Tafseer e Namoona

Topic

											

									  یہ دلائل اور پھر بھی شرک

										
																									
								

Ayat No : 60-64

: النمل

أَمَّنْ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَأَنْزَلَ لَكُمْ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَأَنْبَتْنَا بِهِ حَدَائِقَ ذَاتَ بَهْجَةٍ مَا كَانَ لَكُمْ أَنْ تُنْبِتُوا شَجَرَهَا ۗ أَإِلَٰهٌ مَعَ اللَّهِ ۚ بَلْ هُمْ قَوْمٌ يَعْدِلُونَ ۶۰أَمَّنْ جَعَلَ الْأَرْضَ قَرَارًا وَجَعَلَ خِلَالَهَا أَنْهَارًا وَجَعَلَ لَهَا رَوَاسِيَ وَجَعَلَ بَيْنَ الْبَحْرَيْنِ حَاجِزًا ۗ أَإِلَٰهٌ مَعَ اللَّهِ ۚ بَلْ أَكْثَرُهُمْ لَا يَعْلَمُونَ ۶۱أَمَّنْ يُجِيبُ الْمُضْطَرَّ إِذَا دَعَاهُ وَيَكْشِفُ السُّوءَ وَيَجْعَلُكُمْ خُلَفَاءَ الْأَرْضِ ۗ أَإِلَٰهٌ مَعَ اللَّهِ ۚ قَلِيلًا مَا تَذَكَّرُونَ ۶۲أَمَّنْ يَهْدِيكُمْ فِي ظُلُمَاتِ الْبَرِّ وَالْبَحْرِ وَمَنْ يُرْسِلُ الرِّيَاحَ بُشْرًا بَيْنَ يَدَيْ رَحْمَتِهِ ۗ أَإِلَٰهٌ مَعَ اللَّهِ ۚ تَعَالَى اللَّهُ عَمَّا يُشْرِكُونَ ۶۳أَمَّنْ يَبْدَأُ الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهُ وَمَنْ يَرْزُقُكُمْ مِنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ ۗ أَإِلَٰهٌ مَعَ اللَّهِ ۚ قُلْ هَاتُوا بُرْهَانَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ صَادِقِينَ ۶۴

Translation

بھلا وہ کون ہے جس نے آسمان و زمین کو پیدا کیا ہے اور تمہارے لئے آسمان سے پانی برسایا ہے پھر ہم نے اس سے خوشنما باغ اگائے ہیں کہ تم ان کے درختوں کو نہیں اگا سکتے تھے کیا خدا کے ساتھ کوئی اور خدا ہے ... نہیں بلکہ یہ لوگ خود اپنی طرف سے دوسروں کو خدا کے برابر بنارہے ہیں. بھلا وہ کون ہے جس نے زمین کو قرار کی جگہ بنایا اور پھر اس کے درمیان نہریں جاری کیں اور اس کے لئے پہاڑ بنائے اور دو دریاؤں کے درمیان حد فاصل قرار دی کیا خدا کے ساتھ کوئی اور بھی خدا ہے ہرگز نہیں اصل یہ ہے کہ ان کی اکثریت جاہل ہے. بھلا وہ کون ہے جو مضطر کی فریاد کو سنتا ہے جب وہ اس کو آواز دیتا ہے اور اس کی مصیبت کو دور کردیتا ہے اور تم لوگوں کو زمین کا وارث بناتا ہے کیا خدا کے ساتھ کوئی اور خدا ہے - نہیں - بلکہ یہ لوگ بہت کم نصیحت حاصل کرتے ہیں. بھلا وہ کون ہے جو خشکی اور تری کی تاریکیوں میں تمہاری رہنمائی کرتا ہے اور بارش سے پہلے بشارت کے طور پر ہوائیں چلاتا ہے کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور خدا ہے - یقینا وہ خدا تمام مخلوقات سے کہیں زیادہ بلند و بالا ہے جنہیں یہ لوگ اس کا شریک بنارہے ہیں. یا کون ہے جو خلق کی ابتدا کرتا ہے اور پھر دوبارہ بھی وہی پیدا کرے گا اور کون ہے جو آسمان اور زمین سے رزق عطا کرتا ہے کیا خدا کے ساتھ کوئی اور بھی معبود ہے آپ کہہ دیجئے کہ اگر تم اپنے دعویٰ میں سچے ہو تو اپنی دلیل لے آؤ.

