Tafseer e Namoona

Topic

											

									  3- پرندوں کی بولی 

										
																									
								

Ayat No : 15-16

: النمل

وَلَقَدْ آتَيْنَا دَاوُودَ وَسُلَيْمَانَ عِلْمًا ۖ وَقَالَا الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي فَضَّلَنَا عَلَىٰ كَثِيرٍ مِنْ عِبَادِهِ الْمُؤْمِنِينَ ۱۵وَوَرِثَ سُلَيْمَانُ دَاوُودَ ۖ وَقَالَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ عُلِّمْنَا مَنْطِقَ الطَّيْرِ وَأُوتِينَا مِنْ كُلِّ شَيْءٍ ۖ إِنَّ هَٰذَا لَهُوَ الْفَضْلُ الْمُبِينُ ۱۶

Translation

اور ہم نے داؤد اور سلیمان کو علم عطا کیا تو دونوں نے کہا کہ خدا کا شکر ہے کہ اس نے ہمیں بہت سے بندوں پر فضیلت عطا کی ہے. اور پھر سلیمان داؤد کے وارث ہوئے اور انہوں نے کہا کہ لوگو مجھے پرندوں کی باتوں کا علم دیا گیا ہے اور ہر فضیلت کا ایک حصہ عطا کیا گیا ہے اور یہ خدا کا کھلا ہوا فضل و کرم ہے.

Tafseer

									  3- پرندوں کی بولی : 
  مندرجہ بالا آیات میں بھی اور آگے چل کر ہدہد اور سلیمان علیہ اسلام کی داستان کے سلسلے کی آیات میں بھی ، پرندوں کی گفتگو اور اس کے ادراک  کے بارے میں 

واضح اشارہ موجود ہے۔ 
 اس میں شک نہیں کہ ـــــــــــ دوسرے جانوروں کی مانند ـــــــــــــ پرندے بھی مختلف حالات میں مختلف آوازیں نکالتے ہیں کہ اگر غوروخوض سے کام لیا جائے تو ان 

کی آوازوں سے ان کی مختلف کیفیتوں کا پتہ چلایا جاسکتا ہے کہ کون سی آواز غصے کی ہے اور کون سی خوشی کی ،کسی آواز سے ان کی بھوک کا پتہ چلایا جاسکتا ہے ،کس سے ان کی 

تمنا کا ، کس آواز سے وہ اپنے بچوں کو ہلاتے ہیں اورکس سے وہ انھیں وحشتناک حادثے کی خبر دیتے ہیں ۔ 
 اس حد تک تو پرندوں کی آواز میں کسی کو شک و شبہ نہیں اور ہم میں سے ہرایک کم و بیش اس چیز سے آگاہ ہے۔ 
 لیکن اس سورت کی آیات ظاہرًا اس سے بڑھ کر کچھ اور مطلب بیان کرتی ہیں ۔ یہاں ان کے خاص انداز سے گفتگو کرنے کا ذکر ہے جس میں عجیب و غریب مطالب بیان 

ہوئے ہیں۔ ایک انسان کے ساتھ ان کے افہام تفہیم کی بات کی گئی ہے اگرچہ ہے یہ چیز بعض لوگوں کو عجیب معلوم ہوتی ہے لیکن اگران مطالب کی طرف توجہ کی جائے جسے پرندوں 

کے بارے میں ماہرین نے اپنی کتابوں میں تحریر کیا ہے اوراسی طرح جو چیزیں بعض لوگوں کے ذاتی مشاہدے میں آئی ہیں انھیں رکھا جائے تو یہ بات قطعًا عجیب معلوم نہیں ہوگی۔
 ہم تو جانوروں خاص کر پرندوں کی فہم اور سمجھ کے بارے میں بھی اس سے بھی بڑھ کر عجیب و غریب معلومات رکھتے ہیں ۔ 
 بعض جانور اور پرندے ایسے ہوتے ہیں جو اپنا گھر یا گھونسلا بنانے میں اس قدر ماہر ہیں کہ بعض مواقع پر ماہر انجینیروں پر بھی بازی لے جاتے ہیں۔ 
 بعض پرندے اپنے آئنده پیدا ہونے والے بچوں کے مستقبل کے بارے میں اور ان کی ضروریات اور مشکلات کے سلسلے میں اس حد تک باخبر ہوتے ہیں اوران مشکلات 

