جہاں پاکدامنی عیب بن جاتی ہے
فَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهِ إِلَّا أَنْ قَالُوا أَخْرِجُوا آلَ لُوطٍ مِنْ قَرْيَتِكُمْ ۖ إِنَّهُمْ أُنَاسٌ يَتَطَهَّرُونَ ۵۶فَأَنْجَيْنَاهُ وَأَهْلَهُ إِلَّا امْرَأَتَهُ قَدَّرْنَاهَا مِنَ الْغَابِرِينَ ۵۷وَأَمْطَرْنَا عَلَيْهِمْ مَطَرًا ۖ فَسَاءَ مَطَرُ الْمُنْذَرِينَ ۵۸قُلِ الْحَمْدُ لِلَّهِ وَسَلَامٌ عَلَىٰ عِبَادِهِ الَّذِينَ اصْطَفَىٰ ۗ آللَّهُ خَيْرٌ أَمَّا يُشْرِكُونَ ۵۹
تو ان کی قوم کا کوئی جواب نہیں تھا سوائے اس کے کہ لوط والوں کو اپنی بستی سے نکال باہر کردو کہ یہ لوگ بہت پاکباز بن رہے ہیں. تو ہم نے لوط اور ان کے خاندان والوں کو زوجہ کے علاوہ سب کو نجات دے دی کہ وہ پیچھے رہ جانے والوں میں تھی. اور ہم نے ان پر عجیب و غریب قسم کی بارش کردی کہ جن لوگوں کو ڈرایا جاتا ہے ان پر بارشِ عذاب بھی بہت بری ہوتی ہے. آپ کہئے ساری تعریف اللہ کے لئے ہے اور سلام ہے اس کے ان بندوں پر جنہیں اس نے منتخب کرلیا ہے آیا خدا زیادہ بہتر ہے یا جنہیں یہ شریک بنارہے ہیں.
تفسیر
جہاں پاکدامنی عیب بن جاتی ہے
گزشتہ گفتگو میں ہم اللہ کے عظیم نبی جناب لوط علیہ اسلام کے منطقی دلائل کو ملاحظہ کرچکے ہیں تو انھوں نے گناہ سے آلودہ بےراہروی کے شکار لوگوں کے سامنے پیش کیے
تھے۔ یہ بھی دیکھ چکے ہیں کا انھوں نے کس عمدہ اور استدلالی انداز میں لواطہ جیسے قبیح فعل سے انھیں روکنے کی کوشش کی ہے ۔ اورکس طرح انھیں سمجھایا ہے کہ اور جہالت و نادانی اور
قانونی فطرت اور دوسرے تمام انسانی اقدار سے لاعلمی کا نتیجہ ہے۔
اب دیکھنا یہ چاہیئے کہ اس کثیف اور خبیث قوم نے آپ کی اس منطقی گفتار کا کیا جواب دیا؟ تو قرآن کی زبانی سن لیجیے قران کہتا ہے ان کے پاس اس کے سوا اور کوئی جواب نہیں
تھا کہ ایک دوسرے سے کہا : لوط کے خاندان کو اپنےشہر اور علاقے سے نکال باہر کرکیونکہ وہ بڑے پاکباز لوگ ہیں اور یہ اپنے تئیں ہم سے ہم آہنگ نہیں کرسکتے (فما كان جواب قومه الا ان قالوا
اخرجوا آل لوط من قريتكم انهم اناس يتطهرون)۔
یہ ایک ایسا جواب ہے جو ان کی فکری پستی اور انتہائی خلاقی منزل کا آئینہ دار ہے۔
جی ہاں! مجرم اورگناہ سے آلودہ ماحول میں پاکیزگی ایک جرم وعیب ہوا کرتی ہے۔ یوسف جیسے پاکدامن کوعفت پارسائی کے جرم میں زندانوں میں ڈالا جاتا ہے ۔ خدا کے باعظمت نبی
جناب لوط کے خاندان کو گناہوں سے پرہیز اور دوری اختیار کرنے کی جا پاداش میں شہربدر کیا جاتا ہے جبکہ زلیخائیں اس ماحول میں آزاد اور صاحب باہم مقام ہوا کرتی ہیں اور قوم لوط اپنے لیے
گھروں میں آرام و آسائش کے ساتھ رہتی ہے۔
یہیں پر قرآن مجید کا مصداق واضح ہوجاتا ہے جو وہ گمراہ لوگوں کے بارے میں کہتا ہے کہ :
ہم (ان کے اپنے اعمال کی بنا پر ان کے دلوں پر مہرلگا دیتے ہیں اوران کی آنکھوں پر پردے ڈال دیتے ہیں اور ان کے کان بہرے ہوچکے ہیں ۔
ایک احتمال یہ بھی ہے کہ وہ گناہوں کی دلدل میں اس حد تک پھنس چکے تھے کہ لوط کے خاندان کا تمسخر اڑا کر کہتے تھے کہ وہ ہمیں ناپاک سمجھتے ہیں اور خود بڑے پاکباز بنتے
