3- اس داستان کے اہم اشارے
قَالَ سَنَنْظُرُ أَصَدَقْتَ أَمْ كُنْتَ مِنَ الْكَاذِبِينَ ۲۷اذْهَبْ بِكِتَابِي هَٰذَا فَأَلْقِهْ إِلَيْهِمْ ثُمَّ تَوَلَّ عَنْهُمْ فَانْظُرْ مَاذَا يَرْجِعُونَ ۲۸قَالَتْ يَا أَيُّهَا الْمَلَأُ إِنِّي أُلْقِيَ إِلَيَّ كِتَابٌ كَرِيمٌ ۲۹إِنَّهُ مِنْ سُلَيْمَانَ وَإِنَّهُ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ ۳۰أَلَّا تَعْلُوا عَلَيَّ وَأْتُونِي مُسْلِمِينَ ۳۱قَالَتْ يَا أَيُّهَا الْمَلَأُ أَفْتُونِي فِي أَمْرِي مَا كُنْتُ قَاطِعَةً أَمْرًا حَتَّىٰ تَشْهَدُونِ ۳۲قَالُوا نَحْنُ أُولُو قُوَّةٍ وَأُولُو بَأْسٍ شَدِيدٍ وَالْأَمْرُ إِلَيْكِ فَانْظُرِي مَاذَا تَأْمُرِينَ ۳۳قَالَتْ إِنَّ الْمُلُوكَ إِذَا دَخَلُوا قَرْيَةً أَفْسَدُوهَا وَجَعَلُوا أَعِزَّةَ أَهْلِهَا أَذِلَّةً ۖ وَكَذَٰلِكَ يَفْعَلُونَ ۳۴وَإِنِّي مُرْسِلَةٌ إِلَيْهِمْ بِهَدِيَّةٍ فَنَاظِرَةٌ بِمَ يَرْجِعُ الْمُرْسَلُونَ ۳۵
سلیمان نے کہا کہ میں ابھی دیکھتا ہوں کہ تو نے سچ کہا ہے یا تیرا شمار بھی جھوٹوں میں ہے. یہ میرا خط لے کر جا اور ان لوگوں کے سامنے ڈال دے پھر ان کے پاس سے ہٹ جا اور یہ دیکھ کہ وہ کیا جواب دیتے ہیں. اس عورت نے کہا کہ میرے زعمائ سلطنت میری طرف ایک بڑا محترم خط بھیجا گیا ہے. جو سلیمان کی طرف سے ہے اور اس کا مضمون یہ ہے کہ شروع کرتا ہوں خدا کے نام سے جو بڑا رحمٰن و رحیم ہے. دیکھو میرے مقابلہ میں سرکشی نہ کرو اور اطاعت گزار بن کر چلے آؤ. زعمائ مملکت! میرے مسئلہ میں رائے دو کہ میں تمہاری رائے کے بغیر کوئی حتمی فیصلہ نہیں کرسکتی. ان لوگوں نے کہا کہ ہم صاحبانِ قوت اور ماہرین جنگ و جدال ہیں اور اختیار بہرحال آپ کے ہاتھ میں ہے آپ بتائیں کہ آپ کا حکلَ کیا ہے. اس نے کہا کہ بادشاہ جب کسی علاقہ میں داخل ہوتے ہیں تو بستی کو ویران کردیتے ہیں اور صاحبانِ عزّت کو ذلیل کردیتے ہیں اور ان کا یہی طریقہ کار ہوتا ہے. اور میں ان کی طرف ایک ہدیہ بھیج رہی ہوں اور پھر دیکھ رہی ہوں کہ میرے نمائندے کیا جواب لے کر آتے ہیں.
