ہدہد اور ملکۂ سبا کی داستان
وَتَفَقَّدَ الطَّيْرَ فَقَالَ مَا لِيَ لَا أَرَى الْهُدْهُدَ أَمْ كَانَ مِنَ الْغَائِبِينَ ۲۰لَأُعَذِّبَنَّهُ عَذَابًا شَدِيدًا أَوْ لَأَذْبَحَنَّهُ أَوْ لَيَأْتِيَنِّي بِسُلْطَانٍ مُبِينٍ ۲۱فَمَكَثَ غَيْرَ بَعِيدٍ فَقَالَ أَحَطْتُ بِمَا لَمْ تُحِطْ بِهِ وَجِئْتُكَ مِنْ سَبَإٍ بِنَبَإٍ يَقِينٍ ۲۲إِنِّي وَجَدْتُ امْرَأَةً تَمْلِكُهُمْ وَأُوتِيَتْ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ وَلَهَا عَرْشٌ عَظِيمٌ ۲۳وَجَدْتُهَا وَقَوْمَهَا يَسْجُدُونَ لِلشَّمْسِ مِنْ دُونِ اللَّهِ وَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيْطَانُ أَعْمَالَهُمْ فَصَدَّهُمْ عَنِ السَّبِيلِ فَهُمْ لَا يَهْتَدُونَ ۲۴أَلَّا يَسْجُدُوا لِلَّهِ الَّذِي يُخْرِجُ الْخَبْءَ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَيَعْلَمُ مَا تُخْفُونَ وَمَا تُعْلِنُونَ ۲۵اللَّهُ لَا إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ ۩ ۲۶
اور سلیمان نے ہد ہد کو تلاش کیا اور وہ نظر نہ آیا تو کہا کہ آخر مجھے کیا ہوگیا ہے کہ میں ہد ہد کو نہیں دیکھ رہا ہوں کیا وہ غائب ہوگیا ہے. میں اسے سخت ترین سزادوں گا یا پھر ذبح کر ڈالوں گا یا یہ کہ وہ میرے پاس کوئی واضح دلیل لے آئے گا. پھر تھوڑی دیر نہ گزری تھی کہ ہد ہد آگیا اور اس نے کہا کہ مجھے ایک ایسی بات معلوم ہوئی ہے جو آپ کو بھی معلوم نہیں ہے اور میں ملک سبا سے ایک یقینی خبر لے کر آیا ہوں. میں نے ایک عورت کو دیکھا ہے جو سب پر حکومت کررہی ہے اور اسے دنیا کی ہر چیز حاصل ہے اور اس کے پاس بہت بڑا تخت بھی ہے. میں نے دیکھا ہے کہ وہ اور اس کی قوم سب سورج کی پوجا کررہے ہیں اور شیطان نے ان کی نظروں میں اس عمل کو حسن بنادیا ہے اور انہیں صحیح راستہ سے روک دیا ہے کہ اب وہ یہ بھی نہیں سمجھتے ہیں. کہ کیوں نہ اس خدا کا سجدہ کریں جو آسمان و زمین کے پوشیدہ اسرار کو ظاہر کرنے والا ہے اور لوگ جو کچھ چھپاتے ہیں یا ظاہر کرتے ہیں سب کا جاننے والا ہے. وہ اللہ ہے جس کے علاوہ کوئی خدا نہیں ہے اور وہ عرش عظیم کا پروردگار ہے.
