سوره نمل / آیه 27 - 35
قَالَ سَنَنْظُرُ أَصَدَقْتَ أَمْ كُنْتَ مِنَ الْكَاذِبِينَ ۲۷اذْهَبْ بِكِتَابِي هَٰذَا فَأَلْقِهْ إِلَيْهِمْ ثُمَّ تَوَلَّ عَنْهُمْ فَانْظُرْ مَاذَا يَرْجِعُونَ ۲۸قَالَتْ يَا أَيُّهَا الْمَلَأُ إِنِّي أُلْقِيَ إِلَيَّ كِتَابٌ كَرِيمٌ ۲۹إِنَّهُ مِنْ سُلَيْمَانَ وَإِنَّهُ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ ۳۰أَلَّا تَعْلُوا عَلَيَّ وَأْتُونِي مُسْلِمِينَ ۳۱قَالَتْ يَا أَيُّهَا الْمَلَأُ أَفْتُونِي فِي أَمْرِي مَا كُنْتُ قَاطِعَةً أَمْرًا حَتَّىٰ تَشْهَدُونِ ۳۲قَالُوا نَحْنُ أُولُو قُوَّةٍ وَأُولُو بَأْسٍ شَدِيدٍ وَالْأَمْرُ إِلَيْكِ فَانْظُرِي مَاذَا تَأْمُرِينَ ۳۳قَالَتْ إِنَّ الْمُلُوكَ إِذَا دَخَلُوا قَرْيَةً أَفْسَدُوهَا وَجَعَلُوا أَعِزَّةَ أَهْلِهَا أَذِلَّةً ۖ وَكَذَٰلِكَ يَفْعَلُونَ ۳۴وَإِنِّي مُرْسِلَةٌ إِلَيْهِمْ بِهَدِيَّةٍ فَنَاظِرَةٌ بِمَ يَرْجِعُ الْمُرْسَلُونَ ۳۵
سلیمان نے کہا کہ میں ابھی دیکھتا ہوں کہ تو نے سچ کہا ہے یا تیرا شمار بھی جھوٹوں میں ہے. یہ میرا خط لے کر جا اور ان لوگوں کے سامنے ڈال دے پھر ان کے پاس سے ہٹ جا اور یہ دیکھ کہ وہ کیا جواب دیتے ہیں. اس عورت نے کہا کہ میرے زعمائ سلطنت میری طرف ایک بڑا محترم خط بھیجا گیا ہے. جو سلیمان کی طرف سے ہے اور اس کا مضمون یہ ہے کہ شروع کرتا ہوں خدا کے نام سے جو بڑا رحمٰن و رحیم ہے. دیکھو میرے مقابلہ میں سرکشی نہ کرو اور اطاعت گزار بن کر چلے آؤ. زعمائ مملکت! میرے مسئلہ میں رائے دو کہ میں تمہاری رائے کے بغیر کوئی حتمی فیصلہ نہیں کرسکتی. ان لوگوں نے کہا کہ ہم صاحبانِ قوت اور ماہرین جنگ و جدال ہیں اور اختیار بہرحال آپ کے ہاتھ میں ہے آپ بتائیں کہ آپ کا حکلَ کیا ہے. اس نے کہا کہ بادشاہ جب کسی علاقہ میں داخل ہوتے ہیں تو بستی کو ویران کردیتے ہیں اور صاحبانِ عزّت کو ذلیل کردیتے ہیں اور ان کا یہی طریقہ کار ہوتا ہے. اور میں ان کی طرف ایک ہدیہ بھیج رہی ہوں اور پھر دیکھ رہی ہوں کہ میرے نمائندے کیا جواب لے کر آتے ہیں.
