2- کچھ سبق آموز باتیں
فَلَمَّا جَاءَ سُلَيْمَانَ قَالَ أَتُمِدُّونَنِ بِمَالٍ فَمَا آتَانِيَ اللَّهُ خَيْرٌ مِمَّا آتَاكُمْ بَلْ أَنْتُمْ بِهَدِيَّتِكُمْ تَفْرَحُونَ ۳۶ارْجِعْ إِلَيْهِمْ فَلَنَأْتِيَنَّهُمْ بِجُنُودٍ لَا قِبَلَ لَهُمْ بِهَا وَلَنُخْرِجَنَّهُمْ مِنْهَا أَذِلَّةً وَهُمْ صَاغِرُونَ ۳۷
اس کے بعد جب قاصد سلیمان کے پاس آیا تو انہوں نے کہا کہ تم اپنے مال سے میری امداد کرنا چاہتے ہو جب کہ جو کچھ خدا نے مجھے دیا ہے وہ تمہارے مال سے کہیں زیادہ بہتر ہے جاؤ تم خود ہی اپنے ہدیہ سے خوش رہو. جاؤ تم واپس جاؤ اب میں ایک ایسا لشکر لے کر آؤں گا جس کا مقابلہ ممکن نہ ہوگا اور پھر سب کو ذلّت و رسوائی کے ساتھ ملک سے باہر نکالوں گا.
2- کچھ سبق آموز باتیں :-
داستان کے اس حصے میں بھی چند سبق آموز باتیں موجود ہیں جو پر معانی آیات میں موجود ہیں ۔ مثلا :
الف: لشکر کشی کا یہ ہدف نہیں تھا کہ انسانوں کا قتل عام کیا جائے بلکہ اس کا مقصد دشمن کو اس حد تک ڈرانا تھاکہ وہ مقابلے کی جرات نہ کرسکے (جنود لا قبل لهم
بها)۔
یہ تعبیر بعینہٖ اس آیت کے مترادف بے جس میں مسلمانوں کس حکم دیا گیا ہے:
واعدوالهم ما استطعتم من قوة ...... ترهبون به عد والله
(الانفال / 60)۔
اس قدر طاقت فراهم کرد کہ دشمن پراس کا خوف طاری ہوجائے۔
ب: حضرت سلیمان علیہ السلام نے اپنے مخالفین کو قتل کی دھمکی نہیں دی بلکہ انھیں ان کے محلات سے ذلت و خواری کے ساتھ نکال باہر کرنے کی دھمکی دی ہے۔
۔-----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
؎1 تفسیر روح البیان ، اسی آیت کے ذیل میں۔
۔----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
ج : حضرت سلیمان علیہ السلام نے اپنے مخالفین کو غفلت میں نہیں ڈالا کہ بلکہ انھیں حملہ کرنے کی صاف صاف دھمکی
د : جناب سلیمان علیہ السلام دوسروں کے مال پر نظریں نہیں ڈالتے بلکہ فرماتے ہیں:
جو کچھ خدا نے مجھے عطا فرمایا ہے وہ سب سے بہتر ہے ۔ وہ خدا کی عنایات کو مادی اور مالی چیزوں میں منحصر نہیں سمجتے بلکہ علم و ایمان اور معنوی عطاء و
بخشش پر نازاں ہیں۔