Tafseer

									  تفسیر 
        یہ دلائل اور پھر بھی شرک 
 گزشتہ گفتگو کے سلسلہ آیات کی آخری آیت میں (پانچ عظیم انبیاء کی چونکا دینے والی داستانوں کے بعد) ایک مختصر مگرجامع سوال کیا گیا ہے کہ "کیا خداوند قادر و توانا بہتر ہے یا 

ان کے ہاتھوں سے تراشے ہوئے بے قدر قمیت بت؟ 
 زیر نظر آیات میں اس جملے کی تشریح کی گئی ہے اور پانچ آیات میں پانچ جچے تلے سوال کیے گئے ہیں ۔ اور مشرکین کو عدالت کے کٹہرے میں کھڑا کرکے ان سوالات کا جواب 

طلب کیا گیا ہے تو پانچ آیات میں خداوند عالم کی بارہ عظیم نعمتیں توحید کے دلائل کے طور پر ذکر کی گئی ہیں۔
 سب سے پہلے آسمان و زمین کی خلقت ، باران رحمت کا نزول اور اس سے پیدا ہونے والی برکتوں کو بیان کرتے ہوئے قرآن کہتا ہے : کیا وہ بت بہتر ہیں جو تمهارے معبود ہیں یا وہ 

جس نے انسانوں اور زمین کو خلق فرمایا ہے اور تمھارے لیے آسمان سے پانی نازل کیا ہے اور ہم نے اس سے خوبصورت اور سرور انگیزباغات آگائے ہیں (من خلق السماوات والارض وانزل لكم من 

السماء ماء فانبتنابه حد ائق ذات بهجة)۔ ؎1 
۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
  ؎1    درحقیقت اس کا ایک محذوف ہے اوراس کی تقدیر یوں ہے "ما یشرکون خيرا من خلق السماوات والارض" درحقیقت اس سے پہلی آیت میں سوال یوں تھا کہ آیا وہ خدا جو بندوں کو نجات دیتا 

ہے یا وہ بت کہ جنھیں لوگ اس کا شریک بناتے ہیں ؟ لیکن اس آیت میں سوال بتوں سے شروع کرتا ہے کہ آیا وہ بہتر ہیں یا خداوند متعال جو آسمانوں اور زمین کا خالق ہے۔ 
۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
 "حدائق" "حديقه" کی جمع ہے اور اس طرح بہت مسفرین نے کہا ہے کہ اس باغ کے معنی میں ہے جس کے اطراف میں دیوار کھینچی گئی ہو اور ہر لحاظ سے محفوظ ہو جیسا کہ آنکھ 

کما "حدقه" (ڈھیلا) پلکوں کے درمیان محصور بے، راغب اصفهانی اپنی کتاب " مفردات" میں کہتے ہیں: 
 حدیقہ دراصل اس زمین کو کہتے ہیں جس میں پانی ٹھہر ہے جیسا کہ آنکھ کا حدقہ (ڈھیلا) ہے کہ ہمیشہ پانی اس میں موجودرہتاہے۔ 
 توان دونوں اقوال کو ملا کر یہ نتیجہ نکالا جاسکتا ہے کہ "حدیقہ" اس باغ کو کہتے ہیں جس کے اطراف میں دیواربهی ہو اور اس میں پانی بھی خوب موجود ہو۔ 
 "بهجة"  (بروزن "لهجة ") کا معنی رنگ کی ایسی زیبائی اور ظاہری خوبصورتی ہے جسے دیکھتے ہی لوگ خوشی میں ڈوب جائیں۔ ؎1 
 اسی آیت میں روئے سخن بندوں کی طرف کرکے فرمایا گیا ہے : تمھارے بس سے یہ بات باہر ہے کہ تم ایسے خوش نما درخت اگا سکو (ما کان لکم ان تثبتواشجرها). 
 تمھارا کام صرف اور صرف بیج ڈالنا اور آبپاشی کرنا ہے اور بس! جو ذات ان بیجوں کے دل میں روح حیات ڈالتی ہے اوران کے اگانے کے لیے نورافتاب ، قطرات باران اور ذرات خاک 

