مجھے مال کے ذریعہ نہ ورغلاؤ
فَلَمَّا جَاءَ سُلَيْمَانَ قَالَ أَتُمِدُّونَنِ بِمَالٍ فَمَا آتَانِيَ اللَّهُ خَيْرٌ مِمَّا آتَاكُمْ بَلْ أَنْتُمْ بِهَدِيَّتِكُمْ تَفْرَحُونَ ۳۶ارْجِعْ إِلَيْهِمْ فَلَنَأْتِيَنَّهُمْ بِجُنُودٍ لَا قِبَلَ لَهُمْ بِهَا وَلَنُخْرِجَنَّهُمْ مِنْهَا أَذِلَّةً وَهُمْ صَاغِرُونَ ۳۷
اس کے بعد جب قاصد سلیمان کے پاس آیا تو انہوں نے کہا کہ تم اپنے مال سے میری امداد کرنا چاہتے ہو جب کہ جو کچھ خدا نے مجھے دیا ہے وہ تمہارے مال سے کہیں زیادہ بہتر ہے جاؤ تم خود ہی اپنے ہدیہ سے خوش رہو. جاؤ تم واپس جاؤ اب میں ایک ایسا لشکر لے کر آؤں گا جس کا مقابلہ ممکن نہ ہوگا اور پھر سب کو ذلّت و رسوائی کے ساتھ ملک سے باہر نکالوں گا.
تفسیر
مجھے مال کے ذریعہ نہ ورغلاؤ
ملکہ سبا کے روانہ کیے ہوئے افراد نے سرزمین یمن کو خیرباد کہا اور شام اور جناب سلیمان کے مرکز حکومت کی طرف چل دیئے۔ دل میں ہی تصورلیے ہوئے سلیمان ان کے تحائف قبول
کرلیں گئے اور خوش ہوکر انھیں شاباش کہیں گئے ۔
لیکن جوں ہی وہ سلیمان کے حضور پیش ہوئے (فلماجاء سليمان) تو وہاں پرعجیب و غریب منظر دیكھا سلیمان نے نہ صرف ان کا استقبال نہیں کیا بلکہ انھیں یہ بھی کہا
"کیا تم یہ چاہتے ہو کہ (اپنے) مال کے ذریعے میری مدد کرو؟ حالانکہ یہ مال میری نگاہ میں بالکل بے قیمتی چیز ہے جو کچھ زمانے مجھے عطا فرمایا ہے اس سے کئی حصے بہتر
اورکہیں قیمتی ہے (قال اتمدونن بمال فما أتاني الله خير مما تاکیم).
نبوت ، علم و دانش، بات اور تقوی کے مقابلے میں مال کی کیا حیثیت ہے؟
"یہ توتم ہو جو اپنے تحفے تحائف پر خوش ہوتے ہو": (بل انتم بهديكم تفرحون)" ۔
جی ہاں! یہ تمہی لوگ ہو کہ اس قسم کے قسم او رقیمتی تحفے اگر میرے لیے بھی بھیجو تو اس قدر مسروروشادماں نظر آتے ہو کہ خوشی کی چمک تمھاری آنکھوں سے نمایاں ہوتی ہے لیکن
میری نگاہوں میں ان کی کوئی قدروقیمت نہیں ہے۔
اس طرح سے جناب سلیمان علیہ اسلام نے ان کی اقدار اور معیار کی نفی کر دی اور تحائف کو حقارت کے ساتھ ٹھکرا کر ثابت کر دیا ان کے نزدیکی اقدار اور میارکچھ
اور ہیں۔ دنیا پرستوں کے مقرر کردہ معیار جن کے سامنے ہیج اور بے قیمت ہیں۔
جناب سلیمان نے حق و باطل کے مسئلے میں اپنے اس عزم بالجزم کو ثابت کرنے کے لیے ملکہ سبا کے سبا خاص ایلچی سے فرمایا: تو ان کی طرف واپس پلٹ جاؤ (اور