(27) قَالَ سَنَنْظُرُ اَصَدَقْتَ اَمْ كُنْتَ مِنَ الْكَاذِبِيْنَ
(28) اِذْهَبْ بِّكِـتَابِىْ هٰذَا فَاَلْقِهْ اِلَيْـهِـمْ ثُـمَّ تَوَلَّ عَنْـهُـمْ فَانْظُرْ مَاذَا يَرْجِعُوْنَ
(29) قَالَتْ يَآ اَيُّـهَا الْمَلَاُ اِنِّـىٓ اُلْقِىَ اِلَـىَّ كِتَابٌ كَرِيْـمٌ
(30) اِنَّهٝ مِنْ سُلَيْمَانَ وَاِنَّهٝ بِسْمِ اللّـٰهِ الرَّحْـمٰنِ الرَّحِيْـمِ
(31) اَلَّا تَعْلُوْا عَلَـىَّ وَاْتُوْنِىْ مُسْلِمِيْنَ
(32) قَالَتْ يَآ اَيُّـهَا الْمَلَاُ اَفْتُوْنِىْ فِـىٓ اَمْرِيْۚ مَا كُنْتُ قَاطِعَةً اَمْرًا حَتّـٰى تَشْهَدُوْنِ
(33) قَالُوْا نَحْنُ اُولُوْا قُوَّةٍ وَّّاُولُوْا بَاْسٍ شَدِيْدٍۙ وَّالْاَمْرُ اِلَيْكِ فَانْظُرِىْ مَاذَا تَاْمُرِيْنَ
(34) قَالَتْ اِنَّ الْمُلُوْكَ اِذَا دَخَلُوْا قَرْيَةً اَفْسَدُوْهَا وَجَعَلُوٓا اَعِزَّةَ اَهْلِهَآ اَذِلَّـةً ۚ وَكَذٰلِكَ يَفْعَلُوْنَ
(35) وَاِنِّىْ مُرْسِلَـةٌ اِلَيْـهِـمْ بِهَدِيَّةٍ فَنَاظِرَةٌ بِـمَ يَرْجِــعُ الْمُرْسَلُوْنَ
ترجمہ
(27) (سلیمان نے) کہا ہم تحقیق کریں گے اور دیکھیں گے کہ تو نے سچ کہا ہے یا جھوٹوں میں سے ہے۔
(28) میرا یہ خط لے جا اور اسے ان لوگوں کے سامنے ڈال دے کر لوٹ آ (ایک کونے میں چھپ کر)دیکھ کہ وہ کیا ردعمل کرتے ہیں؟
(29) (ملکہ سبا نے) کہا اے سردارو! یہ ایک نہایت ہی اہم خط میرے پاس گرایا گیا ہے۔
(30) یہ خط سلیمان کی طرف سے ہے اوراس طرح ہے : رحمٰن و رحیم اللہ کے نام سے ........
(31) تمھیں میری یہی نصیحت ہے کہ مجھ سے سرکشی نہ کرو اور حق سامنے سر تسلیم خم کرتے ہوئے میرے پاس آجاؤ۔
(32) (پھر) کہا اے سردارو! (اور اے بزرگو!) اس اہم معاملے میں اپنی رائے دو ، کیونکہ میں نے کوئی بھی اہم کام تمھاری شرکت کے بغیرانجام نہیں دیا۔
(33) (درباریوں نے) کہا ہم بہت طاقت ورہیں اور ہمارے پاس بہت جنگی قوت ہے لیکن آخری فیصلہ کرنا پھر بھی تیرے ہاتھ میں ہے تیرا حکم کیا ہے؟
(34) ملکہ نے کہا جب بادشاہ کی آبادی والے علاقے میں داخل ہوتے ہیں تو اسے تہس نہس کرکے رکھ دیتے ہیں اور وہاں کے باعزت لوگوں کو ذلیل کر دیتے ہیں۔ (جی ہاں)ان کے کام
ایسے ہی ہوتے ہیں۔
(35) میں (اس وقت جنگ کو خلاف مصلحت سمجھتی ہوں لہذا) ایک قیمتی تحفہ اس کی طرف بھیجتی ہوں تاکہ پتہ چل جائے کہ میرے ایلچی کیا خبرلاتے ہیں۔