کومامورکرتی ہے وہ ذات خداوند ذوالجلال  ہے۔ 
 یہ ایسے حقائق ہیں جن سے کوئی بھی شخص انکار نہیں کر سکتا اورنہ ہی انھیں غیر خدا کی طرف نسبت دے سکتا ہے وہ خدا ہی تو ہے جس نے آسمانوں اور زمین کوخلق فرمایا ہے 

، اور بارش نازل کرتا ہے اور وہی عالم حیاتی حسن و جمال اورزمان کا خوشنمائی کا خالق ہے۔ 
 حتی کہ اگرایک خوش نما پھول کی امیزی کے بارے میں غور کیا جائے اور لطیف اور منظم پتیوں کو غور سے دیکھا جائے جو ایک دوسرے کے اندر رہ کر پھول کے مرکزی حصے کو 

اپنے گھیرے میں لئے ہوئے زندگی کا راگ الاپ رہے ہیں تو کافی ہوجاۓ گا کہ انسان اس کے خالق کی عظمت ، قدرت او رحمت کو سمجھ جائے ، یہی چیز انسانی ضمیر کو جھنجھوڑتی ہیں اور خالق کا 

کائنات کی طرف متوجہ کرتی ہیں ۔ 
 دوسرے لفظوں میں خلقت میں توحید (توحید کے خالق) اور ربوبیت میں توحید (مدبر کائنات کی توحید) کو "معبود کی توحید"  
۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
  ؎1   "ذات بهجة " میں " ذات " کا لفظ مفرد آیا ہے جبکہ " حدائق" جمع کا صیغہ ہے اوراس کو موصوف ہے ۔ یا اس لیے ہے کہ حدائق جمع مکسر اور جمع مکسر کبھی" جماعت کے مفہوم میں بھی 

آتی ہے جو کہ مفرد ہے اور مفرد کی صفت بھی مفرد ہوا کرتی ہے۔
۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- 
کے بنیادی ستون شمار کیا گیا ہے۔ 
 یہی وجہ ہے کہ آیت کے آخر میں فرمایا گیا ہے ، کیا خدا کے ساتھ کوئی اور معبود ہے (ء اله مع الله)۔ 
 لیکن وہ نادان لوگ ہیں جو پروردگار عالم سے منہ موڑ کر غیراللہ کو اس کا شریک ٹھہراتے ہیں جس میں کچھ بھی قدرت نہیں ہے (بل هم قوم یعد لون)۔ ؎1 
 دوسرا سوال زمین کی آرام و سکون کی نعمت اور اس جہان میں انسان کی قرار گاہ کے بارے میں ہے : کیا ان کے بناوٹی معبود بہتر ہیں اور یہ وہ جس نے زمین کو آرام کی جگہ بنایا 

ہے اوراس میں دریا چلائے ہیں اور زمین کے لیے حکم اور ٹھہرے ہوئے پہاڑ بنائے ہیں (تاکہ زمین کو زلزلے سے محفوظ رکھیں ) ۔ (امن جعل الارض قرارًا و جعل خلالها انهارًا وجعل لھا رو اسی)۔ 

؎2 
 نیز دو (میٹھے اور کڑوے) سمندروں کے درمیان ایک حد فاصل قرار دی ہے تاکہ وہ آپس میں مل نہ جائیں ( وجعل بین البحرین حاجزًا)۔ 
 تو اس طرح سے اس آیت میں چار عظیم نعمتوں کا ذکر آیا ہے اور تین حصوں میں آرام  و سکون کی بات کی گئی ہے۔ 
 زمین کا اپنا آرام کہ اس کے اپنے محور اور سورج کے گرد تیزرفتاری کے ساتھ گھومنے اور مجموعی طور پر نظام شمسی کی حرکت کے باوجود یہ زمین اس قدر ایک حالت پر قائم 

