Tafseer e Namoona

Topic

											

									  5- تخت کو کیسے حاضر کر دیا

										
																									
								

Ayat No : 38-40

: النمل

قَالَ يَا أَيُّهَا الْمَلَأُ أَيُّكُمْ يَأْتِينِي بِعَرْشِهَا قَبْلَ أَنْ يَأْتُونِي مُسْلِمِينَ ۳۸قَالَ عِفْرِيتٌ مِنَ الْجِنِّ أَنَا آتِيكَ بِهِ قَبْلَ أَنْ تَقُومَ مِنْ مَقَامِكَ ۖ وَإِنِّي عَلَيْهِ لَقَوِيٌّ أَمِينٌ ۳۹قَالَ الَّذِي عِنْدَهُ عِلْمٌ مِنَ الْكِتَابِ أَنَا آتِيكَ بِهِ قَبْلَ أَنْ يَرْتَدَّ إِلَيْكَ طَرْفُكَ ۚ فَلَمَّا رَآهُ مُسْتَقِرًّا عِنْدَهُ قَالَ هَٰذَا مِنْ فَضْلِ رَبِّي لِيَبْلُوَنِي أَأَشْكُرُ أَمْ أَكْفُرُ ۖ وَمَنْ شَكَرَ فَإِنَّمَا يَشْكُرُ لِنَفْسِهِ ۖ وَمَنْ كَفَرَ فَإِنَّ رَبِّي غَنِيٌّ كَرِيمٌ ۴۰

Translation

پھر اعلان کیا کہ میرے اشراف هسلطنت ! تم میں کون ہے جو اس کے تخت کو لے کر آئے قبل اس کے کہ وہ لوگ اطاعت گزار بن کر حاضر ہوں. تو جّنات میں سے ایک دیو نے کہا کہ میں اتنی جلدی لے آؤں گا کہ آپ اپنی جگہ سے بھی نہ اٹھیں گے میں بڑا صاحبِ قوت اور ذمہ دار ہوں. اور ایک شخص نے جس کے پاس کتاب کا ایک حصہّ علم تھا اس نے کہا کہ میں اتنی جلدی لے آؤں گا کہ آپ کی پلک بھی نہ جھپکنے پائے اس کے بعد سلیمان نے تخت کو اپنے سامنے حاضر دیکھا تو کہنے لگے یہ میرے پروردگار کا فضل و کرم ہے وہ میرا امتحان لینا چاہتا ہے کہ میں شکریہ ادا کرتا ہوں یا کفرانِ نعمت کرتا ہوں اور جو شکریہ ادا کرے گا وہ اپنے ہی فائدہ کے لئے کرے گا اور جو کفران هنعمت کرے گا اس کی طرف سے میرا پروردگار بے نیاز اور کریم ہے.

Tafseer

									 5- تخت کو کیسے حاضر کر دیا؟ 
 یہ پہلا خارق عادت کام نہیں ہے جو ہم حضرت سلیمان علیہ اسلام کی داستان میں پڑھ رہے ہیں یا بطور کلی انبیا کی داستان میں دیکھ رہے ہیں ۔ جو لوگ اس قسم کی تعبیرات کی 

توجیہہ کرکے ان کے ظاہری معنی کو بدل دینا چاہتے ہیں اور انھیں کنایہ یا کوئی اورمعنوی رنگ دینا چاہتے ہیں انہیں چاہیے کہ وہ انبیاء کے معجزات کے بارے میں اپنے نظریے کا دو ٹوک کا اظہار 

کریں اور بتائیں معجزات کے بارے میں ان کیا عقیدہ ہے۔ کیا وہ انبیاء یا ان کے جانشینوں سے خارق عادت کاموں کے انجام پانے کو محال سمجھتے ہیں اور مکمل طور پراس کا انکار کرتے ہیں؟ 
 اگر ان کم یہی عقیدہ ہے تو پھر یہ عقیدہ نہ تو توحید اورکائنات پر حکم فرما قدرت خداوندی کے اصولوں سے ہم آہنگ ہے جو تمام قوانین ہستی پر حکم فرم ہیں اور نہ ہی قرآن کی بہت  

صریح آیات سے مطابقت رکھتا ہے۔ 
 لیکن اگر وہ معجزے کے وجود کو تسلیم کرتے ہیں تو پھر حضرت عیسٰیؑ کے ہاتھوں مردوں کا زندہ ہونا ہویا مادر زاد انادھوں کو شفا ملنا ہو یا آصف بن برخیا کے ذریعے سباسے ملکہ 

کا تخت آنا ہو ان سب میں کوئی فرق نہیں ہے ۔
 اس میں شک نہیں ہے کہ یہاں پر مرموز روابط اوران جانی علتیں کار فرما ہیں جن سے ہمارا محدود علم بالکل ناآشنا ہے ۔ ہم تو صرف اس قدر جانتے ہیں کہ اس قسم کا کام محال ہرگز 

نہیں ہے۔ 
 آیا آصف بن برخیا نے ملکہ سبا کے تخت کو نور کی لہروں میں تبدیل کرکے ایک ہی لٓمحے میں اسے سلیمان کے پاس پہنچایا اور دوبارہ اسے 
اپنے اصلی مادے میں تبدیل کردیا ؟ اس کے بارے میں ہم کچھ نہیں کہہ سکتے کیونکہ ہمیں اس کا پورا علم نہیں ہے۔ 
 ہم تو صرف یہ جانتے ہیں کہ سائنس کی موجودہ ترقی کے ذریعہ آج انسان ایسے ایسے کارنامے انجام دے رہا ہے کہ اگر ان کارناموں کا ذکر آج سے دو سو سال قبل کیا جاتا تو ممکن 

ہے لوگ اسے محال سمجھتے ۔ مثلًا اگر چند سو سال پہلے کسی کو کہا جاتا کہ ایک وقت ایسا بھی آئے گا کہ اگرایک شخص مشرق میں بیٹھ کر گفتگو کرے گا تو اسی وقت مغرب میں رہنے والے لوگ 

اس کی باتوں کو بھی سنیں گے اور اس کی صورت کو بھی دیکھیں گے تو اس زمانے کے لوگ اسے مجذوب کی بڑیا پریشان خیالی کا نمونہ سمجھتے۔ 
 اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ انسان ہر چیز کو اپنے محدود علم کے پیمانوں میں پرکھنا چاہتا ہے جبکہ اس کے علم و قدرت کے ماوراء کروڑوں اسرار و رموز موجود ہیں۔ 
۔--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
  ؎1      شکر کی اہمیت اورنعمتوں کی فروانی میں اس کی تاثیر اور شکر کی اقسام (شکرتکوینی اور تشریعی ) کے بارے میں ہم نے تفسیرنمونہ جلد 10 (سورہ ابراہیم کی آیت 7 کے ذیل) میں تفصیل 

سے بحث کی ہے۔