4- هذا من فضل ربی
قَالَ يَا أَيُّهَا الْمَلَأُ أَيُّكُمْ يَأْتِينِي بِعَرْشِهَا قَبْلَ أَنْ يَأْتُونِي مُسْلِمِينَ ۳۸قَالَ عِفْرِيتٌ مِنَ الْجِنِّ أَنَا آتِيكَ بِهِ قَبْلَ أَنْ تَقُومَ مِنْ مَقَامِكَ ۖ وَإِنِّي عَلَيْهِ لَقَوِيٌّ أَمِينٌ ۳۹قَالَ الَّذِي عِنْدَهُ عِلْمٌ مِنَ الْكِتَابِ أَنَا آتِيكَ بِهِ قَبْلَ أَنْ يَرْتَدَّ إِلَيْكَ طَرْفُكَ ۚ فَلَمَّا رَآهُ مُسْتَقِرًّا عِنْدَهُ قَالَ هَٰذَا مِنْ فَضْلِ رَبِّي لِيَبْلُوَنِي أَأَشْكُرُ أَمْ أَكْفُرُ ۖ وَمَنْ شَكَرَ فَإِنَّمَا يَشْكُرُ لِنَفْسِهِ ۖ وَمَنْ كَفَرَ فَإِنَّ رَبِّي غَنِيٌّ كَرِيمٌ ۴۰
پھر اعلان کیا کہ میرے اشراف هسلطنت ! تم میں کون ہے جو اس کے تخت کو لے کر آئے قبل اس کے کہ وہ لوگ اطاعت گزار بن کر حاضر ہوں. تو جّنات میں سے ایک دیو نے کہا کہ میں اتنی جلدی لے آؤں گا کہ آپ اپنی جگہ سے بھی نہ اٹھیں گے میں بڑا صاحبِ قوت اور ذمہ دار ہوں. اور ایک شخص نے جس کے پاس کتاب کا ایک حصہّ علم تھا اس نے کہا کہ میں اتنی جلدی لے آؤں گا کہ آپ کی پلک بھی نہ جھپکنے پائے اس کے بعد سلیمان نے تخت کو اپنے سامنے حاضر دیکھا تو کہنے لگے یہ میرے پروردگار کا فضل و کرم ہے وہ میرا امتحان لینا چاہتا ہے کہ میں شکریہ ادا کرتا ہوں یا کفرانِ نعمت کرتا ہوں اور جو شکریہ ادا کرے گا وہ اپنے ہی فائدہ کے لئے کرے گا اور جو کفران هنعمت کرے گا اس کی طرف سے میرا پروردگار بے نیاز اور کریم ہے.
4- " هذا من فضل ربی" :-
مغرور دنیا پرست جب برسراقتدار آجاتے ہیں تو اپنے سوا سب کو بھلا دیتے ہیں اور جب تمام مادی وسائل پرقابض ہوجاتے ہیں تو قارون کی مانند ہرچیز کو اپنی طرف سے سمجھتے ہیں
کسی اور کی جانب سے نہیں جیسا کہ قارون نے کہا ہے:
انما اوتيته علٰى علم عندی
میرے پاس جو کچھ بھی ہے وہ میرے اپنے علم کی بناء پر ہے ۔ (قصص / 78)
جبکہ خدا کے نیک بندے کسی بھی اعلی سے اعلی عہدے اورمنصب پر پہنچ جانے کے بعد بھی یہی کہتے ہیں:
هذا من فضل ربی
سب کچھ میرے پروردگار کا عطیہ ہے ۔
پھر قابل توجہ بات یہ بھی ہے کہ انھوں نے ملکہ سبا کا تحت اپنے پاس پاکر صرف یہی نہیں کہا بلکہ یہ بھی فرمایا کہ یہ اس لیے ہے۔ تاکہ میرا خدا مجھے آزمائے کہ میں اس کا
شکربھی ادا کرتا ہوں یا نہیں ؟
اسی سورت کے اوائل میں بھی پڑھ چکے ہیں کہ جناب سلیمانؑ اپنی تمام نعمتوں کو خداوند عالم کا عطیہ سمجھتے ہیں اور نہایت ہی خضوع و خشوع کے ساتھ اس کی بارگاہ میں حاضر
ہوتے ہیں اور عرض کرتے ہیں :
پروردگارا ! مجھے ان تمام نعمتوں کے شکر کی توفیق عطا فرما اور اپنی رضا کے حصول کی توفیق دے۔
مغرور دنیا پرستوں اور خدا کے خالص توحید پرستوں کے فرق کا یہی معیار ہے اور کم ظرف خود پرستوں اور باظرف و باکردار شخصیتوں میں یہی فرق ہے۔
اگرچہ اب یہ معمول سا بن گیا ہے کہ بعض ظاہر پسند اور ریا کار لوگ جناب حضرت سلیمان علیہ السلام کے اس معنی خیز جملے "هذا من فضل ربی" کو اپنے طاغوطی محلات
اورعمارتوں کی پیشانی پر ہڑے جلی حروف میں تحریرکرتے ہیں۔
۔-------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
؎1 اصول کافي اور تفسیر نورالثقلین کی طرف رجوع فرمائیں۔
۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
جبکہ نہ تو اس پر ان کا ایمان ہوتا ہے اورنہ ہی ان کے عمل سے ذرہ برابر بھی کوئی اشارہ ملتا ہے۔
لیکن جو چیزاہم ہے وہ یہ ہے کہ اسی طرح عمارتوں کی پیشانی پر اسے جلی حروف میں لکھا جاتا ہے اسی طرح ہر انسان کی اپنی پیشانی پر اور اس کے دل میں بھی نقش ہو اور وہ
اپنے عمل سے یہ بات ظاہر کرے کہ اس کے پاس تو جس کچھ بھی بے وہ فضل خداوندی ہے اوراسی کی جانب سے عطا کردہ ہے۔ پراس کا شکر بجا لائے اور شکربھی ایسا جو اس کے اعمال اور
وجود سے ظاہر ہو نہ کہ صرف زبان سے۔ ؎1