1- نامہ نگاری کے آداب
قَالَ سَنَنْظُرُ أَصَدَقْتَ أَمْ كُنْتَ مِنَ الْكَاذِبِينَ ۲۷اذْهَبْ بِكِتَابِي هَٰذَا فَأَلْقِهْ إِلَيْهِمْ ثُمَّ تَوَلَّ عَنْهُمْ فَانْظُرْ مَاذَا يَرْجِعُونَ ۲۸قَالَتْ يَا أَيُّهَا الْمَلَأُ إِنِّي أُلْقِيَ إِلَيَّ كِتَابٌ كَرِيمٌ ۲۹إِنَّهُ مِنْ سُلَيْمَانَ وَإِنَّهُ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ ۳۰أَلَّا تَعْلُوا عَلَيَّ وَأْتُونِي مُسْلِمِينَ ۳۱قَالَتْ يَا أَيُّهَا الْمَلَأُ أَفْتُونِي فِي أَمْرِي مَا كُنْتُ قَاطِعَةً أَمْرًا حَتَّىٰ تَشْهَدُونِ ۳۲قَالُوا نَحْنُ أُولُو قُوَّةٍ وَأُولُو بَأْسٍ شَدِيدٍ وَالْأَمْرُ إِلَيْكِ فَانْظُرِي مَاذَا تَأْمُرِينَ ۳۳قَالَتْ إِنَّ الْمُلُوكَ إِذَا دَخَلُوا قَرْيَةً أَفْسَدُوهَا وَجَعَلُوا أَعِزَّةَ أَهْلِهَا أَذِلَّةً ۖ وَكَذَٰلِكَ يَفْعَلُونَ ۳۴وَإِنِّي مُرْسِلَةٌ إِلَيْهِمْ بِهَدِيَّةٍ فَنَاظِرَةٌ بِمَ يَرْجِعُ الْمُرْسَلُونَ ۳۵
سلیمان نے کہا کہ میں ابھی دیکھتا ہوں کہ تو نے سچ کہا ہے یا تیرا شمار بھی جھوٹوں میں ہے. یہ میرا خط لے کر جا اور ان لوگوں کے سامنے ڈال دے پھر ان کے پاس سے ہٹ جا اور یہ دیکھ کہ وہ کیا جواب دیتے ہیں. اس عورت نے کہا کہ میرے زعمائ سلطنت میری طرف ایک بڑا محترم خط بھیجا گیا ہے. جو سلیمان کی طرف سے ہے اور اس کا مضمون یہ ہے کہ شروع کرتا ہوں خدا کے نام سے جو بڑا رحمٰن و رحیم ہے. دیکھو میرے مقابلہ میں سرکشی نہ کرو اور اطاعت گزار بن کر چلے آؤ. زعمائ مملکت! میرے مسئلہ میں رائے دو کہ میں تمہاری رائے کے بغیر کوئی حتمی فیصلہ نہیں کرسکتی. ان لوگوں نے کہا کہ ہم صاحبانِ قوت اور ماہرین جنگ و جدال ہیں اور اختیار بہرحال آپ کے ہاتھ میں ہے آپ بتائیں کہ آپ کا حکلَ کیا ہے. اس نے کہا کہ بادشاہ جب کسی علاقہ میں داخل ہوتے ہیں تو بستی کو ویران کردیتے ہیں اور صاحبانِ عزّت کو ذلیل کردیتے ہیں اور ان کا یہی طریقہ کار ہوتا ہے. اور میں ان کی طرف ایک ہدیہ بھیج رہی ہوں اور پھر دیکھ رہی ہوں کہ میرے نمائندے کیا جواب لے کر آتے ہیں.
