ کا مطلب یہ ہےکہ وہ ایک حالت میں بالکل نرمی کے ساتھ اور بغیرکسی شوروغل کے ہے نہ کسی دھماکے کے ساتھ ۔ جبکہ رعد کی ایک معمولی
کڑک سے بھی کان گویا پھٹے جاتے ہیں۔
3- مذکورہ بالا تعبیر سے ظاہر ہوتا ہے کہ پہاڑ ظاہرًا ٹھہرے ہوئے ہیں حالانکہ درحقیقت وہ تیزی سے حرکت کر ربے ہیں (یعنی ایک چیز کی ایک ہی آن میں دومختلف حالتوں کو
بیان کیا جا ریا ہے)
4- "اتقان" کا معنی ہے منظم اور محکم بنانا ۔ یہ تعبیربھی اس زمانے سے ہم آہنگ معلوم ہوتی ہے جب یہ نظام برقراربحال ہو نہ کہ اس دورانیے سے جبکہ سے یہ نظام تباہ ہورہا ہو۔
5- " انه خبير بما تفعلون" کا جملہ خاص کر "تفعلون" کا کلمہ جو کہ فعل مضارع نے بتارہا ہے کہ یہ اسی دنیا سے متعلق ہے کیونکہ قرآن فرماتا ہے جو اعمال بھی تم زمانہ حال یا
آئندہ زمانے میں انجام دو گے اس سے وہ اچھی طرح باخبرہے اور اس کا تعلق اس دنیا کے خاتمے سے ہوتا تو یوں فرماتا "ما فعلتم" جو کام تم نے انجام دیا ہے اس سے باخبر ہے۔ (غور کیجیے گا)۔
تمام قرائن سے اچھی طرح واضح ہوتا ہے کہ یہ آیت تخلیق کائنات کی ایک اورعجیب چیز کو بیان کر رہی ہے جو درحقیقت پہلی دو ان آیات میں بیان ہونے والے عجائبات کی طرح ہے "
الم یروا انا جعلنا الیل ليسكنوا فيه .... "۔
پس معلوم ہوا کہ زیر نظر آیات کا کچھ حصہ توحید کے بارے میں ہے اور کچھ معاد کے سلسلے میں ۔
اس تفسیر سے ہم جو نتیجہ نکالیتے ہیں وہ یہ ہے کہ جن پہاڑوں کو ساکین تصور کرتے ہیں وہ بڑی تیزی کے ساتھ حرکت کر رہے ہیں اوریقینی بات ہے کہ پہاڑوں کی حرکت ان
سے متصل زمین کی حرکت کے بغیر بے معنی ہے ، لہذا دوسرے لفظوں میں آیت کا مفہوم یہ بنے گا کہ زمین بڑی تیزی کے ساتھ حرکت کر رہی ہے جیسے بادل حرکت کرتے ہیں۔
دور حاضر کے سائنس دانوں کے نزدیکی زمین ، اپنے محور کے گرد نتیس کلومیٹر فی منٹ کے حساب سے گھومتی ہے جبکہ سورج کے گرد اس کی رفتاراس سے بھی زیادہ ہے۔
یہاں پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر قران نے پہاڑوں ہی کو مرکز گفتگو کیوں قرار دیا ہے ؟ تو شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ پہاڑوں ثقل ، بوجھ اورٹهہراو ضرب المثل ہے اور قدرت
الہی کی وضاحت اور تشریح کے لیے بہترین نمونہ سمجھے جاسکتے ہیں یعنی جہاں پر پہاڑ اپنی اس عظمت اور بوجھ کے باوجود حکم خدا سے (زمین سمیت) حرکت کررہے ہوں تو دوسری تمام
چیزوں پراس کی قدرت و طاقت مسلم ہوگئی ۔
بہرحال مندرجہ بالا آیت قرآن مجید کے سائنسی معجزوں میں سے ہے کیونکہ سائنس دانوں نے سب سے پہلے زمین کی حرکت کا انکشاف کیا وہ اٹلی کے گلیلیو اور پولینڈ کے "
کوپرنک" تھے ۔انھوں نے سولہویں صدی عیسوی کے آخر اور سترھویں صدی کے آغازمیں اس نظریے کا اظہار کیا جس سے انھیں ارباب کلیسا کے زبردست دباؤ کا سامنا بھی کرنا پڑا۔
لیکن قرآن مجید نے تو ان سے تقریبا ایک ہزار سال پہلے ہی اس حقیقت سے پردہ اٹھادیا تھا اور مندرجہ بالا صورت میں اسے توحید کی علامتوں سے ایک علامت کے عنوان سے پیش
کیا۔
بعض مسلمان فلاسفہ دوسری تفسیر (اسی دنیا میں پہاڑوں کی حرکت) کو قبول کرنے کے باوجود آیت کو چیزوں کی "حرکت جوہری" کے بارے میں سمجھتے ہیں اور اسے مشہور
جوہری حرکت کے نظریہ کا موئید سمجھتے ہیں ۔ ؎1
حالانکہ آیت کی تعبیرات اس نظریے کے بارے میں نہیں ہیں کیوں کر پہاڑوں کی حرکت کو بادلوں کی حرکت سے تشبیہ دینا مکانی حرکت (ائین میں حرکت) سے تو مناسبت رکھتی ہے
جوہری حرکت سے نہیں۔
بنابریں ظاہری طور پر آیت صرف ایک ہی تفسیر کو قبول کرتی ہے اور وہ ہے زمین کی (اپنے یا سورج کے گرد) مکینیکل حرکت۔
۔--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
؎1 جوہری حرکت سے مراد یہ ہے کہ کائنات کی مادی اشیاء کی کیفیت ، کمیت اور مکان وغیرہ میں مختلف تبدیلیوں کے علاوہ اپنی ذات کے اندری بھی حرکت موجود رہتی ہے یعنی ان کی ذات
ایک متحرک وجود ہے اوران میں ظاہری تبدیلیاں دراصل نتیجہ ہوتی ہیں ان کی مسلسل باطنی تبدیلیوں کا۔ دوسرے لفظوں میں ہمارے دو وجود ہیں جو ذاتی طور پر ایک دوسرے سے مختلف ہے ایک چابت
وجود (جو مادی وجود سے ماروا ہوتا ہے) اوردوسرا متحرک وجود (جو مادی وجود کہلاتا ہے) اور اس نظریہ کے ثبوت کی اہم ترین دلیل مادی اشیاء کا ایک زمانے کا حامل ہونا اور اندرونی تبدیلیوں سے
بیرونی تبدیلی ہرھز جدا نہیں ہے۔ اس بحث کی تفصیل ہمارے موضوع سے خارج ہے۔