Tafseer e Namoona

Topic

											

									  2- حضرت سلیمان اور شکرالٰہی

										
																									
								

Ayat No : 17-19

: النمل

وَحُشِرَ لِسُلَيْمَانَ جُنُودُهُ مِنَ الْجِنِّ وَالْإِنْسِ وَالطَّيْرِ فَهُمْ يُوزَعُونَ ۱۷حَتَّىٰ إِذَا أَتَوْا عَلَىٰ وَادِ النَّمْلِ قَالَتْ نَمْلَةٌ يَا أَيُّهَا النَّمْلُ ادْخُلُوا مَسَاكِنَكُمْ لَا يَحْطِمَنَّكُمْ سُلَيْمَانُ وَجُنُودُهُ وَهُمْ لَا يَشْعُرُونَ ۱۸فَتَبَسَّمَ ضَاحِكًا مِنْ قَوْلِهَا وَقَالَ رَبِّ أَوْزِعْنِي أَنْ أَشْكُرَ نِعْمَتَكَ الَّتِي أَنْعَمْتَ عَلَيَّ وَعَلَىٰ وَالِدَيَّ وَأَنْ أَعْمَلَ صَالِحًا تَرْضَاهُ وَأَدْخِلْنِي بِرَحْمَتِكَ فِي عِبَادِكَ الصَّالِحِينَ ۱۹

Translation

اور سلیمان کے لئے ان کا تمام لشکر جنات انسان اور پرندے سب اکٹھا کئے جاتے تھے تو بالکل مرتب منظم کھڑے کر دیئے جاتے تھے. یہاں تک کہ جب وہ لوگ وادئی نمل تک آئے تو ایک چیونٹی نے آواز دی کہ چیونٹیوں سب اپنے اپنے سوراخوں میں داخل ہوجاؤ کہ سلیمان اور ان کا لشکر تمہیں پامال نہ کر ڈالے اور انہیں اس کا شعور بھی نہ ہو. سلیمان اس کی بات پر مسکرادیئے اور کہا کہ پروردگار مجھے توفیق دے کہ میں تیری اس نعمت کا شکریہ ادا کروں جو تو نے مجھے اور میرے والدین کو عطا کی ہے اور ایسا نیک عمل کروں کہ تو راضی ہوجائے اور اپنی رحمت سے مجھے اپنے نیک بندوں میں شامل کرلے.

Tafseer

									 2- حضرت سلیمان اور شکرالٰہی :- 
 الٰہی حکمرانوں اور ظالم و جابرحکمرانوں کے درمیان ایک بڑا فرق یہ ہے کے جب و غلاموں کو حکومت حاصل ہوتی ہے توہ غروراور غفلت میں غرق ہوکر تمام انسانی 

اقدار کو فراموش کر دیتے ہیں اوراپنن خودسری کا شکار ہو جاتے ہیں  جب اقتدار حاصل کر لیتے ہیں تو اسے اپنے دوش پر ایک عظیم ذمہ داری سمجھتے ہیں ، دوسروں سے  زیادہ خدا کی 

بارگاہ کا رخ کرتے ہیں ۔اس عظیم ذمہ داری سے عہدہ برآ ہونے کی توفیق خدا سے طلب کرتے ہیں جیسا کہ سلیمان علہی اسلام نے سریر قدرت پر پہنچنے کے بعد جس سب سے اہم چیز 

کا خدا سے سوال کیا وہ شکر خدا کی ادائیگی اور ان نعمتوں کو راہ حق اوربندوں کی فلاح میں استعمال کرنے کا سوال تھا۔ 
 اور پھر قابل توجہ یہ بات ہے کہ انھوں نے اپنی درخواست کو "اوزعنی" کے لفظ سے شروع کیا ہے جس کا مفہوم اس عظیم مقصد کے انجام دینے کے لئے اندرونی 

ہدایت اور تمام باطنی طاقتوں کو اکٹھا کرنا ہے گویا سلیمان خدا سے دعا کر رہے ہیں خدایا مجھے 
اس قد رقدرت عطا فرماکہ میں اپنے فرائض ادا کرنے کے لیے اپنی تمام اندرونی توانائیوں کو اکٹھا کر کے تیرا شکراداکروں اور اپنے فرائض کو پورا کروں اور توہی مجھے اس راستے پر 

چلاتارہ کیونکہ نہایت ہی کٹھن، خوفناک اور طولانی سفر ہے اور اس عظیم حکومت میں تمام لوگوں کے فرق کی ادائیگی کا ہی راستہ ہے۔ 
 جناب سلیمان نے صرف ان نعمتوں نے شکر کی توانائی کا تقاضا میں کیا کہ جو خودان کو ذاتی طور پیوٹا کی گئی تھیں بلکہ اپنے ماں باپ کوعطا کی جانے والی نعمتوں 

کے لشکر کی توقفیت بھی چاہی کی کہ انسان کو ملنے والی بہت سی میں اسے ماں باپ کی طرف 
۔----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
  ؎1      ہم تفسیر نمونہ کی جلد پنجم میں سورہ انعام ان کی آیت 38 کے ذیل می میں اس بارے میں گفتگو کرچکے ہیں ۔ 
۔-----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
میراث میں ملتی ہیں اوراس میں شک نہیں کہ خداوند عالم جو وسائل ماں باپ کو عطا کرتا ہے وہ اولاد کے لیے بڑی حد تک معاون ثابت ہوتے ہیں ۔