تفسیر
ہدہد اور ملکۂ سبا کی داستان
آیات کے اس حصے میں خداوند عالم حضرت سلیمان کی حیرت انگی زندگی کے ایک اور اہم واقعے کی طرف اشارہ فرماتا ہے اور ہدہد اور ملکہ سبا کا قصہ بیان کرتا ہے
، فرماتا ہے: سلیمان کو ہد ہد دکھائی نہ دیا تو وہ اسے ڈھونڈھنے لگے ۔ (وتفقد الطير)۔
یہ تعبیر اس حقیقت کو اچھی طرح واضح کرتی ہے حضرت سلیمان اپنی حکومت کے حالات اور ملک کی کیفیت کو اچھی طرح نظر رکھتے تھے یہاں تک کہ ایک پرندہ ہی
ان کی آنکھوں سے اوجھل نہیں تھا۔
اس میں شک نہیں ہے کہ یہاں پر پرندے سے مراد ہدہد ہے جیسا کہ قرن اپنی گفتگو کو جاری رکھتے ہوئے کہتا ہے کہ انھوں نے کہا کیا ہوا کہ مجھے ہدہد دکھائی
نہیں دے رہا (فقال مالي لا اری الهدهد )۔
یا کیا وہ غائب ہے (ام كان من الغائبين)۔
سلیمان کو کیسے معلوم ہوا کہ ہدہد غیر حاضر ہے ؟ بعض کہتے ہیں کہ اس وجہ سے کہ جب آپ سفر کرتے تو پرندے آپکے سر پر سایہ کے رہتے تھے، چونکہ اس
وقت اس سائبان میں اس کی جگہ خالی نظر آئی لہذا انھیں معلوم ہوگیا کہ هد هد غیر حاضر ہے۔
بعض مفسرین کہتے ہیں کہ سلیمان کے نظم حکومت میں پانی کی تلاش کا کام ہدہد کے ذمہ تھا لہذا پانی کی ضرورت وقت جب اسے تلاش کیا گیا تو وہ نہیں ملا۔
بہرحال ، اس گفتگو کی ابتدا میں حضرت سلیمان نے فرمایا : مجھے وہ دکھائی نہیں د ے رہا ، پھر فرمایا یا یہ کہ وہ غائب ہے ممکن ہے کہ اس بات کی طرف اشارہ ہو
کہ کیا وہ کسی معقول عذر کے بغیر غیر حاضر ہے یا معقول عذر کی وجہ سے غائب ہے۔
بہرصورت ایک با استقلام ، منظم اور طاقت ورحکومت میں یہی ہوتا ہے کہ ملک میں جو بھی اتار چڑھاؤ تو وہ سربراہ حکومت کی نظر میں ہو حتی کسی پرندے کی
حاضری اورغیر حاضری ، ایک عام ملازمہ کی موجودگی اور عدم موجودگی اس کے پیش نظر ہو اور ایک بہت بڑا درس ہے۔
حضرت سلیمان نے دوسروں کو درس دینے اورحکم عدولی پر سزا دینے کی خاطر مندرجہ ذیل جملہ کہا تاکہ ہدہد کی غیرحاضری دوسرے پرندوں پر بھی اثر کرے چہ
جائیکہ اہم عہدوں اور اعلی مناصب پر فائر انسان فرمایا : میں یقینًا اسے سخت سزا دوں گا (لاعذبنه عذابًا شديدًا)۔
یااسے ذبح کرڈالوں کا (اولاً اذبحه)
یا پھر وہ اپنی غیر حاضری کی میرے سامنے واضح دلیل پیش کرے (اولیاتینی بسلطان مبین)۔
اس بیان پر "سلطان" سے مراد ایسی دلیل ہے کہ انسان کے مقصود کو ثابت کرنے کے لیے اس کے تسلط کا سبب بنتی ہے اور پھر "مبین" کے ساتھ اس کی تاکید اس
لیے کہ خلاف ورزی کرنے والا اپنی خلاف ورزی کی مکمل طور پر واضح اور روشن دلیل لائے۔
درحقیقت جناب سلیمانؑ نے غیرحاضری کی صورت میں یک طرفہ فیصلہ دینے کی بجائے خلاف ورزی ثابت ہو جانے سزا کی تنبیہ کی ہے اور اپنی اس تنبیہ میں بھی دو
مراحل بیان کیے ہیں جوجرم کی نوعیت کے مطابق ہیں ایک مرحلہ بغیر موت کے سزا ہے اور دوسرا سزائے موت کا مرحلہ ہے۔
ساتھ ہی یہ بھی واضح کر دیا ہے کہ انھیں اپنی حکومت اور طاقت کا گھمنڈ نہیں ہے کہ اگر کہیں کمزور سا پرندہ معقول اور واضح دلیل پیش کرے تو وہ اسے قبول
کرنے کے لیے تیار ہیں۔
ہدہد کی غیرحاضری کو زیادہ عرصہ نہیں گزرا تھا (فمكث غیر بعید)۔ کہ ہدہد واپس آگیا اور سلیمان کی طرف
رخ کرکے کہنے لگا: مجھے ایک ایسی چیز معلوم ہوئی ہے جس سے آپ کا نہیں ہیں ، میں آپ کے لیے سرزمین سبا سے ایک یقینی (اور بالکل تازه) خبرلایا ہوں (فقال احطت بمالم تحط به