اور پر سکون ہے کہ اس کے اوپر رہنے والوں کو اس کی حرکت کا کچھ بھی احساس نہیں ہوتا گویا وہ ایک جگہ پرایسی  گڑی ہوئی ہے کہ حرکت کا نام و نشان ہی نہیں ملتا۔ 
 دوسری نعمت پہاڑوں کی ہے (جیسا کہ ہم پیلے بھی بتا چکے ہیں کہ وہ زمین کے چاروں اطراف میں پھیلے ہوئے ہیں اور ان کی بنیادیں آپس میں پیوستہ ہیں جوایک طاقتور زرہ کا کام 

دیتے ہیں اور زمین کے اندرونی دباؤ اور بیرونی مدو جزر کا جو چاند کی کشش کی وجہ سے پیدا ہوتاہے ڈٹ کر مقابلہ کرتے ہیں اور ایسے عظیم طوفانوں سے زمین کو بچاتے ہیں جو زمینی زندگی کو 

تہ و بالا کرکے رکھ دیں۔ ؎3 
 ایک اورنعمت قدرتی حد فاصل ہے جو سمندروں کے میٹھے اور کڑوے پانی کو ایک دوسرے سے الگ تھلگ رکھتی ہے اور یہ نادیدہ حجاب میٹھے اور کڑوے پانی کے ہلکے اور بھاری 

درجوں کے فرق کے علاوہ اور کچھ بھی نہیں جسے اصطلاح میں مخصوص
۔---------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
  ؎1       "يعدلون"  کے بارےمیں ایک احتمال یہ ہے کہ ممکن ہے کہ وہ "عدول" انحراف اورحق کے باطل کی طرف لوٹ جانے کے معنی میں ہو اوریہ بھی ممکن ہے کہ"عدل" (بروزن "قشر") با 

برابر مشابہ اور نظیر کے معنی میں ہو ، پہلی صورت میں اس کا مفہوم یہ ہوگا کہ وہ خدائے وحدۂ لاشریک سے انحراف وعدول کرتے ہیں اور دوسری صورت میں اس کا مفہوم یہ ہوگا کہ وہ انھیں 

اس کے مشابہ ، ہم پلہ اور نظیرتسلیم کرتے ہیں۔ 
  ؎2      "خلال" دراصل دو چیزوں کے درمیان شگاف کو کہتے ہیں اور "رواسی"  "راسية"  کی جمع ہے جس کا معنی ہے ٹھہرا ہوا اور برقرار۔ 
  ؎3     زمین کےبرقراراور رکے رہنےمیں پہاڑ کا کردار ادا کرتے ہیں اور ان کے اور کیا فوائد ہیں ۔ اس کی تفصيل ہم تفسیرنمونہ جلد  10 ( سوره رعد کی آیت 3 کے ذیل میں بیان کرچکے ہیں۔ 
۔---------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
وزن کا فرق" کہا جاتا ہے اور یہ اس بات کا سبب بن جاتا ہے کہ جب بڑے بڑے دریاؤں کا پانی سمندروں میں گرتا ہے توبہت عرصے میں نمکین پانی میں تحلیل ہوجاتا ہے جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ 

اس پانی کو سمندر کا مدجزر ساحل کے وسیع وعریض علاقے میں دھکیل دیتا ہے اوراس سے زراعت کے لیے آبپاشی کی جاتی ہے۔ 
 اس کی تفصیل ہم اسی جلد سورہ فرقان کی آیت 53 کے ذیل میں بیان کرچکے ہیں ۔ 
 اس کے باوجود زمین کے مختلف حصوں میں پانی کی نہری اور دریا جاری ہیں جو حیات اور زندگی کا سرمایہ شادابی وتازگی کا سرچمشہ اور لہلہاتت کھیتوں اور ثمراور باغات کا 

