Tafseer e Namoona

Topic

											

									  2-  دو اہم چیزیں ۔ طاقت اور امانت

										
																									
								

Ayat No : 38-40

: النمل

قَالَ يَا أَيُّهَا الْمَلَأُ أَيُّكُمْ يَأْتِينِي بِعَرْشِهَا قَبْلَ أَنْ يَأْتُونِي مُسْلِمِينَ ۳۸قَالَ عِفْرِيتٌ مِنَ الْجِنِّ أَنَا آتِيكَ بِهِ قَبْلَ أَنْ تَقُومَ مِنْ مَقَامِكَ ۖ وَإِنِّي عَلَيْهِ لَقَوِيٌّ أَمِينٌ ۳۹قَالَ الَّذِي عِنْدَهُ عِلْمٌ مِنَ الْكِتَابِ أَنَا آتِيكَ بِهِ قَبْلَ أَنْ يَرْتَدَّ إِلَيْكَ طَرْفُكَ ۚ فَلَمَّا رَآهُ مُسْتَقِرًّا عِنْدَهُ قَالَ هَٰذَا مِنْ فَضْلِ رَبِّي لِيَبْلُوَنِي أَأَشْكُرُ أَمْ أَكْفُرُ ۖ وَمَنْ شَكَرَ فَإِنَّمَا يَشْكُرُ لِنَفْسِهِ ۖ وَمَنْ كَفَرَ فَإِنَّ رَبِّي غَنِيٌّ كَرِيمٌ ۴۰

Translation

پھر اعلان کیا کہ میرے اشراف هسلطنت ! تم میں کون ہے جو اس کے تخت کو لے کر آئے قبل اس کے کہ وہ لوگ اطاعت گزار بن کر حاضر ہوں. تو جّنات میں سے ایک دیو نے کہا کہ میں اتنی جلدی لے آؤں گا کہ آپ اپنی جگہ سے بھی نہ اٹھیں گے میں بڑا صاحبِ قوت اور ذمہ دار ہوں. اور ایک شخص نے جس کے پاس کتاب کا ایک حصہّ علم تھا اس نے کہا کہ میں اتنی جلدی لے آؤں گا کہ آپ کی پلک بھی نہ جھپکنے پائے اس کے بعد سلیمان نے تخت کو اپنے سامنے حاضر دیکھا تو کہنے لگے یہ میرے پروردگار کا فضل و کرم ہے وہ میرا امتحان لینا چاہتا ہے کہ میں شکریہ ادا کرتا ہوں یا کفرانِ نعمت کرتا ہوں اور جو شکریہ ادا کرے گا وہ اپنے ہی فائدہ کے لئے کرے گا اور جو کفران هنعمت کرے گا اس کی طرف سے میرا پروردگار بے نیاز اور کریم ہے.

Tafseer

									 2-  دو اہم چیزیں ۔ طاقت اور امانت :- 
 مندرجہ بالا آیات اور سوره قصص کی آیت 26 میں کسی اچھے اور مثالی کارکن اور کام کرنے والے کے لیے دو چیزيں اہم شرائط کے طور پر بیان ہوئی ہیں ایک طاقت و توانائی اور 

دوسرے امانت و دیانت داری ۔
 البتہ کبھی تو انسان کی اپنی فکری اور اخلاقی بنیادی اس بات کی متقاضی ہوتی ہیں کہ اس میں یہ شرائط پائی جائیں (جیسا کہ سورہ قصص میں حضرت موسیی علیہ اسلام کے بارے 

میں مذکور ہوا ہے) اور کبھی معاشرتی نظام اور صالح حکومت اس بات کا تقاضا کرتی ہے کی عفریت جن جیسے افراد بھی ان دو صفات سے ضرور متصف ہوں لیکن صورت خواہ کچھ ہو جب تک معاشرے  یہ دو بنیادی شرائط نہ پائی جائیں کوئی بھی چھوٹا یا بڑا کام انجام کی منزل تک نہیں پہنچ سکتا ۔ شرائط خواہ انسان کے ذاتی تقویٰ کی وجہ سے پیدا ہوں یا معاشرے کے قانونی نظام کی وجہ سے (غور کیجئے گا)۔