Tafseer e Namoona

Topic

											

									  حضرت سلیمان وادی نمل میں

										
																									
								

Ayat No : 17-19

: النمل

وَحُشِرَ لِسُلَيْمَانَ جُنُودُهُ مِنَ الْجِنِّ وَالْإِنْسِ وَالطَّيْرِ فَهُمْ يُوزَعُونَ ۱۷حَتَّىٰ إِذَا أَتَوْا عَلَىٰ وَادِ النَّمْلِ قَالَتْ نَمْلَةٌ يَا أَيُّهَا النَّمْلُ ادْخُلُوا مَسَاكِنَكُمْ لَا يَحْطِمَنَّكُمْ سُلَيْمَانُ وَجُنُودُهُ وَهُمْ لَا يَشْعُرُونَ ۱۸فَتَبَسَّمَ ضَاحِكًا مِنْ قَوْلِهَا وَقَالَ رَبِّ أَوْزِعْنِي أَنْ أَشْكُرَ نِعْمَتَكَ الَّتِي أَنْعَمْتَ عَلَيَّ وَعَلَىٰ وَالِدَيَّ وَأَنْ أَعْمَلَ صَالِحًا تَرْضَاهُ وَأَدْخِلْنِي بِرَحْمَتِكَ فِي عِبَادِكَ الصَّالِحِينَ ۱۹

Translation

اور سلیمان کے لئے ان کا تمام لشکر جنات انسان اور پرندے سب اکٹھا کئے جاتے تھے تو بالکل مرتب منظم کھڑے کر دیئے جاتے تھے. یہاں تک کہ جب وہ لوگ وادئی نمل تک آئے تو ایک چیونٹی نے آواز دی کہ چیونٹیوں سب اپنے اپنے سوراخوں میں داخل ہوجاؤ کہ سلیمان اور ان کا لشکر تمہیں پامال نہ کر ڈالے اور انہیں اس کا شعور بھی نہ ہو. سلیمان اس کی بات پر مسکرادیئے اور کہا کہ پروردگار مجھے توفیق دے کہ میں تیری اس نعمت کا شکریہ ادا کروں جو تو نے مجھے اور میرے والدین کو عطا کی ہے اور ایسا نیک عمل کروں کہ تو راضی ہوجائے اور اپنی رحمت سے مجھے اپنے نیک بندوں میں شامل کرلے.

Tafseer

									  تفسیر
                 حضرت سلیمان وادی نمل میں 
 اس سورت کی اور سورہ سبا کی آیات سے یہ بات بخوبی سمجھی جاتی ہے اور کہ حضرت سلیمانؑ کی داستان حکومت کوئی عام سا واقعہ نہیں ہے بلکہ اس میں مختلف 

قسم کی غیرمعمولی باتیں ہیں اور بہت سے معجزات پائے جاتے ہیں ۔ ان میں سے کچھ تواسی سورت میں بیان ہوئے ہیں : مثلا جناب سلیمانؑ کا جنوں اور پرندوں پرحکومت کرنا ۔ چیونٹیوں کا 

کلام سمجھ لینا اور ہدہد سے ہم کلام ہونا ،  اسی طرح کچھ واقعات سوره سبا میں بیان ہوئے ہیں ۔ 
 درحقیقت خداوند عالم نے ایسی عظیم حکومت کے قیام اور اتنی عظیم طاقتیں جناب سلیمان کے لیے مسخر کرکے اپنی قدرت کا کا مظاہرہ فرمایا ہے اورایک موحد انسان کے 

نزدیک  قدرت خدا کے آگے یہ کام بالکل آسان ہے۔
 انھی آیات میں سب سے پہلے فرمایا گیا ہے : سلیمان کے جنوں ، انسانوں اور پرندوں کے لشکر ان کے پاس جمع ہوگئے (وحشر لسليمان جنودہ من الجن و الانس والطير) - 
 لشکر والوں کی تعداد اس قدر زیادہ تھی کہ نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے لیے حکم دیاجاتا کہ "اگلی صفوں کو روکے رکھیں اور 
پچھلی صفوں کو چلاتے رہیں تاکہ سب مل کر حرکت کریں (فهم يوزعون)۔ 
 "یوزعون"  "وزع" (بروزن "جمع") کے مادہ سے تم جس کا معنی ہے روکنا اور جب اس کا اطلاق فوج اور لشکر وغیرہ پر ہو تو اس کا مطلب ہے کہ لشکر کے اگلے 

