Tafseer e Namoona

Topic

											

									  سوره نمل / آیه 38 - 40

										
																									
								

Ayat No : 38-40

: النمل

قَالَ يَا أَيُّهَا الْمَلَأُ أَيُّكُمْ يَأْتِينِي بِعَرْشِهَا قَبْلَ أَنْ يَأْتُونِي مُسْلِمِينَ ۳۸قَالَ عِفْرِيتٌ مِنَ الْجِنِّ أَنَا آتِيكَ بِهِ قَبْلَ أَنْ تَقُومَ مِنْ مَقَامِكَ ۖ وَإِنِّي عَلَيْهِ لَقَوِيٌّ أَمِينٌ ۳۹قَالَ الَّذِي عِنْدَهُ عِلْمٌ مِنَ الْكِتَابِ أَنَا آتِيكَ بِهِ قَبْلَ أَنْ يَرْتَدَّ إِلَيْكَ طَرْفُكَ ۚ فَلَمَّا رَآهُ مُسْتَقِرًّا عِنْدَهُ قَالَ هَٰذَا مِنْ فَضْلِ رَبِّي لِيَبْلُوَنِي أَأَشْكُرُ أَمْ أَكْفُرُ ۖ وَمَنْ شَكَرَ فَإِنَّمَا يَشْكُرُ لِنَفْسِهِ ۖ وَمَنْ كَفَرَ فَإِنَّ رَبِّي غَنِيٌّ كَرِيمٌ ۴۰

Translation

پھر اعلان کیا کہ میرے اشراف هسلطنت ! تم میں کون ہے جو اس کے تخت کو لے کر آئے قبل اس کے کہ وہ لوگ اطاعت گزار بن کر حاضر ہوں. تو جّنات میں سے ایک دیو نے کہا کہ میں اتنی جلدی لے آؤں گا کہ آپ اپنی جگہ سے بھی نہ اٹھیں گے میں بڑا صاحبِ قوت اور ذمہ دار ہوں. اور ایک شخص نے جس کے پاس کتاب کا ایک حصہّ علم تھا اس نے کہا کہ میں اتنی جلدی لے آؤں گا کہ آپ کی پلک بھی نہ جھپکنے پائے اس کے بعد سلیمان نے تخت کو اپنے سامنے حاضر دیکھا تو کہنے لگے یہ میرے پروردگار کا فضل و کرم ہے وہ میرا امتحان لینا چاہتا ہے کہ میں شکریہ ادا کرتا ہوں یا کفرانِ نعمت کرتا ہوں اور جو شکریہ ادا کرے گا وہ اپنے ہی فائدہ کے لئے کرے گا اور جو کفران هنعمت کرے گا اس کی طرف سے میرا پروردگار بے نیاز اور کریم ہے.

Tafseer

									(38) قَالَ يَآ اَيُّـهَا الْمَلَاُ اَيُّكُمْ يَاْتِيْنِىْ بِعَرْشِهَا قَبْلَ اَنْ يَّاْتُوْنِىْ مُسْلِمِيْنَ 
(39) قَالَ عِفْرِيْتٌ مِّنَ الْجِنِّ اَنَا اٰتِيْكَ بِهٖ قَبْلَ اَنْ تَقُوْمَ مِنْ مَّقَامِكَ ۖ وَاِنِّىْ عَلَيْهِ لَقَوِىٌّ اَمِيْنٌ 
(40) قَالَ الَّـذِىْ عِنْدَهٝ عِلْمٌ مِّنَ الْكِتَابِ اَنَا اٰتِيْكَ بِهٖ قَبْلَ اَنْ يَّرْتَدَّ اِلَيْكَ طَرْفُكَ ۚ فَلَمَّا رَاٰهُ مُسْتَقِرًّا عِنْدَهٝ قَالَ هٰذَا مِنْ فَضْلِ رَبِّيْۖ لِيَبْلُوَنِـىٓ ءَاَشْكُـرُ اَمْ اَكْفُرُ ۖ وَمَنْ شَكَـرَ فَاِنَّمَا يَشْكُـرُ لِنَفْسِهٖ ۖ وَمَنْ كَفَرَ
  فَاِنَّ رَبِّىْ غَنِىٌّ كَرِيْـمٌ 

  ترجمہ

(38) (سلیمان نے )کہا : اے سردارو! تم میں سے کون شخض اس کا تخت ، ان کے مجھ تک پہنچنے سے پہلے لاسکتا ہے۔
(39) جنوں میں سے ایک عفریت نے کہا : میں اسے آپ کے حلس سے اٹھنے سے پہلے آپ کے پاس لےآوں گا اور میں اس کو لانے کی طاقت بھی رکھتا ہوں اور 
 امین بھی ہوں۔
(40) لیکن جس کے پاس (آسمانی) کتاب کا کچھ علم تھا، اس نے کہا ، میں اسے آپ کے پلک جھپکنے سے پہلے لے آوں گا اور جب سلیمان نے اس (تخت) کو اپنے پاس موجود
  دیکھا تو کہا کہ یہ سب میرے پروردگار فضل سے ہے تاکہ وہ مجھے آزمائے کہ کیا میں اس کا شکرادا کرتا ہوں یا کفران نعمت ، کیونکہ جو شخص شکر کرتا ہے وہ
  اپنے ہی فائدے میں شکرکرتا ہے اور جوکفران نعمت کرتا ہے ، سو میرا رب بے نیاز اور کریم ہے۔