ہیں یہی کیسا مذاق ہے؟
یہ عجیب بات نہیں تو اور کیا ہے کہ بے حیائی اور بے شرمی کے فعل سے مانوس ہوجانے کی وجہ سے انسان کی حس شناخت ہی یکسر بدل جائے ۔ یہ بالکل اس چمڑا رنگنے والوں
کی مثال ہے جو بدبو سے مانوس ہو چکا تھا اور جب ایک مرتبہ وہ عطاروں کے بازار سے گزرہا تھا تو عطر کی نامانوس بو کی وجہ سے بے ہوش ہو گیا جب اسے حکیم کے پاس لے گئے تو اس نے
حکم دیا کہ اسے دوبارہ چمڑا رنگنے والوں کے بازارمیں لے جایا جائے چنانچہ ایسا ہی کیا گیا اور وہ ہوش میں آگیا اور مرنے سے بچ گیا اور واقعًا اس بارے میں یہ ایک دلچسپ حسی مثال ہے۔
روایات میں ہے کہ جناب لوط علیہ اسلام نے اس قوم کو تیس سال تک تبلیغ کی لیکن اپنے خاندان کے سوا (اور وہ بھی بیوی کو متثنٰی کرکے کیونکہ مشرکین کے ساتھ ہم عقیدہ ہوگی
تھی) اور کوئی بھی آپ پرایمان نہیں لایا۔ ؎1
اور ظاہر ہے کہ جن لوگوں کی اصلاح کی امید بالکل ختم ہوجائے انھیں دنیا میں جینے کا قطعًا کوئی حق نہیں ہے بلکہ ان کی زندگی کا خاتمہ کردیا جائے تو بہتر ہے یہی وجہ ہے کہ
قرآن مجید بعد والی آیت میں فرماتا ہے : ہم نے لوط اوران کے اہل خانہ کو
۔----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
؎1 تفسیر نورالثقلین جلد 2 ص 382-
۔----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
نجات دی ۔ سوائے لوط کی زوجہ کے کہ جس کا مقدر ہم نے باقی رہ جانے والوں سے منسلک کر دیاتھا (فانجيناه واهله الا امراته قد رنا ها من الغابرین)۔ ؎1
ایک مقرره وقت کے مطابق ان کے باہر نکل جانے کے بعد (اس رات کی صبح کو جبکہ شهر گناہوں میں پوری طرح غرق ہوچکا تھا صبح کا وقت ہوا تو ہم نے ان پر پتھروں کی بارش کر
دی (کہ وہ سب لوگ اس میں دفن ہو کررہ گئے اور وہ یہ اس وقت ہوا جب زلزلے نے مکمل طور پر ان کو تہہ و بالا کر دیا)۔ (وامطرنا عليهم مطرًا) .
" اور کس قدر بری سخت اور ناگوار ہے ڈرائے جانے والے لوگوں پر پتھروں کی یہ بارش (فاء مطرا و المنذرین)۔
قوم لوط اس کے انجام اور ہم جنس بازی کے برے اثرات کے بارے میں ہم تفسیرنمونہ کی جلد 9 (سورة ہود کی آیات 77 تا 83) میں تفصیل سے گفتگو کرچکے ہیں لہذا یہاں پر
دہرانے کی ضرورت نہیں۔
یہاں پر ہم صرف ایک نکتے کو بیان کرنا ضروری سمجھتے ہیں اور وہ یہ کہ:
قانون خلقت نے ہمارے لیے ایک ایسے راستے کی نشاندہی کردی ہے کہ جس پرچل کرہم ارتقائی مراحل طے کرسکتے ہیں اور اسی میں ہماری زندگی کا راز مضمر ہے اوراس کی
مخالفت ہماری پستی اور موت کا سبب بن جاتی ہے۔
قانون خلقت نے جنسی جذبے کو ـــــــــ نسل انسانی کی بقا اور انسان کی روحانی تسکین کو ـــــــــــــ دومخالف جنسوں میں قرار دیا ہے اگر یہ راستہ "ہم جنس بازی" کی سمت موڑ دیا
جائے تو نہ صرف اس سے روحانی تسکین ختم ہوجاتی ہے بلکہ اجتماعی سکون بھی غارت ہوجاتا ہے اور چونکہ اجتماعی قوانین کے ڈانڈے فطرت سے جاملتے ہیں لہذا ان کی مخالفت انسان کی
جسمانی ساخت پر بری طرح اثرانداز ہوتی ہے۔
خدا کے باعظمت نبی جناب لوط علیہ اسلام نے اپنی گمراہ اور بےراہرو قوم کوبهی اسی فطری امرکی طرف توجہ دلائی اور ان کے ضمیر کو جھنجھوڑ کر فرمایا کیا تم ایسی برائی کے
