بادشاہ تباہیاں لاتے ہیں
قَالَ سَنَنْظُرُ أَصَدَقْتَ أَمْ كُنْتَ مِنَ الْكَاذِبِينَ ۲۷اذْهَبْ بِكِتَابِي هَٰذَا فَأَلْقِهْ إِلَيْهِمْ ثُمَّ تَوَلَّ عَنْهُمْ فَانْظُرْ مَاذَا يَرْجِعُونَ ۲۸قَالَتْ يَا أَيُّهَا الْمَلَأُ إِنِّي أُلْقِيَ إِلَيَّ كِتَابٌ كَرِيمٌ ۲۹إِنَّهُ مِنْ سُلَيْمَانَ وَإِنَّهُ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ ۳۰أَلَّا تَعْلُوا عَلَيَّ وَأْتُونِي مُسْلِمِينَ ۳۱قَالَتْ يَا أَيُّهَا الْمَلَأُ أَفْتُونِي فِي أَمْرِي مَا كُنْتُ قَاطِعَةً أَمْرًا حَتَّىٰ تَشْهَدُونِ ۳۲قَالُوا نَحْنُ أُولُو قُوَّةٍ وَأُولُو بَأْسٍ شَدِيدٍ وَالْأَمْرُ إِلَيْكِ فَانْظُرِي مَاذَا تَأْمُرِينَ ۳۳قَالَتْ إِنَّ الْمُلُوكَ إِذَا دَخَلُوا قَرْيَةً أَفْسَدُوهَا وَجَعَلُوا أَعِزَّةَ أَهْلِهَا أَذِلَّةً ۖ وَكَذَٰلِكَ يَفْعَلُونَ ۳۴وَإِنِّي مُرْسِلَةٌ إِلَيْهِمْ بِهَدِيَّةٍ فَنَاظِرَةٌ بِمَ يَرْجِعُ الْمُرْسَلُونَ ۳۵
سلیمان نے کہا کہ میں ابھی دیکھتا ہوں کہ تو نے سچ کہا ہے یا تیرا شمار بھی جھوٹوں میں ہے. یہ میرا خط لے کر جا اور ان لوگوں کے سامنے ڈال دے پھر ان کے پاس سے ہٹ جا اور یہ دیکھ کہ وہ کیا جواب دیتے ہیں. اس عورت نے کہا کہ میرے زعمائ سلطنت میری طرف ایک بڑا محترم خط بھیجا گیا ہے. جو سلیمان کی طرف سے ہے اور اس کا مضمون یہ ہے کہ شروع کرتا ہوں خدا کے نام سے جو بڑا رحمٰن و رحیم ہے. دیکھو میرے مقابلہ میں سرکشی نہ کرو اور اطاعت گزار بن کر چلے آؤ. زعمائ مملکت! میرے مسئلہ میں رائے دو کہ میں تمہاری رائے کے بغیر کوئی حتمی فیصلہ نہیں کرسکتی. ان لوگوں نے کہا کہ ہم صاحبانِ قوت اور ماہرین جنگ و جدال ہیں اور اختیار بہرحال آپ کے ہاتھ میں ہے آپ بتائیں کہ آپ کا حکلَ کیا ہے. اس نے کہا کہ بادشاہ جب کسی علاقہ میں داخل ہوتے ہیں تو بستی کو ویران کردیتے ہیں اور صاحبانِ عزّت کو ذلیل کردیتے ہیں اور ان کا یہی طریقہ کار ہوتا ہے. اور میں ان کی طرف ایک ہدیہ بھیج رہی ہوں اور پھر دیکھ رہی ہوں کہ میرے نمائندے کیا جواب لے کر آتے ہیں.
