Tafseer e Namoona

Topic

											

									  1- مضطر کون ہے ؟

										
																									
								

Ayat No : 60-64

: النمل

أَمَّنْ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَأَنْزَلَ لَكُمْ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَأَنْبَتْنَا بِهِ حَدَائِقَ ذَاتَ بَهْجَةٍ مَا كَانَ لَكُمْ أَنْ تُنْبِتُوا شَجَرَهَا ۗ أَإِلَٰهٌ مَعَ اللَّهِ ۚ بَلْ هُمْ قَوْمٌ يَعْدِلُونَ ۶۰أَمَّنْ جَعَلَ الْأَرْضَ قَرَارًا وَجَعَلَ خِلَالَهَا أَنْهَارًا وَجَعَلَ لَهَا رَوَاسِيَ وَجَعَلَ بَيْنَ الْبَحْرَيْنِ حَاجِزًا ۗ أَإِلَٰهٌ مَعَ اللَّهِ ۚ بَلْ أَكْثَرُهُمْ لَا يَعْلَمُونَ ۶۱أَمَّنْ يُجِيبُ الْمُضْطَرَّ إِذَا دَعَاهُ وَيَكْشِفُ السُّوءَ وَيَجْعَلُكُمْ خُلَفَاءَ الْأَرْضِ ۗ أَإِلَٰهٌ مَعَ اللَّهِ ۚ قَلِيلًا مَا تَذَكَّرُونَ ۶۲أَمَّنْ يَهْدِيكُمْ فِي ظُلُمَاتِ الْبَرِّ وَالْبَحْرِ وَمَنْ يُرْسِلُ الرِّيَاحَ بُشْرًا بَيْنَ يَدَيْ رَحْمَتِهِ ۗ أَإِلَٰهٌ مَعَ اللَّهِ ۚ تَعَالَى اللَّهُ عَمَّا يُشْرِكُونَ ۶۳أَمَّنْ يَبْدَأُ الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهُ وَمَنْ يَرْزُقُكُمْ مِنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ ۗ أَإِلَٰهٌ مَعَ اللَّهِ ۚ قُلْ هَاتُوا بُرْهَانَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ صَادِقِينَ ۶۴

Translation

بھلا وہ کون ہے جس نے آسمان و زمین کو پیدا کیا ہے اور تمہارے لئے آسمان سے پانی برسایا ہے پھر ہم نے اس سے خوشنما باغ اگائے ہیں کہ تم ان کے درختوں کو نہیں اگا سکتے تھے کیا خدا کے ساتھ کوئی اور خدا ہے ... نہیں بلکہ یہ لوگ خود اپنی طرف سے دوسروں کو خدا کے برابر بنارہے ہیں. بھلا وہ کون ہے جس نے زمین کو قرار کی جگہ بنایا اور پھر اس کے درمیان نہریں جاری کیں اور اس کے لئے پہاڑ بنائے اور دو دریاؤں کے درمیان حد فاصل قرار دی کیا خدا کے ساتھ کوئی اور بھی خدا ہے ہرگز نہیں اصل یہ ہے کہ ان کی اکثریت جاہل ہے. بھلا وہ کون ہے جو مضطر کی فریاد کو سنتا ہے جب وہ اس کو آواز دیتا ہے اور اس کی مصیبت کو دور کردیتا ہے اور تم لوگوں کو زمین کا وارث بناتا ہے کیا خدا کے ساتھ کوئی اور خدا ہے - نہیں - بلکہ یہ لوگ بہت کم نصیحت حاصل کرتے ہیں. بھلا وہ کون ہے جو خشکی اور تری کی تاریکیوں میں تمہاری رہنمائی کرتا ہے اور بارش سے پہلے بشارت کے طور پر ہوائیں چلاتا ہے کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور خدا ہے - یقینا وہ خدا تمام مخلوقات سے کہیں زیادہ بلند و بالا ہے جنہیں یہ لوگ اس کا شریک بنارہے ہیں. یا کون ہے جو خلق کی ابتدا کرتا ہے اور پھر دوبارہ بھی وہی پیدا کرے گا اور کون ہے جو آسمان اور زمین سے رزق عطا کرتا ہے کیا خدا کے ساتھ کوئی اور بھی معبود ہے آپ کہہ دیجئے کہ اگر تم اپنے دعویٰ میں سچے ہو تو اپنی دلیل لے آؤ.