چند ایک نکات
1- نامہ نگاری کے آداب :-
مندرجہ بالا آیات میں اہل سبا کے نام حضرت سلیمان کے خط کے بارے میں جو کچھ مذکور ہے وہ طرزنامه نگاری کا ایک اعلٰی نمؤنہ ہے جواہم اور دور رس نتائج کا
حامل ہے جس نے خداوند رحمان ورحیم کے نام سے شروع ہو کر صرف دو جچے تلے جملوں میں تمام مفهوم کا خلاصہ بیان کر دیا ہے۔
اسلامی تاریخ نے اور واقعات سے معلوم ہوتا ہے کہ ہمارےعظیم پیشواؤں کا ہمیشہ اس بات پراصرار رہا ہے ک خط کو مختصر اور جامع انداز میں تحریر کیا جائے جو
تمام نمی تعلق اور بے فائدہ باتوں سے بالکل پاک ہو اور مبنی سوچ کو خط لکھا جائے ۔
حضرت امیرالمومنین علی بن ابی طالب علیہ اسلام نے اپنے ملازمین اور نمائندوں کو خط کے بارے میں باقاعدہ سرکاری طور پر یہ ہدایت جاری فرمائیں:
"ادقوا اقلامكم وقاربوا بین سطوركم ، و احذ فوا عني فضولكم ،
واقصدوا قصد المعاني ، و ایاکم و الاكثار ، فان اموال
المسلمين لاتحتمل الاضرار"
نوک قلم بارکی رکھو . سطروں کو نزدیک رکھو، میرے لیے لکھے جانے والے خطوط میں
زائد اور اضافی باتوں کو نکال دیا کرو ، معانی پر زیادہ توجہ رکھا کرو ، زیادہ باتوں سے پرہیز کرو
کیونکہ مسلمانوں کے اموال ایسی فضول خرچیاں برداشت کرنے کے قابل نہیں ہیں ۔؎ 1
نوک قلم کو باریک کرنے سے الفاظ چھوٹے لکھے جائیں گے اورسطور کو قریب کرکے لکھنے اور بے فائدہ اور اضافی چیزی روشن کر دینے سے صرف مسلمانوں کے
بیت المال کا ذاتی احوال میں بچت ہوگی بلکہ لکھنے اور پڑھنے والے کا وقت بھی بچے گا حتی کہ کبھی ایسا بھی نہیں ہوتا ہے کرتکلفات پرمنبی عبارت تحریرکرنے سے اصل مقصد ہی
فوت ہوجاتا ہے جس سے تو لکھنے والے کو کو کوئی فائدہ ہوتا ہے اور نہ ہی پڑھنے والا اس سے چیر کر پاتا ہے۔
گزشتہ دنوں معمول ہو گیا تھا کہ ابتدائے اسلام کے طریقہ کار کے ان کو خط لکھنے لگے تھے۔
ان میں القلاب، الفاظ اور تکلفات کی بھر مار ہوا کرتی تھی جس سے ایک قیمتی وقت ضائع ہوتا اور دوسرے سرمایہ ۔
یہ نکتہ بھی خصوصی طور پر قابل توجہ ہے کہ اس دور میں جبکہ کسی خط کو مخصوص قاصد کے ذریعے بھیجاجاتا اورجس کے پہنچانے کے لیے بسا اوقات کئی
ہفتے درکار ہوتے تھے اور کافی سرمایہ خرچ ہوتا تھا اس کے باوجود نہایت ہی اختصار کو مد نظر رکھا جاتا تھا جس کا نمونہ پیغمبرا کے خسرو پرویز قیصر روم اور ان جیسے دوسرے
لوگوں کے نام خطوط میں دیکھا جاسکتا۔
اصل بات یہ ہے کسی کا خط اس کی شخصت کو اسی طرح آئینہ دار ہوتا ہے جس طرح اس کا ایلچی اور پیغام رساں ۔ جیساکہ نہج البلاغہ میں حضرت علی کا فرمان
ہے:
رسولک ترجمان عقلك وكتابك ابلغ من ينطق عنك
تمھارا ایلچی تمھاری عقل کا ترجمان ہوتا ہے اور تمھارا خط تمھاری طرف سے سب سے بہتر بات کرنے والا ہوتا ہے۔ ؎2
حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:
"يستدل بكتاب الرجل على عقله ، و موضع بصيرته، وبرسوله على فهمه وفطنته"
کسی شخص کا خط بتاتا ہے کہ اس میں کتنی عقل و بصیرت ہے اور اس کا ایلچی اس کی فہم وزکا کی نشانی ہوتا ہے۔ ؎3
اس نکتے کا ذکر ضروری ہے کہ روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ خط کا جواب بھی اسی طرح ضروری ہے جس طرح سلام کا جواب۔
حضرت امام جعفر صادق علیہ اسلام کی حدیث ہے :
۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
؎1 بحار الانور جلد 76 ص 49۔
؎2 نہج البلاغہ کلمات قصار جملہ 301۔
؎3 بحارالانوار جلد 76 ص 50۔
۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
(وجواب الكتب واجب کوجوب ردالسلام
خط کا جواب دینا اسی طرح واجب ہے جس طرح اسلام کا جواب۔ ؎1
چونکہ عام طور پر خط میں اسلام ودم ہوتا ہے لہذا بعید نہیں ہے کہ اس آیت شریفہ کے ضمن میں آتا ہو :
واذ احييتم بتحية فحيوا باحسن منها اور دوها
جب تمھیں دعا و سلام کہا جائے تو تم بھی اس کا اس سے بہتر یا اسی جیسا جواب دیا کرو (نساء / 86)