پیچھے لگے ہوئے ہو ان کی اس کے خطرناک نتائج ہے کو بھی دیکھ رہے ہو، تمھاری یہ جہالت قانون حیات سے لاعلمی درحقیقت تمھاری حماقت ، نادانی اور بے وقوفی ہے جو تمہیں اس حد تک بے راہ
رو اور گمراہ کر چکی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ اگر اس گمراہ قوم کے بارے میں دوسرے قوانین میں تبدیل ہوجائیں تر مقام تعتب نہیں ہونا چاہیے۔ اگر پانی جو کہ مایہ زندگی ہے کی بجائے پتھر برسنے لگ جائیں
اور امن و سکون کا گہوارہ ان کی سرزمین زلزلوں کی وجہ سے تہ و بالا ہوجاۓ اور وہ صرف نیست ونابود ہی نہ ہوجائیں بلکہ ان کا نشان تک ہی باقی نہ رہے تو تعجب نہیں کرنا چاہیے۔
اسی سلسلے کی آخری آیت میں پانچ عظیم انبیاء کے تفصیلی حالات اوران کی قوموں کا انجام بیان کرنے کے بعد گزشتہ واقعات کو بطور نتیجہ اور مشرکین سے گفتگو کے مقدمہ کے
عنوان سے روۓ سخن پیغمبر اسلام صلی الله علیہ والہ وسلم کی طرف کرکے فرمایا گیا ہے۔
۔---------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
؎1 "غابر" اسے کہتے ہیں جو اپنے ساتھیوں کے چلے جانے کے بعد ٹھہرار ہے۔
۔---------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
کہہ دیجیے: حمد وستائش ذات خدا کے ساتھ ہی مخصوص ہے (قل الحمدلله).
حمد و تعریف صرف اس خدا کے لیے مخصوص ہے جس نے قوم لوط جیسی بے حیا قوم کو نیست و نابود کردیا تاکہ ان کے اس قبیح فعل کی آلودگیوں سے باقی دنیا محفوظ رہ جائے۔
حمدوستائش اس خدا کے ساتھ مخصوص ہے جس نے ثمود جیسی فاسد و مفسد قوم کو اور فرعونیوں اور فرعون جیسے متکبرین کوملک عدم میں بھیج دیا تاکہ ان کا طرز عمل دوسروں
کے لیے اسوہ اورنمونہ قرار دیا جائے۔
اور تمام تعریفیں صرف اس کے لیے مخصوصی ہیں جس نے اپنی ہر طرح کی نعمتیں داؤد و سلیمان جیسے اپنے با ایمان بندوں کو عطا فرمائیں اورقوم سبا جیسی گمراہ ملت کو ان کے
ذریعے ہدایت بخشی۔
پھر فرمایا گیا ہے : درودد سلام ہو اس کے برگزیدہ بندوں پر (وسلام على عباد و الذین اصطفی ).
سلام ہو موسٰی ؑ، صالحؑ ، لوطؑ سلیمانؑ اور داؤدؑ پر اور سلام ہو تمام انبیاء اور ان کے سچے جانشینوں پر۔
بعد میں فرمایا گیا ہے : کیا وہ خدا بہتر ہے جس نے یہ سب توانائی قدرت و طاقت ، نعمت و انعام عطا فرمائے ہیں یا وہ بت جو مطلقًا کسی چیز کی استطاعت نہیں رکھتے اور یہ لوگ
انھیں خدا کا شریک ٹھہراتے ہیں ( الله خير اما یشرکون)۔ ؎1
ہم نے انبیائے ماسلف کی ان داستانوں میں دیکھ لیا ہے کہ عذاب کے نزول کے موقع پربت اپنے عبادت گزاروں کی زره بھربھی امداد نہ کرسکے ۔ جبکہ خداوند عالم نے کسی بھی مشکل
مرحلے میں مومنین کو تنہا نہیں چھوڑا اور اس کی بے پایاں رحمت ہروقت ان کی مدد کو پہنچی ۔
۔-----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
؎1 "الله" دراصل " الله" ،تھا اور اس میں سے ایک ہمزہ الف میں تبدیل کر دینے سے مد کی صورت اختیار کرگیا اور "مايشركون " دراصل "ام مایشرکون" تها - کیونکہ "ام" استفہام کے لیے ہے اور
"ما" موصولہ ہے ، دونوں میم آپس میں مدغم کر دی گئی ہیں ۔