حصے کو روکے رکھیں تاکہ پچھلے حصے کے فوجی بھی اس کے ساتھ آملیں ۔ اور افتراق و بدنظمی پیدا نہ ہو۔ 
 "وزع" کسی چیز کے بارے میں لالچ کرنے اور اس کے ساتھ ایسازبردست تعلق پیدا کرنے کے معنی میں ہے جو انسان کو دوسرے کاموں سے روک دے۔ 
 اس تعبیر سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ جناب سلیمان کا لشکر تعداد میں زیادہ تھا اور خاص نظم و ضبط کے تحت حرکت کرتا تھا۔
 "حشر - "حشر " (بروزن "نشر") کے مادہ سے ہے جس کا معنی ہے کثیر تعداد کے افراد کو اپنے ٹھکانوں سے نکال کر میدان جنگ وغیرہ کی طرف لے چلنا ۔ اس سے 

اوراسی طرح بعد والی آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت سلیمان نے کسی علاقے پر لشکر کشی کی تھی لیکن اس لشکرکشی کی تفصیل واضح طور پرمعلوم نہیں ہے۔ چونکہ بعد والی آیت" 

وادي نمل" کے بارے میں گفتگو کرتی ہے لہذا بعض مفسرین نے اس آیت سے یہ سمجھا ہے کہ وہ "وادی لنمل" (چیونٹیوں کی سرزمین) طائف کے قریب کا علاقہ ہے اور بعض نے کہا ہے 

کہ وہ شام کے نزدیک کی سرزمین ہے۔ 
 لیکن چونکہ اس موضوع کے بیان میں کوئی اخلاقی یاتربیتی پہلو نہیں پایا جاتا ۔ لہذا آیت میں اس بارے میں مزید گفتگو نہیں ہوئی ۔ 
 بعض مفسرین نے اس بارے میں بھی اختلاف کیا ہے کہ کیا تمام جن وانس اور پرندے حضرت سلیمان کے لشکر میں شامل تھے (ایسی صورت میں "من" "تبعیض" 

کاہوگا)یا ان ہوگا یہ ایک اضافی بحث معلوم ہوتی ہے کیونکہ اس بات میں شک نہیں کہ جناب سلیمان علیہ السلام کی تمام روئے زمین پر حکومت نہیں تھی بلکہ ان کی حکومت میں شام ، بیت 

المقدس اور شاید اس کے اطراف کا کچھ علاقہ شامل تھا۔ 
 حتی کہ بعد والی آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ اس دورمیں آپ نے یمن کی سرزمین پربھی تسلط حاصل نہیں کیا تھا بلکہ "ہدہد" کے واقعے اور ملکہ سباء کے ایمان لانے 

کے بعد آپ نے وہاں غلبہ پایا۔ 
 "تفقد الطير" سے معلوم ہوتا ہے کہ جناب سلیمان کے زیر فرمان پرندوں میں ایک ہدہد بھی تھا۔ جب سلیمان علیہ السلام نے اسے غیر حاضر پایاتو اس کے بارے میں پوچھ 

گچھ کی ۔ اگر تمام پرندے ہوتے جن میں ہزاروں کی تعداد میں ہدہد بھی ہوتے اوران میں سے ایک یہ پرنده بھی تو یہ تعبیر صحیح نہ ہوتی ۔ (غور کیجئے گا)۔ 
 بہرحال جناب سلمانؑ اس عظیم شکر کے ساتھ چلے حتٰی کہ چیونٹیوں کی سرزمین پر پہنچ گئے (حتى اذا اتوا على مواد النمل)۔ 
 یہاں پر چیونٹیوں میں سے ایک چیونٹی نے دوسری چیونٹیوں سے مخاطب ہوکر کہا: 
 اے چیونٹیو! اپنے اپنے بلوں میں چلی جاؤ تاکہ سلیمان اور ان کا شکر تمھیں بے خبری میں پامال نہ کر دے (قالت نملة یا ایها النمل ادخلوا مساكنكم لا يحطعنكم سلیمان 
وجنودہ و ھم لايشعرون)۔ ؎1 
 اس سرزمین میں جناب سلیمان اور ان کے لشکرکی آمد سے چیونٹی کیونکر مطلع ہوئی اوراس نے اپنی آواز دوسری چیونٹیوں تک کیونکر پہنچائی، اس بارے تفصیلی گفتگو 