ذریعہ حیات ہیں ۔ یہ پانی کچھ تو پہاڑوں کے اندر موجودہے اور کچھ خود زمین کے اندر۔ 
 تو کیا اس قسم کے منظم اور جچا تلا نظام اندھے اور بہرے "اتفاق" اور عقل و خرد سے عاری ”مبداء" کا شاہکار ہوسکتاہے؟  
 کیا اس حیرت انگیز اورتعجب خیز نظام میں بتوں کو کوئی حصہ ہوسکتا ہے؟ 
 (نہیں اور ہرگز نہیں ! !) حتی کہ خود بت پرستوں نے بھی اس بات کا دعوی نہیں کیا۔ 
 یہی وجہ ہے کہ آیت کے آخر میں اس سوال کو ایک بار پھر دہراتا ہے کہ کیا خدا کے ساتھ کوئی اور معبود بھی بے؟ (ءاله مع اللہ ) - 
 نہیں کوئی نہیں "بلکہ ان میں سے اکثر لوگ نادان اور بے خبر ہیں (بل اکثرهم لا يعلمون). 
 اسی سلسلے کے پانچ سوال ہیں جو درحقیقت ایک معنوی اور باطنی مقدمے کی تفتیش کے سلسلہ میں ہیں ۔ تیسرے سوال میں حل مشکلات ، رکاوٹوں کے دور کرنے اور دعا کے قبول 

ہونے کی بات ہوتی ہے۔ قرآن فرماتا ہے: کیا تمھارے بے قدرقميت و معبودہ بہترہیں یا وہ جو عاجزودرمانده اور مضطر انسان کی دعا قبول کرتا اور اس کی مشکلات کو دور کرتا ہے (امن يجيب العضطر 
اذا دعاہ  یكشف السوء). 
 جی ہاں ! جب عالم اسباب کے تمام دروازے انسان پر بند ہو جاتے ہیں ، جب وہ مایوس اور پریشان اور درماندہ اور و مضطر ہوجاتا ہے توخدا ہی ان مشکلات کوحل کرتا ہے، مایوسیوں 

کو دور کرتا ہے ، امید کی کرن دلوں میں روشن کرتا ہے اور عاجز دور ماندہ لوگوں پر اپنی رحمت کے دروازے کھول دیتا ہے ۔ یہ صرف اور صرف اس کی پاک ذات ہوسکتی ہے اور کوئی نہیں۔ 
 چونکہ حقیقت ایک فطری احساس کے طور پر تمام انسانوں کے اندر پائی جاتی ہے تو بت پرست بھی جب سمندر کی بے رحم موجوں کا شکار ہوجاتے ہیں تو اپنے تمام بناوٹی خداؤں کو 

فراموش کرکے حقیقی معبود "اللہ" کی رحمت کا سہارا طلب کرتے ہیں جیسا کہ قران فرماتا ہے :
  فاذا ركبوا في الفلک دعوا الله مخلصين له الدين 
  جب وہ کشتی پر سوار ہوتے ہیں تو خدا ہی کو پکارتے اور عبادت و پرستش بھی اسی کے لیے 
  مخصوص سمجھتے ہیں۔      (عنکبوت ـــــــــ 65)۔ 
 پھر فرمایا گیا ہے کہ نہ صرف ان مشکلات اور مصائب کو دور کرتا ہے بلکہ ”تمھیں زمین کے خلفاء بھی قرار دیتا ہے۔ (ويجعلکم خلفاء الارض )- 
 تو کیا پھر بھی خدا کے ساتھ کوئی اور معبود ہے (ءاله مع الله)۔ 
 " تم لوگ بہت کم ہی نصیحت حاصل کرتے ہو اور ان واضح دلائل کے باوجود تم کوئی نصیحت حاصل نہیں کرتے"۔ (قليلًا ماتذكرون)۔ ؎1 
 "مضطر" کے مفہوم اور قبولیت دعا اور ان کی شرائط کے بارے میں انھی آیات کے آخری نکات کی بحث میں مفصل گفتگو ہوگی ۔
 "خلفاء الارض " سے ممکن ہے ساکنین و صاحبان زمین مراد ہوں کیونکہ خداوند عالم نے زمین میں جو امن وسکون ، آرام و اطمینان ، نعمتیں اور اسباب رفاه قرار دیئے ہیں اس کے 

