4- لاوارث حدیث
وَلَقَدْ آتَيْنَا دَاوُودَ وَسُلَيْمَانَ عِلْمًا ۖ وَقَالَا الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي فَضَّلَنَا عَلَىٰ كَثِيرٍ مِنْ عِبَادِهِ الْمُؤْمِنِينَ ۱۵وَوَرِثَ سُلَيْمَانُ دَاوُودَ ۖ وَقَالَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ عُلِّمْنَا مَنْطِقَ الطَّيْرِ وَأُوتِينَا مِنْ كُلِّ شَيْءٍ ۖ إِنَّ هَٰذَا لَهُوَ الْفَضْلُ الْمُبِينُ ۱۶
اور ہم نے داؤد اور سلیمان کو علم عطا کیا تو دونوں نے کہا کہ خدا کا شکر ہے کہ اس نے ہمیں بہت سے بندوں پر فضیلت عطا کی ہے. اور پھر سلیمان داؤد کے وارث ہوئے اور انہوں نے کہا کہ لوگو مجھے پرندوں کی باتوں کا علم دیا گیا ہے اور ہر فضیلت کا ایک حصہ عطا کیا گیا ہے اور یہ خدا کا کھلا ہوا فضل و کرم ہے.
4- لاوارث حدیث :
اہل سنت کی مختلف کتابوں میں پیغمبراسلام صلی الله علیہ وآلہ وسلم کی طرف منسوب ایکی حدیث موجود ہے جو اس طرح کے مضمون پر مشتمل ہے۔
نحن معاشر الانبياء لا نورث ما تركناه صدقة
ہم پیغمبرلوگ اپنی میراث نہیں چھوڑتے جو ہم سے رہ جائے اسے راہ خدا میں صدقے کے طور پر خرچ کر دیا جائے۔
اور بعض کتابوں میں "لانورث" کا جملہ نہیں ہے کہ "ماتركناه صد قة" کی صورت میں نقل کیا گیاہے اس روایت کی سند عام طور پر ابوبکر تک جاکر ختم ہوجاتی ہے
جنہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے بعد مسلمانوں کی زمام امور
۔---------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
؎1 سوره انعام کی آیت 38 کے ذیل میں ایک اورتفصیلی گفتگوبھی ہے ۔ (ملاحظہ ہو تفسیر نمونہ جلد پنجم)
؎2 انہی آیات کے ذیل میں مزید معلومات کے لیے "تفسیرقرطبی" کا مطالعہ فرمائیے اور تفسیر نور الثقلین جلد 4 ص 77 کی طرف رجوع فرمائیں۔
؎3 مذکورہ حوالہ۔
۔---------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
اپنے قبضے میں لے لی تھی ۔ اور جب حضرت فاطمہ زہراسلام اللہ علیہا یا پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی بعض بیویوں نے ان سے پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی میراث کا
مطالبہ کیا تو انھوں نے اس حدیث کا سہارا لے کر انہیں میراث سے محروم کر دیا۔
اس حدیث کو مسلم نے اپنی صحیح (جلد 3 کتاب الجہاد والسیرص 1379) میں ہنجاری نے جزوہشتم کتاب الفرائض کے صفحہ 185 پر اوراسی طرح بعض
دیگرافراد نے اپنی اپنی کتابوں میں درج کیا ہے۔
یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ مذکورہ کتابوں میں سے بخاری میں بی بی عائشہ سے ایک روایت نقل کی گئی ہے :
فاطمه زهرا علیها السلام اور جناب عباس بن عبدالمطلب (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی وفات کے بعد) ابوبکر کے پاس
آئے اور ان سے اپنی میراث کا مطالبہ کیا ۔ اس وقت انھوں نے اپنی فدک کی اراضی اور خیبر سے ملنے
والی میراث کا مطالبہ کیا تو ابوبکر نے کہا کہ میں نے رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) سے سناہے
کہ آپ نے فرمایا۔"ہم میراث میں کوئی چیز نہیں چھوڑ جاتے، جو کچھ ہم سے رہ جائے وہ صدقہ
ہوتا ہے۔
جناب فاطمہ زہرا علیہا السلام نے جب یہ سنا تو ناراض ہوکر وہاں سے واپس آگئیں اور مرتے دم تک ان سے
بات نہیں کی۔ ؎1
البتہ یہ حدیث مختلف لحاظ سے تجزیہ و تحلیل کے قابل ہے لیکن اس تفسیر میں چند ایک نکات بیان کریں گئے :
1- یہ حدیث ، قرآنی متن کے مخالف ہے اور اس اصول اور کلیہ قاعدہ کی رو سے ناقابل اعتبارہے کہ جو بھی حدیث کتاب الله کے مطابق نہ ہو جواس پراعتبار