تفسیر
بادشاہ تباہیاں لاتے ہیں
حضرت سلیمان نے غور سے ہدہد کی باتیں سنیں اور سوچنے لگ گئے ۔ ممکن ہے ان کا زیادہ گمان یہی ہو کہ یہ خبر سچی ہو کہ اور اس کے جھوٹا ہونے پر کوئی دلیل بھی موجود
نہیں ہے لیکن چونکہ یہ بات معمولی نہ تھی کہ ایک ملک اور ایک بڑی قوم کی تفدیراس سے وابستہ تھی لہذا انھوں نے ایک فرد کی خبر پر اکتفا نہیں کیا بلکہ وہ اس حساس موضوع پرمذید تحقیق کرنا
چاہتے تھے۔
لہذا اس طرح فرمایا ہم اس بارے میں تحقیق کریں گے اور دیکھیں گے کہ آیا تو نے سچ کہا ہے یا جھوٹوں میں سے ہے (قال سنتظراصدقت ام كنت من الكاذبین)۔
اس بات سے بخوبی واضح ہوتا ہے کہ اہم اورنتیجہ خیز مسائل کے بارے میں توجہ دینی چاہیے خواہ اس کی اطلاع کسی معمولی سے فرد کی جانب سے کیوں نہ ملے ۔ اور جلد ہی
اس کے بارے میں تحقیقات کرنی چاہیے (جیساکہ "سنتظر" میں "سین" کا اقتضاء ہے)۔
سلیمان علیہ السلام نے نہ تو ہدہد جھوٹا کہا اور نہ ہی بغیر دلیل کے اس کی بات کو تسلیم کیا بلکہ اس بارے میں تحقیقات کا حکم صادر فرمایا۔
بہرحال سلیمانؑ نے ایک نہایت مختصرلیکن جامع خط تحریر فرمایا اور ہدہد کو دے کر کہا : "میرا یہ خط لے جاؤ اور ان کے پاس جاکرڈال دو پھرلوٹ آؤ اور ایک کونے میں ٹھہر جاؤ
اور دیکھو وہ کیا ردعمل کرتے ہیں ( اذهب بكت ابي هذا في فالقه اللهم ثم تول عنهم فانظر ماذا یرجعون )۔ ؎1
"القه اليهم" (تو ان کی طرف ڈال دے) کی تعبیر سے یوں معلوم ہوتا ہے کہ ہدہد کوحکم دیا گیا کہ اس خط کواس وقت ان کے پاس جا کر ڈال دیا جب ملکہ سباء اپنے درباریوں کے ساتھ
محفل جمائے ہوئے ہو ، تاکہ فراموشی اور اخفا کی کوئی گنجائش باقی نہ رہ جائے ۔یہاں سے یہ بات بھی واضح ہوجاتی ہے ک بعض مفسرین نے کہا ہے کہ ہدہد کے محل میں داخل ہو کر اس کے
سونے کے کمرے میں پہنچ گیا اورخط اس کے سینے یا گردن پرڈال دیا اس کے لیے کوئی خاص دلیل نہیں ہے اگرچہ بعد والی آیت میں ہے۔
اني القى الى کتاب کریم
میری طرف ایک اہم خط پھینکا گیا ہے۔
یہ آیت اس دعویٰ سے موافقت رکھتی ہے۔
ملکہ سبا نے خط کھولا اور اس کے مندرجات سے آگاہی حاصل کی۔ چونکہ اس نے اس سے پہلے سلیمانؑ کا نام اورشهرت سن رکھی تھی اورخط کے مندرجات سے بھی واضح ہوتا تھا
کہ جناب سلیمان نے سباء کے بارے میں سخت فیصلہ کرلیا ہے لہذا وہ گہری سوچ میں پڑگئی اور چونکہ ملک کے اہم ترین مسائل میں وہ اپنے مصاحبین سے مشورہ کیا کرتی تھی لہذا اس بارے میں
بھی انھیں اظہار خیال کی دعوت دی اوران سے مخاطب ہو کرکہا اے سردارو! اور بزرگو ایک نہایت ہی باوقار خط میری طرف پھینکا گیا ہے (قالت یا ایها الملوا اني القي الی کتاب کریم)۔