اپنے یہ تحفے نھی ی ساتھ کے جار مین کی ضرور یاد رکھوکہ تم کی ٹکرے کر ان کے پاس بہت علبہ بن رہے ہیں ان کے مقابلے کی طاقت ان میں نہیں ہوئی ( ارجع اليهم فتاتينهو بجنوده
قبل لهم بها)
اور ہم انھیں اس سرزمین سے ذلیل کرکے نکال دیں گے اور وہ نہایت ہی حقیر ہوں گے ( و لنخرجهه منها اذلة وهم صاغرون
درحقیقت "اذلة" پہلاحال ہے اور "هم صاغرون " دوسراحال جس کا معنی یہ ہے کہ نہ صرف اسی و سرزمین سے انہیں نکال با کریں گے کہ نہایت ہی ذلت اور حقارت
کی حالت میں انہیں ملک بدر کر دیئے اور وہ اپنا محلات و قصور مال ودولت اور جاہ و جلال صحیح سے بات تو میں نے ان کا کون ہیں جن کے سامنے جھک کر ہماری طرف رجوع نہیں کیا
کہ کر وفریب کے ذریعے ہم سے رابط کیا ہے۔
جناب سلیمان کی یہ دھمکی ان لوگوں کے نزدیک صحیح اور قابل عمل بھی تھی کیونکہ انھوں جناب سلیمان اور ان کے جاہ و جلال فوج لشکر کو نزدیک سے دیکھا تھا۔
پہلے کی آیات جو ہم پڑھ چکے ہیں اگر ان کی طرف رجوع کی جائے تومعلوم ہوگا کہ جناب سلیمان نے ان سے دو چیزوں کاتقاضا کیا تھا کیا تو " برتری طلبی کو ترک کر دیں" اور "دوسرے حق کے آگے جھک جائیں"۔
اہل سبا کا ان دونوں چیزوں کا مثبت جواب نہ دینا اور اس کی بجائے تحائف کا بھیجنا اس بات کی دلیل تھاکہ وہ حق کو قبول نہیں کرتے اور نہ ٓہی برتری طلبی سے باز آتے ہیں لہذا سلمان نے انھیں پر فوجی دباؤ ڈالنے کی کوشش کی ۔
جبکہ ملکہ سبا نے اور اس کے درباریوں نے دیں اور ثبوت یا معجزہ وغیرہ کا مطالبہ کیا تھا لہذا انھیں موقع فراہم کیا کہ مزید تحقیق کریں لیکن تحفوں کے بھیجنے سے معلوم ہوتا تھا کہ وہ انکار کرچکے ہیں ۔
یہ بات بھی ہمیں معلوم ہے کہ جناب سلیمان کو ہدہد نے جو ناخوشگوار سنائی تھی وہ یہ کہ ملک سبا کے لوگ سورج پرست اور غیب و حضور کے جانے والے اسے خدا سے روگردانی کیے ہوئے ہیں اورمخلوق کے آگے جھکے ہوئے ہیں۔
حضرت سلیمان کو اسی بات سے سخت دکھ پہنچا تھا اور جانتے ہیں کہ بت پرستی ایک ایسی بات ہے جس کے سامنے کوئی بھی خدائی دین خاموش تماشائی نہیں بن سکتا اورنہ ہی بت پرستوں کو ایک مذہبی اقلیت مان سکتا ہے کہ بوقت ضرورت زبردستی بھی بتکدوں کو مسماراور شرک و بت پرستی کو نیست و نابود کرسکتاہے۔ مندرجہ بالا توضیحات سے بخوبی معلوم ہوتا ہے سلیمان کی آدھمکی" لا اکراہ فی الدین "کے بنیادی اصول
بھی متصادم نہیں ہے کیونکر بت پرستی کوئی دین نہیں بلکہ ایک خرافات اور راہ حق سے انحراف ہے۔