نہیں کرنا چاہیے اور ایسی حدیث کو پیغمبراسلام صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم یا دیگر معصومین علیہم السلام کا قول سمجھ کر قبول نہیں کیا جاسکتا ہے۔
ہم مندرجہ بالا آیات میں پڑھ چکے ہیں کہ حضرت سلیمان علیہ السلام جناب داؤد علیہ السلام کے وارث بنے اور آیت کا ظاہرمطلق ہے کہ جس میں اموال بھی شامل ہیں ۔
جناب یحیٰی اور حضرت زکریا علیہما السلام کے بارے میں ہے :
یرثني ویرث من أل یعقوب
خداوندا ! مجھے ایسا فرزند عطا فرما جو میرا اور آل یعقوب کا وارث بنے۔ ( مریم / 6)۔
حضرت "زکریا" کے بارے میں تو بہت سے مفسرین نے مالی وراثت پر زور دیا ہے۔
اس کے علاوہ قرآن مجید میں "وراثت" کی آیات کا ظاہر بھی عمومی ہے کہ جو بلا استثناء سب کے لیے ہے۔
شاید یہی وجہ ہے کہ اہل سنت کے مشہور عالم علامہ قرطبی نے مجبور ہوکر اس حدیث کو غالب اور اکثر فعل کی حیثیت سے قبول کیا ہے نہ کہ عموعی کلیے کے
طور پر اوراس کے لیے یہ مثال دی ہے عرب ایک عمدہ کہتے ہیں:
(انا معشرالعرب اقرى الناس للضيف)
۔-----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
صحیح بخارای جزو 8 ص 185 -
۔-----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
ہم عرب لوگ دوسرے تمام افراد سے بڑھ کرمہمان نوازی ہیں (حلانکہ یہ کوئی عمومی حکم نہیں ہے)۔ ؎1
لیکن ظاہر ہے کہ یہ بات اس حدیث کی اہمیت کی نفی کر رہی ہے کیونکہ حضرت سلیمانؑ اور حضرت یحٰیؑ کے بارے میں اس قسم کا عذر قبول کرلیں تو پھر دوسرے کے
لیے بھی یہ قطعی نہیں رہ جاتی۔
2- مندرجہ بلا روایت ان دوسری روایات کے خلاف ہے جن سے معلوم ہوتا ہے کہ ابوبکر نے جناب فاطمہ زہرا کو فدک واپس لوٹانے کا پختہ ارادہ کر لیا تھا لیکن
دوسرے لوگ اس میں حائل ہوگئے تھے چنانچہ سیرت حلبی میں بے ۔
فاطمہ بنت رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ، ابوبکر کے پاس اس وقت آئیں جب وہ منبر پر تھے ۔ انھوں نے کہا :
اے ابوبکر کیا یہ چیز قرآن مجید میں ہے کہ تمھاری بیٹی تمھاری وراثت نے لیکن میں اپنے باپ کی میراث نو لوں ؟
یہ سن کر ابوبکر رونے لگے اور ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے پھر وہ منبرے سے نیچے اترے اور
فدک کی واپسی کا پروانه نامہ کو لکھ دیا۔ اسی اثناء میں عمرآگئے ۔ پوچھا یہ کیا ہے ، انھوں نے کہ کہ میں نے
یہ تحریر لکھ دی ہے تاکہ فاطمہ کو ان کے باپ سے ملنے والی وراثت واپس لوٹا دوں !
عمر نے کہا ! اگر آپ یہ کام کریں گے تو پھردشمنوں کے ساتھ جنگی اخراجات کہاں سے پورے کریں گے؟
جبکہ عربوں نے آپ کے خلاف قیام کیاہوا ہے ۔ یہ کہا اور تحریر لے کر اسے پارہ پارہ کر دیا۔ ؎2
یہ کیونکر ممکن ہے کہ پیغمبراکرامؑ نے تو صریحی طور ممانعت کی ہو اور ابوبکر اس کی مخالفت کی جرات کریں ؟اور پھر عمر نے جنگی اخراجات کا تو سہارا لیا لیکن
پیغمبر اکرم کی حدیث پیش نہیں کی۔
مندرجہ بالا روایت پراگر اچھی طرح غور کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ یہاں پر اسلامؑ کی طرف سے ممانعت کا سوال نہیں تھا ، بلکہ سیاسی مسائل آڑے تھے اور ایسے
موقع پر معتزی عالم ابن ابی الحدید کی گفتگو یاد آجاتی ہے۔ وہ کہتے ہیں :
میں نے اپنے استاد علی بن فارقی سے پوچھا کہ کیا فاطمہ اپنے دعویٰ میں سچی تھیں ؟ تو انھوں نے کہا
جی ہاں! پھر میں نے پوچھاتو اابوبکر نے انہیں فدک کیوں نہ دیا، جب کہ وہ انہیں سچا اور برحق بھی سمجھتے تھے ۔
اس موقع پر میرے استاد نے معنی خیز تبسم کے ساتھ نہایت ہی لطیف اور پیارا جواب دیا حالاکہ ان کی
مذاق کی عادت نہیں تھی ، انھوں نے کہا :
لواعطاها اليوم فدك بمجرد دعواهالجائت اليه غدًا وا دعت الزوجها الخلافۃ !