Tafseer

									
  چند اہم نکات 
 1- مضطر کون ہے ؟ 
 اگرچہ خداوند عالم (شرائط کی موجودگی میں) ہرایک کی دعا کوقبول فرماتا ہے: لیکن مندرجہ بالا آیات میں "مضطر" کو خاص طور پر بیان کیا گیا ہے کیونکہ قبولیت دعا کی شرائط میں 

سے ایک شرط یہ بھی ہے کہ انسان اپنی اورآنکھیں مکمل طور عالم اسباب سے ہٹاکر اپنے دل وجان کو پوری طرح خدا کے اختیارمیں دے دے۔ سب کچھ اسی کی طرف سے جانے اور ہرمشکل کا حل 

اسی کی طرف سے سمجھے اور یہ سب اضطرار کی حالت میں حاصل ہوتاہے۔ 
 یہ ٹھیک ہے کہ یہ دنیا عالم اسباب ہے اور مومن شخص اس بارے میں اپنی تمام تر کوششوں کو بروئے کار لاتا ہے لیکن کسی بھی صورت میں عالم اسباب میں کھو نہیں جاتا ۔ بلکہ عالم 

اسباب کے وسائل و ذرائع کو بھی اسی کا عطیہ سمجھتا ہے اوراسباب کے پس پردہ "مسبب الاسباب" کی ذات کو دیکھتا ہے اور سب کچھ اسی سے طلب کرتا ہے۔ 
 یہ امر بی لائق توجہ ہے کہ بعض روایات میں اس آیت کی تفسیر حضرت مہدی (صلوات الله وسلامیہ علیہ) کے ظہور سے کی گئی ہے چناچہ حضرت امام صادق علیہ السلام سے 

مروی ایک روایت میں ہے :
  و الله لكاني انظر الى القائم وقد أسند ظهره الى الحجرثم ینشد 
  الله حقه .... قال هو و الله المضطر في كتاب الله في قوله ، امن یجیب المضطر 
  اذا دعاه و يكشف السوء ويجعلکم خلفاء الارض 
  خدا کی قسم ! میں مہدی کو دیکھ رہا ہوں کہ حجراسود سے ٹیک لگائے خدا کو اپنے حق قسم دے کر  
  دعا مانگ رہے ہیں۔ 
 پھر آپ نے فرمایا : 
  خدا کی قسم ! قرآن مجید کی آیت ” امن یجیب المضطر............." میں "مضطر" 
  سے مراد بھی وہی ہیں"۔ ؎1  
 حضرت امام جعفرصادق علیہ اسلام کی ایک اور حدیث میں ہے: 
۔--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
  ؎1    تفسير نورالثقلین جلد 4 ص 94۔ 
۔----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- 
  نزلت في القائم من آل محمد علیهم السلام هو و الله المضطر اذا 
  صلي في المقام رکعتین و دعا الى الله عز و جل فاجابه و یكشف السوء و 
  يجعله خليفة في الارض 
  یہ آیت مهدی آل محمد کے بارے میں نازل ہوئی ہے ،خدا کی قسم وہی مضطر بے ، جب وہ 
  مقام ابراہیم پر دو رکعت نماز بجا لائے گا اور خدا کی بارگاہ میں دست بدعا ہو کر اس سے سوال 
  کرے گا تو خدا اس کی دعا کو قبول فرمائے گا۔ اس کی مشکلات کو دور کرکے اسے زمین کا 
  خلیفہ بنائے گا۔ ؎1  
 جیسا کہ اور مقامات پر بھی اس قسم کی تفسیر بیان ہوئی ہیں اس کا یہ مطلب نہیں کہ آیت کو حضرت مهدی کے وجودذی جود میں منحصر کیا جائے بلکہ آیت کا مفہوم وسیع ہے کہ 

جس کا ایک واضح مصداق حضرت مهدی کا وجود گرامی بھی ہے کہ اس دورمیں جبکہ ہرطرف فتنہ و فساد پھیل چکا ہوگا ، امیدوں کے تمام دروازے بند ہوچکے ہوں گے انسانی مصیبتیں انتہا کو پہنچ 

چکی ہوں گی ، بشریت چلارہی ہوگی تمام کائنات پر اضطرار کی حکومت ہوگی تو ایسی حالت میں وہ روئے زمین کے مقد ترین حصے پر دعا کے لیے ہاتھ بلند کرکے مشکلات کے دور ہونے کی دعا 

کریں گے اور خداوند عالم ان کی اس دعا کو مقدس  عالمی انقلاب کا پیش خیمہ قرار دے گا۔ "ويجعلکم خلفاء الارض " کے مصداق انھیں اور ان کے یاروانصار کوروئے زمین کا وارث اور خلیفہ بنائے گا۔ 

؎2  
 دعا کی اہمیت، اس کی قبولیت کی شرائط اور بعض دعاؤں کے قبول نہ ہونے کے اسباب کے بارے میں ہم تفسیر نمونہ کی جلد اول سورہ بقرہ کی آیت 186 کے ذیل میں تفصیلی گفتگو 

کر چکے ہیں ۔