وجئتك من سبأ بنبأیقین)۔
گویا ہدہد نے جناب سلیمان کے چہرے پر غصے کے آثار ویکھ لیے تھے لہذا ان کی ناراضی دور کرنے کے لیے سب پہلے اس نے ایک ایسے اہم مطلب کی مختصر
الفاظ میں خبردی جس سے جناب سلیمان اس قدر علم ودانش رکھنے کے باوجود بے خبر تھے۔ جب ان کا غصہ ٹھنڈا ہوا تو اس نے اس ماجرا کی تفصیل بیان کی۔
یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ سلیمان کے لشکروالے حتٰی کہ پرنده تک کوبھی جو ان کے تابع فرمان تھے جناب سلیمان نے اس قدر آزادی ، امن و امان اور جسارت عطا
کی ہوئی تھی کہ ہدہد نے کھل کر ان سے کہہ دیا مجھے ایسی چیز معلوم ہوئی بے جس کی آپؑ کو بھی خبر نہیں ہے۔
اس کی گفتار کاطریقہ ایسا نہیں تھا جیسے چاپلوس درباریوں کا جابر بادشاہوں کے سامنے ہوتا ہے کہ کسی حقیقت کو بیان کرنے کے لیے مدتوں خوشامد کرتے رہتے
ہیں اپنے آپ کو ذرہ ناچیز بتلاتے ہیں پھر چاپلوسی اور خوشامد کے ہزاروں پردوں میں کوئی بات "بادشاہ سلامت" کے قدموں پر نثار کرتے ہیں اور کبھی بھی اپنی بات کھول کر بیان نہیں
کرتے بلکہ ہمیشہ پھول کی پتی سے بھی نازک کنایوں کا سہارا لیتے ہیں مبادا بادشاہ سلامت کی خاطر مبارک ملول ہوجائے۔
ہاں ہدہد نے واضح الفاظ میں کہہ دیا کہ مری غیرحاضری کسی دلیل کے بغیر نہیں تھی ، میں ایک ایسی ایک خبر لایا ہوں جس سے آپ بھی بے خبرہیں۔
ضمنی طور پر یہ سب لوگوں کے لیے ایک بہت بڑادرس بھی ہے کیونکہ ہو سکتا ہے کہ ہدہد جیسی ایک چھوٹی سی مخلوق ایسی بات جانتی ہو جس سے اپنے دور کے
بہت بڑے دانشور بھی بے خبر ہوں ۔ انسان کو نہیں چاہیے کہ اپنےعلم ودانش گھمنڈ کرے چاہے وہ نبوت کے وسیع علم کا سلیمان ہی کیوں نہ ہو۔
بہرحال ہدہد نے ماجرے کی تفصیل بیان کرتے ہوئے کہا : میں سرزمین سبا میں چلا گیا تھا ۔ میں نے دیکھا کہ عورت وہاں کے لوگوں پر پر حکومت کر رہی ہے اس کے
قبضے میں سب کچھ ہے خاص طور پیاس کا ایک بہت بڑا تخت بھی ہے (انی وجدت امراۃ تملكهم واوتيت من كل شر و لها عرش عظیم)
ہدہد نے تین جملوں میں ملک سباکی تقریبا تمام خصوصیات بتادیں اور وہاں کے طرز حکومت سے بھی سلیمان کو باخبر کر دیا۔
پہلی خصوصیت تویہ ہے وہ ایک ایسا بادشاد ملک ہے کہ جس اس ہرطرح کی نعمتیں اور سہولیات مہیا ہیں ۔
دوسری یہ کہ ان لوگوں پر ایک عورت حکومت کر رہی ہے جس کا ایک نہایت ہی آراسته دربار بے حتی کہ سلیمانؑ کے دربار سےبھی زیادہ آراستہ کیونکہ ہدہد نے
حضرت سلیمان کا تخت دیکھا ہوا تھا اس کے باوصف اس نے ملکہ سبا کے تخت کو" عرش عظیم" عنوان سے یاد کیا۔
ان الفاظ کے ساتھ اس نے سلیمان کو یہ بات جتلادی کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ آپ یہ تصور کریں تمام جہان آپ قلم ور حکومت میں ہے اور صرف آپ کا تخت باعظمت ہے۔
سلیمان ہدہد کی یہ بات سن کر ایک گہری سوچ میں پڑ گئے لیکن ہدہد نے انھیں مزید سوچنے کی مہلت نہ دی اورفورًا ہی ایک اور بات پیش کردی اس نے کہا : جوعجیب
غریب اور تکلیف دہ چیز میں نے وہاں دیکھی ہے وہ یہ میں نے دیکھا ہے کہ وہ عورت اور اسی کی قوم خدا کو چھوڑ کر سورج کے سامنے سجدہ کرتے ہیں ( وجدتها و قومها يسجدون للشمس
من دون الله ).