و زحزحته عن مقامه ولم يمكنه الاعتذار والموافقة بشيء
۔-----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
؎1 تفسیر قرطبی جلد 7 ص 4880۔
؎2 سیرت حلبی جلد 3 ص 391۔
۔-----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
اگر وہ آج انہیں صرف ان کے دعویٰ کی بناء پر ہی فدک دے دیتے توپھر کل اپنے شوہر کی خلافت
کا دعوی دائر کرکے ابوبکر کو ان کے مقام سے متزلزل کر دیتیں تو پھر نہ تو ان کے لیے کسی عزری کی گنجائش
باقی رہتی اور نہ ہی ان سے موافقت کا امکان ۔ ؎1
3- پیمغبرالسلام صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی ایک مشہور حدیث ہے جسے شیعہ اورسنی میں سے ہر ایک نے اپنی اپنی کتابوں میں درج کیا ہے ،حدیث یہ ہے:
العلماء ورثة الأنبياء
علماء ، انبیاء کے وارث ہوتے ہیں ۔ ؎2
نیزیہ قوای بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ہی منقول بے :
ان الانبياء لم يورثوا دينارًا ولا درهمًا
انبیاء اپنی میراث میں نہ تو دینار چھوڑتے ہیں اور نہ ہی درہم ۔؎3
ان دونوں حدیثوں کو ملا کر پڑھنے سے یوں معلوم ہوتا ہے کہ آپ کا اصل مقصد یہ تھاکہ لوگوں کو یہ بات باور کرئیں کہ انبیاء کےلیے سرمایہ افتخار ان کا علم ہے
اور اہم ترین چیز جو وہ یادگار کے طور پر چھوڑ جاتے ہیں ان کو ہدایت و راہنمانی کا پروگرام ہے اور جولوگ علم و دانش سے زیادہ بہرہ مند ہوں کے وہی انبیاء کے اصلی وارث ہوں گے ۔
بجائے اس کے کہ ان کی مال پر نگاه ہو اور اسے یادگار کے طور پر چھوڑ جائیں۔ اس کے بعد اس حدیث کو نقل بہ معنی کر دیا گیا اور اس کی غلط تعبریں کی گئیں اور شاید "ما تركناه
صدقة" والے جملے کی بعض روایات میں اس پر اضافہ کر دیا گیا۔
اس مقام پر اپنی بحث کواہل سنت کے مشہور مفسرفخرازی کی اس گفتگو پرختم کرتے ہیں جو انھوں نے سورہ نساء کی آیت 11 کے ضمن میں کی ہے تاکہ بات زیادہ
لمبی نہ ہوجائے ۔ فخر رازی لکھتے ہیں:
" اس آیت (اولاد کی وراثت والی آیت) کی منجملہ اور تخضیصات کے ایک تخضیص وہ چیز ہے ، جو
اکثر مجتہدین (اہل سنت) کا مذہب ہے کہ انبیائے کرام اپنی وراثت کے طور کچھ نہیں چھوڑ جاتے
لیکن (عمومی طور پر) شیعوں نے اس بات کی مخالفت کی ہے ۔ روایت میں ہے کہ جب فاطمہ (علیها السلام)
نے اپنی وراثت کا مطالبہ کیا تو ان لوگوں نے اس حدیث کے ذریعے انھیں اپنی وراثت سے محروم کر دیا
کہ "نحن معاشر الانبياء لا نورث ما تركناه صدقة" یعنی ہم ہیغمبر لوگ کسی کواپنا وارث نہیں بناتے جو کچھ
چھوڑ جاتے ہیں صدقہ ہوتا ہے۔
۔----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
؎1 نہج البلاغہ ، ابن ابی الحدید جلد 16 ص 284۔
؎2 صحیح ترمذی باب لعلم حدیث 19 و سنن ابن ماجہ مقدمہ حدیث 17۔
؎1 اصول کافی جلد اول باب صفۃ العلم حدیث 6۔
۔----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
