3- حضرت سلیمان اور عمل صالح
وَحُشِرَ لِسُلَيْمَانَ جُنُودُهُ مِنَ الْجِنِّ وَالْإِنْسِ وَالطَّيْرِ فَهُمْ يُوزَعُونَ ۱۷حَتَّىٰ إِذَا أَتَوْا عَلَىٰ وَادِ النَّمْلِ قَالَتْ نَمْلَةٌ يَا أَيُّهَا النَّمْلُ ادْخُلُوا مَسَاكِنَكُمْ لَا يَحْطِمَنَّكُمْ سُلَيْمَانُ وَجُنُودُهُ وَهُمْ لَا يَشْعُرُونَ ۱۸فَتَبَسَّمَ ضَاحِكًا مِنْ قَوْلِهَا وَقَالَ رَبِّ أَوْزِعْنِي أَنْ أَشْكُرَ نِعْمَتَكَ الَّتِي أَنْعَمْتَ عَلَيَّ وَعَلَىٰ وَالِدَيَّ وَأَنْ أَعْمَلَ صَالِحًا تَرْضَاهُ وَأَدْخِلْنِي بِرَحْمَتِكَ فِي عِبَادِكَ الصَّالِحِينَ ۱۹
اور سلیمان کے لئے ان کا تمام لشکر جنات انسان اور پرندے سب اکٹھا کئے جاتے تھے تو بالکل مرتب منظم کھڑے کر دیئے جاتے تھے. یہاں تک کہ جب وہ لوگ وادئی نمل تک آئے تو ایک چیونٹی نے آواز دی کہ چیونٹیوں سب اپنے اپنے سوراخوں میں داخل ہوجاؤ کہ سلیمان اور ان کا لشکر تمہیں پامال نہ کر ڈالے اور انہیں اس کا شعور بھی نہ ہو. سلیمان اس کی بات پر مسکرادیئے اور کہا کہ پروردگار مجھے توفیق دے کہ میں تیری اس نعمت کا شکریہ ادا کروں جو تو نے مجھے اور میرے والدین کو عطا کی ہے اور ایسا نیک عمل کروں کہ تو راضی ہوجائے اور اپنی رحمت سے مجھے اپنے نیک بندوں میں شامل کرلے.
3- حضرت سلیمان اور عمل صالح:-
یہ بات بھی باعث دلچسپی ہے کہ اور باوجود یکہ حضرت سلیمان علیہ اسلام کے پاس اس قدر بے نظیر طاقت اور حکومت تھی لیکن انھوں نے خدا سے سوال کیا کہ آپ
کو ہیمشہ شکرادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور اس سے بڑھ کر کہ ان کا خدا کے نیک بندوں میں شمار ہو۔
اس درختواست سے واضح ہوتا ہے کہ پہلی بات تو یہ ہے اقتدار حاصل کرنے کا مقصد اعمال صالح کی بجا آوری ہے اور باوقار عمل . اس کے علاوہ جو کچھ بھی ہے
وہ ان اعمال کی بجا آوری کے لیے مقدمہ ہیں۔
اعمال صالح بھی خدا کی رضا و خوشنودی کے حصول کا مقدمہ میں جو منتہائے مقصود اورسب غایتوں کی آخری غایت ہے۔
دوسری بات بی کہ به صالح افراد کے زمرے میں شمولیت اعمال صالحہ کی ادائیں سے بھی بڑھ کر ان کی بلند درجہ ہے کیونکہ پہلا
مرحلہ ذاتی درستی کا ہے اور دوسرا عمل کی درستی کا۔ (غور کیجئھے گا) ۔
دوسرے لفظوں میں بسا اوقات انسان اعمال صالح بجا لاتا ہے لیکن یہ اس کی ذات روح او روحودی رچ نہیں نہیں جاتے لہذا سلیمانؑ خدا سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ
انھیں اپنی عنایات میں اس حد تک شامل کردے کہ ان کا صلح ہونا ان کے اعمال سے بھی بڑھ جائے اور ان کی روح اور رگ وریشے میں رچ بس جائے اور یہ بات خدا کی رحمت کے بغیر
قطعًا ناممکن ہے۔
سچ مچ خدا کا صالح بنده ہونا کس قدر قیمتی اور انمول عطیہ ہے کہ جناب سلیمان اس قدر جاہ و جلال ملک و سلطنت، حکومت و حشمت کے باوجود یہی درخواست کرتے
ہیں کہ خداوندا عالم انھیں اپنی رحمت کے زیرسایہ اپنے خاص بندوں میں قرار دے اور ہر وقت ان میں ایسی لغزشوں سے محفوظ رکھے جو انسانوں سے سرزد ہوجاتی ہیں ، خاص کر بڑے
منصب پر فائز لوگوں سے اور سربرہان حکومت سے ۔