کیا سچ مچ ملکہ سبا نے چھٹی رساں کو نہیں دیکھا تھا اور خود خط کے اندر موجود قرائن سے اس نے خط کی حقانیت کو تسلیم کرلیا تھا اور اسے یہ احتمال بھی پیدا نہ ہوا کہ یہ خط
جلعی ہے۔
یا اپنی آنکھوں سے قاصد کو دیکھ لیا تھا اور اس کی محیر العقول کیفیت بذات خود ا س بات کی دلیل تھی کہ اس کے پس پردہ یقینًا کوئی حقیقت کار فرما ہے اور کوئی معمولی بات نہیں
ہے بات خواہ کچھ بھی ہو اسے خط پر یقین آگیا۔
ملکہ نے یہ کیوں کہا کہ یہ بہت ہی باعظمت خط ہے یا تو اس لیے کہ اس خطے کے مطالب بہت ہی گہرے تھے یاپھراس لیے
۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
؎1 بعض مفسرین کہتے ہیں کہ "ثم تول عنہم" معنی کے لحاظ سے مؤخرہے اور عبارت میں مقدم ہے اور تقدیر کی صورت میں یوں ہوگا" فانظرما وایرجون ثم تول عنهم " یہ اس لیے ہے کہ انھوں
نے اس جملے کو واپس قوم کی طرف سے واپس لوٹ آنے سے معنی میں لیا ہے جبکہ آیت کا ظاہری معنی یہ ہے کہ توان سے رخ پھیر کر ایک کونے میں انتظار کر کہ وہ کیا ردعمل کرتے ہیں۔
۔-----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
کہ اس کا آغاز خدا کے نام سے ہواتھا اور اختتام پر جناب سلیمانؑ کے صحیح دستخط تھے اور مہرلگی تھی۔ ؎1 یا اس کا لکھنے والا باعظمت انسان تھا مفسرین نے یہ مختلف احتمالات ذکر کیے ہیں
ممکن ہے کہ یہ سب احتمالات جامع مفہوم میں جمع ہوں کیونکہ یہ ایک دوسرے کے منافی نہیں ہیں۔
یہ ٹھیک ہے کہ وہ لوگ سورج پرست تھے لیکن ہم جانتے ہیں کہ بہت سے بت پرست خدا پر بھی ایمان رکھتے تھے اور اسے"رب الارباب" کا نام دیتے تھے اور اس کا احترام کرتے
تھے اورتعظیم بجا لاتے تھے۔
پھرملکہ سبا نے خط کا مضمون سناتے ہوئے کہا "یہ خط سلیمان کی طرف سے ہے اوراس کے مندرجات یوں ہیں: رحمان و رحیم کے نام سے ........(انه من سليمان و انه بسم الله
الرحمن الرحیم)۔ ؎1
"میں تمھیں نصیحت کرتا ہوں کہ تم میرے مقابلے میں سرکشی سے کام نہ لو اور حق کے سامنے تسلیم خم کرتے ہوئے میرے پاس آجاؤ (الاتعلوا علي و أتوني مسلمين )۔ ؎2
بعید معلوم ہوتا ہے کہ جناب سلمانؑ نے اسی عبارت اور انھی عربی الفاظ میں خط لکھا ہوبنا بریں ممکن ہے مندرجہ بالا جملے یا توصرف معنی کو بیان کر رہے ہیں یا پھر سلیمان کے خط
کا خلاصہ ہوں جسے ملکہ سباء نے ان افراد کے سامنے بیان کیا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اس خط کا مضمون درحقیقت صرف تین جملوں پرمشتمل ہے۔
پہلے جملے میں خدا کا نام اور اس کے رحمان اور رحیم ہونے ذکرہے۔
دوسرے جملے میں خواہشات نفسانی پرکنٹرول کرنے اور تکبر و برتری کی خواہش کو ترک کرنے کا حکم ہے کہ جو تمام انفرادی اور اجتمائی برائیوں کی جڑہے.
