1- زہد مادی وسائل سے استفادہ کرنے کا نام نہیں
فَلَمَّا جَاءَ سُلَيْمَانَ قَالَ أَتُمِدُّونَنِ بِمَالٍ فَمَا آتَانِيَ اللَّهُ خَيْرٌ مِمَّا آتَاكُمْ بَلْ أَنْتُمْ بِهَدِيَّتِكُمْ تَفْرَحُونَ ۳۶ارْجِعْ إِلَيْهِمْ فَلَنَأْتِيَنَّهُمْ بِجُنُودٍ لَا قِبَلَ لَهُمْ بِهَا وَلَنُخْرِجَنَّهُمْ مِنْهَا أَذِلَّةً وَهُمْ صَاغِرُونَ ۳۷
اس کے بعد جب قاصد سلیمان کے پاس آیا تو انہوں نے کہا کہ تم اپنے مال سے میری امداد کرنا چاہتے ہو جب کہ جو کچھ خدا نے مجھے دیا ہے وہ تمہارے مال سے کہیں زیادہ بہتر ہے جاؤ تم خود ہی اپنے ہدیہ سے خوش رہو. جاؤ تم واپس جاؤ اب میں ایک ایسا لشکر لے کر آؤں گا جس کا مقابلہ ممکن نہ ہوگا اور پھر سب کو ذلّت و رسوائی کے ساتھ ملک سے باہر نکالوں گا.
چند ایک نکات
1- زہد مادی وسائل سے استفادہ کرنے کا نام نہیں:-
یہ بات قابل تو یہ ہے کہ خدا کے کسی بھی دین میں زہد کا معنی یہ نہیں کہ انسان مال و دولت اور دنیاوی وسائل سے فائدہ نہ اٹھائے بلکہ زہدگی حقیقت یہ ہے کہ وہ ان چیزوں کے لاکھوں"اسیر" ہوکر نہ رہ جائے بلکہ ان پر "امیر" ہوکر رہے ۔ خدا کے عظیم پیغمبر جناب سلیمانؑ نے ملکہ سبا کے قمیتی تحائف کو ٹھکرا کر یہ بات ثابت کر دی کہ وہ "امیر" ہیں "اسیر" نہیں۔
حضرت امام جعفرصادق سے مروی ایک حدیث :
الدنيا اصغرقدرًا عند الله و عندانبياته واوليائه من ان يفرحوا
بشئ منها ، ويحزنوا عليه فلا ينبغي العالم ولا لعاقل ان يفرح
بعرض الدنيا
دنیاخداوند عالم ، اس کے انبیاء اور اولیاء کے نزدیک اس پست اور حقیر ہے که وه اس
سے کبھی خوش نہیں ہوتے، اور نہ ہی اس کے ہاتھ سے چلے جانے سے غمگین ہوتے ہیں بنابریں
کسی عالم اور عاقل کے لیے مناسب نہیں ہے کہ وہ دنیا کی متاع نا پائیدار سرخوشی منائے۔ ؎1