Tafseer e Namoona

Topic

											

									  ایک نکتہ

										
																									
								

Ayat No : 45-47

: النمل

وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا إِلَىٰ ثَمُودَ أَخَاهُمْ صَالِحًا أَنِ اعْبُدُوا اللَّهَ فَإِذَا هُمْ فَرِيقَانِ يَخْتَصِمُونَ ۴۵قَالَ يَا قَوْمِ لِمَ تَسْتَعْجِلُونَ بِالسَّيِّئَةِ قَبْلَ الْحَسَنَةِ ۖ لَوْلَا تَسْتَغْفِرُونَ اللَّهَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ ۴۶قَالُوا اطَّيَّرْنَا بِكَ وَبِمَنْ مَعَكَ ۚ قَالَ طَائِرُكُمْ عِنْدَ اللَّهِ ۖ بَلْ أَنْتُمْ قَوْمٌ تُفْتَنُونَ ۴۷

Translation

اور ہم نے قوم ثمود کی طرف ان کے بھائی صالح کو بھیجا کہ تم لوگ اللہ کی عبادت کرو تو دونوں فریق آپس میں جھگڑا کرنے لگے. صالح نے کہا کہ قوم والو آخر بھلائی سے پہلے برائی کی جلدی کیوں کررہے ہو تم لوگ اللہ سے استغفار کیوں نہیں کرتے کہ شاید تم پر رحم کردیا جائے. ان لوگوں نے کہا کہ ہم نے تم سے اور تمہارے ساتھیوں سے براشگون ہی پایا ہے انہوں نے کہا کہ تمہاری بدقسمتی اللہ کے پاس مقدر ہے اور یہ درحقیقت تمہاری آزمائش کی جارہی ہے.

Tafseer

									  ایک نکتہ

  " فال " اور" تطير :- 
 " تطیر"  بدشگونی) "طیر"  کے مادہ سے پرندے کے معنی میں ہے ، چونکہ عرب لوگ پرندوں کے ذریے بری فال لیا کرتے تھے لہذا "تطیر" بری فال (بدشگونی) کے 

معنی میں آتا ہے ۔ جو "تفال دینی یعنی نیک فال کے مقابلے میں ہے۔ 
 قرآن مجید میں بارہا یہ بات بیان ہوئی ہے کہ بے ہودہ مشرکین ، انبیاء کرام کے مقابلے میں اسی حربے سے کام لیاکرتے تھے جیسا کہ جناب موسٰیؑ علیہ السلام اوران 

کے ساتھیوں کے بارے میں ہے کہ :
  وان تصبھم سيئة يطيروا بموسٰى ومن مع 
  جب بھی فرعون والوں کو کوئی تکلیف پہنچی تو وہ اسے موسٰیؑ اور ان کے ساتھیوں کی نحوست 
  سمجھتے۔ (اعراف - 131) 
 زیرنظر آیات کے مطابق قوم ثمور کے مشرکین نے صالح علیہ اسلام کے بارے میں یہی منطق اختیار کی۔ 
 سورہ یٰسن کے مطابق (انطاکیہ کی طرف) حضرت عیسٰیؑ کے نمائندوں کے مقابلے میں بھی مشرکین نے یہی منطق اپنائی اور انھیں بدشگونی کا الزام دیا۔(یٰسں - 18)۔ 
 بات دراصل یہ ہے کہ انسان حوادثات کے اسباب وعلل سے لاتعلق نہیں رہ سکتا، اسے ہر حادثے اور وقوع پذیر ہونے والے واقعے کی علت کی تلاش رہتی ہے اگر تو 

وه موحد اور خدا پرست ہے اور واقعات کے اسباب کا مرکز ذات خداوند ذوالجلال کو سمجھتا ہے اور جانتا ہے کہ اس کی حکمت کے نت ہر کام کسی حساب کے تحت انجام پاتا ہے اور قدرتی 

علت و معلول کے لحاظ سے بھی اپنے علم کا اختیار کرتا ہے پھر تو اس کی مشکل حل ہوجاتی ہے وگرنہ  موہوم اور خرافاتی کی علتوں کا ایک سلسلہ از خود گھڑنا شروع کر دیا ہے کہ جس 

کی نہ تو کوئی حد ہوتی ہے اور نہ ہی حساب جس کا ایک واضح نمونہ  بدشگونی کا نظریہ ہے۔
 زمانہ جاہلیت کے عربوں میں تھا کہ اگر پرندہ ان کی دائیں طرف سے گزر جاتا تو اسے نیک فال اور کامیابی کی دلیل سمجھتے تھے اور اگربائیں طرف سے حرکت کرتا 

تو اسے بدشگونی تصور کرتے اور اپنی ناکامی اور شکست کی دلیل سمجھتے ۔ ان کے اندراس قسم کے اور بھی کئی خرافات اور موہومات پائے جاتے تھے۔ 
 آج کے اس ترقی یافتہ دور میں بھی کچھ ایسے لوگ پائے جاتے ہیں جوان خرافات اور موہومات پربہت ایمان رکھتے ہیں یہ وہ لوگ ہیں جن کی خدا پرایمان نہیں ہوتا 

اگرچہ جدید علم کے لحاظ سے وہ بہت بڑے عہدوں پر فائز ہوتے ہیں حتی کہ ایک نمک دانی کا زمین پر گر جانا انھیں سخت پریشان کر دیتا ہے اور جس گھر یا میز یا کرسی کا نمبر 13 ہو 

وہ اس سے گبھرا جاتے ہیں۔ اب بھی رمالوں اور فال نکالنے والوں کا بازار گرم ہے اور یہ مسئلہ ابھی تک بہت رائج ہے۔ 
 لیکن قرآن صرف ایک مختصرسے جملے میں اس بات کا جواب دیتا ہے " طائركم عند الله " یعنی تمھارا بخت وطالع ، فتح و شکست اور کامیابی و ناکامی غرض سب 

کچچ خدا کے ہاتھ  میں ہے وہ خدا جوصاحب حکمت ہے اور اپنی نعمتیں ، لیاقتوں اور صلاحیتوں کی بنا پر عطا کرتا ہے جو انسان کے ایمان و عمل اور گفتار و کردار کا نتیجہ ہوتی ہیں۔ 
 تواس طرح اسلام اپنے پیروکاروں کو خرافات سے حقیقت اور بے راہروی سے صراط مستقیم کی طرف دعوت دیتا ہے۔ 
 (فال اورشگون کے بارے میں تفسیرنمونہ کی جلد 6 سورہ اعراف کی 131 آیت کے ذیل میں تفصیل سے گفتگو کی ہے)۔