Tafseer e Namoona

Topic

											

									  4- بادشاہوں کی علامت

										
																									
								

Ayat No : 27-35

: النمل

قَالَ سَنَنْظُرُ أَصَدَقْتَ أَمْ كُنْتَ مِنَ الْكَاذِبِينَ ۲۷اذْهَبْ بِكِتَابِي هَٰذَا فَأَلْقِهْ إِلَيْهِمْ ثُمَّ تَوَلَّ عَنْهُمْ فَانْظُرْ مَاذَا يَرْجِعُونَ ۲۸قَالَتْ يَا أَيُّهَا الْمَلَأُ إِنِّي أُلْقِيَ إِلَيَّ كِتَابٌ كَرِيمٌ ۲۹إِنَّهُ مِنْ سُلَيْمَانَ وَإِنَّهُ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ ۳۰أَلَّا تَعْلُوا عَلَيَّ وَأْتُونِي مُسْلِمِينَ ۳۱قَالَتْ يَا أَيُّهَا الْمَلَأُ أَفْتُونِي فِي أَمْرِي مَا كُنْتُ قَاطِعَةً أَمْرًا حَتَّىٰ تَشْهَدُونِ ۳۲قَالُوا نَحْنُ أُولُو قُوَّةٍ وَأُولُو بَأْسٍ شَدِيدٍ وَالْأَمْرُ إِلَيْكِ فَانْظُرِي مَاذَا تَأْمُرِينَ ۳۳قَالَتْ إِنَّ الْمُلُوكَ إِذَا دَخَلُوا قَرْيَةً أَفْسَدُوهَا وَجَعَلُوا أَعِزَّةَ أَهْلِهَا أَذِلَّةً ۖ وَكَذَٰلِكَ يَفْعَلُونَ ۳۴وَإِنِّي مُرْسِلَةٌ إِلَيْهِمْ بِهَدِيَّةٍ فَنَاظِرَةٌ بِمَ يَرْجِعُ الْمُرْسَلُونَ ۳۵

Translation

سلیمان نے کہا کہ میں ابھی دیکھتا ہوں کہ تو نے سچ کہا ہے یا تیرا شمار بھی جھوٹوں میں ہے. یہ میرا خط لے کر جا اور ان لوگوں کے سامنے ڈال دے پھر ان کے پاس سے ہٹ جا اور یہ دیکھ کہ وہ کیا جواب دیتے ہیں. اس عورت نے کہا کہ میرے زعمائ سلطنت میری طرف ایک بڑا محترم خط بھیجا گیا ہے. جو سلیمان کی طرف سے ہے اور اس کا مضمون یہ ہے کہ شروع کرتا ہوں خدا کے نام سے جو بڑا رحمٰن و رحیم ہے. دیکھو میرے مقابلہ میں سرکشی نہ کرو اور اطاعت گزار بن کر چلے آؤ. زعمائ مملکت! میرے مسئلہ میں رائے دو کہ میں تمہاری رائے کے بغیر کوئی حتمی فیصلہ نہیں کرسکتی. ان لوگوں نے کہا کہ ہم صاحبانِ قوت اور ماہرین جنگ و جدال ہیں اور اختیار بہرحال آپ کے ہاتھ میں ہے آپ بتائیں کہ آپ کا حکلَ کیا ہے. اس نے کہا کہ بادشاہ جب کسی علاقہ میں داخل ہوتے ہیں تو بستی کو ویران کردیتے ہیں اور صاحبانِ عزّت کو ذلیل کردیتے ہیں اور ان کا یہی طریقہ کار ہوتا ہے. اور میں ان کی طرف ایک ہدیہ بھیج رہی ہوں اور پھر دیکھ رہی ہوں کہ میرے نمائندے کیا جواب لے کر آتے ہیں.

Tafseer

									 4- بادشاہوں کی علامت :- 
 ان آیات سے بخوبی سمجھا جاسکتا ہے کہ استبدادی حکومت اور سلطنت ہر جگہ پرفساد و تباہی اور کسی قوم  کے باعزت افراد کو ذلیل کرنے کا اہم ذریعہ ہے کیونکہ اس 

میں باحیثیت افراد کو ٹھکانے لگا دیا جاتا ہے اور چاپلوس اور خوشامدی لوگوں کو آگے لایا جاتا ہے ہر قدم پر نہیں اپنا مفاد عزیز ہوتاہے انھیں صرف تھے تحائف بھیجنے والوں رشوت دینے 

والوں اورز روجوہرات پیش کرنے والوں سے ہی سروکار ہوتا ہے پھر جو ظالم لوگ ان امور پر دسترس رکھتے ہیں فطری طور پر ان کے منظور نظر اور خوب خاطر ہوتے ہیں ۔ 
 بادشاہوں کا دھیان ہی ہمیشہ مقام و منصب ، تحفے تحائف اور زروجواہر کی طرف ہوتا ہے ۔ جبکہ انبیاء الٰہی کے سامنے امت کی اصلاح کے علاوہ اور کچھ نہیں ہوتا ۔ 
۔----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
  ؎1     مشورے کے بارے میں مزید وضاحت کے لیے تفسیر نمونہ جلد 3 میں سورہ آل عمران کی آیت 159 کی تفسیر ملاخطہ فرمائیں۔