Tafseer e Namoona

Topic

											

									  1- جناب سلیمان کا جانوروں کی بولی جاننا

										
																									
								

Ayat No : 17-19

: النمل

وَحُشِرَ لِسُلَيْمَانَ جُنُودُهُ مِنَ الْجِنِّ وَالْإِنْسِ وَالطَّيْرِ فَهُمْ يُوزَعُونَ ۱۷حَتَّىٰ إِذَا أَتَوْا عَلَىٰ وَادِ النَّمْلِ قَالَتْ نَمْلَةٌ يَا أَيُّهَا النَّمْلُ ادْخُلُوا مَسَاكِنَكُمْ لَا يَحْطِمَنَّكُمْ سُلَيْمَانُ وَجُنُودُهُ وَهُمْ لَا يَشْعُرُونَ ۱۸فَتَبَسَّمَ ضَاحِكًا مِنْ قَوْلِهَا وَقَالَ رَبِّ أَوْزِعْنِي أَنْ أَشْكُرَ نِعْمَتَكَ الَّتِي أَنْعَمْتَ عَلَيَّ وَعَلَىٰ وَالِدَيَّ وَأَنْ أَعْمَلَ صَالِحًا تَرْضَاهُ وَأَدْخِلْنِي بِرَحْمَتِكَ فِي عِبَادِكَ الصَّالِحِينَ ۱۹

Translation

اور سلیمان کے لئے ان کا تمام لشکر جنات انسان اور پرندے سب اکٹھا کئے جاتے تھے تو بالکل مرتب منظم کھڑے کر دیئے جاتے تھے. یہاں تک کہ جب وہ لوگ وادئی نمل تک آئے تو ایک چیونٹی نے آواز دی کہ چیونٹیوں سب اپنے اپنے سوراخوں میں داخل ہوجاؤ کہ سلیمان اور ان کا لشکر تمہیں پامال نہ کر ڈالے اور انہیں اس کا شعور بھی نہ ہو. سلیمان اس کی بات پر مسکرادیئے اور کہا کہ پروردگار مجھے توفیق دے کہ میں تیری اس نعمت کا شکریہ ادا کروں جو تو نے مجھے اور میرے والدین کو عطا کی ہے اور ایسا نیک عمل کروں کہ تو راضی ہوجائے اور اپنی رحمت سے مجھے اپنے نیک بندوں میں شامل کرلے.

Tafseer

									  چند اہم نکات 
 1- جناب سلیمان کا جانوروں کی بولی جاننا :- 
 حیوانات کی دنیا کے بارے میں ہمیں زیادہ معلومات نہیں ہیں اوراس بارے میں تمام ترقی کے باوجود ابھی تک اس پر شک و ابہام کے پردے پڑے ہوئے ہیں ۔ 
 البتہ بہت سے کاموں میں ہم ان کی فہم ، سمجھ اور مہارت کے آثار ضرور دیکھتے ہیں ۔ 
 شهد کی مکھیوں کا گھر بنانا ، شہد کے چھتے کا منظم و مضبوط کرنا ، چیونٹیوں کا موم سرما کی ضروریات کے لیے اپنی غذا کو خیرہ کرنا ، جانوروں کو دشمن سے اپنا 

دفاع کرنا ، حتی کہ ان کا بہت سی بیماریوں کے علاج سے باخبر ہونا ، دور دراز کے فاصلوں سے اپنے آشیانوں اور بلوں تک واپس لوٹ آنا، لمبے اور طویل فاصلے طے کرکے منزل 

مقصود تک پہنچنا ، آئنده حوادث کے بارے میں پیشگی اندازہ لگا لینا وغیرہ ایسی چیزیں ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ حیوانات کی پراسرار زندگی کے بارے میں ابھی تک بہت سے مسائل 

ایسے ہیں جو قابل حل ہیں۔ 
 ان تمام باتوں سے ہٹ کر بہت سے جانور ایسے ہیں کہ اگر نہیں سدھایا جائے اوران کی تربیت کی جائے تو وہ ایسے ایسے عجیب و غریب کارنامے انجام دیتے ہیں جو 

انسان کے بھی بس میں نہیں ہوتے۔ 
۔-------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------  
  ؎1   "ازعني" "ایزراع" مبنی "الہام" کے معنی میں ہے ۔یا انحراف کے روکنے کے معنی ہے یا پھر عشق و محبت کے معنی میں ہے لیکن بیشتر مفسرین نے پہلا معنی اختیار کیا ہے۔
۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- 
 لیکن پھربھی اچھی طرح معلوم نہیں کہ وہ انسانی دنیا کے کس حد تک باخبر ہیں؟ کیا وہ واقعًا یہ جانتے ہیں کہ ہم (انسان) کون لوگ ہیں اور کیا کرتے ہیں ؟ ہوسکتا ہے 

ہمیں ان میں اس قسم کے ہوش اور سمجھ کے آثار نہ ملیں لیکن اس کا مطلب یہ بھی نہیں ہے کہ ان میں ان چیزوں کا فقدان ہے ۔ 
 اسی بناء پراگر ہم نے مندرجہ بالا داستان میں ہی پڑھا ہے کہ چیونٹیوں کو جناب سلیمان کے اس سرزمین میں آنے کی خبر ہوگئی تھی اور انھیں اپنے بلوں میں گھس جانے 

کا حکم ملا تھا تاکہ وہ لشکر کے پاؤں تلے کچلی نہ جائیں اور سلیمان بھی اس بات سے باخبر ہو گئے تھے تو زیادہ تعجب کی بات نہیں ہے ۔ 
 اس کے علاوہ ـــــــــ جیسا کہ ہم پہلے بتاچکے ہیں ــــــــــ سلیمان کی حکومت غیرمعمولی اور معجزانہ امور پرمشتمل نھی اسی بناء بعض مفسرین نے اپنے نظریے کا 

اس طرح اظہار کیا ہے کہ سلیمان علیہ اسلام کے دورحکومت میں بعض جانوروں اس  آگاہی کا پایا جانا ایک اعجاز اورخارق عادت بات تھی لہذا اگر دوسرے ادوار میں اس قسم کی باتیں 

جانوروں میں نہیں ہیں تو اس میں کوئی حرج کی بات نہیں ہے۔ 
 ان کی قسم کی گفتگو کا مقصد یہ ہے کر ہمیں سلیمان اور چیونٹی یا سلیمان اور ہدہد کی داستان کو کنایہ مجاز یا زبان حال وغيرہ 
پر محمول کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے کیونکہ اس امر کی حفاظت اور حقیقی معنی محمول کرنے کا امکان بھی موجودہ ہے۔ ؎