Tafseer e Namoona

Topic

											

									  2- چند سوال اور ان کا جواب

										
																									
								

Ayat No : 20-26

: النمل

وَتَفَقَّدَ الطَّيْرَ فَقَالَ مَا لِيَ لَا أَرَى الْهُدْهُدَ أَمْ كَانَ مِنَ الْغَائِبِينَ ۲۰لَأُعَذِّبَنَّهُ عَذَابًا شَدِيدًا أَوْ لَأَذْبَحَنَّهُ أَوْ لَيَأْتِيَنِّي بِسُلْطَانٍ مُبِينٍ ۲۱فَمَكَثَ غَيْرَ بَعِيدٍ فَقَالَ أَحَطْتُ بِمَا لَمْ تُحِطْ بِهِ وَجِئْتُكَ مِنْ سَبَإٍ بِنَبَإٍ يَقِينٍ ۲۲إِنِّي وَجَدْتُ امْرَأَةً تَمْلِكُهُمْ وَأُوتِيَتْ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ وَلَهَا عَرْشٌ عَظِيمٌ ۲۳وَجَدْتُهَا وَقَوْمَهَا يَسْجُدُونَ لِلشَّمْسِ مِنْ دُونِ اللَّهِ وَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيْطَانُ أَعْمَالَهُمْ فَصَدَّهُمْ عَنِ السَّبِيلِ فَهُمْ لَا يَهْتَدُونَ ۲۴أَلَّا يَسْجُدُوا لِلَّهِ الَّذِي يُخْرِجُ الْخَبْءَ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَيَعْلَمُ مَا تُخْفُونَ وَمَا تُعْلِنُونَ ۲۵اللَّهُ لَا إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ ۩ ۲۶

Translation

اور سلیمان نے ہد ہد کو تلاش کیا اور وہ نظر نہ آیا تو کہا کہ آخر مجھے کیا ہوگیا ہے کہ میں ہد ہد کو نہیں دیکھ رہا ہوں کیا وہ غائب ہوگیا ہے. میں اسے سخت ترین سزادوں گا یا پھر ذبح کر ڈالوں گا یا یہ کہ وہ میرے پاس کوئی واضح دلیل لے آئے گا. پھر تھوڑی دیر نہ گزری تھی کہ ہد ہد آگیا اور اس نے کہا کہ مجھے ایک ایسی بات معلوم ہوئی ہے جو آپ کو بھی معلوم نہیں ہے اور میں ملک سبا سے ایک یقینی خبر لے کر آیا ہوں. میں نے ایک عورت کو دیکھا ہے جو سب پر حکومت کررہی ہے اور اسے دنیا کی ہر چیز حاصل ہے اور اس کے پاس بہت بڑا تخت بھی ہے. میں نے دیکھا ہے کہ وہ اور اس کی قوم سب سورج کی پوجا کررہے ہیں اور شیطان نے ان کی نظروں میں اس عمل کو حسن بنادیا ہے اور انہیں صحیح راستہ سے روک دیا ہے کہ اب وہ یہ بھی نہیں سمجھتے ہیں. کہ کیوں نہ اس خدا کا سجدہ کریں جو آسمان و زمین کے پوشیدہ اسرار کو ظاہر کرنے والا ہے اور لوگ جو کچھ چھپاتے ہیں یا ظاہر کرتے ہیں سب کا جاننے والا ہے. وہ اللہ ہے جس کے علاوہ کوئی خدا نہیں ہے اور وہ عرش عظیم کا پروردگار ہے.

Tafseer

									 2- چند سوال اور ان کا جواب : - بعض مفسرین نے یہاں پر چند ایک سوال پیش کیے ہیں : 
 ان میں سے اب یہ ہے کہ آخر کیا وجہ ہے کہ سلیمان کے پاس اس قدر علم تھا اور وسائل بھی پھرایسے ملک کے وجود سے بے خبرکیوں تھے۔  اور پھر یمن اور سلیمان 

کا مرکز حکومت جوظاہرًا شام تھا کاطویل فاصلہ نہ ہونے کیونکر طے کیا اور پھر یہ کہ کیا ہدہد بھول کر وہاں پہنچ گیا تھا یا کوئی اور وجہ تھی۔  
 پہلے سوال کے بارے میں ممکن ہے کہ جواب دیا جائے کہ سلیمان اس ملک سے قاعدۃ باخبر تھے لیکن اس کی خصوصیات و تفصیلات اچھی طرح نہیں جانتے تھے۔ 

علاوہ ازیں ان دوملکوں کے درمیان حجاز کے بیابان کا فاصلہ بھی تھا اور ذرائع رسل ورسائل ہمارے آج کے ذرائع کی طرح بھی نہیں تھے (البتہ علم غیب اورالہام الہی کی بات دوسری 

ہے)۔ 
 رہا ہدہد کے لیے اس مسافت کاطے کرنا تو کوئی غیر ممکن بات نہیں ہے کیونکہ ہم ایسے پرندوں کوئی جانتے ہیں جو زمین قطب شمالی اور قطب جنوبی کا درمیانی فاصلہ 

طے کرتے رہتے ہیں جیک یمن اور شام کا درمیانی فاصلہ مذکورہ فاصلے کے مقابلہ میں بالکل ناچیز ہے۔ 
 ممکن ہے ہدہد اس علاقے میں آیا ہو کیونکہ بعض روایات میں ہے کہ جناب سلیمان خانۂ خدا کی زیارت کے لیے شام سے مکہ تشریف لائے ہوئے تھے تاکہ ابراہیمؑ  کے 

مقرر کردہ طریقہ کار کے مطابق حج بجالائیں پروہ وہاں سے جنوب کی طرف چلے یہاں تک کہ ان کا یمن کی سرزمین سے زیادہ فاصلہ نہیں رہ گیا تھا اور جب آپ آرام فرمارہے تھے تو 

ہدہد موقع غنیمت جان کر وہاں سے پرواز کر کے ملکہ سبا کے محل پر آبیٹھا اور وہاں پر نجیب غریب صورت حال نے اس کی توجہ اپنی طرف مبذول کرالی۔ ؎1 
۔-----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
  ؎1    اس واقعے کی مزید تفصیلات کے لیے "دائرة المعارف فرید وجدی " جلد 10 ص  470 ماده "ہدہد " ملاحظہ فرمائیں ۔ ہر چند کہ اس کی مفصل روایت مبالغے سے خالی نہیں 

ہے ۔