باوجود انسان کو اس کره خاکی کا حکمران بنا دیا ہے اوراس پر تسلط حاصل کرنے کے لیے اسے صلاحیت عطا کی ہے۔ 
 خاص طور پر جب انسان حالت اضطرار میں ہوتا ہے اور مشکلات میں گھر جاتا ہے تو وہ بارگاہ خداوندی کی طرف رخ کرتا ہے اور خدا کی اپنی مہربانی سے اس کی تمام مشکلات و 

مصائب کو دور کر دیتاہے تواس خلافت کا پایہ اور مضبوط ہوجاتا ہے (اور یہیں سے آیت کے ان دونوں حصوں کا باہمی ربط بھی واضح ہو جاتاہے)۔ 
 نیز یہ بھی ممکن ہے کہ یہ چیز اس بات کی طرف اشارہ ہو کہ خداوند عالم نے سلسلہ حیات کو کچھ اس طرح خلق فرمایا ہے ہمیشه کچھ قومیں آتی رہتی ہیں اور دوسری قوموں کی 

جانشین ہوتی رہتی ہیں ۔ اگر باریوں کا یہ سلسلہ نہ ہو تو ارتقاء اور تکامل کبھی بھی واقع نہ ہو ۔ ؎2 
 چوتھے سوال میں مسئلہ ہدایت پیش کیاگیا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے کیا یہ بہتر ہیں یا وہ جوتمھیں صحراؤں اور سمندروں کی تاریکیوں میں (ستاروں کے ذریعے) ہدایت کرتا ہے؟ (امن یھدیکم 

في ظلمات البر والبحر). 
 " اور وہ جو اپنی رحمت کے نزول سے پہلے ہواؤں کو خوشخبری دینے والا بناکر بھیجتا ہے" (ومن یرسل الرياح بشرًا بين يدي رحمته)۔ 
 ہوائیں بارش کے نزول کا پیش خیمہ ہوتی ہیں اور خوشخبری دینے والے قاصد کی مانند اس کے آگے آگے چلتی رہتی ہیں درحقیقت ان کا کام بھی نزول باران کی جانب لوگوں کو ہدایت 

کرنا ہوتا ہے 
 ہواؤں کے بارے میں "بشرًا" (خوشخبری دینے والی) اور بارش کے بارے میں "رحمت" کی تعبیریں بھی دلچسپ ہیں کیونکہ ہوائیں ہی ہوتی ہیں جو سمندروں سے رطوبت اور بادلوں 

کے ٹکڑوں کو اپنے دوش پر سوار کرکے خشک اور پیاسے علاقوں میں لے جاتی ہیں اور بارش کی تشریف آوری کی خبردیتی ہیں۔
۔----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- 
  ؎1   "قليلًا" ما تذکرون"  میں بظاہر "ما" زائدہ ہے اور ہم جانتے ہیں کہ بہت سے مقامات پر حروف زائدہ کا فائدہ ہوتا ہے کہ وہ تاکید کامعنی دیتے ہیں اور "قليلًا" مصدر محذوف کی صفت ہے جو 

تقدیری طور پر یوں ہے "تتذکرون تذکرًا قليلًا "۔
  ؎2   بنابریں "خلفاء الارض" کے معنی " خلفاء في الارض " ہوگا ۔ 
۔-----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
 اسی طرح بارش ہے جو تمام کرہ کی زندگی اور حیات کا اعلان کرتی ہے اور جہاں پر بھی نازل ہوتی ہے خیرو برکت   اور رحمت وحیات کو وجود میں لے آتی ہے۔ ؎1 
 (مزید تفصیل تفسیرنمونہ کی جلد 6 سوره اعراف کی 57 ویں آیت کے ذیل میں ملاحظہ فرمائیں کہ بارش برسانے میں ہوائيں کیا کردار ادا کرتی ہیں؟) 
 آیت کے آخر میں مشرکین کو ایک بار پرخطاب کرکے قرآن فرماتا ہے : آیا خدا کے ساتھ کوئی اورمعبود ہے؟ (ء اله مع الله) . 
 پھران کے جواب کا انتظار کیے بغیر خودی فرماتا ہے : خدا اس سے بلند و بالا ہے کہ اس کو شریک قرار دیں۔ وتعالى الله عما يشركون). 
 اسی سلسلے کی آخری آیت میں پانچویں سوال کو پیش فرماتا ہے جومبداء اور معاد سے متعلق ہے۔ سوال یہ ہے: کیا تمھارے وہ معبود بہتر ہیں یا وہ جس نے خلقت کا آغاز کیا ہے اور 