کو حل کرنے کے لیے اس قدر کوشش کرتے ہیں کہ ہم سب کے لیے باعث حیرت ہے۔ 
 اور ان کی موسم کے بارے میں پیش گوئی حتٰی کہ بعض اوقات تو وہ کئی ماہ پہلے ہی موسم کا اندازہ لگا لیتے ہیں ۔ ایسے پرندے بھی ہیں جو زلزوں کی قبل ازوقت اطلاع 

دے دیتے ہیں ، یہاں تک کہ خفیف ترین جھٹکوں کی اطلاع دینے والے آلات سے بھی بہت پہلے بتا دیتے ہیں ۔ 
 دورحاضر میں حیوانات کو سدھاکر سرکسوں میں ان سے جو کام لیے جاتے ہیں انھیں دیکھ کرعقل دنگ رہ جاتی ہے کیونکہ 
و ہ وہاں پر واقعًا محیرالعقول کارنامے سرانجام دیتے ہیں۔ 
 "چیوٹیوں" کے حیرت ناک کارنامے اور ان کا حیرت کن تمدن ! 
 "شہد کی مکھیوں" کے عجائبات زندگی اور ان کی حیرت انگیز سراغ رسانی ! 
 "مہاجر پرندوں"  کی عجیب و غریب معلومات اور اس قدر عظیم سفر کے درمیانی راستے سے باخبری کہ جن کی وجہ سے وہ قطب شمالی اورقطب جنوبی کا درمیان لیکن 

بہت طولانی فاصلہ طے کرلیتے ہیں ۔
 سمندروں کی گہرائیوں کے بارے میں "آزاد مچھلیوں" کی بہت زیادہ معلومات کہ جن کے ذریعے وہ اجتمائی صورت میں  سارا سال مختلف سمندروں میں گھومتی پھرتی 

ہیں ، عمومی طور پر ایسے مسائل ہیں جوعلمی لحاظ سے مسلم ہیں اوران کے ادراک یا جبلت یا اسے جو بھی نام دیں پر بین دلیل ہے۔ 
 بعض جانوروں کے بعض حواس قوی ہوتے ہیں جیسے چمگادڑ میں راڈار جیسی مشینری ہوتی ہے یابعض حشرات کی قوت شامہ بہت تیز ہوتی ہے ، بعض پرندوں کی نگا 

ہیں بہت تیز ہوتی ہیں ۔ یہ سب چیزیں بھی اس بات کی دلیل ہیں کہ حیوانات وغیرہ تمام چیزوں میں ہم سے زیادہ پسماندہ نہیں ہیں۔  
 مندرجہ بلا امور کو پیش نظر رکھتے ہوئے تعجب نہیں کرنا چاہیے کہ وہ مخصوص انداز میں گفتگو بھی کرسکتے ہیں اور جو ان کی گفتگو کے الفاظ اور طریقے سے 

واقف ہیں ان سے ہم کلام ہوسکتے ہیں۔ 
 قرآنی آیات میں بھی مختلف عنوانات کے تحت اس امر کی طرف اشارہ کیا جاچکا ہے مثلًا سورہ انعام کی آیت 38 میں ہے : 
  ومامن دابة في الارض و لاطائر يطير بجناحيه الاامه امثالكم 
  روئے زمین پرایساکوئی حرکت کرنے والا جانور اور اپنے دو پروں سے اڑنے والا کوئی پرنده ایسا نہیں ہے جن کی تم جیسی امتیں نہ ہوں ۔ ؎1 

 روایات میں بھی بہت سی ایسی چیز موجود ہیں جو جانوروں ، خاص کر پرندوں کی گفتگو پردلالت کرتی ہیں حتی کہ ان میں سے ہرایک کی زبان کو نعروں کی طرح کی ہولی بتایا گیا ہے۔ اگر اس کو تفصیل سے بیان کیا جائے تو بات لمبی ہوجائے گی ۔ ؎2 
 ایک روایت میں ہے کہ جناب امیرالمومنین علی بن ابی طالب علیہ السلام نے عبد الله بن عباس سے فرمایا: 
  أن الله علمنا منطق الطير کماعلم سلیمان بن داؤد  و منطق كل دابة في برا وبحر 
  خداوند عالم نے ہمیں پرندوں کی بولی کی بھی تعلیم دی ہے جس طرح سلیمان بن داؤ د کوتعلیم دی تھی 
  اور خشکی اور تری میں چلنے والی ہر مخلوق کی بولی بھی سکھائی ہے ۔ ؎3