1- چندسبق آموز باتیں
وَتَفَقَّدَ الطَّيْرَ فَقَالَ مَا لِيَ لَا أَرَى الْهُدْهُدَ أَمْ كَانَ مِنَ الْغَائِبِينَ ۲۰لَأُعَذِّبَنَّهُ عَذَابًا شَدِيدًا أَوْ لَأَذْبَحَنَّهُ أَوْ لَيَأْتِيَنِّي بِسُلْطَانٍ مُبِينٍ ۲۱فَمَكَثَ غَيْرَ بَعِيدٍ فَقَالَ أَحَطْتُ بِمَا لَمْ تُحِطْ بِهِ وَجِئْتُكَ مِنْ سَبَإٍ بِنَبَإٍ يَقِينٍ ۲۲إِنِّي وَجَدْتُ امْرَأَةً تَمْلِكُهُمْ وَأُوتِيَتْ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ وَلَهَا عَرْشٌ عَظِيمٌ ۲۳وَجَدْتُهَا وَقَوْمَهَا يَسْجُدُونَ لِلشَّمْسِ مِنْ دُونِ اللَّهِ وَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيْطَانُ أَعْمَالَهُمْ فَصَدَّهُمْ عَنِ السَّبِيلِ فَهُمْ لَا يَهْتَدُونَ ۲۴أَلَّا يَسْجُدُوا لِلَّهِ الَّذِي يُخْرِجُ الْخَبْءَ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَيَعْلَمُ مَا تُخْفُونَ وَمَا تُعْلِنُونَ ۲۵اللَّهُ لَا إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ ۩ ۲۶
اور سلیمان نے ہد ہد کو تلاش کیا اور وہ نظر نہ آیا تو کہا کہ آخر مجھے کیا ہوگیا ہے کہ میں ہد ہد کو نہیں دیکھ رہا ہوں کیا وہ غائب ہوگیا ہے. میں اسے سخت ترین سزادوں گا یا پھر ذبح کر ڈالوں گا یا یہ کہ وہ میرے پاس کوئی واضح دلیل لے آئے گا. پھر تھوڑی دیر نہ گزری تھی کہ ہد ہد آگیا اور اس نے کہا کہ مجھے ایک ایسی بات معلوم ہوئی ہے جو آپ کو بھی معلوم نہیں ہے اور میں ملک سبا سے ایک یقینی خبر لے کر آیا ہوں. میں نے ایک عورت کو دیکھا ہے جو سب پر حکومت کررہی ہے اور اسے دنیا کی ہر چیز حاصل ہے اور اس کے پاس بہت بڑا تخت بھی ہے. میں نے دیکھا ہے کہ وہ اور اس کی قوم سب سورج کی پوجا کررہے ہیں اور شیطان نے ان کی نظروں میں اس عمل کو حسن بنادیا ہے اور انہیں صحیح راستہ سے روک دیا ہے کہ اب وہ یہ بھی نہیں سمجھتے ہیں. کہ کیوں نہ اس خدا کا سجدہ کریں جو آسمان و زمین کے پوشیدہ اسرار کو ظاہر کرنے والا ہے اور لوگ جو کچھ چھپاتے ہیں یا ظاہر کرتے ہیں سب کا جاننے والا ہے. وہ اللہ ہے جس کے علاوہ کوئی خدا نہیں ہے اور وہ عرش عظیم کا پروردگار ہے.
چنداہم کات
1- چندسبق آموز باتیں :-
مندرجہ بالا چہ آیات میں بہت سے ایسے نکات موجود ہیں جو تمام لوگوں کی زندگی اور حکومتوں کے چلانے کے لیے مفید ہوسکتے ہیں ۔
1- کسی حکومت کا سربراہ یاکسی ادارے کا سربراہ اپنے انتظامی امور میں اس قدر باریکی بین ہوکہ ایک عام اور معمولی فرد کی غیرحاضری تک کانوٹس لے۔
2- کسی ادارے کا سربراہ ایک فرد کی قانون شکنی تک کا نوٹس لے تاکہ اس کی خلاف ورزی دوسرے افرادی میں سرایت
نہ کرجائے لہذا اس کی سختی سے پیش بندی کرے۔
3- کسی کی غیرحاضری اور عدم موجودگی میں اس پر مقدمہ نہیں چلایا جاناچاہیے کہ اسے حتی الامکان اپنے دفاع کا مقع دینا چاہیے۔
4- جتنا جرم ہوسزا اتنی ہی ملنی چاہیئے۔
5- حیثیت و طاقت کے لحاظ سے انسان خواہ کتنا بڑا کیوں نہ ہو اسے دلیل اور منطق قبول کرلینی چاہیے خواہ وہ کسی جھوٹے شخص کے منہ سے کیوں نہ نکلے۔
6- عوامی ماحول میں اس قدر آزادی ہونی ہی چاہیئے کہ ایک عام آدمی بھی اپنے سربراہ مملکت کو آزادنہ طور پر کہہ کسے "کہ میں ایسی چیز جانتا ہوں جو آپ نہیں
جانتے"۔
7- ہوسکتا ہے ایک عام اور معمولی فرد ایسے مسائل سے باخبر ہو جسے بہت بڑے عالم اور طاقتور لوگ بھی نہ جانتے ہوں اور انسان کو کبھی بھی اپنے علم و دانش
پیرغرور نہیں ہونا چاہیے۔
8- انسان کی اجتماعی زندگی کی ضروریات اس قدر زیادہ ہیں بعض اوقات سلیمانؑ جیسے بہت بڑے انسانوں کوبھی ایک چھوٹے سے پرندے کی ضرورت درپیش آجاتی
ہے۔
9- اگرچہ عورت میں بہت سے کاموں کی صلاحیت پائی جاتی ہے حتٰی کہ خود یہی داستان بھی آگے چل کربتائے گی کہ ملکہ سبا میں بہت زیادی فہم و ذکا پائی جاتی
تھی لیکن اس کے باوجو حکومت کی سربراہی اس کے جسم و روح کی ساخت سے چنداں مناسبت نہیں رکھتی ، حتٰی کہ ہدہد جیسے پرندے کو بھی اس بات پرتعجب کرنا پڑا کہ "میں نے ایک
عورت کوان پر حکمرانی کرتے دیکھا ہے"۔
10- عمومً لوگوں کا بھی وہی دین ہوتا ہے توان کے بادشاہوں کا ہوتاہے لہذا اسی داستان میں ہم نے پڑھا ہے کہ ہدہد نے کہا کہ میں نے اس عورت اور اس کی قوم
کو دیکھا کہ وہ سورج کی پوجا کررہے ہیں (پہلے ملکہ کی بات کی اور پھراس کی قوم کی)۔