اور تیسرے جملے میں حق کے سامنے سر تسلیم خم کر دینے کا تذکرہ ہے ۔
اگر غور سے کام لیں تو معلوم ہوگا ، اس کے علاوہ کوئی اور ایسی چیز تھی بھی نہیں جو قابل ذکر ہو۔
حضرت سلیمان کے خط کا تذکرہ کرنے کے بعد اہل دربار کی طرف رخ کرکے ملکہ نے یوں کہا اے سردارو! اس اہم معاملے میں تو اپنی رائے کا اظہارکرو۔کیونکہ میں کوئی بھی اہم
کام تمھاری شرکت اور تماری رائے کے بغیر انجام نہیں دیتی ہوں (قالت یاایها المنوا فتونی فی امری ماکنت قاطعة امرًاحتی تشهدون )۔
اس رائے طلبی سے وہ ان کے درمیان اپنی حیثیت ثابت کرنا چاہتی تھی اور ان کی نظر اور توجہ اپنی طرف مبذول کرناچاہتی تھی
۔-------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
؎1 حدیث میں آیا ہے کہ کسی خط کی عظمت اور وقار اس کی مہرمیں ہے (تفسیر مجمع البیان ، المیزان اور قرطبی) ۔ ایک اور روایت میں ہے کہ جب پیغمبراسلام نے عجم کے لیے خط لکھنا چاہا
تو آپ سے عرض کی گئی کہ عجمی لوگ بغیر مہر کے خط قبول نہیں کرتے توآپ نے حکم دیا کہ ایک انگوٹھی تیار کروائی جائے جس کے نگینے پر یہ الفاظ کندہ ہوں لا اله الا الله محمد رسول الله اور
یہی مہر آپ مخط پر لگا دیا کرتے تھے (تفسیر قرطبی اسی آیت کےذیل میں)۔
؎2 ممکن ہے "الاتعلوا على" کا جملہ مجموعی طور پر "کتاب" سے بدل ہو اور ممکن ہے کہ یہاں پر "ان" بمعنی "ای" کے ہوا اور تفسیر کے لیے ہو اور یہ احتمال بھی ہے
اور ایک محذوف جملہ سے متعلق ہو اور وه "اوھیکم" ہوسکتا ہے ۔
۔-----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
تاکہ اس طرح سے وہ ان کی رائے اور اپنے فیصلے کو ہم آہنگ کرسکے ۔
"افتونی" "فتویٰ" کے مادہ سے ہے جس کا معنی ہے پچیدہ مسائل میں خوب سوچ بچار کرکے صحیح صحیح فیصلہ کرنا۔ چنانچہ اس طرح سے ملکہ سباء نے ایک تو ان کے آگے
مسئلے پیچیدگی کو واضح کردیا اور دوسرے اس نکتہ کی جانب ان کی توجہ مبذول کروائی کو اپنے نظریئے کا اظہار کرتے وقت خوب غورو فکر سے کام لیں تاکہ بعد میں غلط نتائج کا سامنا نہ کرنا
پڑے ۔
"تشهدون" "شہود" کے مادہ سے ہے جس کا معنی ہے ایسی موجودگی جو تعاون اورمشورے پرمشمتل ہو۔
اشرف قوم نے جواب میں کہا ہم بڑی طاقت والے اور جنگجو لوگ ہیں لیکن آخری فیصلہ آپ کے کہ ہاتھوں میں ہے دیکھیے . آپ کیا حکم دیتی ہیں؟ (قالوا نحن اولو قوۃ واولوا بأس شديد
و الامر اليك فانظري ماذ تمرین)۔
اس طرح سے انہوں نے ایک تو اس کے سامنے اپنی فرمانبرداری کا اظہار کر دیا اور دوسر اپنی قوت کا ذکر کرکے کا میدان میں لڑنے کا مشورہ بھی دے دیا۔
جب ملکہ نے ان کا جنگ کی طرف رجحان دیکھا اور اندرونی طور پر اس که قطعًا یہ ارادہ نہیں تھا تو ان جنگی اس کی پیاس کو بجھانے تیر صحیح حکمت عملی اختیار کرتے ہوئے
انہیں قانع کرنے کے لیے کہا "جب بادشاہ کسی آباد علا قے میں داخل ہوتے ہیں تو انھیں تباہ و برباد کر دیتے ہیں "(قالت ان الملوك اذا ادخلوا قرية فسدوها)۔
اور وہاں کے باعزت لوگوں کو ذلیل کر دیتے ہیں (وجعلوا اعزة اهلها اذلة)۔
