Tafseer e Namoona

Topic

											

									  2- سلیمان کی داستان کا خلاصہ

										
																									
								

Ayat No : 41-44

: النمل

قَالَ نَكِّرُوا لَهَا عَرْشَهَا نَنْظُرْ أَتَهْتَدِي أَمْ تَكُونُ مِنَ الَّذِينَ لَا يَهْتَدُونَ ۴۱فَلَمَّا جَاءَتْ قِيلَ أَهَٰكَذَا عَرْشُكِ ۖ قَالَتْ كَأَنَّهُ هُوَ ۚ وَأُوتِينَا الْعِلْمَ مِنْ قَبْلِهَا وَكُنَّا مُسْلِمِينَ ۴۲وَصَدَّهَا مَا كَانَتْ تَعْبُدُ مِنْ دُونِ اللَّهِ ۖ إِنَّهَا كَانَتْ مِنْ قَوْمٍ كَافِرِينَ ۴۳قِيلَ لَهَا ادْخُلِي الصَّرْحَ ۖ فَلَمَّا رَأَتْهُ حَسِبَتْهُ لُجَّةً وَكَشَفَتْ عَنْ سَاقَيْهَا ۚ قَالَ إِنَّهُ صَرْحٌ مُمَرَّدٌ مِنْ قَوَارِيرَ ۗ قَالَتْ رَبِّ إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِي وَأَسْلَمْتُ مَعَ سُلَيْمَانَ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ ۴۴

Translation

سلیمان نے کہا کہ اس کے تخت کو ناقابل شناخت بنادیا جائے تاکہ ہم دیکھیں کہ وہ سمجھ پاتی ہے یا ناسمجھ لوگوں میں ہے. جب وہ آئی تو سلیمان نے کہا کہ کیا تمہارا تخت ایسا ہی ہے اس نے کہا کہ بالکل ایسا ہی ہے بلکہ شاید یہی ہے اور مجھے تو پہلے ہی علم ہوگیا تھا اور میں اطاعت گزار ہوگئی تھی. اور اسے اس معبود نے روک رکھا تھا جسے خدا کو چھوڑ کر معبود بنائے ہوئے تھی کہ وہ ایک کافر قوم سے تعلق رکھتی تھی. پھر اس سے کہا گیا کہ قصر میں داخل ہوجائے اب جو اس نے دیکھا تو سمجھی کہ کوئی گہرا پانی ہے اور اپنی پنڈلیاں کھول دیں سلیمان نے کہا کہ یہ ایک قلعہ ہے جسے شیشوں سے منڈھ دیا گیا ہے اور بلقیس نے کہا کہ میں نے اپنے نفس پر ظلم کیا تھا اور اب میں سلیمان کے ساتھ اس خدا پر ایمان لے آئی ہوں جو عالمین کا پالنے والا ہے.

Tafseer

									 2- سلیمان کی داستان کا خلاصہ :- 
 حضرت سلیمان کے حالات کا کچھ حصہ جو مندرجہ بالا تیس آیات میں ذکر ہوا ہے، بہت سے مسائل بیان کرتا ہے جن میں سے کچھ تو تفصیلی طور پر پڑھ چکے ہیں اور کچھ ایسے 

ہیں جن پر ایک سرسری سی نظر ڈالتے ہیں۔ 
 1-    داستان حضرت سلیمانؑ اور حضرت داؤد علیہ اسلام کو خدا کی طرف سے علم ہونے کے ذکر سے شروع ہوتی ہے ، توحید و  فرمان الہی کے سامنے جھک جانے پر ختم ہو 

جاتی ہے اور توحید بھی اسی کہ کس کا مرکز "علم"  ہے۔ 
 2-    یہ داستان بتاتی ہے کہ کسی پرندے کا غائب ہوجانا اور کسی علاقے پر اس کا پرواز کرنا بعض اوقات کسی ملت کی تاریخ کے دھاروں کو بھی بدل سکتا ہے اسے شرک سے 

ایمان کی طرف اور برائی سے اچھائی کی طرف پلٹا سکتا ہے اور یہی چیز پروردگارعالم کی قدرت کاملہ اور حکومت حقہ کا ایک ادنی سا نمونہ ہے۔ 
۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------ 
  ؎1  روح المعانی از آلوسی۔
۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------ 
 3-     اس داستان سے یہ بات بھی واضح ہوجاتی ہے کہ نور توحید تمام دلوں میں جلوہ فگن ہے حتی کہ ایک پرنده بھی جو ظاہرًا خاموش ہے توحید کے اسرار پوشیدہ کی خبردیتا ہے۔ 
 4-    کسی انسان کو اس کی اصلی قدروقیمت کی طرف توجہ دلانے اور اسے اللہ کی طرف ہدایت دینے کے لیے ضروری ہے کہ سب سے پہلے اس کی رعونت اور تکتبر کو توڑا 

جائے تاکہ آنکھوں پر پڑے ہوئے تاریک پردے اس کی حقیقت میں نگاہوں کے آگے سے ہٹ جائیں جیسا کہ جناب سلیمانؑ نے دو کام کر کے ملکہ کے غرور وتکبر کو چکنا چور کرٓدیا ، ایک تو اس کا تخت 

منگا کر اور دوسرے اپنے محل کے ایک حصے میں اسے مغالطے میں ڈال کر۔ 
 5-    انبیاء کرام کی حکومت میں ان کا منتہائے مقصود کشورکشائی نہیں ہوتا بلکہ وہی کچھ ہوتا ہے جو اس سلسلے کی آخری آیت میں ہم نے پڑھا ہے یعنی سرکش لوگ اپنے گناہوں کا 

اعتراف کریں اور رب العالمین کے حضور سرتسلیم خم کر دیں اسی لیے قرآن مجید بھی اس داستان کا اختتام اسی نکتے پر کیا ہے۔ 
 6-   "ایمان" کی روح "تسلیم" ہے یہی وجہ ہے کہ جناب سلیمانؑ نے بھی اپنے خط میں اسی بات پر زور دیا تھا اور ملکہ سبا بھی آخر میں یہی کہتی رہی ہے ۔
 7-   کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کسی انسان کے پاس دنیا کی بہت طاقت ہوتی ہے لیکن اس کے باوجود اسے پرندے جیسی کمزور سی مخلوق کی ضرورت پڑجاتی ہے کہ وہ نہ صرف اس 

کے علم سے کہ اس کے کام سے بھی استفادہ کرتا ہے اور کبھی چیونٹی جیسی کمزور و ناتواں مخلوق اس کی تحقیر کردیتی ہے۔ 
 8-    ان آیات کا مکہ میں اس وقت نازل ہونا جب مسلمان زبردست مشکلات کا شکار تھے اور دشمن نے ہر طرف سے ان گھراؤ کر رکھا تھا ، مسلمانوں کی دلجوئی اور ان کی تقویت کا 

باعث تھا اور انھیں مستقبل میں خدا کی طرف سے کامیابیوں کی امید دلانے کا باعث تھا۔