تو اس موقع پر جناب فاطمہ نے (اولاد کی وراثت والی) عمومی آیت سے استدلال پیش کیا
گویا وہ اس طرح سے اس حقیقت کی طرف اشارہ کررہی تھیں کہ قرآن کے عمومی حکم کو خبر واحد کے
ساتھ کہ محدود نہیں کیا جاسکتا۔
فخرازی آگے کہتے ہیں کہ شیعہ لکھتے ہیں کہ :
بالفرض اگرمان بھی لیا جائے کہ قرآن کو خبر واحد کے ذریعے محدود کیا جاسکتا ہے تو یہاں پر تین
دلیلوں کی وجہ میں تخحیص جائز نہیں۔
پہلی یہ کہ :- قرآن مجید واضح طور پر کہہ رہا ہے کہ زکریانے خدا سے درخواست کی کہ وہ انھیں
ایسافرزند عطا کرے جو ان کا اور آل یعقوب کا وارث بنے ۔ اسی طرح قرآن ایک اور مقام پرکہتا
بے کہ سلیمان نے داؤد سے وراثت پائی ۔ چونکہ ان آیات کو علم اور دین جیسی وراثت پرلاگو نہیں کیا
جاسکتا کیو نکہ اس قسم کی وراثت مجازی وراثت کہلاتی ہے اس لیے کہ ان انبیاء نے اپنی اولاد کو علم اور دین کی تعلیم دی نہ
یہ کہ یہ چیزیں وراثت کے طور پر حاصل کرکے اپنی اولاد کو ان کا
وارث بنا دیا۔
وراثت حقیقی صرف اور صرف مال ہی میں تصور کی جاسکتی ہے (جوکسی سے حاصل کیا جائے اور
دوسروں کو دیا جائے)۔
دوسری بات یہ ہے کہ : - یہ کیونکر ممکن ہے کہ جس مسئلہ کی ابوبکر کو ضرورت ہی نہیں تھی اس
سے تو وه آگاہ ہوں لیکن فاطمہ ، علی اور عباس جو عظیم ترین زاہد اور عالم تھے اور پیغمبر اسلامؐ کی
وراثث سے بھی انھیں سروکار تھا ، اس سے بالکل بے خبر بوں ۔ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ پیغمبراسلامؐ یہ حدیث اس
شخص کو تعلیم دیں جسے ضرورت نہ ہو اور ان سے مخفی
رکھیں جنہیں اس کی ضرورت ہو۔
تیسری بات یہ ہے کہ:- "ماتركناه ص دقة " والا جملہ "لا نورث" کے
بعد ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ جن اموال کو ہم نے صدقہ قرار دیا ہے وہ میراث کے دائرہ
میں نہیں آ تے کیونکہ وہ صدقہ کے ساتھ مخصوص ہوجاتے ہیں نہ کہ تمام اموال !
پھر فخر رازی مذکورہ بالا مشہور استدلالات کا مختصر سا جواب دیتے ہوئے کہتے ہیں:
"فاطمہ زہراؑ نے جب اس ابوبکر کے ساتھ بات چیت کی تو اس پر راضی ہوگئیں ۔
اس کے علاوہ اجماع بھی اس بات پر ہے کہ ابوبکر کی بات صحیح تھی ۔ ؎1
۔--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
؎1 تفسیر فخرازی جلد 9 ص 210۔
۔--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
لیکن ظاہر ہے کہ فخرازی کا یہ استدلال قابل قبول نہیں ہے کیونکہ جیسا کہ ہم ابھی ابھی اہل سنت کی مشہور اور معتبرکتابوں سے ثابت کرآئے ہیں کہ فاطمہ زہرا
علیهما السلام نہ صرف یہ کہ ابوبکر سے راضی نہیں ہوئیں بلکہ اس قدر ان پر ناراض ہوئیں کہ مرتے دم تک ان سے گفتگو نہیں کی۔
اس سے قطع نظر یہ کیسے ممکن ہے کسی ایسے پر اجماع قائم ہوجائے جس میں وحی کے زیر سایہ تربیت پانے والے افراد علی و زہرا علیہماالسلام اور جناب عباس
جیسی شخصیتیں نہ صرف شریک ہی نہیں بلکہ مخلالف بھی ہیں ۔