کچھ کو مار ڈالنے ہیں ، کچھ کو قیدی بنالیتے ہیں اور کچھ کو بے گھر کر دیتے ہیں ۔ جہاں تک ان کے بس میں ہوتا ہے۔ لوٹ مار کرتے ہیں ۔
پھر اس نے تاکید کے طور پر بلکہ یقینی صورت میں کہا " جی ہاں ! وہ ایسا ہی کرتے ہیں" (وكذلك يفعلون) ۔
درحقيقت ملکہ سبا خود بھی ایک "بادشاہ" تھی لہذا وہ بادشاہوں سے اچھی طرح واقف تھی کہ بادشاہوں کی جنگی حکمت عملی دو حصوں پرمشتمل ہوتی ہے ایک تباہی اور بربادی اور
دوسرے باعزت افراد کو ذلیل کرنا کیونکہ انھیں تو صرف اپنے مفادات عزیز ہوتے ہیں، قوم وملت کے مفادات اوران کی سربلندی سے انھیں کوئی سروکار نہیں ہوتا۔لہذا عمومی طور پر یہ دونوں ایک
دوسرے کی ضد ہوتے ہیں۔
پھرملکہ نے کہا : ہمیں سب سے پہلے سلیمان اوراس کے ساتھیوں کو آزمانہ چاہیئے اور دیکھنا چاہیے کہ وہ واقع میں کیسے لوگ؟ آیا سلیمان بادشاہ ہے یا پیغمبر ہے ؟ تباہ کار ہے
مصلح ، اقوام ملل کو ذلیل کرتا ہے یا عزت بخشتا ہے ؟ تو اس کام کے لیے ہمیں تحفے تحائف سے استفادہ کرنا چا ہیے لہذا میں ان کی طرف کچھ معقول تحفے بھیجتی ہوں پھر دیکھوں گی کہ میرے
قاصد ان کی طرف سے لیا ردعمل لاتے ہیں (واني مرسلة اليهم بهدية مناظرة بھر یرجع المرسلون)۔
بادشاہوں کو تخفے تحائف سے بڑی محبت ہوتی ہے اوریہ تحفے اور ہدیے ہی ان کی بہت بڑی کمزوری ہوتے ہیں ۔ انھیں تحفے دے کر جھکایا جاسکتا ہے ہم دیکھیں گے اگر سلیمان نے
ان تحائف کو قبول کرلیا تو معلوم ہوجائے گا کہ وہ بادشاه ہے اور ہم بھی ڈٹ کر اس کا مقابلہ کریں گے اور اپنی پوری طاقت استعمال کریں گے کیونکہ پم بہرحال طاقتور ہیں اور اگر اس نے ان تحائف
سے بے رخی برتی اور اپنی باتوں پر ڈٹا رہا تو ہم سمجھ جائیں گے کہ وہ خداکا نبی ہے توایسی صورت میں ہمیں بھی عقل مندی سے کام لینا ہو ۔
ملکہ سباء نے جناب سلیمانؑ کے لیے کیا تحائف بھیجے ؟ اس بارے میں قرآن نے کچھ نہیں بتایا ۔ صرف کلمہ "ہدیہ" نکره کی صورت میں بیان کرکے اس کی عظمت کو ضرور واضح
کر دیا ہے البتہ مفسرین نے اس بارے میں بہت کچھ کہا ہے جن میں سے بعض باتیں مبالغہ آرائی اور افسانوی رنگ سے خالی نہیں ہیں ۔
بعض لوگوں نے لکھا ہے کہ پانچ سو بہترین غلام اور پانی بہترین کنیزیں ان کے لیے بھیجی گئیں ۔ غلاموں کو زنانہ لباس ہیں اور کنیزوں کو مردان لباس میں ، غلاموں کے کانوں میں
گوشوارے اور ہاتھوں میں کنگن اور کنیزوں کے خوبصورت ٹوپیاں تھیں ملکہ نے اپنے خط میں لکھا کہ اگر آپ اللہ کے نبی ہیں تو غلاموں اور کنیزوں کو ایک دوسرے سے الگ کردیں۔
انھیں زرد جواہرات اور قیمتی زیورات سے آرستہ کرکے بہترین سواریوں پر سوار کرکے اور جواہرات کی معقول مقدار دے کر جناب سلیمان کی خدمتیں میں بھیجا گیا۔
اور ساتھ ہی ملکہ نے قاصد کو یہ بات بھی سمجھادی کہ تمھارے دربار میں پہنچتے ہی اگر سلیمان نے تمھیں خشم آلور اور غضب ناک نگاہوں سے دیکھا تو سمجھالینا کہ بادشاہوں کا
انداز ہے اور اگر پیار بھرے انداز میں خندہ پیشانی کے ساتھ تمھیں شرف حضور بخشا تو سمجھ لینا کہ خدا کا نبی ہے۔