1- ملکہ سباء کا انجام
قَالَ نَكِّرُوا لَهَا عَرْشَهَا نَنْظُرْ أَتَهْتَدِي أَمْ تَكُونُ مِنَ الَّذِينَ لَا يَهْتَدُونَ ۴۱فَلَمَّا جَاءَتْ قِيلَ أَهَٰكَذَا عَرْشُكِ ۖ قَالَتْ كَأَنَّهُ هُوَ ۚ وَأُوتِينَا الْعِلْمَ مِنْ قَبْلِهَا وَكُنَّا مُسْلِمِينَ ۴۲وَصَدَّهَا مَا كَانَتْ تَعْبُدُ مِنْ دُونِ اللَّهِ ۖ إِنَّهَا كَانَتْ مِنْ قَوْمٍ كَافِرِينَ ۴۳قِيلَ لَهَا ادْخُلِي الصَّرْحَ ۖ فَلَمَّا رَأَتْهُ حَسِبَتْهُ لُجَّةً وَكَشَفَتْ عَنْ سَاقَيْهَا ۚ قَالَ إِنَّهُ صَرْحٌ مُمَرَّدٌ مِنْ قَوَارِيرَ ۗ قَالَتْ رَبِّ إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِي وَأَسْلَمْتُ مَعَ سُلَيْمَانَ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ ۴۴
سلیمان نے کہا کہ اس کے تخت کو ناقابل شناخت بنادیا جائے تاکہ ہم دیکھیں کہ وہ سمجھ پاتی ہے یا ناسمجھ لوگوں میں ہے. جب وہ آئی تو سلیمان نے کہا کہ کیا تمہارا تخت ایسا ہی ہے اس نے کہا کہ بالکل ایسا ہی ہے بلکہ شاید یہی ہے اور مجھے تو پہلے ہی علم ہوگیا تھا اور میں اطاعت گزار ہوگئی تھی. اور اسے اس معبود نے روک رکھا تھا جسے خدا کو چھوڑ کر معبود بنائے ہوئے تھی کہ وہ ایک کافر قوم سے تعلق رکھتی تھی. پھر اس سے کہا گیا کہ قصر میں داخل ہوجائے اب جو اس نے دیکھا تو سمجھی کہ کوئی گہرا پانی ہے اور اپنی پنڈلیاں کھول دیں سلیمان نے کہا کہ یہ ایک قلعہ ہے جسے شیشوں سے منڈھ دیا گیا ہے اور بلقیس نے کہا کہ میں نے اپنے نفس پر ظلم کیا تھا اور اب میں سلیمان کے ساتھ اس خدا پر ایمان لے آئی ہوں جو عالمین کا پالنے والا ہے.
چند اہم نکات
1- ملکہ سباء کا انجام:-
ملکہ سبا کے بارے میں جو کہ قرآن مجید نے بیان کیا ہے وہی ہے جو ہم نے ابھی پڑھا ہے. آخر کار وہ ایمان لے آئی اور صالحین کے کارواں میں شامل ہوگئی اب سوال یہ پیدا ہوتا
ہے کہ آیا وہ ایمان اختیار کرنے کے بعد وہ ا پنے ملک کو واپس لوٹ گئی اور سلیمان کی طرف سے ملک پر حکمرانی کرتی رہی یا سلیمان کے پاس رہ گئی اورانہی کے ساتھ شادی کرلی ۔یا سلیمانؑ کے
مشورے پر یمن کے کسی بادشاہ سے جسے "تبع" کہا جاتا تھا کے ساتھ عقد کرلیا۔ اس بارے میں قرآن نے کچھ نہیں کہتا۔
چونکہ قرآن کا ہدف اصلی تربیتی مسائل بیان کرنا ہے اور یہ بات ان مسائل سے غیر معتلق تھی لہذا اسے بیان کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی لیکن مفسرین اور مورخین نے
اس بارے میں مختلف راستے اختیار کیے ہیں جن کی تحقیق کی چنداں ضرورت نہیں ہے۔ اگرچہ بعض مفسرین کے بقول مشهور ومعروف یہی ہے کہ وہ حضرت سلیمان کے ساتھ رشتہ ازدواج میں
منسلک ہوگئی۔ ؎1
البتہ اس مقام پرایک نکتے کی وضاحت بھی ضروری معلوم ہوتی ہے کہ جناب سلیمان اور ان کے لشکر و حکومت کے بارے میں نیز ملکہ سبا اوراس کی تفصیلی زندگی کے بارے میں
بہت ہی افسانہ طرازی کی گئی ہے کہ بعض مواقع پر تو عوام الناس کے لیے حق و باطل میں تمیز کرنا ہی مشکل ہوجاتا ہے اور بعض موقعوں پر اس صحیح تاریخی واقعے پر ایسے تاریکی پردے ڈال
دیئے جاتے ہیں کہ تو اس کی اصلیت کو خطرہ لاحق ہوجاتا ہے اور یہ سب کچھ ان خرافات کا غلط نتیجہ ہوتا ہے جوحقائق کے ساتھ ملا دیئے جاتے ہیں لہذا ایسے خرافات سے پوری طرح چوکنا رہنا
چاہیئے .