سوره نمل / آیه 82 - 85
وَإِذَا وَقَعَ الْقَوْلُ عَلَيْهِمْ أَخْرَجْنَا لَهُمْ دَابَّةً مِنَ الْأَرْضِ تُكَلِّمُهُمْ أَنَّ النَّاسَ كَانُوا بِآيَاتِنَا لَا يُوقِنُونَ ۸۲وَيَوْمَ نَحْشُرُ مِنْ كُلِّ أُمَّةٍ فَوْجًا مِمَّنْ يُكَذِّبُ بِآيَاتِنَا فَهُمْ يُوزَعُونَ ۸۳حَتَّىٰ إِذَا جَاءُوا قَالَ أَكَذَّبْتُمْ بِآيَاتِي وَلَمْ تُحِيطُوا بِهَا عِلْمًا أَمَّاذَا كُنْتُمْ تَعْمَلُونَ ۸۴وَوَقَعَ الْقَوْلُ عَلَيْهِمْ بِمَا ظَلَمُوا فَهُمْ لَا يَنْطِقُونَ ۸۵
اور جب ان پر وعدہ پورا ہوگا تو ہم زمین سے ایک چلنے والا نکال کر کھڑا کردیں گے جو ان سے یہ بات کرے کہ کون لوگ ہماری آیات پر یقین نہیں رکھتے تھے. اور اس دن ہم ہر امت میں سے وہ فوج اکٹھا کریں گے جو ہماری آیتوں کی تکذیب کیا کرتے تھے اور پھر الگ الگ تقسیم کردیئے جائیں گے. یہاں تک کہ جب سب آجائیں گے تو ارشاد احدیت ہوگا کہ کیا تم لوگوں نے میری آیتوں کی تکذیب کی تھی حالانکہ تمہیں ان کا مکمل علم نہیں تھا یا تم کیا کررہے تھے. اور ان کے ظلم کی بنا پر ان پر بات ثابت ہوجائے گی اور وہ بولنے کے قابل بھی نہ ہوں گے.
(82) وَاِذَا وَقَعَ الْقَوْلُ عَلَيْـهِـمْ اَخْرَجْنَا لَـهُـمْ دَآبَّةً مِّنَ الْاَرْضِ تُكَلِّمُهُـمْ اَنَّ النَّاسَ كَانُـوْا بِاٰيَاتِنَا لَا يُوْقِنُـوْنَ
(83) وَيَوْمَ نَحْشُرُ مِنْ كُلِّ اُمَّةٍ فَوْجًا مِّمَّنْ يُّكَذِّبُ بِاٰيَاتِنَا فَهُـمْ يُوْزَعُوْنَ
(84) حَتّــٰٓى اِذَا جَآءُوْا قَالَ اَكَذَّبْتُـمْ بِاٰيَاتِىْ وَلَمْ تُحِيْطُوْا بِـهَا عِلْمًا اَمَّاذَا كُنْتُـمْ تَعْمَلُوْنَ
(85) وَوَقَعَ الْقَوْلُ عَلَيْـهِـمْ بِمَا ظَلَمُوْا فَهُـمْ لَا يَنْطِقُوْنَ
ترجمہ
(82) اور جب ان پر عذاب کا حکم آپہنچے گا (اور وہ قیامت کے کنارے پہنچ جائیں گے) تو ہم ایک چلنے والا زمین سے نکالیں گئے کہ جوان سے گفتگو کرے گا اور کہے گا کہ لوگ
ہمہاری آیات پر ایمان نہیں لاتے۔
(83) اس دن کا سوچو جب ہم ہر امت سے ایک ایسے گروہ کو محشور کریں گے جو ہماری آیات کو جھٹلایا کرتےتھے اور انہیں روکے رکھیں گے یہاں تک کہ وہ ایک دوسرے سے
آملیں گے۔
(84) یہاں تک (کہ جب وہ حساب کے لیے) پیش ہوں گے توان سے کہے گا کیا تم نے میری آیات کو جھٹلایا ہے اور تحقیق سے کام نہیں لیا؟ تم کیا اعمال انجام دیتے ر ہے ہو؟
(85) تواس وقت ان پران کے کردہ ظلم کی وجہ سے عذاب آجائے گا اور وہ کوئی بات نہیں کرسکیں گے۔