پھراس کا اعادہ کرے گا (امن بيدوا الخلق ثم بعيدہٰ)۔ 
 اور وہ جو تمہیں آغاز اور انجام کے اس دورانیے میں آسمان وزمین سے روزی عطاکرتاہے (ومن یرزقکم من السماء والأرض) 
 کیا پھر بھی تمھارا عقیدہ یہی ہے کہ خدا کے ساتھ کوئی اورمعبود ہے؟(ءاله مع الله)۔ 
 " تو آپ ان سے کہ دیجیے کہ اگر تمھارا عقیدہ یہی ہے تو اپنی دلیل لے آؤ اگر سچ کہتے ہیں (قل هاتوا برهانكم  ان کنتم صادقين)۔ 
 درحقیقت گزشتہ آیات سب کی سب مبداء اور عالم ہستی میں خداوند عالم کی عظمت اوراس کی نعمتوں کی علامات کے بارے میں گفتگو کر رہی تھیں لیکن آخری آیت میں بڑے لطیف 

انداز میں گفتگو کا رخ معاد کی طرف موڑ دیا گیا ہے ۔ کیونکہ آغاز آفرنیش بذات خود اس کے انجام کی دلیل ہے اور تخلیق کی قدرت ہذاتہ معاد کی ایک واضح اور روشن برہان ہے۔  
 اسی سے اس سوال کا جواب واضح ہو جاتا ہے جسے بہت سے مفسرین پیش کرتے ہیں اور وہ یہ کہ ان آیات کا روۓ سخن مشرکین کی طرف ہے اور مشرکین میں ان کے مخاطب 

ہیں اور اکثر مشرکین معاد (جسمانی ) کے قائل نہیں ہیں تو پھریہ کیونکرممکن ہے کہ  ان سے سوال کرکے اس چیز کا اقرار لیا جائے؟ 
 اس کا جواب یہ ہے کہ سوال دلیل کے طور پر پیش کیا گیا ہے میں سے فریق مخالف کو اقرار پر آمادہ کیا گیا ہے کیونکہ اگر  وہ صرف یہ بھی تسلیم کر لیتے ہیں کہ آغاز آفرینش اسی 

کی طرف سے ہے اور یہ تمام نعمتیں اور رزق وروزی بھی وہی ذات کردگارعطا 
۔----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
  ؎1    "بشر" (بروزن " عشر") جیساکہ ہم پہلے بتاچکے ہیں کہ یہ "بُشُر" (بروزن "کُتُب") کامخفف ہے جس کی جمع "بشور" (بروزن  "قبول") آتی ہے جس کا معنی ہے مبشر یعنی بشارت دینے والا ۔ 
۔--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- 
فرماتی ہے تو یہی بات اس اقرار کے لیے کافی ہے کہ یہ چیز بھی تسلیم کرلیں کہ بروز قیامت دوبارہ جی اٹھنے کا امکان بھی موجود ہے۔
 ضمنی طور پر بھی بتاتے چلیں کہ "آسمان کے رزق" سے مراد بارش ، سورج کی روشنی اور ان جیسے امور ہیں اور "زمین کے رزق" سے مراد نباتات اور مختلف غذائیں اور اناج 

ہے جو یاتو براه راست زمین سے اگتے ہیں یا بالواسطہ اس سے کمک حاصل کرتے ہیں جیسے چوپائے وغیرہ یا معدنیات اور دوسری گوناگوں چیزیں کہ جن سے انسان اپنی زندگی میں بہرومند ہوتا 

ہے۔