3- اس داستان کے اہم اشارے :
حضرت سلیمان علیہ السلام کی داستان کے اس حصے میں بھی بعض اہم مطالب کی طرف مختصراشارے ملتے ہیں۔
1- انبیاء کی دعوت ہر قسم کی خوابش برتری اور تکبر کی نفی کرتی ہے جو درحقیقت ہر قسم کے استعمارنفی و قانون حق کے سامنے سر تسلیم خم کرنے کا دوسرا
نام ہے۔
2- جب ملکہ سباکے مصاحبین نے جنگ کے لیے آمادگی کا اعلان کیا تو چونکہ اس کی زنانہ طبع نازک جنگ کے حق نہیں تھی لہذا اس نے ان لوگوں کی توجہ
دوسرے مسائل کی جانب موڑ دی ۔
3- اس کے علاوہ اگر وہ ان کے جنگ پر مبنی مشورے کومان لیتی تو راہ حقیقت سے ہٹ جاتی اور جیسا کہ ہم آگے پڑھیں گئے کہ اس نے مقاصد کے ذریعے تنے
تھانت بھیج کر سلیان کی ہیں طرح سے آزمائش کی اس کے بہترین نتایج ظاہر ہوئے جو ق خوراک کی ذات کے لیے بھی اور ملک سبا کے باشندوں کے لیے بھی نہایت مفیدثابت ہوئے اوراس
بات کا موجب بن گئے کہ وہ حق کی راہ کو پالیں اور خوں ریزی سے بچ جائیں۔
4- اس واقعے سے یہ بات بھی واضح ہوجاتی ہے ضروری نہیں کہ شوری کا نظام ہمیشہ حق پر انجام پذیر ہو ۔ کیونکہ یہاں پر
۔----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
؎1 وسائل الشعیہ جلد 8 ص 437 (کتاب الحج ابواب العشرة باب 33)۔
؎2 تفسیر فخرازی ، انھی آیات کے ذیل میں۔
۔--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
ملکہ سبا کے اکثر ساتھیوں کا یہ نظریہ تھا کہ فوجی طاقت کا مظاہرہ دوسری تمام باتوں پر فوقیت رکھتا ہے جبکہ ملکہ کا نظریہ اس کے بالکل برعکس تھا اور اس داستان کے آخرمیں جاکر
علوم ہوگا کہ حق ملکہ کے ساتھ تھا۔
یہاں پر یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ اس قسم کے مشورے ان مشوروں سے بالکل جدا ہیں جو آج کل ہمارا معمول بن چکےہیں کیونکہ ہم اکثریت کے نظریے کو معیار
سمجھتے ہیں اور فیصلے کا حق اکثریت کو دیتے ہیں جبکہ اس کے مشوروں میں کسی قسم کے فیصلے کا حق عوام کے قائد کو ہوتا ہے اور مشیرلوگ صرف مشورہ ہی دے سکتے ہیں اور
مندرجہ ذیل آیت مشورے کی اسی دوسری قسم کی طرف اشارہ ہے :
شاورهم في الامر فاذ اعزمت فتوکل علی الله
اپنے کاموں میں ان سے مشورہ کرلیا کریں اور جب کوئی فیصلا کرلیں تو پھر خدا پر بھروسہ کریں(آل عمران / 159)
جبکہ سورہ شوریٰ کی آیت 38 کا ظاہرًا مشورے کی پہلی قسم کی طرف اشارہ ہے ، فرمایا گیا ہے :
و امرهم شورٰی بینهم
مومنین کا کا مشورے سے انجام پانا چاہیے ۔ ؎1
5- ملکہ سبا کے مشیروں نے اسے کہا کہ ہم صاب قوت اور جنگجو ہیں ۔ ممکن ہے کہ ان دولفظوں کی باہمی فرق یہ ہوکہ " قوة"
لشکر کی عظیم تعداد کی طرف اشارہ ہو اور" باس شد ید " ان کے جنگی کاموں اور طریقہ کار سے واقفیت اور فوج کی شجاعت کی کی طرف اشارہ ہو یعنی وه زبان حال سے یہ کہنا چاہتے
ہوں کہ ہم لشکر کی تعداد کے لحاظ سے بھی اور اس کی کیفیت کے لحاظ سے دشمن کے ساتھ لڑنے کے لیے بالکل آمادہ ہیں ۔