انشااللہء نکات کی بحث میں آئے گی۔ 
 البتہ ضمنی طور پر اس جملے سے استفادہ ہوتا ہے کہ سلیمان کی عدالت چیونٹیوں تک پرآشکار ہوگئی کیونکہ اس جملے کا مفہوم  ہے کہ اگر وہ اس بات کی طرف 

متوجہ ہوں تو ایک کمزور سی چیونٹی کو بھی پامال کرنا گوارا نہیں کرتے چنانچہ اگر وہ پامال کرتے ہیں تو ان کی اس طرف تو نہیں ہوتی! 
 سلیمانؑ یہ سن کر مسکرا دیئے اور ہنسے (فتبسم صناحکًا من قولها)۔ 
 حضرت سلیمان کسی وجہ سے ہنسے ؟ اس بارے میں مفسرین کے درمیان اختلاف ہے۔ ظاہر امر یہ ہے کہ بذات خود یہ قضیہ یک عجیب چیزتھی کہ ایک چیونٹی اپنے 

ساتیوں کوسلیمان کے عظیم لشکر سے آگاہ کرے اور اس کی بے توجہی کا ذکر کرے اور یہی عجب اور جناب سلیمان کے ہسننے اور مسکرانے کا سبب بنا۔ 
 بعض مفسرین نے یہ بھی کہا ہے کہ آپ کی یہ ہنسی ، خوشی کی ہنسی تھی کیونکہ آپ کو معلوم ہوگیا کہ چیانٹی تک کی مخلوق ان کی اور ان کے لشکر والوں کی عدالت 

او تقویٰ کا اعتراف کرتی ہے۔ 
 بعض مفسرین کہتے ہیں کہ آپ کی خوشی کا سبب یہ تھاکہ خداوندعالم نے انھیں اس قدر قدرت عطا فرمائی ہے کہ لشکر عظیم کے شوروغل کے باوجود وہ چیونٹی جیسی 

مخلوق کی آواز سے غافل نہیں ہیں ۔ 
۔--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- 
  ؎1    بعض مفسرین نے اس بات کی صراحت کی ہے کہ " نخلة " میں " تا " بیان و حدت کے لیے ہے اور فعل کو ظاہر کلمہ کی رعایت سے مونث لایا گیا ہے۔ 
۔-----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
 بہرحال وہ خواہ کچھ بھی ہو ، اس موقع پر جناب سلیمان علیہ السلام نے اللہ کی بارگاہ میں چند معروضات پیش کیں ۔ 
 پہلی کہ خداوندا! جو تونے مجھے اور میرے والدین کو عطا فرمائی ہیں ان کا شکر کرنے کا طریقہ مجھ سکھا دے۔ 
  (وقال رب او زغی ان اشكر نعمتك التي انعمت علی وعلی والدی)۔ ؎1 
 تاکہ میں اپنی ان تمام نظری نعمتوں کو تیری اس راہ میں بروئے کار لاؤں جس میں تیری خوشی اور رضا ہے اور میں جاده حق سے انحراف نہ کروں کیونکہ ان تمام 

نعمتوں کا شکر تیری امداد اور نصرت کے بغیر ناممکن ہے ۔
 دوسری یہ کہ "مجھے توفیق عطا فرما تاکہ ایسا نیک عمل بجا لاؤں کہ جس سے تو راضی ہو ( وان اعمل صالحا ترضاه)۔ 
 کیونکہ میرے لیے یہ لشکرو سپاہ اور حکومت و سلطنت کوئی اہمیت نہیں رکھتے ۔ اہم چیز یہ ہے کہ میں ایسے نیک اعمال بجا لاؤں جس سے تو راضی ہو ۔ چونکہ "اعمل 

" فعل مضارع کا صیغہ ہے اور یہ اس بات کی دلیل ہے کہ جناب سلیمان نے ادائمی توفیق کی درخواست کی ہے۔ 
 آخرمیں تیسری عرض داشت یہ پیش کی کہ پروردگارا ! مجھے اپنی رحمت کے ساتھ اپنے صالح بندوں کے زمرے میں شامل فرما (وادخلني برحمتك في عبادك الصالحين)۔