3- علم من الكتاب اور علم الكتاب میں فرق
قَالَ يَا أَيُّهَا الْمَلَأُ أَيُّكُمْ يَأْتِينِي بِعَرْشِهَا قَبْلَ أَنْ يَأْتُونِي مُسْلِمِينَ ۳۸قَالَ عِفْرِيتٌ مِنَ الْجِنِّ أَنَا آتِيكَ بِهِ قَبْلَ أَنْ تَقُومَ مِنْ مَقَامِكَ ۖ وَإِنِّي عَلَيْهِ لَقَوِيٌّ أَمِينٌ ۳۹قَالَ الَّذِي عِنْدَهُ عِلْمٌ مِنَ الْكِتَابِ أَنَا آتِيكَ بِهِ قَبْلَ أَنْ يَرْتَدَّ إِلَيْكَ طَرْفُكَ ۚ فَلَمَّا رَآهُ مُسْتَقِرًّا عِنْدَهُ قَالَ هَٰذَا مِنْ فَضْلِ رَبِّي لِيَبْلُوَنِي أَأَشْكُرُ أَمْ أَكْفُرُ ۖ وَمَنْ شَكَرَ فَإِنَّمَا يَشْكُرُ لِنَفْسِهِ ۖ وَمَنْ كَفَرَ فَإِنَّ رَبِّي غَنِيٌّ كَرِيمٌ ۴۰
پھر اعلان کیا کہ میرے اشراف هسلطنت ! تم میں کون ہے جو اس کے تخت کو لے کر آئے قبل اس کے کہ وہ لوگ اطاعت گزار بن کر حاضر ہوں. تو جّنات میں سے ایک دیو نے کہا کہ میں اتنی جلدی لے آؤں گا کہ آپ اپنی جگہ سے بھی نہ اٹھیں گے میں بڑا صاحبِ قوت اور ذمہ دار ہوں. اور ایک شخص نے جس کے پاس کتاب کا ایک حصہّ علم تھا اس نے کہا کہ میں اتنی جلدی لے آؤں گا کہ آپ کی پلک بھی نہ جھپکنے پائے اس کے بعد سلیمان نے تخت کو اپنے سامنے حاضر دیکھا تو کہنے لگے یہ میرے پروردگار کا فضل و کرم ہے وہ میرا امتحان لینا چاہتا ہے کہ میں شکریہ ادا کرتا ہوں یا کفرانِ نعمت کرتا ہوں اور جو شکریہ ادا کرے گا وہ اپنے ہی فائدہ کے لئے کرے گا اور جو کفران هنعمت کرے گا اس کی طرف سے میرا پروردگار بے نیاز اور کریم ہے.
3- "علم من الكتاب" اور "علم الكتاب" میں فرق :-
زیرنظر آیات میں ہر شخص نے ملکہ سبا کا تخت پلک جھپکنے کی تھوڑی سی مدت میں سلیمانؑ کے دربار میں لاکر حاضر کیا اس کے بارے میں ہے کہ اس کے پاس" علم من الكتاب"
(کتاب کا کچھ علم) تھا۔ جبکہ سورہ رعد کی آیت 43 میں حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اوران کے گواہوں کی حقانیت کے بارے میں ہے :
قل کفی بالله شهیدًا بینی و بینکم و من عنده علم الكتاب
کہہ دیجیے کہ میرے اور تمھارے درمیان گواہی کے لیے ایک تو خدا کافی ہے اور دوسرے
وہ شخص جس کے پاس "کتاب کا علم" ہے۔
ابوسعید خدری سے مروی ایک حدیث میں ہے کہ وہ کہتے ہیں میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے (سلیمان کی داستان میں مذکور)" الذي عندہ عالم من الكتاب" کے بارے
میں سوال کیا تو آپ نے ارشاد فرمایا :
وہ میرے بھائی سلیمان بن داؤد کے وصی تھے۔
تو پھر میں نے "ومن عنده علم الكتاب" کے متعلق پوچھا تو فرمایا :
ذاك اخي علي بن ابي طالب
وہ میرے بھائی علی بن ابی طالب ہیں
"علم من الكتاب" جزوی علم کو ظاہر کرتا ہے اور "علم الکتاب" جو کلی علم کوظاہرکرتا ہے ۔ ان کے
۔--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
؎1 اس حدیث کو بہت سے مفسرین اور علماء اہل سنت نے بیان فرمایا ہے بالکل اس عبارت کے ساتھ یا اس سے ملتی جلتی عبارت کے ساتھ ۔ مزید تفصیل کے لیے احقاق الحق کی تیسری جلد
ص 280 اور ص 281 ملاحظہ فرمائیں۔
۔--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
درمیان فرق کو دیکھا جائے تو اچھی طرح واضح ہوجائے گا کہ جناب آصف اور حضرت علی کے درمیان کتنا فرق ہے؟
یہی وجہ ہے کہ بہت سی روایات میں ہے کہ خداوند عالم کے اس اسم اعظم کے تہتر حروف ہیں جن میں سے سرف ایک "آصف بن برخیا" کے پاس تھا جس کی وجہ سے انھوں نے
ایسا معجزانہ کام انجام دیاکہ پلک جھپکنے کی دیر میں تخت ملکہ سبا کو سلیمانؑ کے قدموں میں پہنچادیا اور ان اہل بیت علیهم السلام کے پاس بہتر حروف ہیں اور ایک حرف صرف اور صرف ذات
خداوند عالم کے ساتھ مخصوص ہے۔ ؎1