2- ہرجگہ منطقی دلائل کی دعوت
أَمَّنْ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَأَنْزَلَ لَكُمْ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَأَنْبَتْنَا بِهِ حَدَائِقَ ذَاتَ بَهْجَةٍ مَا كَانَ لَكُمْ أَنْ تُنْبِتُوا شَجَرَهَا ۗ أَإِلَٰهٌ مَعَ اللَّهِ ۚ بَلْ هُمْ قَوْمٌ يَعْدِلُونَ ۶۰أَمَّنْ جَعَلَ الْأَرْضَ قَرَارًا وَجَعَلَ خِلَالَهَا أَنْهَارًا وَجَعَلَ لَهَا رَوَاسِيَ وَجَعَلَ بَيْنَ الْبَحْرَيْنِ حَاجِزًا ۗ أَإِلَٰهٌ مَعَ اللَّهِ ۚ بَلْ أَكْثَرُهُمْ لَا يَعْلَمُونَ ۶۱أَمَّنْ يُجِيبُ الْمُضْطَرَّ إِذَا دَعَاهُ وَيَكْشِفُ السُّوءَ وَيَجْعَلُكُمْ خُلَفَاءَ الْأَرْضِ ۗ أَإِلَٰهٌ مَعَ اللَّهِ ۚ قَلِيلًا مَا تَذَكَّرُونَ ۶۲أَمَّنْ يَهْدِيكُمْ فِي ظُلُمَاتِ الْبَرِّ وَالْبَحْرِ وَمَنْ يُرْسِلُ الرِّيَاحَ بُشْرًا بَيْنَ يَدَيْ رَحْمَتِهِ ۗ أَإِلَٰهٌ مَعَ اللَّهِ ۚ تَعَالَى اللَّهُ عَمَّا يُشْرِكُونَ ۶۳أَمَّنْ يَبْدَأُ الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهُ وَمَنْ يَرْزُقُكُمْ مِنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ ۗ أَإِلَٰهٌ مَعَ اللَّهِ ۚ قُلْ هَاتُوا بُرْهَانَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ صَادِقِينَ ۶۴
بھلا وہ کون ہے جس نے آسمان و زمین کو پیدا کیا ہے اور تمہارے لئے آسمان سے پانی برسایا ہے پھر ہم نے اس سے خوشنما باغ اگائے ہیں کہ تم ان کے درختوں کو نہیں اگا سکتے تھے کیا خدا کے ساتھ کوئی اور خدا ہے ... نہیں بلکہ یہ لوگ خود اپنی طرف سے دوسروں کو خدا کے برابر بنارہے ہیں. بھلا وہ کون ہے جس نے زمین کو قرار کی جگہ بنایا اور پھر اس کے درمیان نہریں جاری کیں اور اس کے لئے پہاڑ بنائے اور دو دریاؤں کے درمیان حد فاصل قرار دی کیا خدا کے ساتھ کوئی اور بھی خدا ہے ہرگز نہیں اصل یہ ہے کہ ان کی اکثریت جاہل ہے. بھلا وہ کون ہے جو مضطر کی فریاد کو سنتا ہے جب وہ اس کو آواز دیتا ہے اور اس کی مصیبت کو دور کردیتا ہے اور تم لوگوں کو زمین کا وارث بناتا ہے کیا خدا کے ساتھ کوئی اور خدا ہے - نہیں - بلکہ یہ لوگ بہت کم نصیحت حاصل کرتے ہیں. بھلا وہ کون ہے جو خشکی اور تری کی تاریکیوں میں تمہاری رہنمائی کرتا ہے اور بارش سے پہلے بشارت کے طور پر ہوائیں چلاتا ہے کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور خدا ہے - یقینا وہ خدا تمام مخلوقات سے کہیں زیادہ بلند و بالا ہے جنہیں یہ لوگ اس کا شریک بنارہے ہیں. یا کون ہے جو خلق کی ابتدا کرتا ہے اور پھر دوبارہ بھی وہی پیدا کرے گا اور کون ہے جو آسمان اور زمین سے رزق عطا کرتا ہے کیا خدا کے ساتھ کوئی اور بھی معبود ہے آپ کہہ دیجئے کہ اگر تم اپنے دعویٰ میں سچے ہو تو اپنی دلیل لے آؤ.
2- ہرجگہ منطقی دلائل کی دعوت :-
ہم قرآن مجید میں کئی مرتبہ پڑھ چکے ہیں کہ وہ اپنے مخالفین سے دلیل کا مطالبہ کرتا ہے خاص کر "هاتوا برهانكم" (اپنی دلیل لے آؤ)کا جملہ چار مقامات پر دہرایا گیا ہے (سورہ بقرہ
کی آیت 111 ، سورہ انبیا کی آیت 24 ، سورہ نمل کی آیت 64 اور سورہ قصص کی آیت 75 میں) اور ان کے علاوہ دوسرے کئی مقاماست پرلفظ "برهان" خصوصی طور پر زور دیا گیا ہے (برہان
ایسی حکم دلیل کو کہتے ہیں جس میں ہمیشہ سچائی پائی جائے)۔
اسلام کی برہان طلبی کی یہ منطق درحقیقت اس کے قوی اور بے نیاز ہونے پر دلالت کرتی ہے کیونکہ اسلام کی ہمیشہ یہی کوشش رہی ہے کہ وہ اپنے مخالفین سے بھی منطق کی رو
سے مقابلہ کرتا ہے جب وہ دوسروں سے برہان و دلیل کا مطالبہ کرتا ہے تو پھر خود اس سے کیونکر بے پرواہ ہوسکتا ہے ؟ قرآنی آیات مختلف مسائل میں مختلف سطح پر منطقی دلائل اورعلمی براہین
سے جھلک رہی ہیں ۔
۔--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
؎1 تفسير نورالثقلین جلد 4 ص 94۔
؎2 عجیب حسن اتفاق ہے کہ گفتگو بھی ٹھیک 15 شعبان المعظم 1403ھ بروز ولادت با سعادت حضرت مهدی آخرالزمان معرض تحریر میں آئی ہے۔
۔----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
یہ چیزآج کی تحریف شده مسحیت کے بالکل برعکس ہے کہ جس پر آج کی عیسائیت انحصار کیے ہوئے ہے اور مذہب کو دل کک تابع سمجھے ہوئے ہے اور عقل کو مذہب سے کوسوں
دور سمجھتی ہے کہ عقلی تضادات (توحید در تثلیث جیسے مسائل) کو مذہب کا جزو سمجھتی ہے یہی وجہ ہے کہ مذہب میں طرح طرح کے خرافات داخل ہونے کی اجازت دیتی ہے حالانکہ اگر مذہب
کو عقل سے جدا کرديا جائے تو اس کی حقانیت کی دلیل ہی باقی نہیں رہ جاتی اور مذہب اور اس کی ضد میں کوئی فرق باقی نہیں رہ جاتا۔
اسلام کے اس طرزعمل (برہان پر اخصاراورمخالفین کو منطقی دلائل کی دعوت) کی اہمیت اس وقت زیادہ آشکار ہوتی ہے جب ہم اس بات کی طرف توجہ کرتے ہیں کہ اسلام ایک ایسے
ماحول میں نمودار ہوا تھا جس میں بے اساسی خرافات اور غیرمنطقی مسائل کی حکمرانی تھی۔