شیطان ان پرمسلط ہوچکا ہے اور اس نے ان کے اعمال کو ان کے لیے مزین کر رکھا ہے (لہذا وہ سورج کوسجدہ کرنے میں فخر محسوس کرتےہیں (وزین لهم الشيطان
أعمالهم)۔
اس طرح سے "شیطان نے انھیں راہ حق سے روک رکھا ہے (فصد ھم عن السبيل )۔
وہ بت پرستی میں اس قدر غرق ہوچکے ہیں کہ مجھے یقین نہیں کہ وہ آسانی سے اسی راہ سے پلٹ جائیں۔ وہ بالکل ہدایت نہیں پائیں گے (فهم لا يهتدون)۔
ہدہد نے ان الفاظ کے ساتھ ان کی مذہبی اور روحانی حیثیت بھی واضح کر دی کہ وہ بت پرستی میں خوب مگن ہیں ، حکومت آفتاب پرستی کو ترویج کر تی ہے ۔ اورلوگ
اپنے بادشاہ کے دین پر ہیں۔
اور ان کے بت کدوں اور دوسرے حالات سے واضح ہوتا ہے کہ وہ اس غلط راہ پر ڈٹے ہوئے ہیں اوراس کے ساتھ جنون حد تک محبت کرتے اور اپنی اس غلط روش پر
فخر کرتے ہیں ایسے حالات میں جبکہ حکومت اور عوام کی ہی ڈگر پرچل رہے ہیں ان کا ہدایت پانا بہت مشکل ہے۔
پھر کہا : وہ اس خدا کو سجدہ کیوں نہیں کرتے جو آسمانوں اور زمین کی پوشیدہ چیزوں کو باہر نکلاتا ہے اور اسے بی جانتا ہم جسے تم چھپاتے اور ظاہر کرتے ہو (
الایسجدوالله الذي يخرج الخبأ في السماوات والارض و یعلم ما تخفون و هاتعلنون)۔ ؎1
"خبا" (بروزن" صبر") ہر مخفی اور پوشیدہ چیز کے معنی میں ہے اور یہاں پر خداوندعالم کے آسمان اور زمین کے غیب پرمحیط ہونے کی طرف اشارہ بے یعنی وہ لوگ
اس خدا کو سجدہ کیوں نہیں کرتے جو آسمان و زمین کے پوشیدہ امور کو جانتا ہے۔
یہ جو بعض مفسرین نے آسمان کی مخفی چیزوں سے خصوصی طور پر بارش اور زمین کی چیزوں سے بالخصوص نباتات مراد لیا ہے تو درحقیقت بیان کے واضح
مصداق ہیں ۔
اسی طرح جنھوں نے موجودات کو غیب ، عدم کے پردے سے باہر نکالنا مراد لیا ہے وہ بھی اس کا ایک مصداق ہے۔
یہ بات بھی قابل غور ہے کہ پہلے تو خدا کے آسمان و زمین کے مخفی امور سے باخبر ہونے کی بات ہوئی ہے پھر انسان کے دل میں چھپی ہوئی چیزوں سے آگاہی کا
ذکر ہواہے۔
لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ خداکی اور بھی تو کئی صفات ہیں مگر ہدہد نے صرف خدا کے کائنات میں عالم الغیب ہونے کا ذکر کیوں کیا ہے؟ تو اس کا جواب یہ ہے
کہ شاید اس مناسبت سے ہوکہ جناب سلیمان اپنی تمام قدرت و توانائی کے باوجود ملک سبا کی ان خصوصیات سے بے خبر تھے اور ہدہد کہتا ہے کہ اس خد کے دامن لطف سے متمسک
ہوناچاہیے جس سے کوئی چیز مخفی نہیں ہے۔
۔----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
؎1 "الا" کا کلمہ اس جگہ پر بعض مفسرین کے نزد یک "ان" اور "لا"سے مرکب ہے اوروہ اسے " صد هم" يا "زین لھم" کے متعلق جانتے ہیں اور " لام" کومقدر سمجھتے ہیں جو
مجموعی طور پر یوں ہوگا "صد ھم عن السبيل لئلا یسجدوالله" لیکن ظاہر یہ ہے کہ "لا" یہاں پر حروف اور"ھلا" کے معنی میں ہے اورجیسا کہ ہم اوپربتا چکے ہیں یہ بھی ہدہد کے کلام کا
حصہ ہے۔ ہرچند کہ بعض مفسرین نے اسے جملہ استینافیہ بتاکر کلام الٰہی قرار دیا ہے۔
۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
یا پھر مناسبت کی وجہ سے کہا ہے کیونکہ ــــــــــ مشہور ہے کہ ـــــــــــــ ہدہد کے اندر کی خاص حس پائی جاتی ہے جس کے ذریعے زمین کے اندر موجود پانی کا
اسے پتہ چل جاتا ہے لہذا اس نے خداوند عالم کی بات کی ہے اور وہ یہ کہنا چاہتا ہے کہ یہ تو صرف ذات خدوند متعال ھی ہے جو عالم ہستی کی تمام پوشیدہ چیزوں سے باخبر ہے۔
وہ اپنی گفتگو کو ان الفاظ پرختم کرتا ہے : وہ خدا وہ ہے جس کے سوا کوئی دوسرا معبود نہیں جور عرش عظیم کا پروردگار اور مالک ہے۔(اله الاهو رب العرش العظيم)۔
اس طرح سے اس نے پروردگار کی "توحید عبادت" اور "توحید ربوبیت" کو بیان کرکے اور ہرطرح کے شرک کی نفی کرکے اپنی گفتگو کو پایۂ تکمیل تک پپہنچادیا۔